hameed-ulla-bhati

نظریات کا اتحاد

نواز شریف وزیر اعلیٰ بھی رہے اور ملک کے وزیر اعظم بھی۔اِس لیے اُن کی زبان سے نکلے الفاظ کی خاص اہمیت ہے۔ کوئی پریشان حال شخص کی نوحہ گری قرار دے یا نا اہلی کی بنا پر اپنی زبان پر اختیارسے دستکش فردکے اظہارسے تعبیر کرے سچ یہ ہے اب بھی ملک کا ایک طبقہ رہنمائی کے لیے اُنہی کی طرف دیکھتا ہے۔ وجہ یہ ہے ملک کانظم و نسق جس جماعت کے پاس ہے وہ اُس کے سربراہ ہیں مگر لگتا ہے وہ بات کرنے سے قبل سوچنے کا تکلف نہیں کرتے۔ مانسہرہ میں منعقدہ اپنی جماعت کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ارشاد فرمایا نواز شریف ایک نظریے کا نام ہے، مگر مزید وضاحت نہ کی جس کی بنا پر اِہل نظر نظریے کی تشریح اپنے اپنے انداز میں کر رہے ہیں ۔ قومی رہنما ؤں کو چاہیے مبہم باتیں کرنے سے گریز کیا کریں ۔ وطن میں خواندگی کی شرح قابلِ رشک نہیں جس کی بنا پر کچھ احباب بات کو گہرائی تک سمجھ ہی نہیں پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف نے جب نظریے کی بات کی تو لوگ سپریم کورٹ کے پانچ ججز کی طرف سے فیصلہ کرتے ہوئے سسلین مافیا اور گاڈ فادر کے الفاظ کوموصوف کا نظریہ سمجھ بیٹھے ۔
کوئٹہ میں پختونخوا ملی پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مشترکہ اجتماع سے خطاب کے دوران نواز شریف نے نظریاتی اتحادیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا محمود اچکزئی سے نظریاتی رشتہ ہے۔ وہی محمود اچکزئی جو خیبر پختونخوا کو افغانستان کا حصہ کہتے اور افغان مہاجرین کے لیے افغانیہ صوبہ بنانے کی تجویز دیتے ہیں جن کے والد عبدالصمد اچکزئی بلوچستانی گاندھی کے لقب سے معروف تھے اور بلوچستان کو اِسلامی مملکت کا حصہ بنانے سے گریزاں۔ بلوچستان اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے لیکن عبدالصمد اچکزئی اپنے مخالفوں کا خاتمہ کرتے کرتے انہی کے ہاتھوں دنیا سے گئے اور تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہوئے ۔بلوچستان آج پاکستان کا سب سے زیادہ جشنِ آزادی منانے والا علاقہ ہے۔ فوج ،پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اِداروں میں بلوچ نوجوان شامل ہو کر وطن کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ جانے کِس کے اُکسانے پریا پھر سیاسی حمایت کے لیے مسلم لیگ کا سربراہ نظریاتی مخالفین کو درست کہنے پر مجبور ہوا ہے ۔یہ جوشِ خطابت کی غلطی ہر گز نہیں ۔ محمود اچکزئی پاکستان کے ساتھ عسکری قیادت سے پر خاش رکھتے ہیں جس کا وقتاََ فوقتاََ اظہار بھی کرتے رہتے ہیں مگر ایسی سوچ مسلم لیگ کا کارکن نہیں اپنا سکتا چہ جائے کہ بانی ہونے کی دعویدارجماعت کا سربراہ حب الوطنی کی بلندی چھوڑ کر اترائی کی طرف چل پڑے ۔
جو لوگ اپنی ذات سے محبت کو کامیابی کا زینہ تصور کر لیں اور خامیاں دور کرنے کی بجائے ذات کو محبوب سمجھ لیں۔رسوائی اُٹھاتے ہیں۔ کیا میاں نواز شریف جیسا شخص جو خود کو ملک کا مقبول رہنما کہلوانے پر بضد ہو، لا علم ہے ۔تاجدارِ مدینہؑ نے کم کھانا،کم سونا اور کم بولناصدقہ جاریہ فرمایہ ہے لیکن بارہ اکتوبر1999ء سے جناب کا رویہ متضادہے۔ تن آسانی ۔دولت و اقتدار سے اُلفت کا ایجنڈا ہے ۔ خوشامدیوں کی باتیں سُننا ہی مرغوب ہے ۔ کسی ڈھنگ کے آدمی سے مشورہ لینا درکنار بات کرنے کے روا دار نہیں۔جنہیں ملک اور قوم کی بجائے اپنے خاندان کو امیر بنانے کے سوا کسی کام میں دلچسپی نہیں ۔پورے ملک میں اپنی صاحبزادی کے سوا کوئی بھی اقتدار کا اہل نہیں دیکھتے۔کیسا نظریہ ہے، اسی لیے نظریاتی اتحادی بھی وہ دکھائی دیتے ہیں جو اپنے خاندان کے افراد کو ہی ملک کے اہم عہدوں پر براجمان دیکھنے کے متمنی ہیں۔
جو غلطیوں سے سیکھتے نہیں وہ کامرانی نہیں پاتے۔ نواز شریف کو شکوہ ہے صادق و امین کا فیصلہ کرنے والوں نے آمر سے حلف اُٹھایا مگر خطابت کے جوہر دکھاتے یہ بھول گئے کہ اُن کی سیا سی لانچنگ آمریت میں ہوئی۔ علاوہ ازیں وزیر خزانہ، وزیر اعلیٰ اور نگران وزیر اعلیٰ کا حلف آمریت کی چھاؤں تلے اُٹھا یا اور آج جمہوریت کا راگ الاپنے والے کبھی جنرل ضیاء الحق کا مشن مکمل کرنے کا عزم کرتے تھے اب دھرنے اور مارچ سے الرجی ہے، مگر کبھی دھرنے اور مارچ بہت پسند رہے کیونکہ وہی نظام پسند ہے اور جمہوریت بھی ۔جس میں اقتدار اُن کے پاس رہے ۔انہیں عدلیہ بھی وہی اچھی لگتی ہے جو لوٹ مار،اقربا پروری سے چشم پوشی کرے اور جناب کے حریفوں کی سرکوبی تک محدود رہے۔ اگر کوئی سجاد علی شاہ کی طرح انصاف کرنے کی کوشش کرے تو کارکنوں کے ذریعے سبق سکھا سکیں ۔جناب ایسی عسکری قیادت کے تمنائی ہیں جو صبح و شام سلامی کے لیے حاضری دے وگرنہ ایسے اختیار کی خواہش ہے جب دل کرے قیادت تبدیل کر سکیں چاہے ضیاء الدین بٹ جیسے چہرے کا انتخاب کریں سب سرتسلیم خم کریں ۔
بے نظیر بھٹو جب تک حیات رہیں آزار پہنچانے کے لیے ہر حربہ آزمایاآج جنہیں اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے عدالتوں میں پیش ہونا ناگوار ہے انہوں نے بے نظیر بھٹو کو برسوں پیشیاں بُھگتنے پر مجبور کیا۔ سیف رحمن کے ذریعے ملک سے جانے پر مجبور کردیا ۔یہ ہے جمہوریت پسندی ۔آج کے نظریاتی لوگ کبھی آصف زرداری کو مسٹر ٹن پرسینٹ کا لقب دیتے تھے پھر نواز شریف نظریہ ایجاد ہواتو بھائی بھائی بن گئے اور باریاں طے کر لیں۔ شاید آصف زرداری ا بھی تک صحیح نظریاتی اتحادی ہی نہیں بنے کیونکہ ملاقات سے گریزاں ہیں۔ جس طرح محمود اچکزئی جیسے نظریاتی اتحادی سے مل کر مشترکہ جلسے شروع ہیں عین ممکن ہے کبھی آصف زرداری سے بھی نظریات کا اتحاد ہو۔ پھر سارے نظریاتی اتحادی مل کر ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے لگیں۔ آج کل نظریات بدلنے کا موسم ہے اور نظریاتی اتحادی ڈھونڈنے کا زمانہ ہے۔ کوئٹہ کی طرح سندھ میں ہنوز کامیابی نہیں ہو رہی، شاید یہاں فوج کو بُرا بھلا کہنے کا کلچر رواج نہیں پایا وگرنہ کب کا یہاں بھی نظریات کا اتحاد ہو چکا ہوتا۔