hafiz shafique ur rehman

ٹرمپ کی بھارت نواز پالیسی فلاپ ہورہی ہے

یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ پاکستان نے بے مثال قربانیوں اور کامیابیوں کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف عالمی کاوشوں میں صف اول کی ریاست کا کردار ادا کیا ہے۔پاکستانی افواج اور قوم نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں کوئی اور ملک اس کی مثال پیش نہیں کرسکتا ۔ پاکستان متعدد بار عندیہ کا اظہار کرچکا ہے کہ علاقائی اور عالمی شراکت داروں کی مدد سے افغان قیادت اور عوام پر مشتمل امن کے عمل کے ذریعے افغانستان میں امن و ترقی کے لیے کام کرتا رہے گا اور وہاں جلد از جلد حالات معمول پر لانے کے لیے کوشاں رہے گا تاہم اس کے لیے افغان حکومت کی جانب سے اپنے علاقے پر مؤثر کنٹرول کی بحالی کے لیے ایک ساتھ کوششیں درکار ہیں۔ پاکستان بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ’ حقانی نیٹ ورک کا اب پاکستان میں کوئی وجود نہیں اور یہ اب افغانستان کی حدود میں موجود ہے، افغانستان اپنے معاملات خود درست کرے پاکستان اس میں مکمل تعاون کرے گا‘۔ مقام افسوس ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی 16 برس کی جنگ میں ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے۔ اسے افغانستان میں فوجی طور پر جو کامیابی نہیں ملی اس کی وجہ افغانستان میں طالبان کی مقامی اور مزاحمتی طاقت کا سرگرم عمل ہونا اور ان کا عزم ہے۔ افغانستان کے اندر کی قوت مزاحمت نے امریکیوں کو کامیابی حاصل نہیں کرنے دی۔
وقت آگیا ہے کہ امریکہ تاریخ پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالے۔ اگر وہ ایسا کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ 19 ویں صدی کی عالمی طاقت برطانیہ کو بھی ہزیمت اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 20ویں صدی کے وسط میں سوویت یونین جو اپنی فوجی قوت کے لحاظ سے دنیا میں امریکہ کے ہم پلہ تھا، اسے بھی یہاں سے ناقابل فراموش شکست کی ایسی کاری ضرب کا سامنا کرنا پڑا، اس کی عظمت قصہ پارینہ بن گئی ہے۔ریکارڈ گواہ ہے کہ پاکستان خطے کا وہ واحد پر عزم ملک ہے جس نے محدود وسائل کے باوجود اپنی جغرافیائی حدود سے دہشت گردی کا تقریباً خاتمہ کردیا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایسی مؤثر کارروائیاں کیں ، انہیں بشمول امریکہ بہت سے ممالک کی طرف سے سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان دہشت گردوں میں تفریق نہیں کرتا، وہ تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرتا ہے۔پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجہ میں بہت سے شدت پسند افغانستان فرار ہو گئے ہیں۔ افغانستان گزشتہ لگ بھگ 40 سال سے افراتفری کا شکار ہے، دہشت گردوں کو افغانستان کے اُن علاقوں میں اپنے قدم جمانے کا موقع ملتا ہے جہاں کابل حکومت کی عمل داری نہیں ہے۔افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔ پاکستان، افغانستان میں امن اور مفاہمت کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے خلاف بلیم گیم کا خاتمہ کیا جائے۔
مقام شکر ہے کہ امریکی ماہرین اور حکام کو بعد از خراب�ئ بسیار اس امر کا ادراک و احساس ہوا کہ افغانستان میں حالات بہتر بنانے کے لیے امریکہ کو پاکستان کا تعاون حاصل کرنا چاہیے ۔ ہمارے نزدیک اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ اور افغان حکومت کو طالبان سے جو وہاں کی حقیقی قوت ہیں مذاکرات کرنے چاہئیں۔ ان مذاکرات میں تینوں ملک امریکہ، پاکستان اور افغانستان شامل ہوں اور طالبان کو افغان حکومت اور اداراتی ڈھانچے میں شریک کر کے اقتدار میں حصہ دے کر اقتدار میں شامل کیا جائے کیونکہ ان کو حصہ دیئے بغیر افغان مسئلہ کا پائیدار اور یقینی حل نہیں نکل سکتا۔ امریکی انتظامیہ جو نئی پالیسی ترتیب دے رہی ہے، پاکستان کو اعتماد میں لے کر طالبان سے مذاکرات کرے۔ یہ مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں اور
افغان حکومت طالبان کی بامعنی اور نمائندہ شرکت کا انتظام کرے۔ امریکہ کے لیے ضروری ہے کہ طالبان جو وہاں کی حقیقی قوت ہیں ان کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکال کر تمام معاملات نمٹائے جائیں تا کہ افغانستان میں امن لوٹ سکے کیونکہ افغانستان میں امن کے بعد ہی خطے میں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو گا۔
یہ امر پیش نظر رہے کہ ٹرمپ کی بھارت نواز پالیسی سامنے آنے کے بعدچین کے معروف سرکاری روز نامہ گلوبل ٹائمز نے جو تجزیہ کیاتھا ، وہ خطے کے عوام کے نزدیک قرین حقیقت تھا، اخبار نے واضح کیا تھا کہ ’ امریکہ خطے کو ایک مرتبہ پھر متزلزل کرنا چاہتا ہے،امریکہ کی افغانستان بارے حکمت عملی نے خطے کی سکیورٹی صورت حال خراب کردی ہے،امریکہ کی حکمت عملی میں منصوبہ بندی کا فقدان نظر آتا ہے، امریکہ افغانستان کے مسائل کے حل کی بجائے صرف اپنے خفیہ اہداف حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان میں ایک دہائی سے زیادہ غیر ملکی افواج افغانوں کی حفاظت نہیں کر سکتیں۔ امریکہ کی نئی حکمت عملی سے خطہ مزید مشکلات کا شکار ہو گا۔ افغانستان میں بڑے پیمانے پر دہشت گرد حملے امریکہ کے زیر انتظام افواج کی موجودگی پر سوالیہ نشان ہیں۔افغانستان کے موجودہ مسائل کے حل کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہیں دکھائی دیتی۔امریکی پالیسیاں افغانوں کے مصائب کم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
