Roohi Tahir

نہ کہنے کی بات

آج جو بات میں آپ لوگوں سے بانٹنے لگی ہوں اس کاتعلق ہم سب کے جگر گوشوں خصوصاًلڑکوں سے ہے۔
کافی عرصہ پہلے کی بات ہے میرا بارہ سالہ بیٹا شام میں ٹیوشن پڑھ کر واپس آ رہا تھاکہ ایک آدمی نے اس کا پیچھا کیا اور پہلے اس کو پیسوں کی لالچ دی اور پھر ڈرا دھمکا کے برائی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، وہ تو گھر نزدیک تھا بچہ بھاگ کر گھر آ گیا اور بے انتہا ڈرا ہوا تھا۔ اس دن کے بعد بچے نے اکیلے گھر سے نکلنے سے انکار کر دیا اور کافی عرصہ اس کو میں خود چھوڑ کر آتی رہی۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس پر ہمارے معاشرے میں کھلم کھلابات نہیں کی جاتی۔ اکثرایسی باتوں پر چپ کروا دیا جاتا ہے۔ بچوں کوگھر میں اتنا اعتماد ہی نہیں دیا جاتا کہ بچے کھل کر بات کر سکیں۔ وہ تشدد کا نشانہ بنتے بنتے اس تشدد کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ وہ خود اسی کام کی شروعات کرنا شروع ہوجاتے ہیں ۔
بی بی سی نے پاکستان کی اسی برائی پر ایک ڈاکومینٹری بنائی ہے جس میں بہت کھل کر ان بے گھر بچوں کے متعلق بتایا ہے کہ کس طرح وہ ہوٹلوں کے مالکان اور ٹرک ڈرائیور کے تشددکا نشانہ بنتے ہیں۔ خالی چارپائی کی قیمت کچھ اور ہے اور تھکان اتارنے کے لئے بچہ سمیت چارپائی کی قیمت کچھ اور ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بچے کہاں سے آتے ہیں سب سے بڑی وجہ تو بھوک ہے مگر اس کے علاوہ افغان جنگ اور بڑھتی ہوئی آبادی۔ اس کے علاوہ کم روزگار کے مواقع ہیں۔
گھروں سے یہ بچے مار، ڈر، بھوک اور پیار کی کمی کی وجہ سے گھروں سے بھاگ جاتے ہیں۔ انہیں بتانے والا کوئی نہیں کہ باہر کی دنیامیں ان کے لئے بہت سے خطرات منہ کھولے کھڑے ہیں۔ جب ان بچوں کو بھوک تنگ کرتی ہے توان کے لئے اخلاق کا مطلب صرف چند ہزار روپے اور بعض صورتوں میں اس سے بھی کم۔ بہت پرانی بات نہیں کہ ایک سو بچوں کے قاتل کا سکینڈل سامنے آیا تھا چند سال قبل قصور میں اسی طرح کا ایک واقعہ منظر عام پر آیا تھا۔ چند دن ان واقعات کا شور رہتا ہے مگر پھر کسی بڑی خبر میں یہ خبر دب جاتی ہے آج تک اس بات کا پتا نہیں چل سکا کہ ان واقعات کا محرک کون تھا سنا ہے ان واقعات کے پیچھے کسی سیاسی شخصیت کا ہاتھ تھا۔ ہمارے ملک میں جب تک قانون کی پوری حکمرانی نہیں ہوتی ہمیں اپنے بچوں اپنے جگر گوشوں کی خود حفاظت کرنی ہوگی۔ سب سے پہلے تو ان محرکات پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو ان عوامل کے بڑھاوے کا باعث بنتے ہیں لوطیت صدیوں پرانا گناہ ہے قرآن میں قوم نوحؑ اسی گناہ کی وجہ سے تباہ ہوئی تھی۔ سب سے پہلے تو بچوں میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ حرکت گناہ میں آتی ہے آج کل بچیوں سے زیادہ بچوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں سب سے بڑاالمیہ یہ ہے کہ ماں باپ اور بچوں کے درمیان ذہنی ہم اہنگی نہیں ہے خاص کرباپ لڑکوں سے ذہنی طور پر بہت دور ہیں۔ لڑکیاں تو ماں سے کچھ نہ کچھ تبادلہ خیال کر لیتی ہیں مگر لڑکے اکثر جو بھی جنسی معلومات حاصل کرتے ہیں وہ سب دوست یا اِدھر اُدھر سے حاصل کی ہوتی ہیں جو کہ زیادہ ترناقص اور حقیقت سے دور ہوتی ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اکثر بچے جن کے ساتھ یہ ظلم ہوتا ہے۔ وہ اس کو اپنی قسمت اورمعمول کی کارروائی سمجھتے ہیں۔ اکثرغریب بچے جو مختلف ہوٹلوں یا اڈوں وغیرہ میں کام کرتے ہیں وہ تواس زیادتی کو اپنی نوکری کا حصہ ہی سمجھتے ہیں۔ یہ ایک بڑی تکلیف دہ بات ہے کہ وہ بچے اپنی عزت کے ڈر سے یہ بات کسی کو بتا بھی نہیں سکتے ۔انہیں نوکری جانے اور تشدد کے ڈر کا اندیشہ ہوتا ہے یہ تو وہ بچے ہیں جن کا کوئی والی وارث نہیں۔ یہ ریاست کے بچے ہیں اور اداروں کا حال سب کے سامنے ہے۔ میں ان بچوں کی بات کر رہی ہوں جو اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتے ہوئے بھی جنسی زیادتی کانشانہ بن جاتے ہیں ۔ یہ ایک لمحۂ فکر ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جوہم لوگوں کے اندر ہی چھپے ہوتے ہیں جیسے قریبی رشتہ دار، محلہ دار اور بہت معذرت سے کہنا پڑتا ہے کہ بچہ معصوم ہوتا ہے اسے اس بات کا بالکل ادراک نہیں ہوتا کہ اس کا پیار کرنے والااس سے کس قسم کی توقعات رکھتا ہے اور کیوں وہ اس پر اتنا مہربان ہے وہ تو ایک ٹافی ایک مٹھائی کے ٹکرے پر آپ کے ساتھ چل پڑتاہے ۔اب یہ گھر کے بڑے پر ہے کہ چھوٹے بچوں پر نظر رکھی جائے۔ اکیلے دوکیلے بچوں کو باہر نہ جانے دیا جائے۔ اگر کوئی قریبی رشتہ دار ہے تو بچوں کو ان کے پاس اکیلا نہ چھوڑاجائے۔ قرآن کی تعلیم دلوانی ہو یا دوسری تعلیم گھر کا ایک بڑا ضرور ان کے پاس بیٹھے۔ اس کے علاوہ بچوں سے اتنی نزدیکی ہونی چاہیے کہ وہ باہر کی ہر بات آ کر اپنے و الدین کو بتائیے اور ان کے لئے بھی ضروری ہے کہ ایسے نا پسندیدہ عناصرکو نہ صرف بے نقاب کریں بلکہ دوسروں کو بھی اس کے کرتوت سے آگاہ کیا جائیے تاکہ بچے اس ظلم سے محفوظ رہیں ۔
سب سے بڑا فرض ہمارے علماء پر عائد ہوتا ہے وہ کھل کر مساجد میں اس لعنت کے خلاف آواز اٹھائیں کھل کر لوگوں کو بتائیں کہ ہمارے مذہب میں اس عمل کو کتنابرا قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو کالج اور سکولوں میں اس عمل سے پھیلنے والی بیماریوں کے بارے میں بتائیں۔ یہ سب کام ریاست کے کرنے کے ہیں مگر آج کل ریاست اور ہی مسائل میں الجھی ہوئی ہے۔ اس لئے اتنا تو کر سکتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو اس بری بلا سے بچانے کے لیے آنکھوں سے پٹی کھول کر دیکھیں، ان میں اعتماد پیدا کریں اور ان کو ہمت دیں کہ سب اچھا برا آکر والدین کو بتائیں اور اپنا رویہ مثبت رکھیں۔ اگر بچہ آ کر کوئی ایسی بات آپ کو بتائے تو غور سے سنیں نہ کہ اس پر اسے ہی ڈانٹ ڈپٹ شروع کر دیں۔ بچہ ڈر جائے گا اورآئندہ وہ کوئی بات آپ کو نہیں بتائے گا۔ اس کی اخلاقی تربیت خود کریں۔ یاد رہے کہ بچے ہم سب کامستقبل ہیں۔ اللہ انہیں برے لوگوں، بری سوچ اور برے عمل سے محفوظ رکھے۔ برائی پر پردہ ڈالنے سے برائی اچھائی نہیں بن جاتی اور اگر بچوں کو یہ نہ بتایا کہ برائی برائی ہے تو خدانخواستہ ہمارے ملک میں بھی ہم جنس پرستوں کو تحفظ حاصل ہو جائے گا۔