hafiz muzafar mohsin copy

’’ٹیکنو کریٹس‘‘ عطاء الحق قاسمی کا فریکچر اور عابد باکسر پر غصہ ؟

’’ٹیکنو کریٹس‘‘ کون ہوتے ہیں ۔۔۔؟!
میں ایک عرصہ سے اس ’’ٹرمنالوجی‘‘ کو سمجھنے کی فکر میں ہوں ۔۔۔! مگر چونکہ ایک عرصہ سے بادام کھانے چھوڑ دئیے ہیں، دودھ نہیں پیا جاتا ۔۔۔ گوشت خوری پر ڈاکٹروں نے پابندی لگا رکھی ہے اس لیے ۔۔۔ دماغ کوئی خاص ’’کام‘‘ نہیں کرتا، سوچنے سمجھنے کی شاید صلاحیت ۔۔۔ بھی اس قدر نہیں رہی ۔۔۔؟!
کل شہر لاہور کی سڑکوں پر ہم نے عجب ’’خوفناک‘‘ منظر دیکھا ۔۔۔ ’’ڈولفن‘‘ پولیس کے چار جوان دو موٹر سائیکلوں پر ایک نو عمر ’’جرائم پیشہ‘‘ کے پیچھے ’’غاؤں غاؤں‘‘ موٹر سائیکلیں دوڑا رہے تھے ۔۔۔ نو عمر ’’جرائم پیشہ‘‘ نے اپنی موٹر سائیکل کے پیچھے پتنگیں باندھ رکھی تھیں ۔۔۔ وہ اک تنگ چھوٹی گلی میں گھسا اور یہ جا ۔۔۔ وہ جا ۔۔۔ جبکہ چاروں ’’ڈولفن‘‘ گلی کی نکر پر کھڑے سوچ میں گم ہو گئے ۔۔۔ شاید وہ نو عمر ’’جرائم پیشہ‘‘ ’’ٹیکنیکل ہینڈ‘‘ تھا ۔۔۔ جبھی وہ ’’جُل‘‘ دے گیا ۔۔۔ ’’ڈولفن‘‘ ابھی نئی نئی ہے ۔۔۔
ایک ’’بڑا ٹیکنیکل ہینڈ‘‘ آجکل اخبارات کی زینت بنا ہوا ہے ۔۔۔ میری مراد ’’عابد باکسر‘‘ کی طرف ہے یہ شخص بہت ’’بدنام‘‘ ہے اس پر مجھے ذاتی طور پر جو غصہ ہے اُس کا اظہار میں کافی عرصہ سے کرنا چاہ رہا تھا ۔۔۔ مگر موقع نہ ملا ۔۔۔ اس عابد باکسرکی پاکستان آمد ہو رہی ہے ۔۔۔ یہ شخص کیسی موت مرے گا یا راؤ انوار بن کر روپوش ہو جائے گا ۔۔۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر مجھے اس پر غصہ ہے کہ اُس نے ’’ماضی‘‘ کی اداکارہ نرگس کی ’’حجامت‘‘ کر دی تھی ۔۔۔ یا کروا دی تھی ۔۔۔ آپ کو شاید میرا یہ پوائنٹ بُرا لگا ہو ۔۔۔ لیکن وہ جو کسی ’’سیانے‘‘ نے کہا ہے ۔۔۔ پسند اپنی اپنی ۔۔۔ ’’دوڑ اپنی اپنی‘‘ ۔۔۔ ادھر بُری خبر ہے کہ استاد محترم جناب عطاء الحق قاسمی اپنی سالگرہ والے دن عین اُس وقت جب دو چار سو کے قریب ٹیکنو کریٹس آواری لاہور کے ڈنشا ہال میں اُن کی سالگرہ منا رہے تھے، پھول بکھیر رہے تھے، لطیفے چل رہے تھے، خوراک پر خاص توجہ تھی اور استاد محترم اپنے ’’نئے پرانے‘‘ لطیفے سنا رہے تھے کہ واپسی پر اُن کا پاؤں پھسلا اور وہ گر گئے ۔۔۔ پاؤں کے پاس سے ہڈی فریکچر ہو گئی۔۔۔
ہم سب جو اُن کے شاگرد یا پرستار ہیں ۔۔۔ یہ امر ہمارے لیے شدید اداسی کا باعث ہے کیونکہ عطاء ایک ’’محفل باز‘‘ ہیں، لطیفے، گپ شپ سب کچھ اُن کی محفلوں کا حصہ ہوتا ہے ۔۔۔ ’’شب دیگ‘‘ اس کے علاوہ ہے یا دوسرے کھابے۔۔۔! اب جب ہم لوگ اُن کے گھر تیمارداری کے لیے جائیں گے تو معاملہ مختلف ہو گا ۔۔۔ گھر کے ماحول میں نہ لطیفے چلیں گے نا کھل کے گپ ہو گی ۔۔۔ اوپر سے ’’بجٹ‘‘ اپ ہونے کا بھی تو اندیشہ ہے کیونکہ قاسمی صاحب کی ’’مہمان نوازی‘‘ بھی تو مشہور ہے ۔۔۔
سنا ہے ڈاکٹر نے ’’تازہ جوس‘‘ پینے کا مشورہ دیا ہے ۔۔۔ ادھر بارہ تاریخ کو پیشی بھی تو تھی ۔۔۔ !!
