tariq ahmed

نواز شریف اور باعزت ایگزٹ

ہمیں نہیں معلوم اس بار نواز شریف صاحب کو کوئی این آر او آفر کیا گیا ہے یا نہیں اور اگر کوئی ایسا این آر او آفر کیا گیا ہے۔ تو اس کی شرائط اور قواعد و ضوابط کیا ہوں گے۔ البتہ میڈیا میں یہ افواہیں یا تذکرے عام ہیں کہ میاں صاحب کو کہا گیا ہے وہ سیاست کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیں اور اپنے بچوں کے پاس لندن چلے جائیں۔ اور باقی کی زندگی گوشہ عافیت میں یہ سوچنے میں گزار دیں ان سے کب اور کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں۔ یہ سوچنا ضروری بھی نہیں۔ جیسے مرضی زندگی گزاریں بس چلے جائیں۔ اس آفر کی کچھ نہ کچھ سچائی مسلم لیگ ن میں پائی جانے والی متحارب سوچ سے بھی عیاں ہوتی ہے۔ ن لیگ کی پر امن اور اسٹیبلشمنٹ دوست اور اقتدار پسند بطخوں کا خیال ہے۔ میاں صاحب کو ٹکراؤ کی پالیسی پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔ ورنہ بہت نقصان ہو گا اور کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔ ٹکراؤ نہ کرنے کا مشورہ دینے والوں کو
میاں صاحب نے حال ہی میں یہ جواب دیا ہے کہ یہ لوگ ان اداروں کو یہ مشورہ کیوں نہیں دیتے جو اسی ٹکراؤ کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اگر ٹکراؤ نہیں کرنا تو پھر دونوں جانب سے اس کو یقینی بنانا ہو گا۔ مسلم لیگ ن کا ایک گروپ وہ ہے جو مشکل اور دباؤ کے اس وقت کو کسی بھی طرح سینٹ کے الیکشن تک ٹالنا چاہتا ہے۔ جس دوران میگا پراجیکٹس بھی مکمل کر لیے جائیں۔ انتخابی اصلاحات اور نئے قوانین بھی پارلیمنٹ کے ذریعے منظور کروا لیے جائیں اور میاں صاحب کی اگلے الیکشن سے پہلے نااہلی ختم کروا کر ان کی واپسی کروا لی جائے۔ مسلم لیگ ن کے عقاب اس سوچ اور اس پالیسی کے خلاف ہیں۔ ان عقابوں کا خیال ہے ساڑھے چار سال کی مفاہمت اور صلح کن پالیسی کے نتیجے میں میاں نواز شریف کی نااہلی اور رسوائی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ اس وقت مسلم لیگ ن تاریخ کی کمزور ترین حکومت چلانے کی جرم وار بنی ہوئی ہے جبکہ اصل اختیارات کسی اور کے پاس ہیں۔ ان عقابوں اور کچھ سوشل میڈیا کے متوالوں کا خیال ہے اس مفاہمت اور کمزوری سے کچھ ملنے والا نہیں۔ سکرپٹ رائٹرز اپنے پلان کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔ اور بقول ان کے کچھ دیر بعد ہم سب یہ شعر گنگناتے نظر آئیں گے۔
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
ان جوشیلے احباب کا خیال ہے۔ اب میاں نواز شریف کو مزاحمت اور کھڑے رہنے کی سیاست کرنا ہو گی۔ جس کا وعدہ انہوں نے پنڈی تا لاہور اپنی ریلی میں کیا تھا۔ اور ووٹ کی عظمت کے لیے جدوجہد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان لوگوں کو یقین ہے۔ مرنا نہ لڑنے میں بھی ہے تو کیوں نہ لڑ کر مرا جائے۔ اگر ایک بار عوامی حمایت بیدار ہو گئی تو بچ نکلنے اور کامیاب ہونے کے امکانات بھی ہیں۔ ان عقابوں کو حالیہ ہونے والے متحدہ اور پی ایس پی کے ڈرامے سے بھی حوصلہ ملا ہے۔ کہ کس طرح اسٹیبلشمنٹ کو عریاں کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے مریم نواز کی ایک اہم ٹویٹ بھی سامنے آئی ہے کہ ہر کوئی میاں نواز شریف کی طرح نہیں ہے کہ ملک و قوم کی خاطر خاموش بیٹھا رہے۔
