Asif-Iqbal-(Nai-Dehli)

نظریات کی جنگ خواہش سے پوری نہیں ہو سکتی!

تبدیلی کب کہاں اور کیسے آتی ہے یہ مسئلہ صرف تھامس ہابس اور جان لاک ہی کا نہیں تھا۔ بلکہ ہیگل نے تو پوری انسانی تاریخ کو”نظریات کی جنگ” کا سفر قرار دیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ ایک نظریہ پیدا ہوتا ہے اور دنیا میں اپنے اثرات پھیلاتا رہتا ہے جسے اس نے thesis کہا۔ ہیگل کہتا ہے کہ یہ اثرات مرتب ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اس نظریے کی”ضد”پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہی، جسے اس نے anti thesisکہا۔ ہیگل کے مطابق تھیسس اور اینٹی تھیسس میں تصادم ہوتا ہے اور اس تصادم سے ایک تیسری چیز synthesis نمودار ہوتا ہے۔ یہ synthesis صالح یا بہترین اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہیگل کے اس نظریے کا کارل مارکس پر گہرا اثر پڑا، البتہ مارکس نے یہ کیا کہ ہیگل نے جس معرکہ آرائی کو”نظریات”میں دکھایا تھا، مارکس نے اِس آویزش کو طبقات میں دکھایا۔ مارکس نے اس تبدیلی کو معنی خیز انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہیگل سر کے بل کھڑا تھا میں نے اسے سیدھا کھڑا کردیا۔اسی طرح چین میں ماؤزے تنگ کے نظریات میں بھی طاقت کو مرکزیت حاصل ہوئی۔ ماؤکا یہ قول مشہور زمانہ ہے کہ طاقت بندوق کی نال سے برآمد ہوتی ہے۔ اگرچہ کمیونسٹ انقلابات نے خود کو”نظریاتی”کہا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی نظریاتی طاقت ثانوی چیز تھی۔ ان کا اوّل و آخر طاقت تھی۔ چوں کہ ان کا آغاز طاقت تھی اس لیے ان کا انجام بھی طاقت ہی کے حوالے سے سامنے آیا۔ روس میں کمیونزم کے پاس طاقت کی قلت ہوئی تو کمیونزم معاشرے پر اپنی گرفت قائم نہ رکھ سکا اور معمولی قوت سے سامنے آنے والے جوابی انقلاب یا Counter Revolutionکی نذر ہوگیا۔ بیسویں صدی کے وسط تک آتے آتے طاقت کا ایک نیا مظہر”مارشل لا”کی صورت میں سامنے آیا۔ نوآبادیاتی طاقتوں سے آزادی حاصل کرنے والے تیسری دنیا کے اکثر ملکوں میں فوج سب سے منظم، باخبر، تعلیم یافتہ اور طاقتور ادارہ تھا۔ اس ادارے نے اپنی اس حیثیت کو ملک و قوم کے حق میں استعمال کرنے کے بجائے ان کے خلاف استعمال کیا۔ ایشیا اور افریقہ کے متعدد ممالک میں مارشل لا نمودار ہوئے اور ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کا فلسفہ جگہ جگہ حقیقت بنتا نظر آیا۔
تھامس ہابس اور جان لاک کے نظریات کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ یہ نظریات محض قیاس آرائی ہیں، لیکن مارشل لا کو دیکھ کر اور برت کر بہت سے لوگ یہ گمان کرنے لگے کہ ممکن ہے تھامس ہابس اور جان لاک کے قیاسات صحیح ہوں۔ اہم بات یہ ہے کہ مارشل لا نے ہر جگہ معاشرے کی تشکیلِ نو کی۔ پاکستان میں مارشل لا لگانے والے جنرل ایوب اور جنرل پرویزمشرف سیکولرتھے، چنانچہ ان کے دور میں معاشرے میں سیکولرازم کو قوت حاصل ہوئی۔ جنرل ضیاء الحق کا ذہن مذہبی تھا، ان کے دور میں معاشرے میں مذہبی رجحانات کو فروغ حاصل ہوا۔ جمہوریت اگرچہ کمیونزم اور مارشل لا کی ضد ہے، لیکن طاقت کا تصور تینوں نظاموں میں مشترک ہے۔ فرق یہ ہے کہ کمیونزم میں طاقت کا سرچشمہ کمیونسٹ پارٹی، مارشل لا میں طاقت کا سرچشمہ فوج اور جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں۔ افراد اور معاشروں کو نسلی، قومی، لسانی اور مذہبی تعصبات بھی متاثر اور تبدیل کرتے رہے ہیں۔ یہودیت ایک آسمانی مذہب تھا مگر اس کے ماننے والوں نے اسے ایک نسلی مذہب بنادیا۔ ہندوازم کے بارے میں بھی غالب گمان یہی ہے کہ وہ بھی کبھی ایک الہامی مذہب رہا ہوگا مگر ہندوازم چار ذاتوں کا مذہب بن گیا۔ ہندوستان کی تاریخ، سماجیات، یہاں تک کہ معاشیات پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ گزشتہ چار صدیوں میں یورپ کی قوم پرستی نے ایرک فرام کے مطابق 2600 جنگیں ایجاد کیں۔ ان میں 20 ویں صدی میں لڑی جانے والی دو عالمی جنگیں بھی شامل ہیں جن میں مجموعی طور پر تقریباً 7کروڑ افراد ہلاک ہوئے، اور جنہوں نے مغرب کے فلسفہ، ادب اور سماج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس قوم پرستی نے تیسری دنیا کے ملکوں میں بھی قوم پرستی کی تحریکیں پیدا کیں۔ ان تحریکوں نے معاشروں کی سماجی، نفسیاتی اور جذباتی ساخت کو متاثر کیا۔ جرمن ادیب ٹامس مان نے کہا تھا کہ 20 ویں صدی میں انسانی تقدیر سیاسی اصطلاحوں میں لکھی جائے گی۔ ٹامس مان کی یہ پیشگوئی بڑی حد تک درست ثابت ہوئی ہے۔ لیکن 21 ویں صدی کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں انسانی تقدیر معاشی اصطلاحوں میں لکھی جارہی ہے اور معاشیات ایک”عالمگیر مذہب” بن کر ابھر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج “عالمگیر مذہب”کی لپیٹ میں پوری دنیا متاثر ہو چکی ہے۔
