Ali Imran Junior

ٹرمپ کا پنگا۔۔۔

دوستو، امریکا کا صدر ٹرمپ تو ہمیں کبھی کبھی ’’مستانہ‘‘ سا لگتا ہے، یعنی بالکل ایسا بچہ جو گھر میں ابنارمل ہولوگ اسے اس کے حال پہ چھوڑ دیں۔۔۔ڈونلڈ ٹرمپ نے امداد بند کردی ،سونے پہ سہاگہ یہ بھی کہہ دیا کہ ہمارے تینتیس ارب ڈالر واپس کرو۔۔۔ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں۔۔۔امریکا بوائے فرینڈ اور پاکستان گرل فرینڈ کی طرح لڑ رہے ہیں کہ بوائے فرینڈ لڑائی کے وقت اپنے تمام گفٹ یاد کرواتا ہے لیکن گرل فرینڈ یہ بتانے سے قاصر رہتی ہے کہ اُس نے ان گفٹس کے بدلے کیا کیا ’’سہولیات‘‘ دیں !!۔۔۔ٹرمپ نے جب اپنے الزامات سے بھرے ٹوئیٹ کے اگلے روز اپنے سیکرٹری سے اس پر پاکستان کے ری ایکشن کا پوچھا تو اس نے کہا۔۔۔باس ہر پانچ سیکنڈ کے بعد آپ کے نام لے لے کر ایک عدد جگت آرہی ہے۔۔۔ ٹرمپ بیچارہ ٹھہرا امریکی ، اسے جگت کیا پتا،جب پوچھا تو اسے بریفنگ دی گئی کہ جگت اب جدید فائٹنگ تکنیک ہے جو جان لیتی نہیں لیکن اندر سے کلیجا’’ساڑھ‘‘ دیتی ہے۔۔۔یہ بات امریکی صدر کے سرکے اوپر سے گزر گئی، اس نے مزید ’’تشریح ‘‘ چاہی تو سیکرٹری نے بھانڈ بن کر اسے جگت کی کئی مثالیں یکے بعد دیگرے پیش کیں۔۔۔ برررر۔۔۔ بھاگ لگے رہن۔۔۔ ایہہ امریکا دا صدر تے ویکھ لو۔۔۔ جیویں پجھی ہوئی چھلی ہوندی اے۔۔۔پاٹا ہویا جوگر ہوندا اے۔ ۔طلاق یافتہ کھسرا ہوندا اے۔۔۔ پھک کھان والا کھوتا ہوندا اے۔۔۔ گجومتے دا باندر ہوندا اے۔۔۔ نیویارک دا مسلی ہوندا اے۔۔۔ خراب شلغم ہوندا اے۔۔۔لوے تینوں مولا دی ذات شوخیا۔۔۔ کس قوم نوں چھیڑ بیٹھا ایں۔۔۔ٹرمپ تو یہ سب سن کر دنگ رہ گیا،پسینے میں شرابور ہوگیا۔۔۔تشویش زدہ لہجے میں اپنے چیف آف سٹاف سے دریافت کیا کہ ۔۔۔ جگت کی توڑ کے لئے ہمارے پاس کیا ٹیکنالوجی ہے۔۔۔سیکرٹری نے پھر دخل در نامعقولات کیں اور کہا کہ۔۔۔ اس کے لئے فیصل آباداور لاہور سے ’’تربیت یافتہ‘‘ ماہرین ہائر کرنے ہوں گے۔۔۔اب سنا ہے کہ بہت جلد لاہور اور فیصل آباد کے ماہرین سے امریکا رابطہ کرے گا تاکہ پاکستانیوں کے مقابلے میں امریکی ماہرین کی ’’سکلز‘‘ بڑھا سکیں، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکی صدر اب جگتوں کی پریکٹس کررہا ہے۔۔۔دن رات اس کی زبان پہ یہی گردان ہے کہ۔۔۔ شوخے۔ لوے ایہناں نوں مولا دی ذات۔۔۔
ٹرمپ نے جب تینتیس ارب ڈالر مانگے تو ہماری حکومت کے ترجمان نے جوابی ای میل صرف تین لفظی کی تھی۔۔۔ ’’رسیداں کڈو ،رسیداں‘‘۔۔۔صدرمملکت نے اپنے امریکی ہم منصب کو فون کیا اورزوردار آواز میں قہقہہ’’ ہاہاہاہاہاہا‘‘ لگاکے کال ہی کاٹ دی۔۔۔کسی نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ نوجوانوں پر ٹرمپ ٹیکس لگادیا جائے، نوجوان سبزی اور سودے سے بچ جانے والے پیسوں سے گرل فرینڈز کو ایزی لوڈ کرانے کے بجائے وہ رقم قومی خزانے میں جمع کرائیں تاکہ امریکی قرضہ واپس کیا جاسکے۔۔۔