قطع نظر اس بات کے نواز شریف کب تک خاموش رہتے ہیں ایک بات یقینی نظر آ رہی ہے کہ مسلم لیگ ن کا مفاہمتی گروپ پسپائی اختیار کر گیا ہے۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ شہباز شریف کے خلاف حدیبیہ کیس کھل گیا ہے۔ اور یہ جسٹس کھوسہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے اگر کوئی این آر او تھا بھی تو وہ ناکام ہو گیا ہے۔ دوسری جانب نواز شریف صاحب نے عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس کا مطلب ہے اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کا ٹکراؤ اب لازمی ہے۔ میرا نہیں خیال ملک میں جلدی الیکشن ہوں گے۔ مارشل لاء نافذ ہو گا یا کیئر ٹیکر سیٹ اپ آئے گا۔ پلان یہ لگتا ہے الیکشن میں ن لیگ کوہروا دیا جائے۔ جس پر کام شروع ہو چکا ہے۔ لبیک اور ملی لیگ کے بعد ایم ایم اے کو بھی زندہ کر دیا گیا ہے۔ کراچی اور سندھ کے شہر واپس متحدہ کو دے دیے گئے ہیں۔ ایک اتحاد جنرل مشرف کے نیچے بن گیا ہے۔ ن لیگ کے پاورفل الیکٹ ایبلز توڑ کر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں بانٹ دیے جائیں گے۔ اور اگلے الیکشن کے بعد وفاق اور چاروں صوبوں میں کمزور مخلوط حکومتیں وجود میں آ جائیں گی۔ جو اپنی بقاء کے لیے مقتدر حلقوں کی مرہون منت ہوں گی۔
اس سارے قضیے میں ایک بات واضح نہیں اور وہ ہے نواز شریف کا معاملہ۔ ایک بات جو نظر آ رہی ہے وہ یہ ہے نواز شریف نے ابھی تک اپنے تمام کارڈز ظاہر نہیں کیے۔ وہ سیاست کو شاید خیرباد کہہ جاتے۔ اگر یہ ایگزٹ باعزت ہوتا۔ اور برابری کی شرائط پر ہوتا۔ لیکن حال یہ ہے کہ جونہی نواز شریف لندن جاتے ہیں پرو اسٹیبلشمنٹ میڈیا یہ پراپیگنڈا شروع کر دیتا ہے، نواز شریف بھاگ گئے۔ یہاں تک کہ انہیں ملک دشمن بھی قرار دے دیا جاتا ہے۔ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹرسٹ ڈیفیسٹ اس مقام پر جا چکا ہے جہاں دونوں ایک دوسرے کو کوئی موقع دینے یا ڈھیل دینے کو تیار نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کو مریم سمیت جیل میں ڈالنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اور نواز شریف اپنی بیٹی سمیت جیل جانے کو ذہنی طور پر تیار ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پھر جلد یا بدیر اسٹیبلشمنٹ کے تمام پلان دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ اور اس سے پہلے ن لیگ حکومت کوئی خودکش حملہ بھی کر سکتی ہے۔ بہتر یہی ہے متحارب پارٹیاں انا اور ضد اور برتری کے معاملات کو ترک کریں۔ تمام سٹیک ہولڈرز آپس میں مذاکرات کریں۔ ایک نیا معاہدہ عمل میں لائیں۔ تاکہ ملک و قوم کی سلامتی اور معاشی ترقی کو نقصان نہ ہو۔ اس کے لیے تمام کرداروں کو یہ چھپن چھپائی کا کھیل روکنا ہو گا۔ صاف صاف باہر آئیں اور با معنی اور نتیجہ خیز گفتگو کریں۔