وہی جذبے، وہی زندگی!

سردی نے ڈیرے جما لیے ہیں، سموگ بھی غائب ہو چکی ہے، ممکن ہے وہ کچھ دنوں کے بعد جب بارش کا اثر ختم ہونے لگے تو پھر آن دھمکے ۔۔۔ فی الحال موسم سہانا ہے۔۔۔ فضا نکھری نکھری اور معطر معطر سی ہے۔۔۔ مگر سیاسی موسم خاصا خراب ہے۔۔۔؟
چلیے اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ یہ بھی ساتھ چلے گا اور سردی بھی اپنی مخصوص رفتار سے آگے بڑھے گی۔۔۔ پھر ایک طرف سزا و بریت کا منظر ہو گا تو دوسری جانب لوگ ٹھٹھر ٹھٹھر جا رہے ہوں گے۔۔۔ مونگ پھلی اور انڈے ابال کر کھائیں گے۔۔۔ چلغوزے مگر عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوں گے۔۔۔ گیس کا مسئلہ بھی در پیش ہو گا۔۔۔؟
غریبوں کے لیے تو سارے موسم اذیت ناک ہوتے ہیں۔ گرمیاں بھی اور سردیاں بھی۔ امیروں کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی وہ گرمیوں میں ٹھنڈے اور سردیوں میں گرم رہتے ہیں کیونکہ وہ پیسے والے ہوتے ہیں اپنے آرام کے لیے مہنگی سے مہنگی چیز بھی خرید لیتے ہیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ جینا امیروں کا۔۔۔ ان کا لباس، غذا اور ماحول سب اچھے۔۔۔ کام کرنے کے لیے نوکر چاکر۔ یہ لوگ جب یہاں کے ’’نظاروں‘‘ سے اکتا جاتے ہیں تو یورپ و مغرب کی سیر کو نکل پڑتے ہیں وہاں ایک دو ماہ قیام کے بعد دوبارہ آ کر زندگی کی آسائشوں سے لطف اندوز ہونے لگتے ہیں۔۔۔!
ہمارے سیاستدان جو اکثر دولت مند ہوتے ہیں بھی یہی کچھ کرتے ہیں ان کی تو بیرون ملک محل نما رہائش ہیں۔۔۔ کاروبار بھی وہیں ہیں ان کے بچے بھی اُدھر ہی رہتے ہیں جو کبھی کبھی یہاں نظر آتے ہیں اور بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے پھرتے ہیں۔۔۔ جب جی اداس ہوتا ہے تو واپس پلٹ جاتے ہیں جبکہ ہم عوام ابھی تک بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔۔۔ بلکہ پیٹ بھرنے کی ہی فکر ہمیں پریشان کیے رکھتی ہے۔۔۔ روزگار کے مواقع تو گویا ختم ہی ہو گئے۔۔۔ محکموں میں اگر ایک ہزار اسامیاں ہوتی ہیں تو بھرتی بیس تیس کی کی جاتی ہے۔۔۔ زیادہ تر عارضی طور سے کام چلایا جاتا ہے۔۔۔ اس سے تو یہی لگتا ہے کہ ریاست معاشی اعتبار سے کمزور ہو چکی ہے۔۔۔ لہٰذا وہ لوگوں کے قیام ، طعام اور لباس کی ذمہ داری قبول نہیں کر رہی۔ انصاف کی فراہمی سے بھی وہ ہچکچا رہی ہے۔۔۔ جس کی بنا پر نوجوان نسل میں مایوسی اور انتقام کا جذبہ جنم لے رہا ہے۔۔۔ جرائم میں اسی لیے اضافہ ہوا ہے۔۔۔ اس سماجی و نفسیاتی پہلو کی طرف اہل اختیار نہیں دیکھنا پسند کر رہے۔۔۔ اور وہ ’’اپنی بات‘‘ کیے جا رہے ہیں۔ خود تعریفی ہی خود تعریفی کر رہے ہیں۔۔۔ جبکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مسائل مچھروں کی طرح گھوں گھوں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔ شاید یہی وجہ ہے کہ چند ایک سے چھٹکارا پانے کے لیے غریب لوگ اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے بجائے دیہاڑی پر لگا دیتے ہیں مگر یہ بھی درست نہیں۔ بچوں سے کام لینا جائز نہیں۔ انہیں درسگاہوں میں ہونا چاہیے تا کہ وہ ڈاکٹر انجینئر، سائنسدان، فلاسفر، ماہر معاشایات، ماہر نفسیات، زرعی شعبے کے تحقیق کار اور عوام دوست سول سرونٹ بن کر ملک کی خدمت کریں۔۔۔!
