hafiz muzafar mohsin copy

’’ نئے انداز کی تقریب ۔۔۔‘‘

’’اُس کا فون آنا تھا‘‘ میں انتظار میں تھا مگر انتظار طویل ہوتا چلا گیا۔ فون پر میرا دھیان تھا کہ ایس ایم ایس کی ٹون سنائی دی۔ یہ ایک نہایت بے ہودہ سا ایس ایم ایس تھا۔ کھانا کھاتے ہوئے ایسا نہایت بے ہودہ ایس ایم ایس پڑھتے ہوئے ’’قے‘‘ آنے لگتی ہے، دل ’’خراب‘‘ ہوتا ہے۔ یہ ایک خاصے معزز دوست نے بھیجا تھا۔ ویسے وہ اب معزز نہیں رہا کیونکہ پچھلے مہینے کی پندرہ تاریخ کو اُس کی شادی سلونی صا برؔ سے ہو چکی ہے۔ سلونی صابرؔ مجھ سے شادی کی خواہش مند تھی۔ میں نے بتایا کہ میں شادی شدہ ہوں تو اُس نے موبائل فون کے گولڈن نمبر فروخت کرنے والوں کی طرح کہا ۔۔۔ ’’ایک اور کر لیں‘‘ ۔۔۔ وہ بھی کر چکا ہوں۔ میں نے جواب دیا تو بولی ۔۔۔ پھر کسی اچھے سے لڑکے کا نمبر دے دیں۔ میں خود ہی ٹرائی کر لوں گی۔ آپ کا ذکر تک نہیں ہو گا۔ بس خفیہ طور پر آپ میری مدد کرتے رہیے گا۔ کامیابی دینا نہ دینا اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے (میں نے سلونی صابرؔ کو پاؤں سے سر تک دیکھا اور گھبرا سا گیا) ۔۔۔
میں نے نمبر کیا دیا، اُس نے ٹرائی کیا کرنی تھی۔ تین مرحلے خاصے مشکل ایک ہی جست میں طے کیے اور سلونی صابرؔ شادی شدہ لڑکیوں کی قطار میں کھڑی ہو گئی۔ جھٹ منگنی پٹ بیاہ سے بھی کہیں تیز رفتاری کے ساتھ یہ شادی طے پائی۔ ویسے سنا ہے جو جتنی رفتار سے جائے اُس سے کہیں تیزی سے واپس بھی آ جاتا ہے ۔۔۔؟!
مجھے تو اُس کے فون کا انتظار تھا۔ بیچ میں یہ بے ہودہ سا ایس ایم ایس آ گیا۔ میں چاہتا ہوں ایسے ایس ایم ایس مجھے کوئی نہ بھیجے مگر جب ایک دو دن ایسے میسج نہ آئیں تو میں اُداس ہو جاتا ہوں۔ عجیب طرح کی نفسیات ہے ہم موبائل فون رکھنے والوں کی۔ میری مراد اس قوم کی ہے۔ اب تو ہر ہاتھ میں موبائل فون اور ہر زبان پر واپڈا والوں کے لیے گالیاں ہیں۔ قصور حالانکہ واپڈا والوں کا نہیں۔ کسی اور کا ہے ۔۔۔ ’’ہم کسی اور‘‘ کو کچھ دراصل کہہ نہیں سکتے کیونکہ اُن تک ہماری پکار نہیں پہنچ پاتی اور رسائی بھی نہیں ہے کسی کی اُن تک ۔۔۔ آپ نے کیا فرمایا ۔۔۔ جی نہیں زبان کا مسئلہ ہر گز نہیں ہے۔ اُن کو اردو، انگریزی، پنجابی اور سندھی زبان سب پر عبور ہے لیکن وہ عوام کی سننا نہیں چاہتے۔سننے سے پہلے ہی اُن کی ہنسی نکل جاتی ہے۔ اور ہنسی نکلنے سے پہلے ہی اُن کا دھیان نواز شہباز کی طرف چلا جاتا ہے کہ کیا ہوا جو ملک میں چوبیس میں سے بیس گھنٹے بجلی بند رہتی ہے، قوم کو قربانی دینی چاہیے۔ یہ نواز شہباز کا سایہ قوم کے سر پر نہ ہو تو میں اس قوم کو ’’آدابِ فرزندی‘‘ سکھا کے دم لوں ۔۔۔ ’’انسان‘‘ بنا کے دم لوں۔ شکر ہے کوئی تو رکاوٹ ہے اُن کے سامنے ۔۔۔ ویسے ایسی ایک دو رکاوٹیں ۔۔۔ قوموں کی بھلائی میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں ۔۔۔’’اُس کا فون آنا تھا‘‘ ۔۔۔ ارے ۔۔۔ یہ ایک ایس ایم ایس آیا ہوا ہے ۔۔۔’’میں خود کشی کرنے جا رہی ہوں‘‘ ۔۔۔ میں نے ایس ایم ایس پڑھا تو دل باغ باغ ہو گیا ۔۔۔ یہ تقریب کب، کہاں اور کتنے بجے بپا ہو گی؟! میں نے فون کر کے سیدھا سوال کیا تو سنجیدہ ہونے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ۔۔۔ ’’کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔۔؟ کونسی تقریب ۔۔۔؟!‘‘ ۔۔۔ ’’یہی خود کشی کی تقریب‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔ (مگر تھوڑی گھبراہٹ کے ساتھ!) ۔۔۔
اچھا ۔۔۔ تو آپ اس انتظار میں ہیں کہ یہ خود کشی والا کام ہو ہی جائے۔ وہ کون سی ویب ہے جس پر خود کشی کے آسان طریقے بتائے جاتے ہیں؟! ۔۔۔ وہ بولی ۔۔۔ اور
ہاں۔۔۔ سنو اپنی لکھی کسی کتاب کا نام مت بتا دینا، میں جدید دور کی ماڈرن لڑکی ہوں۔ مزید بولی ۔۔۔ ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو ۔۔۔ محبت ڈاٹ کام یا پھر یہ ٹرائی کر لیں ۔۔۔ ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو ۔۔۔ ڈاٹ آزادی ڈاٹ کام ۔۔۔ میں کمپیوٹر پر ہی بیٹھی ہوں دوسرے والی پہلے ٹرائی کرتی ہوں۔ فون بند ہو گیا شاید غصے میں تھی ۔۔۔ یا پھر بہت جلدی تھی اُسے خود کشی کرنے کی ۔۔۔
بہت بد تمیز ہو تم ۔۔۔! اُسی کا تین منٹ بعد فون آ گیا۔ یہ ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو ۔۔۔ ڈاٹ آزادی ڈاٹ کام ۔۔۔ بہت آزاد قسم کی ویب سائٹ ہے۔ بچوں والے گھر میں یہ ویب سائٹ نہیں کھلنی چاہیے۔ آپ نے شہباز شریف سے دو لیپ ٹیپ لیے ہیں۔ آپ اب بچے تو نہیں ہو۔ طنزیہ انداز میں میں نے وضاحت کی تو ۔۔۔ ہنسنے لگی ۔۔۔ اچھا میں ڈاکٹر دردانہ سے فون پہ بات کرتی ہوں۔ پچھلے سے پچھلے سال اُس نے بھی خود کشی کی ناکام کوشش کی تھی۔ اُس سے طریقہ پوچھتی ہوں ۔۔۔ اور یہ بھی پتہ کرتی ہوں کہ خود کشی کا ڈراوا دینے سے کیا یہ مشکل مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔۔۔؟!اچھا ۔۔۔ میری تازہ غزل جو میں نے یوم مئی کے لیے لکھی ہے مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے ۔۔۔ وہ تو سنتی جا ۔۔۔ میں نے کہا تو ہمہ تن ہو گئی ۔۔۔ جلدی سناؤ ۔۔۔ پڑھے لکھے علم دوست لوگوں سے تعلق واسطے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ مرتے مرتے بھی نظم سننے سے اکتاتے نہیں (یہ میوزک لورز قسم کے لوگ ہوتے ہیں) ۔۔۔ میں نے عرض کیا ۔۔۔
مجبور ہیں جو شہر میں مزدور بہت ہیں
کم کھاتے ہیں سو جاتے ہیں مجبور بہت ہیں
دو آنکھیں بھی ہیں اور سکت دیکھنے کی بھی
اندھوں کی طرح چلتے ہیں مغرور بہت ہیں
ہم سنتے تھے اس شہر میں کچھ شیر سے انساں
رہتے تھے، کہاں چھپ گئے، لنگور بہت ہیں!
اُس نے نہایت غور سے سنا ۔۔۔ توجہ دی ۔۔۔ اور ۔۔۔ اُس کی ہنسی نکل گئی ۔۔۔ چلو ۔۔۔ اب فون بند کرو، لائٹ آ گئی ہے۔ اُس نے خود ہی ہنستے ہوئے فون بند کر دیا ۔۔۔دس منٹ بعد پھر اُس کا ایس ایم ایس آ گیا ۔۔۔ ’’میں خود کشی کرنے جا رہی ہوں‘‘ ۔۔۔ میں سمجھ گیا کہ لائٹ بند ہو گئی ہو گی۔ میں نے نمبر ملایا تو غصے میں تھی ۔۔۔ اب یہ تقریب ہو کے رہے گی۔ کون سے والی ۔۔۔ میں نے محبت اور پریشانی میں پوچھا تو بولی ۔۔۔ سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔ وہی ’’خود کشی والی‘‘ ۔۔۔!
لڑکے بے چارے آج کل لڑکیوں کو مناتے مناتے تھک جاتے ہیں۔ قصور واپڈا والوں کا ہے مگر غصہ لڑکیاں لڑکوں پر نکالتی ہیں۔ میں نے بار بار اس دھمکی کی وجہ پوچھی ۔۔۔ تو ہنسنے لگی ۔۔۔ اصل میں میں نے بہت سی باتیں کرنا تھیں۔ اگر لائٹ ہو تو گھر والے خاص طور پر دادی جان ٹیلی ویژن پر بھارتی نہایت امیر ترین گھروں پر بنائے ڈرامے دیکھنے میں مگن رہتی ہیں اور بات کرنے میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آتی۔ جب لائٹ جاتی ہے تو مکمل خاموشی ہو جاتی ہے۔ اور پھر کھسر پھسر بھی صاف سنائی دیتی ہے اور لوگ اس ڈرامے پر توجہ دینا شروع کر دیتے ہیں ۔۔۔ وہ والا ڈرامہ چھوڑ کر ۔۔۔؟!
دو تین دن بعد اُس کا ایس ایم ایس آیا ۔۔۔
’’شہزادے ۔۔۔ میں نے اب واقعی خود کشی کر لینی ہے کیونکہ میرے گھر والے مجھے منگنی کر کے پاکستان سے باہر بھیجنا چاہتے ہیں اور میں تمہیں چھوڑ کر کیسے جاؤں ۔۔۔؟!‘‘
میں نے یہ ایس ایم ایس بار بار پڑھا اور بڑا دل برداشتہ ہوا۔ اُداسی کے ’’دورے‘‘ پڑنے لگے۔ وہ پاکستان سے باہر جا رہی ہے ۔ اُس کی منگنی بھی ہو رہی ہے۔ ایک اچھا تعلق تھا اگرچہ یہ بذریعہ موبائل فون ہی ہوا تھا مگر ایک دن ہم دونوں نے ملنا بھی تو تھا ۔۔۔
میں نے اُسے فون کیا ۔۔۔ بار بار کیا ۔۔۔ مگر اُس نے فون نہ اُٹھایا ۔۔۔ دل کہتا تھا کہ بے چاری وہ بھی تو اداس ہو گی۔ پریشان ہو گی، اُس کے دل پر بھی تو قینچیاں چل رہی ہوں گی ۔۔۔میں نے اُسے ایس ایم ایس کیا۔ تم ایک بار مجھے مل لو ۔۔۔ میں ظالم سماج کی یہ دیوار اکیلا ہی گرا ڈالوں گا اور تمہیں ہر گز ’’یہاں سے وہاں‘‘ نہیں جانے دوں گا۔ بس تم ایک بار مجھ سے مل لو ۔۔۔ میں مل تو لوں ۔۔۔ مگر تم شاید مجھے دیکھ کر گھبرا جاؤ ۔۔۔ یا شاید ۔۔۔؟
