Asma-Chaudhry

نیلی آنکھوں والی گڑیا۔۔۔ ہم تجھ سے شرمندہ ہیں

ایک شخص کسی علاقے کے سفر پر گیا۔ کئی سال بعد لوٹ آیا تو اس نے دیکھا کہ گھر میں ایک بچی ہے۔ اس نے اپنی اہلیہ سے پوچھا: یہ بچی کس کی ہے؟ بتایا گیا: یہ پڑوس سے آئی ہے۔ جب کچھ دیر گزری۔ رات سر پر آئی۔ بچی وہیں موجود رہی۔ اس نے اپنی اہلیہ سے ایک بار پھر وہی سوال کیا۔ اب اہلیہ کے لیے حقیقت کو چھپانا ممکن نہ تھا۔ اس نے کہا: یہ ہماری ہی بچی ہے۔ جب آپ سفر پر گئے، اس کی ولادت ہوئی۔ میں نے آپ کو اطلاع دینا مناسب نہ سمجھا‘‘۔ باپ کا چہرہ سیاہ ہوگیا۔ رات بھر کروٹیں بدلتا رہا۔ سوچتا رہا۔ بالآخر وہ ایک نتیجے پر پہنچا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے صبح سویرے اُٹھا۔ اس نے اپنی اہلیہ سے بچی کو تیار کرنے کا حکم دیا۔ بچی کو بتایا گیا، اسے سیر وتفریح کے لیے لے جایا جارہا ہے۔ بچی کا والد مزید اپنا واقعہ خود بیان کرتا ہے۔
وہ کہتا ہے: ’’بچی میرے ساتھ روانہ ہوئی۔ میں اسے دور ایک غیرآباد علاقے میں لے گیا۔ وہاں جاکر میں نے ایک گڑھا کھودنا شروع کیا۔ میری یہ پھول سی بچی گڑھا کھودنے میں میری معاونت کرتی رہی۔ وہ اپنے ننھے منے ہاتھوں سے گڑھے سے مٹی نکالتی اور ایک طرف ڈھیر کرتی جاتی۔ جب گڑھا تیار ہوا۔ میں نے بچی کو اس میں پھینکنا چاہا، اس نے رونا شروع کردیا۔ اس نے اپنے آپ کو مجھ سے چھڑانے کی بہت کوشش کی، مگر مجھ پر جنون طاری تھا۔ میں نے معصوم بچی کو گڑھے میں پھینک دیا۔ اس کے کندھے پر بایاں ہاتھ رکھا۔ اس نے اپنے ننھے منے ہاتھ پاؤں بہت ہلائے، مگر کب تک، وہ کمزور تھی، کچھ نہ کرسکی۔ میں حالت جنون میں اس کے جسم پر مٹی ڈالتا رہا۔ کچھ ہی دیر میں اس کا جسم مٹی تلے دب گیا۔ اس کی آخری گھٹی گھٹی چیخیں سنائی دیں اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئیں‘‘۔
یہ کوئی افسانہ نہیں، حقیقی واقعہ ہے۔ دورِ جاہلیت کا واقعہ جو ایک شخص نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ سن رہے تھے تو آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات جاری تھی۔ دورِ جاہلیت تو چلا گیا لیکن اس کے اثرات وقتاً فوقتاً ہمیں دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔ شکل بدل گئی ہے، واقعات آج بھی ویسے ہی ہیں، بلکہ اس سے بدتر۔ سنگ دلی کے ایسے واقعات کہ سکون کا سانس لینا عذاب ہوجائے۔ مجھے میڈیا کے ساتھ وابستگی کو دوسرا عشرہ ہے۔ جس طرح ایک ڈاکٹر انسانوں کی چیر پھاڑ کے بعد اس کا عادی ہوجاتا ہے۔ وہ اسے معمول کے فرائض سمجھ کر نبھاتا ہے۔ یہی حال میڈیا سے تعلق رکھنے والوں کا ہے۔ سکرین پر رہنے والوں کی بدقسمتی یہ بھی ہوتی ہے کہ ہر حال میں اپنے جذبات پرقابو رکھنا ہوتا ہے۔ دن رات قتل وغارت کی خبریں دینا ان کی زندگی کا لازمی حصہ بن جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دل پتھر کے سے ہوجاتے ہیں۔ لیکن بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو آپ کو توڑ کر رکھ دیں۔ آپ چاہ کر بھی اپنے جذبات پرقابو نہیں رکھ پاتے۔
قصور کی سات سالہ ننھی زینب کو وحشی درندے نے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا۔ چینلز پر تصاویر چلنا شروع ہوئیں اور پھر کچھ تفصیلات سے آگاہی ملنے لگی تو ننھی زینب کی تصویر پرنظر ڈالنا ایک آزمائش بن گیا۔ اس معصوم کی شکل مسلسل آنکھوں کے سامنے پھڑپھڑانے لگی۔ اگلے دن اسی پر شو کرناتھا، بار بارمگر یہی فکر لاحق رہی کہ اتنی ہمت کہاں سے آسکے گی۔ کیسے معصوم زینب کا نوحہ پڑھ سکوں گی۔ کیسے ان کے والدین کی دُکھ بھری گفتگو ناظرین کو دکھاسکوں گی۔ میرے شو میں عنبر شمسی آئی تھیں۔ عالمی اداروں کے ساتھ کام کرنے اور تربیت پانے کے باوجود اس واقعے نے انہیں گلوگیر کردیا۔ کس کا اتنا سخت دل ہوگا جس نے اس واقعے پر آنسو نہ بہائے ہوں۔ بارہایہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں ہم پر آسمان سے پتھر برسنا نہ شروع ہوجائیں۔ کیا اس معاشرے میں ایسے سنگ دل بھی پائے جاتے ہیں جو اپنی ہوس کی آگ بجھانے کے واسطے اس قدر بدترین فعل کا ارتکاب کربیٹھیں گے۔
نیلی آنکھوں والی گڑیا۔۔۔ہم تجھ سے شرمندہ ہیں
ماں تیری تو روز مرے گی۔۔۔ قاتل جب تک زندہ ہیں!