اب جب وہ ایسا نہیں کر سکتے تو ہمارے اجتماعی بگاڑ میں کمی کیسے آئے گی۔۔۔ بعض سماجی تنظیمیں بچوں سے متعلق فکر مند ہیں، وہ اس حوالے سے تھوڑی بہت بہتری لانے کی کوشش کرتی نظر آتی ہیں مگر اقتدار والوں کو بھی تو سوچنا چاہیے اور عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کا فرض اولیں ہے یہ ۔۔۔ریاستی ادارے بھی اس کارخیر میں حصہ لیں۔ اصل ذمہ داری تو ان ہی کی ہے۔۔۔ مگر مجال ہے وہ ٹس سے مس ہوتے ہوں۔ بس اپنی مدد آپ کے تحت جینے والوں کی حالت زار کا نظارہ کر رہے ہیں۔۔۔؟
تنخواہیں پوری لیتے ہیں کام ایک ٹکے کا بھی نہیں کرتے۔۔۔ ہو سکے تو کوئی رکاوٹ ضرور ڈال دیتے ہیں۔ یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے مگر سوال یہ ہے کہ ایسا کون کرے۔۔۔ جنہوں نے کرنا ہے وہ ہمیشہ سے ایسا سوچتے چلے آئے ہیں۔۔۔ اپنے بارے میں سوچیں مگر جو ان کا فرض ہے اسے بھی تو پورا کریں۔۔۔؟
سیانوں کا کہنا ہے کہ اب وقت گزر گیا، یہ دوسروں کا بھلا سوچیں گے نہ کسی کی بہتری کے لیے کوئی قدم اٹھائیں گے۔۔۔ لہٰذا عوام کو خود آگے آ کر ہی کچھ کرنا ہے۔۔۔ وہ بے شک اقتدار میں نہ آئیں مگر آپس میں تعلقات کو خوشگوار بنائیں۔۔۔ کاروبار حیات میں دیانت کو محور بنا کر بہت سے مسائل سے جان چھڑائیں۔۔۔ مثال کے طور پر وہ ملاوٹ، کم تول، ناجائز منافع، ذخیرہ اندوزی اور جھوٹ سے اجتناب برتیں اس سے ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے جو امن اور خوشحالی میں خود کفیل ہو گا۔۔۔ ان اقتدار کے محلوں میں تو اب افراتفری اور غیر یقینی ہے، یعنی موجودہ کے علاوہ آئندہ میں بھی یہی کچھ ہو گا۔۔۔ لہٰذا اپنے پاؤں پر ہی وزن ڈالنا پڑے گا۔۔۔ اقتداریوں کے سہارے زندگی کا سفر طے نہیں ہونے والا۔۔۔ ہم خود انحصاری کی بات اس لیے کر رہے ہیں کہ ہمارا ماضی ہمارے سامنے ہے کہ جب لوگ بہت سے مسائل کا حل مل بیٹھ کر نکالتے۔۔۔ حکومتیں تو ان سے کوسوں دُور ہوتیں۔۔۔ اب بھی ویسا ہی دور ہے۔۔۔ حکومتیں میلوں کے فاصلے پر ہیں۔۔۔ ویسے بھی انہیں اپنی پڑی ہوئی ہے لہٰذا ہاتھ پر ہاتھ دھرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ بہرحال اس بحث میں پڑنے کے بجائے کہ کون سا نظام حیات ٹھیک ہے یا نہیں ہمیں باہم شیرو شکر ہونا ہو گا اس کے بغیر دوسرا کوئی راستہ نہیں۔۔۔ کیونکہ حالات کسی حکمران یا شہ دماغ کے بس میں نہیں رہے۔۔۔ پلٹنا پڑے گا ایک بار اس سماجی دور کی طرف جس میں بھائی چارے کی فضا تھی، دکھ تکالیف مشترک تھے۔۔۔ یوں سکھ زیادہ تھے غم بہت ہی کم۔۔۔ بصورت دیگر ذلتوں، رسوائیوں اور دہائیوں کا سامنا رہے گا کہ آنے والے اپنی بھوک کو سامنے رکھیں گے۔۔۔ دوڑے پھریں گے ذاتی خواہشوں کی تکمیل کے لیے۔ لہٰذا بچے ہمارے تعلیم سے بھی محروم ہوں گے، صحت بھی ان کی خزاں کی طرح زرد ہو گی اور دیہاڑیوں پر ہی گزر بسر ہو گی۔۔۔ یہ حقیقت ہے، کوئی یہ نہ سوچے کہ ہم مایوسی پھیلا رہے ہیں تھوڑی سی کوشش سے مستقبل کا منظر دیکھا جا سکتا ہے؟