tariq mehmood ch

ٹرمپ کے سو دن

اکلوتی سپر طاقت ریاست ہائے امریکہ کے غیر روایتی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار سنبھالے 100 دن سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ امریکہ، میڈیا، تجزیہ نگار اور پیشین گوئیوں کا کاروبار کر کے ڈالر سمیٹنے والے ماہرین، امریکہ کے مستقبل کے متعلق اپنی اپنی مشگافیاں کر رہے ہیں۔ امریکہ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی بحرانوں اور حساس معاملات سے کس طرح نمٹتے ہیں۔ اس کا ایک نمونہ چند روز پہلے دیکھنے میں آیا۔ تائیوان کے صدر نے سفارتی ذرائع سے یہ خواہش ظاہرکی کہ وہ امریکی صدر سے بعض حساس معاملات پر ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ کرنا چاہتے ہیں۔ مسٹر ٹرمپ نے ٹوئٹ کے ذریعے بات چیت سے انکار کیا۔ جس پر بہت لے دے ہوئی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ایسی غیر روایتی حرکت کیوں کی؟ جواب تھا کہ وہ چینی صدر ذی چن پنک کو پریشان نہیں کرنا چاہتے۔ کیونکہ وہ شمالی کوریا کو بلیسٹک میزائلوں کے تجربات سے باز رکھنے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی ڈونلڈ ٹرمپ تھے۔ جنہوں نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے فوری بعد خود فون کر کے تائیوان کی صدر سائی انگ وان سے فون پر بات کی۔ چین کے مقابلے میں سپورٹ کرنے کا یقین دلایا۔ لیکن جب چین نے آنکھیں دکھائی تو قلابازی کھائی اور فون سننے سے بھی انکار کر دیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ چینی صدر کی جانب سے کوششوں کے باوجود شمالی کوریا مسلسل بیلسٹک میزائلوں کے تجربے کر رہا ہے۔ متلون مزاج ٹرمپ کے متعلق، امریکی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ان کے دور میں خارجہ پالیسی، حصص مارکیٹ کی مانند ہو گئی ہے۔ جس میں ہر لمحہ اتار چڑھاؤ درپیش رہتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے بیان داغا کہ شمالی کوریا، بیلسٹک میزائلوں کے تجربے سے باز رہے۔ اس بیان کے ٹھیک دو گھنٹے بعد شمالی کوریا نے ایک ماہ کے دوران چوتھا میزائل تجربہ کر ڈالا۔ امریکہ نے خفت مٹانے کیلئے موقف اختیار کیا کہ یہ ٹیسٹ فائر ناکام رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں داخلے کے صرف تین ماہ کے اندر ایک جانب امریکہ اور شمالی کوریا آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ چین اور دیگر ممالک کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔ امریکی صدر خود اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ شمالی کوریا کے معاملہ کا سفارتی حل کامیاب نہیں ہو رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے معاملہ پر جنگ ناگزیر نظر آتی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ بین الاقوامی معاملات کو کس طرح سے ڈیل کرتے ہیں۔ وہ ان کی چین کے متعلق پالیسی سے صاف جھلکتا ہے۔ وہ ایک طرف چین جو کہ شمالی کوریا کا اتحادی ہے اس سے اس بحران کو ٹالنے کیلئے مدد کے خواہاں ہیں۔ دوسری جانب وہ ساؤتھ چائنا سی میں متنازعہ جزائر کی ملکیت کے معاملے پر چین کو دیوار سے لگانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی صدر چین کے خلاف ان متنازعہ جزائر کے ایشو پر کثیرالملکی اتحاد قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ سو دنوں کی کارکردگی کی جانب بڑھنے سے پہلے ایک نظر عالم اسلام کے روحانی مرکز سعودی عرب کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے زریں خیالات ملاحظہ فرمائیں۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ عالم اسلام میں امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی سعودی عرب ہے اور امریکہ مسلمان ملکوں کے معاملات کو سعودی عرب کے ذریعے ہی کنٹرول کرتا ہے۔ لیکن حال ہی میں امریکی صدر نے میڈیا ٹاک میں کہا کہ سعودی عرب ہمارا اتحادی ہے۔ لیکن اس کا رویہ ٹھیک نہیں۔ ہم اس کے دفاع کے لئے بھاری اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔ لیکن سعودی عرب اس کی مناسب قیمت نہیں ادا کر رہا۔ افغانستان، امریکی خارجہ پالیسی کا ایک اور اہم جز ہے۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ امریکی فوجیں افغانستان میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ مجبوراً اپنی عسکری برتری کو ثابت کرنے کیلئے امریکہ کو بموں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ قندوز، ہلمند طالبان کے کٹنرول میں ہیں۔ افغانستان کی کٹھ پتلی انتظامیہ یہ تسلیم کرتی ہے کہ پچاس فیصد خطے پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں۔ امریکی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ ڈین کوئس نے سینٹ کمیٹی کے روبرو بتایا کہ افغانستان کے معاملات ہاتھوں سے نکل رہے ہیں۔
امریکی صدارتی انتخابات ہوں۔ گورنر کا الیکشن ہو یا سینٹ اور کانگریس کے الیکشن ہوں۔ یہ سارے انتخابات کسی نظریئے کی بجائے پیسہ کے انباروں کے بل بوتے پر لڑے جاتے ہیں۔ حالیہ انتخابات کے دوران ایک محتاط اندازے کے مطابق 10 سے 15 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ دونوں صدارتی امیدواروں ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن دونوں نے پیسہ پانی کی طرح بہایا۔ امریکی الیکشن کے بارے میں میڈیا طنزیہ طور پر کہتا ہے کہ امریکی چناؤ، پیسے کا بے دریغ بہاؤ، صدر کلنٹن کے اپنے دعویٰ کے مطابق ان کی اقتصادی حیثیت 10 بلین ڈالر کے برابر ہے۔ وہ ٹی وی شو کی میزبانی کیلئے 3 بلین ڈالر کا مطالبہ کرتے تھے۔ اسی طرح ہیلری کلنٹن سے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کی انتخابی مہم کے آغاز میں ہی 115 ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ ان کے انتخابی اخراجات میں سب سے بڑا حصہ یہودی سرمایہ کار جارج سوراس کا رہا۔ جنہوں نے اپنی پسندیدہ صدارتی امیدوار کیلئے 8.5 ملین ڈالر کا چندہ دیا۔ پیسے بہانے کے مقابلے، موثر لابنگ اور دیہی و مضافاتی علاقوں میں بستے امریکیوں کی نبض پر ہاتھ رکھ کر ان میں احساس محرومی پیدا کر کے ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن جیت لیا۔ ان کی جیت تجزیہ نگاروں، میڈیا کے تخمینوں کے بالکل برعکس تھی۔ امریکی تجزیہ نگاروں کی اکثریت نے ان کی صدارتی الیکشن کیلئے نامزدگی کو بھی امریکی جمہوری نظام کے لئے خطرہ قرار دیا تھا۔ بطور صدارتی امیدوار انہوں نے امیگرینٹش کمیونٹی اور مسلم ممالک کے متعلق جو پالیسی دی اس پالیسی کو تجزیہ نگاروں نے امریکی معاشرت کے لئے المیہ قرار دیا۔ ٹرمپ صدر منتخب ہوئے تو سب سے پہلی بغاوت خارجہ محاذ پر ہوئی۔ مختلف ممالک میں تعینات ایک ہزار کے قریب سینئر سفارتکاروں نے ان کے خارجہ امور کے متعلق تصورات کو رد کر دیا۔ ان میں سے دو سو افراد ایسے تھے جو امریکی خارجہ پالیسی کی مشینری کے اہم ترین کل پرزے سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی تعیناتی کے ممالک سے جو یادداشتی خطوط ارسال کئے اس میں تنبیہ کیا گیا تھا کہ پناہ گزینوں اور غیر ملکیوں کے متعلق ان کے خیالات جگ ہنسائی کا سبب بن رہے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ میں آنے والے غیر ملکیوں کے سبب امریکی معیشت میں 250 ارب ڈالر کی خطیر رقم داخل ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے حلف اٹھاتے ہی ان افراد کی اکثریت کو یا تو فارغ کر دیا، بعض کو اپنے عہدوں سے ہٹا دیا۔امریکی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ان کا صدر ایک ایسا شخص ہے جو رات گئے تک ٹی وی دیکھتا ہے۔ سنی سنائی چیزوں پر انتہائی غیر ذمہ دارانہ انداز میں ٹوئٹ کرتا ہے۔ اکثر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو خراب کر بیٹھا ہے۔ اب تک جتنے ایگزیکٹو آرڈر جاری کر چکا ہے ان میں سے چالیس فیصد عدالتوں کے ذریعے واپس کئے جا چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ پہلا امریکی صدر ہے جس کے متعلق پہلے تین ماہ کے بعد ہی یہ پیشین گوئی کی جا چکی ہے کہ ان کے مواخذہ کی تحریک لائی جا سکتی ہے۔ یہ پیشین گوئی پروفیسر ایلن لچمین نے کی ہے جو امریکی صدر کے متعلق سو فیصد درست پیشین گوئی کرنے کیلئے عالمی شہرت یافتہ ہیں۔ امریکہ کے قمار خانوں میں اس وقت سب سے زیادہ ریٹ اسی پیشین گوئی کا ہے۔ یہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ۔