nasif awan new

ٹھہرو، ہم بتاتے ہیں؟

ابھی امید باقی ہے کہ یہ جو احتساب ہو رہا ہے اس کے نتیجے میں خوابوں کا مینہ چھم چھم برسے گا۔۔۔ اور اگر انجام اس کے برعکس ہوا تو پھر انارکی پھیل سکتی ہے کیونکہ تحمل، ضبط اور برداشت کی ایک حد ہوتی ہے؟
خاندان شریفیہ خود کو عوام کے سامنے ایسے پیش کر رہا ہے جیسے وہ اسے ٹوٹ کر چاہتے ہیں اور ان کے ساتھ ہونے والی قانونی چارہ جوئی پر انتہائی افسردہ و غمگین ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ان کے لیے قطعی فکر مند نہیں جو تھوڑے بہت ہیں ان کے مفادات ہیں، وہ مفادات عام آدمی کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتے کیونکہ ان سے ان کی سانسیں رکتی ہیں۔۔۔؟
اس قدر ’’پٹ سیاپا‘‘ یہ اشرافیہ کر رہی ہے کہ جیسے اسی کے ساتھ کوئی ظلم ہو رہا ہے ا س کا کوئی استحصال کیا جا رہا ہے۔۔۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ غریب عوام کو تو ان گناہوں کی سزا بھی مل رہی ہے جو ان سے سرزد نہیں ہوئے ان کے لیے کوئی آج تک تڑپا، کوئی احتجاج کیا گیا، کوئی قانون سازی کی گئی۔۔۔ جواب نفی میں ہو گا۔۔۔ تمہارے ساتھ تو آج تک وہ سلوک ہوا ہی نہیں، قانون نے اندھا دھند پیچھا کیا ہی نہیں۔۔۔ پھر یہ چیخنا چلانا کیوں۔۔۔؟
عوام کی غالب اکثریت کا خیال ہے یہ جو کھینچا تانی کی جا رہی ہے شاید گونگلوؤں سے مٹی جھاڑی جا رہی ہے۔ وہ احتساب جس کا غلغلہ تھا او رجو تاثر دیا جا رہا تھا وہ کسی بھی صورت نہیں ہو گا۔۔۔ کیونکہ بہتی گنگا میں ہر کسی نے ہاتھ دھوئے ہیں؟ یا پھر یہ طبقہ جس سے باز پرس ہو رہی ہے اتنا طاقتور ہے کہ وہ معیشت سے لے کر انتظامی معاملات تک سب کچھ پر قابض ہو چکا ہے لہٰذا اس پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں، کہیں یہ مشتعل ہو کر توڑ پھوڑ نہ کر ڈالے۔۔۔؟
کیا اس کے مضبوط ہونے سے ادارے کمزور پڑ گئے ہیں۔۔۔ یہ ایک سوال ہے۔۔۔؟
نہیں ایسا نہیں ہے۔۔۔ یہ طبقہ کتنا ہی زور آور ہو ریاستی اداروں کے سامنے اس کی ایک نہیں چلتی تو پھر رک رک کر پھونک پھونک کر کیوں چلا جا رہا ہے۔ آگے بڑھنے کی رفتار کیوں سست ہے، اس میں کیا مصلحت ہے۔۔۔ جبکہ قومی ماحول پر افسردگی چھائی ہوئی ہے۔ اس پر ایک سکوت طاری ہے۔ روز بروز عام آدمی کی زندگی میں آنسوؤں اور آہوں کا اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔۔۔ مگر پھر بھی اشرافیہ مظلوم اور پوتر ۔۔۔؟ اس کے لیے آزادی یا حصار دونوں میں سے ایک، یہ کہنا ہے موجودہ صورت حال سے اکتائے ہوئے لوگوں کا۔۔۔؟
ذرا دیکھیے! کتنے قانون دان ہیں جو عرق ریزی سے شق و ار آئین و قانون کا مطالعہ کرنے میں مصروف ہیں۔ پیسا بولتا ہے۔۔۔؟
انصاف بھی پیسے کے بغیر نہیں ملتا۔۔۔ اس لیے گھروں کے گھر اجڑ رہے ہیں غریبوں کے۔۔۔ محکوموں کے، انہیں تحفظ حاصل نہیں جسم و جاں کا۔۔۔!راستے پر خطر، بستیاں خوفز دہ اور عصمتیں غیر محفو٭۔۔۔!قانون مگر اندھا ہے۔۔۔؟ اشرافیہ کوئی خطا بھی کرے تو بھول ہو گئی، جانے کیسے ہو گئی کہہ کر اپنا دامن صاف بچا لیتی ہے۔ یہ ہے معیار یہاں۔۔۔؟ اپنے لیے نت نئے قوانین بنا لیے جاتے ہیں اور اس دھرتی کے گن گانے اور اس کے سینے پر سبزہ اگانے والوں کے لیے کچھ نہیں۔۔۔؟ باتیں لچھے دار،دعوے فلک بوس اور ڈھینگیں تاحد نگاہ مگر کام دھیلے کا نہیں، دھوکا ہے فقط دھوکا۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ کو دیکھو کہ وہ جو کہتے ہیں کرتے نہیں، پکے منہ بات بڑی بڑی کرتے ہیں جو کبھی بھی پوری نہیں ہوتی۔۔۔ کہتے ہیں ان کے صوبے میں میرٹ ہے میرٹ ، ہر فیصلہ میرٹ پر ہوتا ہے۔۔۔؟