ویسے دیکھا جائے تو ٹرمپ اور پاکستانیوں کا دکھ ایک جیسا ہے،ٹرمپ سمجھتا ہے کہ اس کا پیسہ پاکستانی کھا گئے اور پاکستانی بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ان کا پیسہ بھی چند پاکستانی کھا گئے،بس فرق یہ ہے کہ ٹرمپ مان گیا کہ وہ بیوقوف ہے جبکہ پاکستانی ابھی تک یہ ماننے کو تیار نہیں بلکہ مزید لٹنے کے لیے تیار ہیں۔۔۔ٹرمپ کے مشیر ہی سارے کے سارے نادان ہیں کسی کو یہ توفیق نہیں کہ وہ اپنے صدر کو سمجھا سکے کہ۔۔۔جس قوم کا بندہ دکاندار سے ادھار سگریٹ کی ڈبی لے کر اور پھر اس کی طرف دیکھتا تک نہیں،ایسے لوگوں سے وہ تینتیس ارب ڈالر کیسے لے گا۔۔۔جس قوم کے لوگ چھت پہ آئی پتنگ اور گھر میں آئی گیند واپس نہیں کرتے، ٹرمپ ان سے اپنے پیسے واپس مانگ رہا ہے۔۔۔جو قوم اپنی مسجدوں کے نلکے اور چپلیں تک نہیں چھوڑتی،ٹرمپ اس قوم سے کیسے پیسے واپس لے سکتا ہے۔۔۔؟؟ہمارے پیارے دوست تو حکومت پاکستان کو مفت مشورہ دے رہے ہیں، کہتے ہیں جب تک ٹرمپ جیسا بندہ امریکا کا صدرہے حکومت کو چاہیئے کہ وہ اپنا وزیرخارجہ قوم میں سے کسی ’’خادم‘‘ کو لگادیں پھر دیکھیں ٹرمپ کو کیسے ترکی بہ ترکی جواب ملتا ہے۔۔۔
ٹرمپ کے پرستار اگر یہ کالم پڑھ رہے ہیں تو انہیں یہ والا قصہ بھی بتادینا۔۔۔قصہ نہیں بلکہ سچا واقعہ کچھ یوں ہے کہ۔۔۔ایک صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے گھر سے ایک سرکاری میٹنگ کے لیے روانہ ہوا تو اسے راستے میں ایک غریب ایفرو امریکن عورت ملی جو سلش SLUSH (بچوں کا مشروب) بیچ رہی تھی۔ ٹرمپ نے ایک ڈالر کا نوٹ اس کی طرف بڑھایا اور اس کو ایک سلش دینے کو کہا، غریب نیگرو عورت نے جیسے ہی سلش کا گلاس آگے بڑھایا تو وہ شربت کا گلاس ٹرمپ کی شرٹ کے اوپر گر گیا۔ یہ دیکھ کر ٹرمپ آپے سے باہر ہو گیا اور اس نے نیگرو عورت کو بالوں سے پکڑ کر چلانا شروع کر دیا ،’’نامراد عورت تمہاری وجہ سے میری اتنی مہنگی شرٹ کا ستیاناس ہو گیا ۔ پتہ ہے یہ کتنے کی شرٹ تھی ؟‘‘ وہ بے چاری غریب عورت معافیاں مانگتی رہ گئی لیکن ٹرمپ ایک بات بار بار کہتا تھا کہ مجھے اس شرٹ کی قیمت ادا کر دو تو میں تم کو جانے دوں گا ورنہ تب تک میں تمہاری جان نہیں چھوڑنے والا ۔۔۔نیگروعورت نے قیمت پوچھی تو ٹرمپ نے ایک ہزار ڈالر بتائی۔۔۔غریب عورت بولی ،اتنے پیسے نہیں تودولت اور طاقت کے نشے میں بدمست ٹرمپ کہنے لگا کہ۔۔۔مجھے نہیں پتا، مجھے میرے کپڑوں کی قیمت ادا کرو، ورنہ تب تک تم میری غلام رہو گی۔۔۔ابھی بات یہیں تک پہنچی تھی کہ سامنے ایک ٹیکسی ڈرائیور یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا، وہ قریب آیا اور اس نے عورت سے پوچھا کہ آخر ماجرا کیا ہے ؟ تو عورت نے سب کچھ بتا دیا ۔۔۔ ٹیکسی ڈرائیور نے اس مظلوم عورت کو دلاسہ دیا اور ٹرمپ سے کہا ،’’اس عورت کو چھوڑ دو، میں تم کو اس شرٹ کی قیمت دینے کو تیار ہوں‘‘۔ یہ کہہ کر اس آدمی نے جیب سے ایک ہزار ڈالر نکالے اور ٹرمپ کے منہ پر دے مارے۔ ٹرمپ نے خوشی خوشی وہ پیسے لیے اور جیب میں ڈال کر چلنے لگا تو ٹیکسی ڈرائیور نے اسے روک لیا ۔۔۔’’ارے ٹرمپو بیٹا ، ذرا یہ تو بتاؤ کہ یہ پیسے تم نے کس چیز کے لیے ہیں ؟‘‘ ٹیکسی ڈرائیور نے پچکارتے ہوے پوچھا۔۔۔ٹرمپ نے حیرت سے کہا،اس شرٹ کے جو میں نے پہنی ہے۔۔۔ٹیکسی ڈرائیور غصے سے چلایا، پھر میری شرٹ مجھے واپس کرو،اس کے پیسے میں تمہیں دے چکا ہوں۔۔۔ ٹرمپ غصے سے لال پیلا ہوکر بولا۔۔۔کیا تمہارادماغ خراب ہے،اگر شرٹ تم کو دے دی تو کیا میں سرکاری میٹنگ میں بغیرشرٹ کے جاؤں گا۔۔۔؟اب ٹیکسی ڈرائیور اطمینان سے کھڑا سلش پی رہا تھا اور بولا ،جیسے جاؤ، مجھے پروا نہیں ، لیکن اگر شرٹ نہ دی تو میں پولیس کو بلوا کر تمہیں میرے ایک ہزار ڈالر چوری کرنے کے الزام میں ہتھکڑی لگوا دوں گا ورنہ دوسری صورت میں مجھے میری شرٹ واپس کر دو کیونکہ میں اس کی قیمت ادا کر چکا ہوں۔۔۔ لیکن یہ معاملہ حل ہوسکتا ہے ،اگر تم مجھ سے یہ شرٹ واپس خرید لو۔۔۔اب ٹرمپ کی جان پر بن آئی تھی کہ وہ گھر اور میٹنگ پلیس کے درمیان میں تھا اور وہ بغیر شرٹ کے نہ گھر جا سکتا تھا اور نہ آفس۔ اس نے غصے سے پوچھا اچھا بتاؤ تم کتنے پیسے لو گے ؟ ایک ہزار ؟اب کی بار وہ ٹیکسی ڈرائیور کھلکھلا کر ہنسا اور بولا۔۔۔’’نہیں ، ایک ہزار تو وہ قیمت تھی جو تم نے لی تھی، اب تو میں اس کو پانچ ہزار ڈالر میں فروخت کروں گا، کیونکہ یہ شرٹ امریکی صدر کی ہے، شاید یہ اس سے بھی مہنگی بکے”۔ یہ سن کر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنا سر پکڑ لیا کیونکہ اب وہ ایسا پھنس چکا تھا کہ اس کو جان بچانے کا اور کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا،ٹرمپ نے ٹیکسی ڈرائیور کو پانچ ہزار ڈالر دیے اور شرٹ خرید لی۔ ٹیکسی ڈرائیور نے اس میں ایک ہزار ڈالر اپنی جیب میں رکھے اور باقی چارہزارڈالر غریب عورت کودیئے، یہ سب کچھ دیکھ کر وہ بوڑھی حبشی عورت فرطِ جذبات سے رونے لگی اور اس نے ٹیکسی ڈرائیور سے لپٹ کر پوچھا۔۔۔اے اجنبی فرشتے تم کون ہو اور میری مدد کے لیے کہاں سے آئے ہو؟ ۔۔۔یہ سن کر ٹیکسی ڈرائیور بولا۔۔۔ اماں میں اس قوم کا باشندہ ہوں جس سے ٹرمپ نے 33 بلین ڈالر کا حساب مانگا ہے۔ اس کو بتا دو ابھی تو میں نے صرف ایک ہزار ڈالر کا حساب کیا ہے اور اس کو جیب سے پانچ ہزار ڈالر دینے پڑ گئے ہیں۔ ابھی تو بقایا 32 بلین 999 ملین 9 لاکھ اور 99 ہزار کا حساب چکتا کرنا باقی ہے۔ اگر آج کے بعد اس پرانے کنستر کے منہ والے نے کسی غریب اور غیرت مند ملک کے ساتھ زیادتی کی تو ایسا حساب چکتا کروں گا کہ پورا امریکہ بیچ کر ہمیں پیسے بھرنے پڑ جائیں گے۔ یہ کہہ کر وہ ٹیکسی ڈرائیور چلا گیا اور وہ غریب حبشی عورت اور امریکی صدر حیرت سے وہیں کھڑے دیکھتے رہ گئے۔ وہ عورت ٹرمپ کو دیکھ کر حیرت ناک انداز میں بولی۔۔۔’’اوئے ٹرمپا۔۔۔یہ تو کس قوم سے پنگا لے بیٹھا ‘‘۔۔۔