dr-azhar-waheed

نظریہ اور پاکستان

جب سے انسان نے کھانے پینے اور سونے کے علاوہ سوچنے ، سمجھنے اور بیدار رہنے کا ایک کارِ مسلسل شروع کیا ہے، اس نے اپنی زندگی کی بنیاد ،روٹی کپڑے اور مکان کی بجائے کسی آدرش ، خیال اور نظریے پر قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انسان روٹی کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے ، عزت کے بغیر نہیں۔ انسان نظریے کی خاطر بغیرکسی معاوضے کے لڑ سکتا ہے ، اپنی جان تک قربان کر سکتا ہے لیکن اگر اسے نظریے کے خلاف لڑنے کو کہا جائے تو پرکشش معاوضے بھی اسے گھر سے نہیں نکال سکتے۔ انسان کے وجود کو رہنے کیلئے مکان اور اس کی روح کو بسر کرنے کیلئے کسی خیال کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ننگِ دین اور ننگِ وطن ،ضمیر فروش اور قلم فروش ہماری بحث سے فی الوقت خارج ہیں، جن کے سفر کا قطب نما مال اور مفاد ہے۔ ہمارے مخاطب وہی لوگ ہیں جن کے سینے میں دل اور دل میں دھڑکن موجود ہے۔ دل دھڑکنے کا سبب اگر خیال ہے تو گفتگو جاری رہے گی، وگرنہ ’’ھٰذا فراق بینی وبینکم‘‘ کی آیت بھی ہمیں ازبر ہے۔
نظریہ محض کسی ذہنی تگ و تاز کانتیجہ نہیں، بلکہ نظریے کے پیچھے ایک جیتی جاگتی انسانی شخصیت ہوتی ہے۔ وہ شخصیت اس نظریے کی بانی بھی ہوتی ہے اور نگہبان بھی۔ ہم اس شخصیت تک رسائی کیلئے اس کے نظریے سے متمسک ہوتے ہیں، ایک زندہ نظریے کے پسِ پشت شخصیت بھی زندۂ جاوید ہوتی ہے۔ اگر نظریے کو شخصیت سے آزاد کردیا جائے تو نظریہ ہائی جیک ہو جاتا ہے۔ اکثر اوقات تاریخ میں ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ جنہوں نے نظریے کا انکار کرنا چاہا انہوں نے سب سے پہلے اس کی بانی شخصیت کو سبوتاژ کیا۔ اگر شخصیت متنازع ہوجاتی ہے تو وہ نظریہ بھی تنازعات کا شکار ہوجاتاہے۔
نظریۂ پاکستان کی جب بات ہوتی ہے تو اسے کبھی کسی ڈکٹیٹر کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے ، کبھی میڈیا سکرین پر بیٹھی چیل ہاتھ گھما گھما کر کہتی ہے ’’بھئی! یہ نظریہ پاکستان کس چڑیا کا نام ہے ، مجھے ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا‘‘۔ دانہ دنکا چگنے والی چڑیا آخر اقبالؒ کے شہباز کی ہمراز کیسے ہو سکتی ہے۔ نظریۂ پاکستان کو علامہ اقبالؒ کے خطبات سے منسلک کیا جائے تو جھٹ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ علامہ اقبالؒ کے کسی بیان میں لفظ پاکستان تو موجود ہی نہ تھا۔ کبھی دو قومی نظریے کا بانی کسی انگریز کو قرار دے دیا جاتا ہے اور یہ تھیوری نصابی کتابوں کا حصہ بنا دی جاتی ہے۔ نصابی کتابوں کی نگہداشت بہت اہم ہے۔ نصابِ تعلیم مستقبل کی نسلوں کی فکر کا رخ متعین کرتا ہے۔ اس سے غفلت اپنے مستقبل سے غافل ہونے کے مترادف ہے۔ دفاع اور کرنسی کی طرح تعلیمی نصاب بھی مرکزی حکومت کی ذمہ داری میں ہونا چاہیے۔ تعلیم اور نصابِ تعلیم مستقبل کا دفاع ہے۔ مرکز کے علم میں ہونا چاہیے کہ ملک کے کس کونے میں کسے کیا پڑھایا جارہا ہے۔ تعلیمی نظام اور نصاب ایک قومی بیانیہ ہوتا ہے۔۔۔ اور یہ قومی بیانیہ مرکز ہی سے نشر ہونا چاہیے۔ بصورتِ دیگر قومیتوں کے نام پر قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا نصاب تو پہلے ہی سے متعین ہے۔
ہم ابھی حالتِ سفر میں ہیں ، منزل سے ہنوز دُور! مسافر کو اپنی منزل کی جانب قبلہُ رو رہنا چاہیے۔ سفر اور زادِ سفر سے غفلت اسے آدھے راستے کا مسافر بنا دیتی ہے۔ آدھے راستے کا مسافر دو منزلوں سے محروم ہوتا ہے۔۔۔ ایک وہ منزل جسے ترک کر کے نئی منزل کی جانب وہ عازمِ سفر ہوا تھا ۔۔۔اور دوسری وہ جس کی خاطر اس نے اپنی پہلی منزل تیاگ دی تھی۔ متحدہ ہندوستان میں اقلیت کے طور پرمقیم رہنا ہمیں قبول نہ تھا، اس لئے ہم وہاں اپنا مقام اور مکان تیاگ کر ایک سفر پر گامزن ہوئے تھے، ہماری نظروں میں ایک خواب اور خیال کا منظر تھا، اپنا دیس ، اپنا نظام اور اپنے دین پر عمل کرنے کی مکمل آزادی!! اسلام کے انفرادی پہلو پر عمل تو کہیں بھی ناممکن نہیں لیکن دین کے اجتماعی پہلو پر عمل کرنے کیلئے ہمیں ایک علیحدہ ریاست درکار تھی۔
ملاں کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
نظریۂ پاکستان کی بانی بھی وہی شخصیت ہے جو پاکستان کی بانی بنی۔ مطالعہ پاکستان پڑھانے والے اکثر اساتذہ کے ساتھ میری یہ بحث ہے کہ نظریۂ پاکستان کو آخر آپ قائدِ اعظم ؒ سے منسوب کرکے کیوں نہیں پڑھا رہے۔ یہ آئیں بائیں شائیں والا مؤقف یقین کو جگہ نہیں دیتا اور فکری تخریب کاروں کوطرح طرح کی موشگافیوں کاموقع فراہم کرتا ہے۔ قائدِاعظمؒ کا واضح فرمان ہے ’’پاکستان اسی دن قائم ہوگیا تھا جس دن برصغیر میں پہلا ہندو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوا تھا‘‘۔ نظریۂ پاکستان کی اس سے واضح تعریف اور کہاں ملے گی!!۔ یہ ہوتا ہے ، قائد! ۔۔۔ قائد اپنی قوم کے ماضی ، حال اور مستقبل کا عارف ہوتا ہے۔ عارف وقت پر اپنی قوم کی ہدایت کیلئے نکات نازل کیے جاتے ہیں۔ قائدِ اعظمؒ کے اس قول میں اسلام ، پاکستان اور نظریۂِ پاکستان ایک نقطۂ واحد میں موجود ہیں۔ پاکستان اور اسلام کا سنگم ہے ۔۔۔ نظریۂ پاکستان!!