اس نا مکمل ایس ایم ایس کو میں نے کئی زاویوں سے دیکھا، غور کیا مگر ۔۔۔ میں ۔۔۔ کیا کروں ۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ ’’وہ اس قدر خوبصورت ہو گی ۔۔۔؟! ۔۔۔ کہ میں اُس کے حسن کی تاب نہ لا سکوں گا‘‘ ۔۔۔ میں نے بار ہا ۔۔۔ اس بات پر غور کیا ۔۔۔ سوچا سمجھا ۔۔۔ مگر کچھ پلے نہ پڑا ۔۔۔ یہاں تک کہ اُس رات میں نے اُس پر ایک غزل بھی کہہ دی ۔۔۔ جس میں اُس کے لازوال حسن کے تذکرے تھے۔ اُس کی بے مثال جوانی کی باتیں اور نہایت خوبصورت رومانوی آواز پر گفتگو ۔۔۔
اتوار والے دن ہمارے محلے میں تقریباً سامنے سے دو گھر آگے ۔۔۔ مِٹھُو کے گھر میں ایک فنکشن تھا ۔۔۔ بہت سے انواع و اقسام کے کھانے پک رہے تھے ۔۔۔ مِٹھُو لوگ۔۔۔ تھوڑے کنجوس مشہور ہیں۔ محلے میں ایسا کوئی فیملی فنکشن ہو وہ محلے والوں کو اُس میں عام طور پر نہیں بلاتے ۔۔۔ میں نے پتا کیا ۔۔۔ تو دوستوں نے بتایا کہ مِٹھُو ۔۔۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے آئر لینڈ جا رہا ہے ۔۔۔ گھر والوں نے سوچا اُس کی منگنی کی رسم بھی اُس کی تایا زاد عروسہ کے ساتھ کر دی جائے ۔۔۔اتوار والے دن میں نے بہت سے درد ناک ۔۔۔ غصے والے مگر نہایت جذباتی ایس ایم ایس اُس کو بھیجے، کئی بار اُس کا نمبر بھی ملایا مگر وہ بھی اٹینڈ نہیں ہوا ۔۔۔
میرا دل گھبرا رہا تھا، میں بہت پریشان تھا کہ کہیں اُس نے خود کشی نہ کر لی ہو۔ میں نے اُس کے پچھلے سارے ایس ایم ایس بار بار غور سے پڑھے، اُن کے مفہوم پر توجہ دی، اُن کو باریک بینی سے دیکھا ۔۔۔ مگر کچھ بھی سمجھ نہ آیا ۔۔۔ یا اللہ خیر ۔۔۔ کہیں وہ دل برداشتہ ہو کر ۔۔۔؟! میں نے آنکھیں بند کر لیں، میں کیو نکر اُس کے بارے میں ایسی خوفناک منفی بات سوچ سکتا ہوں ؟! ۔۔۔ اس سے پہلے ۔۔۔ کہ وہ ایسا کرے ۔۔۔ میں گھبرا گیا ۔۔۔
شام ساڑھے چھ بجے اُس کا فون آیا، نمبر کوئی اور تھا، آواز سے پہلے تو خاصی غمگین لگی ۔۔۔ مگر پھرہنسنے لگی ۔۔۔ محسنؔ خوش رہو ۔۔۔ میں نے گھر والوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں میں کزن کے ساتھ منگنی کروا کے آئر لینڈ جا رہا ہوں؟‘‘ ۔۔۔ اس وقت آپ کے گھر کے سامنے ہوں ۔۔۔!
یہ آخری فقرہ مرد کی آواز میں تھا ۔۔۔ میں بھاگم بھاگ گھر سے باہر نکلا ۔۔۔ ہمارے گھر کے سامنے سے ایک بڑی سی گاڑی گزر رہی تھی جس میں مِٹھُو بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ اس نے مجھے دیکھا تو ہاتھ ہلایا ۔۔۔ میں بھی آگے بڑھا تو اُس نے ایک سم میرے ہاتھ میں تھما دی۔ میں نے دیکھا تو یہ سم وہی تھی جس پر سے وہ مجھے فون کیا کرتی تھی اور ایس ایم ایس بھی ’’خودکشی‘‘ کی دھمکیوں والے ۔۔۔