Sajid Hussain Malik

پانامہ نظر ثانی پٹیشن کا تفصیلی فیصلہ اور مسلم لیگ ن کا ردِ عمل !

 

یوں تو 28 جولائی 2017ء کو عزت مآب جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی بنچ کی طرف سے پانامہ کیس میں وزیراعظم (سابق) میاں محمد نواز شریف کو نااہل قرار دئیے جانے کے فیصلے کے بعد ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کی اعلیٰ ترین قیادت کے اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر کاربند ہونے کے امکانات اور خدشات کی بنا پر ملک کے سیاسی منظر نامے پر اُبھرنے والے منفی اثرات کچھ کم تشویش کاباعث نہیں تھے لیکن یہ تشویش ا س سیاق و سباق میں کچھ زیادہ پریشان کن نہیں تھی کہ مسلم لیگ ن کے کچھ اہم قائدین جن میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان پیش پیش ہیں شروع سے اس مؤقف کے حامی رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن اور میاں محمد نواز شریف کو اداروں سے ٹکراؤ اور تصادم سے اپنے آپ کو بچانا ہے۔ پچھلے ہفتے عشرے کے حالات و واقعات سے لگ رہا تھا کہ ان قائدین کی مسلم لیگ ن بالخصوص میاں محمد نواز شریف کو اداروں سے ٹکراؤ کی راہ سے ہٹانے کی کوششیں کچھ کچھ ثمر آور ہونے لگی ہیں۔ میاں محمد نواز شریف کی دو نومبر کو لندن سے واپسی پر پنجاب ہاؤس میں مشاورتی اجلاس سے خطاب سے بھی یہ جھلک رہا تھا کہ میاں صاحب اداروں سے ٹکراؤ اور تصادم سے گریز کی راہ اختیار کرنے پر کسی حد تک آمادہ ہو چکے ہیں۔ یہ صورت حال ملک و قوم کے مفاد کے حوالے سے یقیناًاطمینان بخش تھی لیکن شاید ملک و قوم کے نصیب میں چین اور سکون نہیں لکھا ہوا یا ملک و قوم نے ابھی اور کتنی آزمائشوں کا سامنا کرنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت ہی نہیں مسلم لیگ ن بحیثیت سیاسی جماعت بھی اُس راہ پر چلنے پر مجبور ہو گئی ہے جو ٹکراؤ اور تصادم کی طرف لے کر جا سکتی ہے۔ یہ صورت حال پاناما کیس کے فیصلے کے خلاف دائر پٹیشنز پر سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی بنچ کے فاضل رُکن جناب جسٹس اعجاز افضل کے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے ۔ جسٹس اعجاز افضل نے پاناما کیس کے فیصلے کے خلاف پٹیشنز مسترد کرنے کے اپنے فیصلے میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے خلاف جو ریمارکس دئیے ہیں انہیں سخت ہی نہیں کہا جاسکتا بلکہ اُن سے غم و غصے کا اظہار بھی سامنے آتا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ نواز شریف نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی انہو ں نے یہ نہیں سمجھا کہ وہ تمام لوگوں کو کچھ وقت کے لیے بے وقوف بنا سکتے ہیں لیکن ہر بار نہیں۔ نواز شریف نے جان بوجھ کر اثاثے چھپائے ۔ ساڑھے چھ سال کی تنخواہ نواز شریف کا اثاثہ تھی ۔ بد دیانتی کے ساتھ کاغذاتِ نامزدگی میں جھوٹا بیان حلفی دیا گیا۔ پاناما کیس کے فیصلے کے خلاف دائر پٹیشن کو مسترد کرنے کے اس فیصلے سے قبل پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے پانچ رُکنی بنچ کے سربراہ اور فاضل رُکن جناب آصف سعید کھوسہ نے بھی 20 اپریل کو پاناما کے خلاف دئیے جانے والے اپنے اختلافی نوٹ میں میاں محمد نواز شریف کے لیے سیسلین مافیا اور کرپشن کے گارڈ فادر کے القاب استعمال کیے تھے ۔ ان القابات سے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے انگلش لٹریچر پر عبور کا اظہار ضرور سامنے آیا لیکن اس کے ساتھ جان کی امان پاؤں تو عرض کرونگا کہ میاں محمد نواز شریف اور اُن کی فیملی سے جسٹس کھوسہ کے غصے اور ناراضگی کے رویے کا اظہار بھی سامنے آیا۔ ذرائع ابلاغ اور قانونی حلقوں میں میاں محمد نواز شریف کے لیے دیے گئے جسٹس کھوسہ کے ان القابات کو زیادہ پسند نہیں کیا گیا۔