نظریہ پاکستان کی اصطلاح پر چیں بہ جبیں ہونے والے دو گروہ ہیں، ایک وہ جو اسلام سے الرجک ہیں، اور دوسرے وہ جن کے آباء تصور پاکستان کے مخالف تھے۔ یہ دونوں مکاتبِ فکر قائدِ اعظمؒ کی شخصیت کو دھندلانے میں ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ ایک انہیں مسٹر جناح کہتا ہے، ان کی کوٹ پینٹ ، ٹائی اورشستہ انگریزی سے دھوکہ کھا کر انہیں اپنی طرح روشن خیال اور دین بیزار تصور کرتا ہے ، دوسرا گروہ وہ ہے جو ان لوگوں کی فکری اولاد ہیں، جو انہیں کافر اعظم کہتے رہے اور ہندوستان کے مسلمانوں کے اکثریتی فیصلے کے برعکس سیاسی میدان میں گاندھی کی مہا حمایت کرتے رہے۔ یہ لوگ نظریۂ پاکستان کو اپنی مسلکی ، گروہی اور تنظیمی سرگرمیوں میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ نظریۂ پاکستان کے ہائی جیکروں سے اسی طرح خبردار رہنے کی ضرورت ہے جس طرح روشن خیال منکروں سے!!اسلام کو پاکستان سے جدا کرنے والے اور پاکستان کو اسلام سے الگ سمجھنے والے شانہ بشانہ ایک ہی ہدف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
قومیں نظریے سے تعمیر ہوتی ہے۔ نظریے کی حفاظت اس نظریے کی با نی شخصیت پر پہرہ دینے سے ہوتی ہے۔ اگر شخصیت کی دھجیاں اڑا دی جائیں تو شخصیت سے منسوب نظریے کے بھی چیتھڑے رہ جاتے ہیں۔ بانی مملکت کی شخصیت کو متنازع بنانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ یہ فساد فی الارض کے کارندے بھی کسی فکری آپریشن ردالفساد کی گرفت چاہتے ہیں!!
حضرت واصف علی واصفؒ نے کہا تھا’’ پاکستان بچانے کیلئے ہمیں اتنا ہی اسلام کافی ہے جتنا قائدِ اعظمؒ کے پاس تھا‘‘۔ قائدِ اعظمؒ کے پاس صداقت ،دیانت اور امانت تھی۔صداقت ، دیانت اور امانت روحِ اسلام ہے۔ اگر صداقت دیانت اور امانت ترجیحِ اوّل نہ رہے۔۔۔ تو اسلام کا نعرہ ۔۔۔؟ چہ معنی دارد؟؟ پاکستان اور اسلام کے باہمی ربط کو واضح کرنے کیلئے ہمیں قائدِ اعظم محمدعلی جناحؒ کی شخصیت پر پہرہ دینا ہوگا، آنے والی نسلوں کو قائدؒ کے اقوال و خطبات ازبر کروانا ہوں گے۔۔۔ اور قائدِ اعظمؒ کی شخصیت کو شعائر اسلام اورپاکستان کے طور پر ایک درجۂ تقدیس میں متعارف کروانا ہوگا۔ قائدِ اعظم ؒ کی شخصیت کو عامیانہ بحثوں اور ٹاک شوز کی نذر کرنے کے بعد ہم اسلام اور پاکستان کے حوالے سے خود خلا میں پائیں گے۔ اسلام اور پاکستان کا تعلق جسم اور روح کی طرح ہے۔ روح نکل گئی تو جسد متحرک نہیں رہ سکے گا۔ یہ کہنا عبث ہے کہ ہمیں اسلام سے تو محبت ہے لیکن پاکستان کے بارے میں کچھ تحفظات ہیں، اسی طرح یہ بیان بھی قابلِ قبول نہیں کہ ہم محبِ وطن ہیں لیکن ہمیں قائدِ اعظمؒ کی شخصیت پر تحفظات ہیں۔
نظریے اور شخصیت کا باہمی ربط اقبالؒ نے کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے
شوق ترا اگر نہ ہو،میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب