Asghar Khan Askari copy

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بر اہ راست مذاکرات

گزشتہ مہینہ یعنی 2018 ء کا جنوری پورے افغانستان کے لئے انتہائی خون ریز رہا۔اسی مہینے میں پوری دنیا میں دہشت گر دی اور تخریب کاری کے تقریبا 145 واقعات رونما ہو ئے، جس میں 27 افغانستان میں پیش آئے۔جنوری میں افغانستان میں دہشت گردی کے 3 سانحات نے افغانستان سمیت پوری دنیا کو ہلا کر رکھا دیا تھا۔20 جنوری کو دہشت گردوں نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں انٹر کانٹی نینیٹل ہوٹل (Inter-Continental Hotel Kabul) پر حملہ کیا، جس میں 46افراد جاں بحق جبکہ 22 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ اس حملہ کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کی تھی ،جبکہ افغان حکومت نے الزام لگا یا تھا کہ اس حملہ میں حقانی نیٹ ورک ملوث ہے۔ابھی کابل سوگ ہی میں تھا کہ چند دن بعد یعنی 24 جنوری کو دہشت گر دوں نے پاکستان کے ساتھ متصل افغان صوبہ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں غیر سرکاری تنظیم سیون دی چلڈرن(Save the Childern) کے دفتر کو نشانہ بنا یا ۔اس حملہ میں 6 افراد جاں بحق جبکہ 27 زخمی ہو ئے تھے۔افغانستان کے عوام ابھی جلال آباد کے ما تم سے فارغ نہیں ہو ئے تھے کہ دہشت گر دوں نے کابل میں وزارت داخلہ کی پرانی عمارت کے سامنے ایمبو لینس (Ambulance Bombing)میں مو جود بارود سے گاڑی اڑا دی جس میں 100 سے زیادہ لوگ مارے گئے جبکہ 200 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہو ئے۔
افغانستان سوگ اور ماتم میں ڈوبا ہو ا تھا۔پورے افغانستان میں انسانی خون اور اعضا بکھرے پڑے تھے۔افغان حکومت سکتے کے عالم میں تھی کہ اچا نک صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے ایک خصو صی وفد اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ۔31 جنوری کو یہ وفد افغانستان کے وزیر داخلہ ویس احمد بر مک کی قیادت میں اسلام آباد پہنچا۔ ان کے ساتھ اس وفد میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے سربراہ معصوم ستانکزئی بھی شامل تھے۔افغانستان کے وفد نے اسلام آباد میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سیکیورٹی عہدے داروں سے ملا قات کی۔ اس ملاقات میں جنوری میں افغانستان میں ہونے والے دہشت گر دی کے خون ریز واقعات پر بات چیت ہو ئی۔اسی ملا قات کے دوران یہ اہم فیصلہ بھی کیا گیا کہ دہشت گر دی کے خلاف جاری اس جنگ سے نکلنے کے لئے اب اسلام آباد اور کابل کو براہ راست بات چیت کر
نی ہو گی۔دونوں فریقین نے اس پر رضا مندی ظاہر کی۔بر اہ راست بات چیت کو آگے بڑھانے کے لئے فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کا وفد کا بل کا فوری طور پر دورہ کریگا۔اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان مشترکہ ورکنگ گر وپ (Afghanistan-Pakistan Action plan for Peace and Solidarity)کوفعال کر نا تھا۔3 فروری کو سیکرٹری خا رجہ تہمینہ جنجوعہ کی قیاد ت میں اعلیٰ سول و ملٹری حکام پر مشتمل وفد نے کا بل کا دورہ کیا۔کابل میں وفود کی سطح پر ملا قاتیں ہو ئیں۔افغانستان کے وفد کی قیادت ڈپٹی وزیر خارجہ حکمت خلیل کر زئی نے کی۔ اس ملا قات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مشترکہ ورکنگ گر وپ کو فعال بنایا جائے گا۔اسلام آباد میں پاکستانی وفد کے ساتھ ملا قات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا تھا کہ بر اہ راست بات چیت اور با ہمی اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے پر بے جا الزامات سے اجتناب کیا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں ممالک مستقبل میں کس حد تک اس عہد کی پاسداری کرتے ہیں۔
