Ch Farrukh Shezad copy

نئے سال کی سب سے اچھی بات

نئے سال کی اچھی بات یہ ہے کہ اس دفعہ پیمرا نے الیکٹرانک میڈیا کے ویلنٹا ئن ڈے کی کوریج پر پابندی لگادی ہے۔ پیمرا چونکہ ایک سرکاری ادارہ ہے اس وقت سرکار چونکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی ہے اس لئے پارٹی سے تمام تر اختلافات کے باوجود اس کا کریڈٹ حکومت جماعت کو دینا چاہیے مگر جب آپ اس معاملے کی تہ میں جائیں گے تو یہ کریڈٹ حکومت کو نہیں بلکہ پاکستان کی عدلیہ کو جاتا ہے کہ گزشتہ سال 13 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک حکم کے ذریعے اس دن کو منانے اور تیاریوں اور اس سے متعلقہ خبروں کی اشاعت پر فوری پابندی کا حکم دیا تھا اور اس سال اس حکمنامے پر عمل درآمد کیلئے پیمرا نے الیکٹرانک میڈیا کو یاد دہانی کروائی جس کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ میڈیا کو ایک بے ہنگم شور شرابے کی تبلیغ کے راستے میں عدالت نے رکاوٹ کھڑی کردی ہے۔
ہماری سماجی اقدار کو اس وقت مغربی اور ہندوستانی ثقافتی یلغار کا سامنا ہے جس کے سامنے قوم کی نوجوان نسل ڈھیر ہوچکی ہے۔ویلنٹائن ڈے یعنی یوم عاشقی کو گزشتہ ایک دہائی سے اتنا موثر اور تواتر سے پراجیکٹ کیا گیا کہ 50 سال سے اوپر کی عمر کے لوگ اس بات پر خوشیاں مناتے دیکھے گئے کہ چلو اچھا ہوا ہم نے مرنے سے پہلے یہ دیکھ تو لیا۔ نفسیاتی طورپر اس محروم اور شکست خوردہ طبقے کو یہ باور کرادیا گیا کہ دیکھو ہمارا ملک کتنی ترقی کر گیا ہے کہ جو تہوار کبھی امریکہ اور برطانیہ کی شان ہوتے تھے آج ہمیں بھی دستیاب ہوچکے ہیں۔
دنیا کی نظر میں کارپوریٹ طبقہ جو عالمی آبادی کا ایک فیصد ہے وہ پوری دنیا کی معیشت کو مٹھی میں لئے بیٹھا ہے۔ دنیا بھر کے بینک ، ایئرلائنز، شپنگ کمپنیاں،صنعت اور دیگر کاروبار سارے ان کی ملکیت میں ہیں۔ یہ طبقہ پوری دنیا کو ایک اکائی اس لئے بنانا چاہتا ہے کہ تمام دنیا کا کاروبار ان کے ہاتھ میں آجائے ان کا بس چلے تو یہ پوری دنیا میں مذہب بھی ایک ہی رائج کردیں جس کا ون پوائنٹ عقیدہ ہو کہ پیسہ خدا ہے۔ ان ہی کی سازش ہے کہ پوری دنیا ایک ہی طرح کا کھانا کھائے اور ایک ہی طرح کا لباس پہنے جس کی مثال دنیا بھر میں پھیلتے ہوئے میکڈونلڈ اور کے ایف سی کے فرنچائز ہیں جو پاکستان پر بھی قبضہ کر چکے ہیں۔ اسی طرح ریڈی میڈ کپڑوں کے جتنے عالمی برانڈ ہیں ڈائز ،یونی لیور ، آکسفورڈ وغیرہ سب پاکستان میں فرنچائز ہوچکے ہیں۔ اس طرح پیپسی اور کوکا کولا ہیں ان سب کے منافع کا ایک حصہ باہر جارہا ہے۔
مگر اس سے بھی تکلیف دہ یہ ہے کہ مقامی چھوٹے تاجر اور سنگل شٹر دکاندار بھوکے مر رہے ہیں۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت شاپنگ مال کا منصوبہ ملکی مقامی تجارت اور سمال بزنس کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ ویلنٹائن ڈے کی حقیقت بھی یہی ہے کہ اسے پاکستان میں اتنا مشہور کردیا جائے کہ یہ ہر عید، شب برأت اور ثقافتی تہواروں کی جگہ لے کر پاکستان کو انٹرنیشنلائز کردے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف امریکہ میں ویلنٹائن ڈے پر 20بلین ڈالر کی شاپنگ کی جاتی ہے جس میں پھول چاکلیٹ اور دل کی شکل کی دیگر پراڈکٹس شامل ہیں۔ اس موقع پر ہندو بنیاد پرست تنظیم شیو سنہا کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہئے کہ اس نے انڈیا میں اس دن کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے کیونکہ وہ کہتی ہے کہ اس سے ہمارا ہندو کلچر خراب ہو رہا ہے جس وجہ سے وہ اس کی مخالفت کرتی ہے۔ شیو سنہا کا کہنا ہے یہ عورتوں اور مردوں کے درمیان بغیر شادی کے ازدواجی تعلقات کی وکالت ہے جو ہندو معاشرے اور روایات کے خلاف ہے۔
ہم نے ایک میڈیا چینل پر ایک ویلنٹائن خاتون کو ملاحظہ کیا جو اس کو ایک معصوم سی خوشی سے تعبیر کرتے ہوئے یہ وکالت کر رہی تھی کہ ریاست کو عوام کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں کرنا چاہئے۔ یہ ایک خطرناک سوچ ہے جس سے ہمارا ریاستی و سماجی ڈھانچہ زمین بوس ہوسکتا ہے۔ اگر عوام کسی ایسی غیر اخلاقی مشغلے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو معاشرے کا حلیہ بگاڑ دینے کے خطرے سے دو چار کردے تو وہاں ریاستی مداخلت ضروری ہوجاتی ہے۔ حضرت شعیبؑ کی قوم کم تولنے اور کاروباری بد دیانتی میں ملوث تھی جب آپ نے انہیں کہا کہ آپ پورا تولا کریں تو وہ اس بات پر سیخ پا ہوئے کہ آپ ہمیں اس بات سے کیوں روکتے ہیں کہ ہم اپنے پیسے کو جہاں چاہیں اور جیسے چاہیں خرچ کریں۔ اس رجحان کو اگر کھلا چھوڑ دیا جائے تو پھر تو ملک میں فحاشی اور جسم فروشی کے سوال پر بھی اپنی مرضی کرنے کا مطالبہ اٹھ کھڑا ہوگا۔
ویلنٹائن ڈے کے حق میں جب ساری دلیلیں ختم ہوجاتی ہیں تو پھر کہا جاتا ہے کہ غریب لوگوں کو کاروباری موقع سے محروم کردیا گیا ہے۔ یہ ایک کھوکھلی دلیل ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے کی سیل کا محور برانڈ پراڈکٹ ہے جس کا منافع ریڑھی والوں کو نہیں بلکہ میاں منشاء جیسے گروپوں کو ہوتا ہے۔ دوسری بات کہ اگر ایک ریڑھی والا 5 روپے کا پھول 50 روپے میں بیچتا ہے تو اس سے سال میں ایک دن کی دیہاڑی تو لگ گئی باقی 364 دن وہ کیا کریں گے۔ ناجائز منافع خوری کی یہ سوچ حتمی طورپر معاشرے کیلئے نقصان دہ ہے۔ اس سے معاشی طورپر ایک دوسرے کی جیب کاٹنے کی ترغیب ملتی ہے۔
ویلنٹائن ڈے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ملک میں50 فیصد پرائیویٹ سکول ہیں جہاں لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتے ہیں۔ ان میں اچھے سکولوں کی روایت یہ ہے کہ ویلنٹائن والے ہفتے میں سٹاف کو خصوصی ٹاسک دیا جاتا ہے کہ بچوں کو مانیٹرنگ کریں کہ لڑکیاں اور لڑکے آپس میں تحائف اور پیغامات کا تبادلہ نہ کریں۔ یہ ساری کارروائی سکول کے احاطے کو وینٹائن سے پاک رکھنے کے لئے ہوتی ہے کہ کل ان پر کوئی الزام نہ آجائے ورنہ موبائل فون اور سوشل میڈیا آجکل ہر بچے کی دسترس میں ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا احساس سب کو ہے کہ یہ غلط ہے لیکن ہمارے معاشرے کے اندر پائی جانے والی منافقت کی وجہ سے ہم اس پر آواز اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں۔
الیکٹرانک میڈیا پر پیمرا کی پابندی کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ ایک غلط اور غیر ملکی روایت کی تشہیر نہ ہونے کے سبب اس سال بازاروں اور مارکیٹوں میں ویلنٹائن شاپنگ کا طوفان پربا نہیں ہوا۔ اس سے آپ میڈیا کی طاقت کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر میڈیا چاہے تو گراس روٹس سطح پر پاکستان میں جس طرح کی تبدیلی چاہے لاسکتا ہے۔ اسی وجہ سے ہماری سیاسی پارٹیاں اور کاروباری ادارے اپنے اپنے فائدے کیلئے میڈیا کا رخ کرتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ ایڈورٹائزنگ کے ضمن میں میڈیا کو جو کمائی ہوتی ہے وہ شفاف اور دستاویزی ہے مگر سیاسی مقاصد کیلئے ہونے والی لین دین میں ٹرانسپیرنسی نہیں ہوتی اور میڈیا جو ریاست کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے ریاستی ناکامی یا دیوالگی میں حصہ دار قرار پاتا ہے۔
جو سماجی رجحانات اور آزاد خیالی ہمارے معاشرے میں جنسی جرائم کے بڑھتے ہوئے طوفان کا باعث بن رہی ہے اس کی وجوہات میں ایک ویلنٹائن یا اس طرح کے مواقع بھی ہیں جو جنسی ہیجان کا باعث بنتے ہیں۔ ہم اس مغربی معاشرے کی نقالی میں کہاں تک حق بجانب ہیں جہاں بغیر شادی کے پیدا ہونے والا بچہ Love Child کہلاتا ہے۔ ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا۔ اس سیاق و سباق میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس طرح کا کوئی اقدام حکومت کی طرف سے دیکھنے میں آجاتا تو عدالت کو مداخلت نہ کرنا پڑتی۔