wakeel-anjum

وزیراعظم کاخطاب ۔۔۔ہمارے قومی تماشے

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے خطاب میں خارجہ پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مؤقف کی بھرپور انداز میں وکالت کی۔ وہاں انہوں نے پڑوسیوں کے بارے میں کھل کر اور اشاروں میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم یہ بتانے میں کامیاب رہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی کا جواب دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے طالبان سے نمٹنا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف بھاری نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو بھی دیا جس میں انہوں نے پاکستان کے پر امن ایٹمی پروگرام کا دفاع کیا اور بتایا کہ یہ پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ۔ ڈرون حملوں کے بارے میں بھی وزیراعظم نے دوٹوک پالیسی کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے ملالہ یوسف زئی سے بھی ملاقات کی وہاں انہوں نے شکیل آفریدی کی رہائی کے بارے میں امریکہ کو دوٹوک جواب دے دیا۔ اجلاس میں بینظیر بھٹو کی موت کا ذکربھی آیا تو ہماری سیاسی تاریخ کی تلخ یادیں تازہ ہو گئیں۔
برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے سلامتی کونسل کے خطاب میں بینظیر بھٹو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ’’بینظیر بھٹو کو جمہوریت کے دشمنوں نے قتل کیا‘‘۔ یاد رہے کہ مشرف بینظیر بھٹو قتل کیس میں مفرور ملزم ہیں۔
جب مشرف اقتدار میں تھے پیپلزپارٹی بینظیر کی شہادت کے بعد اقتدار میں آئی اس وقت دو انکوائریاں کروائی گئیں مگر دونوں پر پیپلزپارٹی نے عدم اعتماد کر دیا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کی انکوائری کی فائنڈنگ وہی تھیں جو مشرف بولتے تھے۔ مشرف نے صدارت چھوڑی اور لندن چلے گئے وہاں سیاسی جماعت بنا لی۔ اس عرصے کے دوران مشرف کے بہت سے معاملات خراب ہو گئے۔ بینظیر بھٹو کیس میں وہ نامزد ملزم بن گئے۔ اکبر بگٹی کے قتل کی ایف آئی آر بھی اُن کے خلاف درج ہو گئی۔ سپریم کورت نے اسے آئین پاکستان توڑنے کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ مشرف 2013ء کے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آئے وہ حصہ نہ لے سکے ان کو تاحیات نااہل قرار دے دیا۔ وہاں بینظیر بھٹو کے قتل میں گرفتار ہو گئے مگر چک شہزاد کو ہی سب جیل کا درجہ دے دیا گیا۔ یہ جیل کسی فائیو سٹار ہوٹل سے کم نہیں تھی۔ نواز شریف کے آتے ہی مشرف پر آئین سے غداری کا مقدمہ بنا مگر وہ سپریم کورٹ کی اجازت سے علاج کی غرض سے برطانیہ گئے اور آج تک نہیں لوٹے ایک شخص جو اتنے سنگین الزامات میں ملوث ہے کسی کی جرأت نہیں کہ اُن پر انگلی اٹھا سکے۔ یہ ہمارا قومی کلچر ہے کہ کچھ اداروں پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ مرزا سلم بیگ اور جنرل (ر) درانی پر سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود مقدمہ چلانے کی جرأت نہ ہو سکی۔ مگر سیاستدان ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑتے نظر آتے ہیں۔ تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کے آبائی گاؤں جہلم میں کپتان نے وہی تقریر کی جو وہ اس سے پہلے کرتے رہے۔ اس سے قبل کپتان نے حیدر آباد میں جو جلسہ کیا وہ تعداد کے اعتبار سے بڑا مثالی تو نہیں تھا۔ پورے سندھ سے تحریک انصاف کے کارکنوں کو جمع کیا گیا مگر تحریک انصاف کا رنگ پوری طرح سے جم نہ سکا، البتہ کپتان نے اپنی تقریر میں کچھ کہا اس پر پیپلزپارٹی کے ترجمان مولا بخش چانڈیو نے اپنے ردعمل میں کہا کہ عمران خان پیپلزپارٹی کو گالیاں دینے آئے۔ باقی قیادت نے بھی کپتان کو کھری کھری سنائیں۔ ایسے وقت میں جب این اے 120 میں اُن کی امیدوار بری طرح ہار گئی، یہ ہار 15 ہزار ووٹوں سے ہوئی۔ یہ شکست ایسے حالات میں ہوئی جب شہباز شریف اور حمزہ شہباز ملک سے باہر تھے، انہوں نے کلثوم کی انتخابی مہم میں کسی طور حصہ نہیں لیا یہ تو مریم نواز کا شو ثابت ہوا، کامیابی کی رات ہی مریم اپنے بیٹے اور شوہر صفدر اعوان کے ہمراہ لندن پہنچ گئیں۔ والدہ کے ایک اور آپریشن سے قبل انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ یہاں تو انصاف کے نام پر انتقام ہو رہا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں بتا دیا کہ نواز شریف اور اس کے خاندان کا کوئی فرد احتساب عدالت میں پیش نہیں ہو گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے بھی ساہیوال میں اپنے عوامی خطاب میں جہاں نواز شریف اور عمران پر کھل کر تنقید کی وہاں انہوں نے آئی جے آئی کی تشکیل کا ذکر بھی چھیڑا، بلاول نے اس پر اشارۃً بات کی مگر آئی جے آئی سے پیپلزپارٹی کی تلخ یادیں جڑی ہوئی ہیں۔ اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل ایک ایسے ماحول میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل مرحوم جنرل حمید گل نے کی تھی جس کا اصل مقصد بینظیر بھٹو کو اس سیاسی اتحاد کے ذریعے دو تہائی اکثریت لینے سے روکنا تھا جس میں حمید گل کامیاب رہے۔ 1988ء کے انتخابات کے نتائج کے بعد بینظیر بھٹو کو اقتدار دینے میں اس لیے تاخیر ہوئی کہ اقتصادی اور خارجہ پالیسی سے بینظیر بھٹو کو دور رکھا جائے۔ پھر بینظیر بھٹو کو ’’سکیورٹی رسک‘‘ قرار دے کر وزیراعظم کے عہدے سے ہٹا دیا۔ الیکشن 90ء میں آئی جے آئی کا دائرہ وسیع کیا گیا۔ اس میں کچھ اور جماعتیں بھی شامل کی گئیں۔ آئی جے آئی کے امیدواروں کو کامیابی دلانے کے لیے آئی جے آئی کی قیادت اور امیدواروں میں رقم تقسیم کی گئی جبکہ مرکز اور چاروں صوبوں کی نگران حکومتوں میں بینظیر بھٹو کے کٹر مخالف شامل کیے گئے۔ ایوان صدر میں الیکشن سیل قائم کیا گیا۔ مرحوم غلام مصطفی جتوئی کو ضیاء الحق نے دو مرتبہ وزیراعظم بنانے کا سگنل اس لیے دیا کہ وہ وزیراعظم بن کر بینظیر بھٹو کی سیاسی قوت کو کمزور کریں۔ بیک ڈور رابطوں کا نتیجہ ہی تھا کہ جتوئی بینظیر بھٹو کی جلا وطنی کے خاتمے کے ساتھ ہی گروپ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ ضیاء الحق کے سی 130 کے حادثے میں دنیا سے رخصت ہوتے ہی جتوئی کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ بینظیر بھٹو 1990ء کا انتخاب جتوئی کی نگران کابینہ میں ہار گئیں ایسا ممکن نہیں تھا کہ جن خفیہ ہاتھوں نے بینظیر بھٹو کو نکالا تھا انہوں نے نئے وزیراعظم کا انتخاب بھی کر لیا تھا۔ آئی جے آئی کئی جماعتوں کا مجموعہ تھا جس میں غلام مصطفی جتوئی کی نیشنل پیپلزپارٹی بھی شامل تھی جبکہ مسلم لیگ جس پر نوا زشریف کی گرفت مضبو ط تھی، خفیہ اشاروں نے ہی جتوئی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی جماعت کو مسلم لیگ میں ضم کر کے اعلان کر دیں کہ وہ اور اُن کا خاندان پرانے مسلم لیگی ہیں۔ خود جتوئی ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔ جنرل مرزا اسلم بیگ کی کوشش کے باوجود نواز شریف کا راستہ نہ روکا جا سکا۔ این اے 120 کے انتخاب میں کلثوم نواز کو شکست دینے کی جو حکمت عملی تیار کی گئی تھی توہ بڑی زبردست تھی اس کے مقابلے میں مگر مسلم لیگ کی حمایت بھی زبردست تھی جس کی وجہ سے کلثوم کا راستہ نہیں روکا گیا۔ اس ریہرسل سے بہت کچھ بے نقاب ہوا ہے جس کا ذکر مریم نواز نے بھی کیا۔ مگر مسلم لیگ (ن) کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ابھی تک کھل کر سامنے نہیں آ رہی۔ اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں اس کا رویہ بڑا محتاط ہے مگر سوشل میڈیا پر وہ سب کچھ آ رہا ہے۔ پاکستان کے اصل ’’سٹیک ہولڈز‘‘ 22 کروڑ عوام ہیں مگر عوامی اور مقبول جماعتوں کو کسی اشارے پر نکالنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ یحییٰ خان نے خود اپنی صدارت محفوظ بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں کی قیادت سے جو ’’سانپ اور سیڑھی‘‘ کا کھیل کھیلا تھا وہ ہماری قومی زندگی کا سیاہ باب ہے۔ یحییٰ خان کے دور میں سیاسی لیڈروں میں جہاں رقم تقسیم کی گئی وہاں کچھ سیاسی جماعتوں کو پر تشدد کارروائیوں کی اجازت بھی دی گئی جبکہ مذہبی قیادت نے تو بھٹو کے سوشلزم کے خلاف فتوے جاری کر دیے۔ یہ سارا کھیل یحییٰ نے اپنی صدارت کو قائم رکھنے کے لیے کھیلا مگر نہ یحییٰ کا اقتدار محفوظ رہا اور نہ پاکستان۔ مگر سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کا یہ کھیل آج تک جاری ہے۔ آج بھی اس کے پاس ’’مہروں‘‘ کی کمی نہیں۔ ایک جاتا ہے تو دوسرا سیاست دان اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ کا کردار بھی اب تنقید کی زد میں ہے۔ کچھ معاملات میں سپریم کورٹ کی خاموشی خواہ وہ حکمت عملی کا نتیجہ ہو یا مبینہ آشیر باد مگر سوالات جنم لینے لگے ہیں۔ عمران خان اور شیخ رشید جس انداز سے سپریم کورٹ کا نام میڈیا یا تقریروں میں لے رہے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہیں نہ کہیں گڑ بڑ ضرور ہے۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے سپریم کورٹ کے حوالے سے کھل کر سوال اٹھایا ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا مسلم لیگ (ن) نے اس پر عمل درآمد کر دیا ۔ یہ سوال اب سپریم کورٹ کی طرف جاتا ہے جب کپتان بار بار یہ کہتے ہیں کہ این اے 120 کا انتخاب سپریم کورٹ کے فیصلے اور کرپشن کے درمیان ہے حالانکہ ایسا نہیں تھا یہ مقابلہ کلثوم نواز کے اور یاسمین راشد کے درمیان تھا انتخابی عمل کے پہرے داروں کے بارے میں بدنظمی کی تمام شکایات مسلم لیگ (ن) کی طرف سے تھی ۔ انتخابی عمل کی سست روی سے لے کر لائن میں کھڑے ہوئے ووٹرز کو روکنے تک تحریک انصاف اطمینان سے تھی۔ اس انتخابی عمل کو دیکھتے ہوئے آئندہ انتخاب میں سیاسی جماعتوں کو اپنا لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا کہ فوج کے انتخاب میں امن و امان کے کردار کو ختم کیا جائے کیونکہ ہماری سیاسی تاریخ کا ماضی بتاتا ہے کہ ایجنسیاں حکومت کو توڑنے اور بنانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں مگر اہم سوال تو یہی ہے خود سیاست دان مہرے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور کئی سیاسی جماعتیں اس بات کا کریڈٹ لیتی ہیں کہ و ہ جی ایچ کیو کے گملے میں اُگ کر جوان ہوئیں۔ مرحوم پیر پگاڑا صاحب تو زندگی بھر خود کو جی ایچ کیو کا آدمی سمجھتے رہے۔ مگر 9 مارچ 2007ء کا عدالتی بحران شروع ہوا۔ مرحوم جنرل حمید گل اس وقت جمہوریت کی حمایت میں بولنے والے ریٹائر جرنیل تھے۔ انہوں سے معروف کالم نگار ارشاد احمد حقانی کو ایک خط لکھ کر آئی جے آئی بنانے کے حوالے سے اعتراف کیا ’’آئی جے آئی کا بنانا بہرحال ایک غیر آئینی فعل تھا‘‘۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا ’’یہ سمجھا جائے کہ صرف فوج کی قیادت بشمول میرے ہی قصور وار تھی، اگر میں یہ بیان کردوں کہ کون کون سے نامور سیاست دان اور دانش ور ہمیں غیر آئینی اقدام کے لیے اکسا رہے تھے تو آپ حیران زدہ رہ جائیں گے‘‘۔ آج اگر بلاول بھٹو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے خلاف آئی جے آئی بنائی گئی مگر بلاول صاحب کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ 1993ء میں نواز شریف کی حکومت کو گرانے کے لیے بینظیر بھٹو سرکاری ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر اس وقت کے سپہ سالار عبدالوحید خان سے ملنے گئی اس کے دوسرے دن نواز شریف کی حکومت ختم ہو گئی۔ خفیہ اشاروں پر نواز شریف کو ہٹانے کے لیے جو اتحاد راتوں رات کھڑا کیا گیا تھا اس میں بینظیر بھٹو، عمران خان، طاہر القادری ، حامد ناصر چٹھہ، اسفند یار ولی اور تمام اہم جماعتوں کے رہنما شامل تھے اور اس اتحاد کو جنرل پرویز مشرف کی حمایت حاصل تھی۔ آج کے سیاسی بحران کو دیکھیں تو فوج اور سپریم کورٹ کے خود ساختہ اور ترجمان آپ کے سامنے ہیں۔ جو آج صف اول میں ہیں اور سب سے بڑا ’’مہرہ‘‘ نظر آرہا ہے وہ 2013ء کے انتخاب کے بعد مسلسل ضمنی انتخاب میں پٹ رہا ہے۔ کیونکہ یہ ’’مہرہ‘‘ کپتان کی انگلی اٹھنے کا منتظر ہے مگر کپتان کوئی معجزہ تو دکھائے۔ حیدر آباد کے جلسہ میں انہوں نے جو کچھ کہا ہے، وہ نہ تو حکومت ہے اور نہ ہی عدالت۔ زرداری کو جس انداز سے ان کے صوبے میں للکارا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ زرداری اب تمہاری باری ہے میں انہیں جیل بھجوا کر چھوڑوں گا جس کا شدید ردعمل بھی آیا ہے۔ یہ معاملہ ایسے نہیں چلے گا یہ سنجیدہ سوال ہے۔