جناب عالی! تبادلے سفارشی، بھرتیاں سفارشی و رشوتی؟ بھرتیوں کا ذکر آیا ہے تو عرض ہے۔ جس محکمے میں ہزاروں کی تعداد میں بھرتی ہونی چاہیے وہاں دس بیس لوگ بھرتی کیے جاتے ہیں ۔۔۔ تعلیم کے شعبے میں ایسی ہی صورت حال پائی جاتی ہے۔۔۔ صحت کا شعبہ بھی سائیں سائیں کر رہا ہے مگر مجال ہے کوئی اس کے بارے میں سوچے۔۔۔ بس ان کے دماغ میں میٹرو اور اورنج ٹرین بسی ہوئی ہے جسے وہ ہر مرض کا علاج قرار دے رہے ہیں۔۔۔؟
کیا یہ جمہوریت ہے کہ عوام کچھ چاہیں اور حکمران کچھ اور ۔۔۔؟
جمہوریت کو بدنام کیا جا رہا ہے۔۔۔ اگر وہ ہوتی تو کوئی بھی خاندان شریفیہ میں سے برسراقتدار نہ ہوتا۔۔۔ کیونکہ اسے اپنے اوپرلگائے گئے الزامات کی بنا پر استعفیٰ دینا پڑتا۔۔۔ مگر وہ ڈھٹائی کے ساتھ اقتدار کے رنگیلے پلنگ پر بیٹھے اپنی منوا رہا ہے۔۔۔!عوام سوچ رہے ہیں کہ یہ کیسا دور آیا ہے کہ لکڑ پتھر ہضم کرنے کے باوجود کچھ لوگ ان پر حکمرانی کیے جا رہے ہیں۔۔۔!
اب تو شک یقین میں بدل رہا ہے کہ انہیں ضرور واشنگٹن کی تھپکی ملی ہے وگرنہ انہیں تھوڑا بہت تو عوامی ردعمل کا ڈر ہو۔۔۔ مگر یہ تو ماتھے پر شکنیں چڑھائے دائیں بائیں دیکھ رہے ہیں۔۔۔ لہٰذا لگتا ہے کہ جب 2018ء میں عام انتخابات ہوں گے تو یہی کامیاب ہوں گے اور ایسے ہوں گے کہ پھر ہوتے جائیں گے۔ انہیں کوئی روک نہیں سکے گا اور محترمہ مریم نواز کی یہ بات سچ ثابت ہو جائے گی کہ روک سکو تو روک لو؟
عوام کیا کریں کہاں جائیں۔۔۔؟
کوئی بتا سکے تو بتائے۔۔۔؟
جدھر دیکھو دھوکا اور جدھر نظر دوڑاؤ قانون شکنی، کہنا مگر یہ ہے اہل اختیار کا کہ سب ٹھیک جا رہا ہے۔۔۔ کیسے ٹھیک ہے جناب؟ معیشت کا بھٹہ بیٹھ رہا ہے۔۔۔ سماجی تانا بانا ادھڑ رہا ہے۔۔۔ مایوسی کا یہ عالم ہے کہ اب شاخ پر بیٹھی فاختہ بھی پھڑ پھڑانے لگی ہے۔۔۔ قرضہ خوفناک حد تک سرپے چڑھ گیا۔۔۔ کیسے اترے گا یہ کہ جب کوئی ڈھنگ کا استعمال ہی نہیں۔۔۔ ایسا ہو بھی کیسے کہ جب حصے پتیا ں اس کے کر لیے جائیں متعلقہ شعبوں پر اسے خرچ ہی نہ کیا جائے۔۔۔تو واپس کیسے ہوگا۔۔۔؟
دھندلا دیاہے، خزانہ خالی کرنے والوں نے ملک کا مستقبل؟مانتے نہیں مگر۔۔۔ کہے جا رہے ہیں کہ یہ کوئی بات ہے کہ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ کھربوں کہاں سے آئے۔۔۔ کیوں آئے۔۔۔ جہاں سے بھی آئے۔۔۔ بس آئے کسی کو کیا۔۔۔؟
اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ عدالتیں ان کا احتساب نہیں کر سکتیں۔۔۔ اور کریں گی تو وہ سرخرو ہوں گے ؟
درست ہے جی درست ہے۔۔۔؟
عوام تو مگر کر سکتے ہیں نا۔۔۔ لہٰذا وہ ضرور جلد یا بدیر پر اپنے ہاتھوں میں کاغذ پر لکھے سوالوں کے جوابات لینے کے لیے تمہارے طرف بڑھیں گے ، اوراگر تم ان سے کہو گے کہ ایسا کیوں کر رہے ہو تو وہ کچھ نہیں بتائیں گے ۔۔۔ اور آگے بڑھتے رہیں گے، اس وقت تم ان کے قدموں کی دھمک سن کر پکا ر اُٹھو گے ٹھہرو، ہم بتاتے ہیں؟