امریکیوں کے دوہرے معیارات اور دورخے پن کا عالم یہ ہے کہ ایک طرف وہ پاکستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ افغان مزاحمت کار طالبان کی ناقابل تسخیر قوت سے ان کے مذاکرات کرانے میں مدد دے اور دوسری طرف وہ افغانستان میں بھارت کو کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے تمام سہولیات اور مراعات فراہم کرنے کو اپنا نصب العین بنائے ہوئے ہیں۔ ریکس ٹیلر سن نے بھی جنوبی ایشیا کے دورے میں نئی دہلی کو یقین دلایا تھا کہ امریکہ بھارت کو خطے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے ہمہ جہتی تعاون فراہم کرے گا۔ یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسی قسم کی بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھانے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہی تھی۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’ بھارت امریکہ کا سچا دوست ہے، امریکہ دنیا کو لاحق چیلنجوں سے مقابلہ کرنے میں بھارت کو ایک سچا دوست اور شراکت کار تصور کرتا ہے‘۔ دونوں رہنما ؤں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں دونوں قومیں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ امریکہ کے مقابلے میں میکسیکو ایک خُردبینی ملک ہے۔ اس کے خلاف تو ٹرمپ حفاظتی، دفاعی انتظامات کے عزم صمیم کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ بھارت جو پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور تین مرتبہ اپنے سے 5 گنا چھوٹے ملک پاکستان پر جارحیت کا مرتکب ہو چکا ہے اور اب بھی بلوچستان، کراچی بعض قبائلی علاقہ جات اور جنوبی پنجاب میں دنیا کی رسوا اور بدنام ترین ایجنسی را کے ذریعے تخریب کارانہ اور دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی صدر کو بھارتی جنگی جنونی حکمرانوں کو ان مذموم حرکات سے باز رہنے کا بھی مشورہ دینا چاہئے۔
امریکی انتظامیہ کی طرف سے بھارت کی طرف غیر مشروط دست تعاون بڑھاتے ہوئے ٹرمپ کو پاکستان کی تزویراتی اہمیت و افادیت اور امریکیوں کو سرد جنگ کے دوران دنیا کی اکلوتی عالمی طاقت بنانے کے حوالے سے پاکستان کے کردار سے چشم پوشی نہیں کرنا چاہیے۔ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور افغان حکومت پر اب واضح ہو چکا ہے کہ افغان طالبان افغانستان کی ایک داخلی قوت ہیں، انہیں کچلنے میں امریکہ اپنی افواج پر 1070ارب ڈالر اور 2007ء سے بلیک واٹر پر 200 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود بری طرح ناکام رہا۔ بہتر ہے کہ امریکی حکام اور افواج مکمل طور پر لہو لہان ہونے سے قبل افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے جو ملک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے، خطے میں اس کی قائدانہ حیثیت کو تسلیم کرے۔
ادھر عالم یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کے زیرانتظام علاقے میں پاکستانی فوج کی پوزیشنوں کی جاسوسی کے لئے ڈرون طیارہ بھی بھیج دیا تاہم پاکستان کی مسلح افواج نے اس کو گرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بھارت جس طرح سے سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے وہ اب حد سے آگے جا چکا ہے۔ پاکستان اس حوالے سے بین الاقوامی اداروں اور ہمسایہ ملکوں کو اس بارے میں آگاہ کرے تاکہ بھارت کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے آ سکے۔ پاک فوج نے بھارتی گولہ باری اور فائرنگ کا ہمیشہ مؤثر جواب دیا ہے۔ بھارتی ڈرون کو تباہ کر کے پاکستان نے بھارت کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ امریکہ کو اس امر کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت رکھنے والا ملک ہے۔ بھارت کو ڈرون دے کر وہ خطے میں طاقت کے توازن میں جو منفی کردار ادا کر رہا ہے اس سے باز رہے۔ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت اس لئے کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قراردادوں میں کشمیریوں کو یہ حق دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادیت کی تحریک چلانے والوں پر جو ظلم و تشدد روا رکھے ہوئے ہے پاکستان نے ہمیشہ اس کی مذمت کی ہے مگر بھارت کشمیریوں کو ان کا حق دینے پر راضی نہیں۔ امریکہ کو بھارت کی حمایت کرنے اور اسے طاقت کا توازن خراب کرنے کا باعث بننے والے اقدامات سے گریز کرنا چاہئے تاکہ یہ خطہ کسی گھمبیر صورت حال کا شکار نہ ہو سکے۔