ایسے واقعات ہوجاتے ہیں۔ حکمرانوں کی طرف سے ردِعمل آجاتا ہے۔ سیاسی شخصیات اپنی سیاست چمکادیتی ہیں۔ چند دن گزرتے ہیں اور پھر ان سمیت پوری قوم کسی اور سانحے تک خاموش ہوجاتی ہے۔ پنجاب حکومت کی گڈ گورننس کی مثالیں دن رات سنتے ہیں۔ 90 ارب روپے امن وامان پر خرچ ہوتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا ایسے واقعات پر ’’ایکشن لینا‘‘ ایک لطیفہ بن چکا ہے۔ کسی بھی واقعے پر ایکشن لے کر ایک دو پولیس افسران کو معطل کردینے سے ان کی روح سرشار ہوجاتی ہے۔ اس واقعے کے بعد بھی وہ فجر کے وقت زینب کے مظلوم والدین سے ملنے گئے۔ انہیں وہی جھوٹی تسلیاں دیں۔ لیکن انہیں کوئی یاد دلاتا کہ اسی قصور میں اس سے پہلے 12 واقعات ہوچکے ہیں۔ غالباً دو متاثرین کے گھروں میں وہ بنفس نفیس اسی آن بان کے ساتھ تشریف لے جاچکے ہیں۔ کیا انہیں اب تک انصاف مل چکا ہے؟
وزیراعلیٰ پنجاب دعویٰ کررہے ہیں کہ ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے تک وہ سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔ لیکن کیا انہیں کوئی یاددلاسکتا ہے کہ اسی قصور میں نوخیز بچوں پر کیا قیامت ڈھائی گئی تھی؟ کتنے مجرموں کو اب تک قانون کی گرفت میں لایا جاسکا ہے؟ اندازہ لگائیں اسی شخص کو تحقیقات کے لیے سربراہ بنادیا گیا ہے جو اس سے پہلے اپنی ’’اہلیت‘‘ کے جھنڈے گاڑچکے ہیں۔ بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی سکینڈل میں یہی موصوف تحقیقات کرتے رہے، لیکن کسی تحقیق تک نہ پہنچ سکے۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں اخذ کرنا چاہیے کہ ایسے ظالموں کو یا تو سیاسی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے یا پھر یہ حکومت کی بدترین نااہلی کا شاخسانہ ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایسے واقعات مغربی معاشرے میں بھی ہوتے ہیں، لیکن وہاں مجرموں کو کٹہرے میں لاکھڑا کرنے کا اتنا مضبوط نظام موجود ہے کہ ظلم وزیادتی کا شکار ہونے والوں کے لواحقین کی کچھ اشک شوئی ضرور ہوجاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ زینب کے ساتھ ہوا، اس نے بطورِ انسان مجھے شرمندہ کردیا ہے۔ اس نے بحیثیت قوم ہمیں کٹہرے میں لاکھڑا کردیا۔ یہ چند دن شدید مایوسی کے گزرے۔ یوں محسوس ہوا ہم ایک ایسی سرنگ میں د اخل ہوچکے ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ زینب جیسی بیٹیوں کے لیے اب کوئی جائے پناہ نہیں۔ لیکن اس مایوسی نے ایک اُمید کو بھی جنم دیا۔ اس پورے معاملے میں معاشرے کا ایک مثبت چہرہ بھی سامنے آیا۔ ہمارے ہاں کتنے ہی بھیانک ظلم ہوجاتے ہیں، ان پر مگر معاشرے میں کہیں نہ کہیں تقسیم نظر آتی ہے۔ کم یا زیادہ۔ ’’اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ‘‘ کا سابقہ لاحقہ کہیں نہ کہیں ضرور ملتا نظر آئے گا۔ زینب کا معاملہ مگر سب سے مختلف رہا۔ مین سٹریم میڈیا میں تو تصور محال ہے کہ کوئی اس کے لیے عذر تراشے، لیکن سوشل میڈیا بھی اس بار بہت مختلف نظر آیا۔ اس پر مستقل نظریں رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہاں بھی ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ہر ایشو میں سازشی تھیوریاں نکالنے والے بھی اس ظلم عظیم پر سیخ پا۔ گویا معاشرہ ابھی اتنا مردہ اور بے حس نہیں ہوا ہے۔ آج بھی ضمیر زندہ ہیں۔ بس مقتدر طبقات میں بھی ضمیر کی بیداری کے لیے دُعا کرنی چاہیے جن کے فیصلوں کے نتیجے میں سانحہ قصور جیسے واقعات سے بچا جاسکے۔