اس عظیم تر تباہی و بربادی کے برخلاف ایک اور نظریہ عدل و انصاف اور نیکی و تقویٰ کی بنیاد پر منحصر ہے۔یہ نظریہ نیکی کی بنیاد پر ہونے والی تبدیلی کو تقویٰ کے ابلاغ سے ہونے والی قلبِ ماہیت کے ذریعہ فروغ دیتا ہے جو کئی نسلوں تک باقی رہتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نیکی ایسا نعرہ، ایسا نظریہ اور ایسا فلسفہ ہے جوکئی نسلوں کو اپنا اسیر کرسکتا ہے۔لیکن جب مخصوص نظریہ کے حاملین مسائل کا حل پیش کرتے ہیں اوراس کو لے کر آگے بڑھنے کا عزم کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کو دنیا کی بڑی قوتیں مختلف پابندیوں میں جکڑ دینا چاہتی ہیں۔سب سے پہلے ان کے تعلق کو امن کی بجائے دہشت گردی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسی درمیان مذہب اسلام جو امن کا داعی ہے اس کو فرقہ وارانہ منافرت میں پیش کرنے کی ناکام سعی وجہد کا آغاز ہو جاتا ہے۔یہی نہیں جہاد کے ذکرکے ساتھ اسلام دشمن طاقتیں کہتی ہیں کہ پہلے بھی اسلام تلوار اور طاقت کے زور پر پھیلاہے اور آج بھی اُس کے علمبردار اسی طریقہ کو اختیار کرنا چاہتے ہیں۔لیکن تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق و باطل کا پہلا معرکہ غزوہ بدر کی صورت میں اس وقت لڑاجب باطل خود سے حملہ آور ہوا نیزباطل کی قوت حق کے مقابلہ بہت زیادہ تھی۔ چنانچہ مسلمان مقابلہ پرآنے والوں کا سامنا کبھی بھی اپنے زورِ بازو پر نہیں کرتے اور اسی لیے انہیں وہ طریقے اختیار نہیں کرنے پڑتے جن کا ذکر ابتدا میں گزر ا ہے۔ ان کا بھروسا تو اللہ پر ہوتا ہے اور اس ہی کی مددو نصرت پرکامیابی و ناکامی منحصر ہوتی ہے۔اس پس منظر میں یہ بات صاف رہنی چاہیے کہ اسلامی معاشرہ اپنی روح میں ایک جہادی اور مزاحمتی معاشرہ ہوتا ہے اور اس کی مزاحمت اپنے نفس سے لے کر بین الاقوامی زندگی تک پھیلے تمام ایشوز سے ہوتی ہے۔اس کی بنیادی وجہ عدل و انصاف اور امن وامان کا قیام ہے جس کے حصول کے لیے وہ سعی و جہد کرتا ہے۔وہیں یہ بات بھی آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسلام مکمل نظام حیات فراہم کرتاہے جس میں معیشت سے لے کر معاشرت اور تہذیب و تمدن کے تمام معرکے حل کیے جا سکتے ہیں۔لہذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلامی معاشرے کے فروغ، اس کی بقا، اس کے استحکام اور اس کے قیام کے لیے سعی و جہد کرے نیز ایک متبادل نظام حکومت فراہم کرے۔ جس میں لوگوں کے لیے نہ صرف امن و امان ہو بلکہ ترقی و کامیابی کے تمام مراحل و مواقع بھی بھر پور شکل میں موجود ہوں۔ساتھ ہی اسلام وہ نظام حکومت پیش کرتا ہے جس میں مختلف مذاہب کے لوگ اپنے مذہب پر بہ آسانی عمل پیرا رہ سکتے ہیں۔برخلاف اس کے موجود ہ وقت میں برسراقتدار دنیا کی بڑی طاقتیں اور وہ چھوٹے ممالک بھی جن کی دنیا کے نقشہ پر کوئی خاص حیثیت نہیں ،دونوں ہی اسلام پر عمل کرنے والوں کو مختلف بہانوں اور طریقوں سے عمل کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں ۔بلکہ حد تو یہ ہے کہ قوانین کا سہارا لے کر انہیں ان بنیادی حقوق سے دستبردار ہونے کے لیے کہا جا رہا ہے جس کا جواز کسی صورت نکالا نہیں جا سکتا ۔ان حالات میں وقت کی آواز یہی ہے کہ جو لوگ مکھوٹا لگاکر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کر رہے ہیں،ان کی اصل شکل واضح کی جائے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ افرد اورگروہ جونظام عدل و انصاف کے قیام کا نعرہ بلند کر تے ہیں قبل از وقت خود انفرادی و اجتماعی ہردو سطح پر وہ نمونہ پیش کریں جس کے وہ خواہش مند نظر آتے ہیں!