3 فروری کو پاکستان اور افغانستان کی سول اور ملٹری حکام کے درمیان کابل میں ہو نے والی ملا قات پر دفتر خارجہ نے اعلا میہ جاری کرتے ہوئے بتا یا کہ اس ملا قات میں دہشت گردی ،تشدد میں کمی ،امن بات چیت ،افغان مہا جرین کی وطن واپسی اور مشترکہ معاشی ترقی کے موضوعات پر بات چیت ہوئی ہے۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا تھا کہ مذاکرات مثبت ماحول میں ہوئے ہیں۔جبکہ دونوں ممالک نے افغانستان ،پاکستان ایکشن پلان برائے یکجہتی پر مثبت پیش رفت کی ہے۔تا ہم اعلا میہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابھی چند اہم معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان اتفاق رائے ہو نا باقی ہے ۔ ان اہم معا ملات پر اتفاق رائے پیدا کر نے کے لئے دونوں ملکوں کی سول اور ملٹری حکام کے درمیان 9 اور10 فروری کو اسلام آباد میں مشاورت ہوئی ہے تاہم یہ بات چیت بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہو گئی ہے۔براہ راست مذاکرات میں محفوظ سرحد،افغان مہاجرین کی وطن واپسی ،جامع ویزہ پالیسی ،پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کو فروغ دینا،افغان طالبان ،حقانی نیٹ ورک اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان پر بات چیت ،پارلیمانی،سفارتی اور عسکری سطح پر رابطوں کو فروغ دینا،با ہمی اعتماد سازی کے لئے ما حول کو ہموار کرنااور دہشت گر دی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی جیسے مو ضوعات پر مشاورت ہو ئی ہے۔
جہاں ایک طر ف پاکستان اور افغانستان کے درمیان بر اہ راست بات چیت کا امکان خوش آئندہے ،وہاں بہت سارے خطرات اور مشکلات بھی ہیں۔سب سے بڑا خطرہ صدر ڈاکٹر غنی اور سی ای او ڈاکٹر عبداللہ کے درمیان اختلافات ہیں۔کیا ڈاکٹر غنی اور ڈاکٹر عبداللہ پاکستان کے ساتھ تصفیہ طلب مسائل کے حل پر متفق ہو جائیں گے؟یہی وہ بنیادی سوال ہے کہ جس کے جواب پر براہ راست مذاکرات کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار ہے۔افغانستان کے مسئلہ کا ایک فریق امریکا بھی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان براہ راست مذاکرات میں کسی نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں تو کیا امریکا کو وہ حل قبول ہوگا؟ساتھ اس بات کی ضمانت کون دیگا کہ دوسرا بنیادی فریق افغان طالبان اسلام آباد اور کابل کے بیانیہ کو تسلیم کریں گے؟اس وقت حزب اسلامی کے سربراہ حکمت یار گلبدین بھی کابل میں مو جود ہیں۔وہ بھی سیاسی عمل میں بھر پور کردار ادا کرنے کا خواہش مند ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ براہ راست مذاکرات کے نتیجے میں تیار کردہ امن مسودہ کو وہ کس حد تک تسلیم کر تے ہیں؟پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہ راست مذاکرات کے بارے میں ایک خدشہ یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ مو جودہ افغان حکومت کایہ آخری سال ہے ،وہ چند مہینے امن کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں۔اس لئے انھوں نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ طور پر امن بات چیت کا آغاز کیا ہے۔چند مہینے گز رنے کے بعد معاملات پر اسی نہیج پر چلے جائیں گے ،اس لئے کہ ہندوستان اور افغانستان میں انتخا بی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان پر زیادہ سے زیادہ تنقید کی جائے۔بہر حال صورت حال آنے والے چند مہینوں میں واضح ہو جائے گی کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان براہ راست امن مذاکرات کا مستقبل کیا ہے؟ ابھی تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان بر اہ راست مذاکرات کے تین ادوار منعقد ہو چکے ہیں۔کن امور پر پیش رفت ہو چکی ہے اور کن مسائل پر اختلافات مو جود ہے ،اس بارے میں سرکاری سطح پر کچھ نہیں بتا یا گیا ہے۔تاہم مشاورتی عمل کو ختم کر نے کی بجائے مزید بات چیت پر رضا مندی اگر ایک طر ف امن کی جانب خوش خبری کا پیغام دے رہی ہے تو دوسری طر ف مو جود خدشات کی وجہ سے ناکامی کے بادل بھی منڈلا رہے ہیں۔