بات شروع ہوئی تھی جرائم پیشہ لوگوں سے ۔۔۔ عابد باکسر وغیرہ ۔۔۔ یہ ایک دور تھا جب لاہور میں بڑے بڑے ’’بدنام‘‘ موجود تھے، طاہر پرنس، عاطف چوہدری، ارشد امین چوہدری، بلیک ایگلز، بھولا سنیارا ۔۔۔ دوسری طرف رام گلی اور گوالمنڈی کے وہ ’’لڑکے‘‘ جو پولیس میں بھرتی ہوئے اور اُنہوں نے ’’پولیس مقابلوں‘‘ اور دوسری سرگرمیوں کے باعث خوب نام کمایا ۔۔۔ ان میں سے اکثر رام گلی، پریم گلی، گوالمنڈی کے ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو مرلوں کے گھر سے اٹھے تھے اور کروڑ پتی (چند کس) باقی ارب پتی بنے اور اُن کی اولادیں بیرونِ ملک پروان چڑھ رہی ہیں ۔۔۔ یہ ’’فری ہینڈ‘‘ کا کمال تھا ۔۔۔ کس نے کس کو کس قدر ‘‘فری ہینڈ‘‘ دیا ۔۔۔ کہاں کہاں یہ ’’فری ہینڈ‘‘ چلا ۔۔۔ لاہور کے ’’مون لائٹ‘‘ سنیما کے گرد گھومتی جرائم پیشہ عابد باکسر کی کہانی ۔۔۔ ایک دس ہزار صفحات پر مشتمل کتاب لکھی جا سکتی ہے ۔۔۔ کتاب سے مجھے ریحام خاں کی کتاب بھی یاد آ گئی جو اگلے الیکشن سے پہلے شاید بھارت سے نمودار ہو ۔۔۔ کیونکہ محترمہ ریحام خاں اس وقت بھارت میں ہیں اور ’’انٹرویو‘‘ دے رہی ہیں ۔۔۔ ’’الٹی سیدھی‘‘ باتیں کر رہی ہیں ۔۔۔ عمران خاں ’’بے چارے‘‘ نے ایسے بہت سے روگ پال رکھے ہیں ورنہ وہ کب کے ۔۔۔؟!
ادھر اخبار میں خبر تھی کہ PTI اعجاز چوہدری کو سینٹ کی سیٹ پر کھڑا کر رہی ہے بطورِ ’’ٹیکنو کریٹس‘‘ ۔۔۔ اعجاز چوہدری بھی ہمارے سینئرز میں جمعیت میں تھے اور واقعی یہ بھی اس دور میں بھی ’’ٹیکنیکل ہینڈ‘‘ تھے۔ امیرالعظیم بھائی اس بات کے گواہ ہیں ضیاء الدین انصاری بھی جانتے ہیں! یہ سب ہمارے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، دیال سنگھ کالج، MAO کالج کے ساتھی ہیں ۔۔۔ سعد رفیق اور دوسرے بھی تو اُس دور کے ’’ٹیکنیکل ہینڈ‘‘ تھے ۔۔۔ حافظ سلمان بٹ، لیاقت بلوچ وغیرہ ہم سے سینئر تھے ۔۔۔ ویسے اُن کا شمار بھی ’’ٹیکنیکل سٹاف‘‘ میں ہی ہوتا تھا ۔۔۔ ہم سب اُس دور میں بھی کالج / یونیورسٹی صرف ’’موج میلا‘‘ کرنے جاتے تھے ۔۔۔ کیونکہ اُس دور میں لاہور کے تعلیمی اداروں میں ’’ٹیکنیکل ہینڈ‘‘ لوگوں کا قبضہ ہوتا تھا شاید آجکل بھی ایسا ہی ہوتا ہو مگر ۔۔۔ !ہمیں اس سے کیا؟!۔۔۔
رات گئی بات گئی
تازہ ترین خبر ہے کہ دبئی حکومت کو گالیاں دینے والے شخص کو پانچ لاکھ درہم جرمانہ ہو چکا ہے جبکہ سعودی عرب میں شاہی عدالت پر تنقید کی سزا پانچ سال قید مقرر ہو چکی ہے، ادھر لوگ ہمارے استادِ محترم خادم حسین رضوی صاحب پر خواہ مخواہ تنقید کر رہے ہیں فیس بک پر ’’جاہل‘‘ ’’ناہنجار‘‘ لوگوں نے استادِ محترم خادم حسین رضوی کے وہ سب نقطے اجاگر کر ڈالے جہاں اُنہوں نے ’’جوشِ خطابت‘‘ میں ’’سب‘‘ کو گالیاں دے ڈالی تھیں ممکن ہے اُس طرف بھی کسی عدالت کی نظر پڑ جائے اور رضوی محترم بھی دھر لئے جائیں۔ ویسے استادِ محترم خادم حسین رضوی بھی ٹیکنو کریٹس میں شمار ہوتے ہیں ۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہے ۔۔۔؟؟!!!؟؟
میری اِک نظم ملاحظہ کریں ۔۔۔
تو جب لاہور آئے۔۔۔ تو بتانا
ٹینکی فل کرا رکھی ہے میں نے
تجھے دن بھر گھماؤں گا میں۔۔۔ کیونکہ
ڈرائیور چھٹی لے کر جا چکا ہے
تجھے UBER بھی مل سکتی ہے ویسے