tofeeq butt

پاکستان اور اپنی وپرائی میلی آنکھیں!

خلقِ خدا جو بھی کہے، کم ازکم میں یہ تصور نہیں کرسکتا پاکستان کا وزیراعظم اپنے ملک کے بجائے بھارت یا کسی اور ملک کے مفادات کو ترجیح دیتا ہو۔اِس حوالے سے وزیراعظم نواز شریف کے بارے میں جو حقائق سامنے آرہے ہیں یا جو تاثر اُن کے بارے میں بڑی تیزی سے قائم ہورہے ہیں وہ اُن کے لئے تو پتا نہیں لمحہ فکریہ ہیں یا نہیں البتہ پاکستان کوٹوٹ کر چاہنے والے اُس سے خاصے دِل گرفتہ ہیں۔ بھارت کی ایک اہم ترین شخصیت نے چند روز پہلے وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کی، جس کا کوئی ایجنڈہ یا تفصیلات سامنے نہیں آئیں جس سے بہت سے ایسے شکوک و شبہات پیدا ہوئے جو بعد میں پیدا ہونے والے حالات کے مطابق حقائق کے بہت قریب دکھائی دینے لگے، اور اُس سے اِس تاثر کو مزید تقویت مِلی کہ ہمارے حکمرانوں کو ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات عزیز ہیں، اور اپنے اقتدار کے لیے وہ کسی حدتک بھی جاسکتے ہیں۔ وزیراعظم کے وہ قریبی ساتھی جن کا کام صرف یہ رہ گیا ہے وزیراعظم کے اکلوتے سیاسی مخالف عمران خان کی کردار کشی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں، اُن میں ایک دو وزیر یا مشیر بھی ہیں جن کے بارے میں پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے اپنی وزارت کی الف ب سے بھی وہ واقف نہیں ہوں گے، اُنہیں تنخواہ ودیگر مراعات صرف اور صرف وزیراعظم کے اکلوتے سیاسی مخالف عمران خان کی کردار کشی کی مِلتی ہے ۔ مجھے حیرت ہوتی ہے اب جبکہ بڑی تیزی سے اُن کے ”باس“ کے بارے میں یہ تاثر قائم ہورہا ہے کہ وہ ملکی مفادات کے بجائے غیر ملکی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں تو اُن میں ایک ایسا نہیں جو اِس معاملے میں اُن کا دفاع کررہا ہو، اور اِس تاثر کو کم یا ختم کرنے کی کوئی عملی کوشش کررہا ہو، ممکن ہے وہ اِس ضمن میں وزیراعظم کی کسی ہدایت کے منتظر ہوں کیونکہ اُن کی ہدایت کے بغیر وہ کوئی کام نہیں کرتے ….بھارتی جاسوس کلبھوشن کے حوالے سے گزشتہ روز عالمی عدالت کے فیصلے کے مطابق پاکستان کی جانب سے اُس کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے، یہ کوئی چھوٹا معاملہ نہیں۔ اِس سے ملکی سلامتی وابستہ ہے، مگر وزیراعظم اِس پر مکمل چُپ سادھے ہوئے ہیں۔ یا اُس طرح نہیں بول رہے جیسے ایک محبِ وطن پاکستانی وزیراعظم کو کُھل کھلا کر بولنا چاہیے۔ اِس سے اُن کی حُب الوطنی کے حوالے سے مزید کئی سوالات جنم لے رہے ہیں، اور یہ بات کسی طرح اُن کے مفاد میں نہیں۔ نہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ذاتی معاملات پر وہ فوراًقوم سے خطاب کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، مگر ملکی معاملات ومفادات پر اُن کے منہ کو اللہ جانے ”میڈاِن انڈیا“ تالاکیوں لگ جاتا ہے ؟۔ اُنہیں چاہیے اِس معاملے میں فوری طورپر عوام کو اعتماد میں لیں۔ یا پھر ممکن ہے وہ سوچتے ہوں عوام اِس قابل ہی نہیں کسی معاملے میں اُنہیں اہمیت دی جائے یا اعتماد میں لیا جائے۔ ویسے اِس حوالے سے وہ ٹھیک ہی سوچتے ہیں، عوام کا سارا احتجاج صرف اور صرف اب ”سوشل میڈیا“ تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ،”ڈان لیکس“ کی ”سیٹلمنٹ“ کو سوشل میڈیا پر ہلکے پھلکے ہومیوپیتھک سے احتجاج کے بعد ”عوام شریف“ نے بھی اُسی طرح ہضم کرلیا جیسے ” فوج شریف“ نے کرلیا۔ سو اب اکثر معاملات میں عوام، حکمران اور قومی ادارے ایک ہی ” پیج“ پر ہیں، یا ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ ملکی مفادات کی سودے بازی کرتے ہوئے یااِس کے بارے میں سوچتے ہوئے ہمارے حکمران بھلا کوئی دِقت کیوں محسوس کریں گے؟ یا عوام کا کوئی ڈر خوف اُنہیں کیوں ہوگا؟۔ بلکہ اب تو خوفِ خُدا نہیں رہا عوام بھلا کِس کھاتے میں آتے ہیں؟….ایک وزیراعظم پرکرپشن کے بے پناہ الزامات ہیں جن کا دفاع کرنے میں وہ بُری طرح ناکام رہے ہیں۔ عدالتیں اُن کے بارے میں جو بھی فیصلہ کریں، اللہ کی عدالت میں جو فیصلہ اُن کے بارے میں ہونا ہے، اُنہیں اچھی طرح معلوم ہے۔ گورننس کے حوالے سے بھی اُن کی اہلیت کے سارے بھرم کھل چکے ہیں، اِس وقت کوئی ایسا ادارہ نہیں جو اپنا کام درست اور پوری ایمانداری سے کررہا ہو، سونے پہ سہاگہ یہ اداروں کے درمیان تصادم کی فضا ہے جسے ختم یا کم کرنا ظاہر ہے حکومتی سربراہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ وہ یہ ذمہ داری نبھانے میں مکمل طورپر ناکام دکھائی دے رہے ہیں، حکومت میں آنے کے فوراً بعد یا گزشتہ الیکشن سے پہلے عوامی بھلائی کے جو منصوبے شروع کرنے کے اُنہوں نے اعلان یا دعوے کیے تھے، کوئی ایک اُن میں پورا نہیں ہوسکا۔ زبانی کلامی اُن کا ہرمنصوبہ نہ صرف مکمل ہوچکا ہے بلکہ کامیابی سے چل بھی رہا ہے۔ جبکہ حقیقت اُس کے برعکس ہے۔ عملی طورپر کوئی ایسا
کارنامہ اپنے اس چار سواچار سالہ اقتدارمیں وہ نہیں کرسکے جس کی بنیاد پر اگلے الیکشن میں ووٹ مانگنے یا لینے کے وہ حقدار ہوں۔ اُمید یہی ہے عالمی قوتوں کے جس قدر وہ تابعدار ہیں اگلے الیکشن میں وہ ایک بار پھر اُن کا ساتھ دیں گی، جس کے نتیجے میں وہ حکومت نہ بھی بنا سکے کسی نہ کسی طرح حکومت کا حصہ ضرور بن جائیں گے، جس کے بعد اپنی کرپشن وغیرہ کو مزید کچھ عرصے کے لیے تحفظ دینے میں وہ کامیاب ہو جائیں گے۔ اور اگر عالمی قوتوں یا اندرونی وبیرونی خفیہ قوتوں نے اس بار اُن کا یا اُن کی ہم نوالہ ہم پیالہ پیپلزپارٹی کا ساتھ نہ دیا تو اگلے الیکشن میں اُنہیں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کے بعد ہوسکتا ہے اِس بار وہ جدہ کے بجائے چین یا بھارت جانا زیادہ پسند کریں۔ پچھلے الیکشن میں ایک دعویٰ تو وہ بڑے ہی جوش وجذبے سے کرتے تھے کہ حکومت میں آکر کشکول توڑ دیں گے۔ حکومت میں آکر اُنہوں نے واقعی کشکول توڑ دیا، پیپلزپارٹی کی حکومت کا کشکول چھوٹا تھا، وہ توڑ کر انہوں نے بڑا پکڑ لیا،…. معاشی طورپر پاکستان تباہی کے ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں سے پلٹنا آسان کام نہیں۔ معاشی لحاظ سے پاکستان مضبوط ہوتا عالمی عدالت کو معاشی لحاظ سے مضبوط پاکستان کے کسی فیصلے کو رد کرنے کی جرا¿ت ہی نہ ہوتی۔ پاکستان کو کمزور اس لیے سمجھا جارہا ہے کہ پاکستان کو کمزور کیا جارہا ہے۔ یہ ایک عالمی سازش ہے جس کا دانستہ یا غیردانستہ طورپر ہمارے حکمران حصہ بنے ہوئے ہیں۔ اِس سے بڑھ کر المیہ یا بدقسمتی کیا ہوسکتی ہے ایٹمی قوت پاکستان کے پاس ایسی کوئی شخصیت ہی نہیں جسے مکمل طورپر وزیر خارجہ بنایا جاسکے۔ جس کی عالمی معاملات پر گہری نظر ہو اور عالمی سطح کے مسائل اور بحرانوں سے نمٹنے کی وہ صلاحیت رکھتا ہو۔وزارت خارجہ وزیراعظم نے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے۔ اور اُن کی ساری توجہ صرف اُن ممالک کے ساتھ دوستی پروان چڑھانے پر ہے جواُن کے ذاتی و مالی مفادات میں معاون یا مددگار ثابت ہورہے ہیں۔ اِن حالات میں پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے۔ وطن کو ٹوٹ کر چاہنے والے جس کرب میں اِن دنوں مبتلا ہیں ماضی میں اُس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ خصوصاً بھارتی جاسوس کلبھوشن کے حوالے سے حکمرانوں کے کمزور کردار پر اُن کو مایوسی انتہا تک پہنچی ہوئی ہے۔ پاکستان کو اتنا خطرہ اب باہر سے نہیں جتنا اندر سے ہے۔ کل ایک وزیر فرمارہے تھے ”ہم کسی کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھنے دیں گے“ ….میں سوچ رہا تھا اُن کے ہوتے ہوئے کسی اور کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے ؟؟؟