سپریم کورٹ کے فاضل ججز کی طرف سے پاناما کیس کے فیصلے اور بعد میں اس فیصلے کے خلاف دائر پٹیشنز مسترد کرنے کے تفصیلی فیصلے میں میاں محمد نواز شریف کے خلاف جو ریمارکس سامنے آئے اُن کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اُن پر رد و قدح کی جاسکتی ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کا حصہ ہونے کے ناتے حتمی ہیں تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور اُن کے بعض ساتھی جو28 جولائی کو پاناما کیس کے بارے میں دئیے جانے والے فیصلے کے حوالے سے اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار ہی نہیں کرتے رہے ہیں بلکہ سوالات بھی اُٹھاتے رہے ہیں۔ ان کے ان تحفظات ، خدشات اور سوالات کی مسلم لیگ ن کے بعض سینئر قائدین جن میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور بعض دوسرے قائدین شامل ہیں کی طرف سے یہ کہہ کر کے اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی مسلم لیگ ن کے مفاد میں نہیں ہے کی مخالفت بھی سامنے آتی رہی ہے۔ اب پاناما کیس کے فیصلے کے خلاف پٹیشنز مسترد کرنے کا جسٹس اعجاز افضل کا لکھا ہوا تفصیلی فیصلہ سامنے آیا ہے اور اس میں جو زبان استعمال کی گئی ہے اُس کی وجہ سے ٹکراؤ کی پالیسی کے خلاف مؤقف رکھنے والے مسلم لیگ کے قائدین ہی خاموش نہیں ہو گئے ہیں بلکہ مسلم لیگ ن کے مشاورتی اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں اس فیصلے کے خلاف باقاعدہ ردِ عمل کا اظہار بھی سامنے آچکا ہے۔ حالات کو اس رُخ پر اور اس انتہا تک نہیں جانا چاہیے تھا لیکن اس وقت برسرِ زمین حقیقت یہی ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی طرف سے ہی عدالتی فیصلوں کے بارے میں سخت ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے بلکہ بحیثیت جماعت مسلم لیگ ن کی طرف سے بھی سخت ردِ عمل سامنے آچکا ہے۔
میاں محمد نواز شریف نے آٹھ نومبر کو احتساب عدالت اسلام آباد میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم تھا کہ فیصلہ میرے خلاف ہی آئے گا کیونکہ یہ جج صاحبان بغض سے بھرے بیٹھے ہیں۔ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں ججز کا غصہ اور بغض اُن کے الفاظ میں ڈھل کر سامنے آگیا ہے جو تاریخ کا سیاہ باب رہے گا۔پچھلے ستر سال میں جب بھی آمر آئے تو ہماری عدلیہ نے کئی سیاہ اوراق لکھے ہیں ۔ عدالت کا یہ فیصلہ بھی سیاہ حروف میں لکھا جائے گا ۔ میاں صاحب کے یہ ریمارکس یقیناًسخت ہیں لیکن اس سے بڑھ کر پہلی بار یہ ہوا کہ میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کے مشاورتی اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں بھی ججز کے رویوں اور سپریم کورٹ کے پاناما کیس کے فیصلے کے خلاف دائر پٹیشنز کو مسترد کرنے کے جسٹس اعجاز افضل کے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے کو کسی حد تک سخت الفاظ میں ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ مسلم لیگ ن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن عدالتِ عظمیٰ کے پانچ رُکنی بنچ کی طرف سے ریویو پٹیشنز کے تفصیلی فیصلے میں لکھے گئے انتہائی نامناسب ریمارکس کو مسترد کرتی ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد اور تین بار وزیر اعظم رہنے والی شخصیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا وہ کسی بھی سطح پر عدالتی زبان کے معیار پر پورا نہیں اُترتا۔ نواز شریف کے بارے میں توہین اور تضحیک کے الفاظ دُنیا کی کسی بھی عدالت کے لیے باعث فخر نہیں۔ مقدس عدالتی منصب کو بغض و عناد کے تحت سیاسی شخصیات بلکہ کسی بھی پاکستانی کی کردار کشی کے لیے استعمال کرنے کو عدلیہ کی آزادی کے لبادے میں نہیں چھپایا جا سکتا۔
مسلم لیگ ن کے اعلامیے میں ججز کے رویے اور عدالتی فیصلے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے یقیناًیہ اُس صورت حال کا بدیہی نتیجہ ہے جس کا میاں محمد نواز شریف اور اُن کی فیملی کو پہلے سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران سامنا کرنا پڑا اور اب احتساب عدالت میں پیشیوں کے دوران اس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہ کوئی خوش آئند صورت حال نہیں۔ آئینی اداروں بالخصوص عدلیہ کا احترام قائم رہنا چاہیے لیکن یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ عدلیہ کی انصاف پسندی اور غیر جانبداری کا تاثر حقیقی معنوں میں قائم رہے اور کوئی اس پر انگلی نہ اُٹھا سکے۔