tofeeq butt

میں کیسے ہ روﺅں بیٹی؟!

زی ب میرے جگر کے ٹکڑے تم کہتی ہو رو ا مت بابا …. میں کیسے ہ روﺅں بیٹی؟۔بیٹیاں اپ ے باپ کی کاءات ہوتی ہیں ۔ میری کاءات اُجڑ گئی ۔ میں کیسے ہ روﺅں بیٹی ؟۔ شادی کے بعد عموماً لوگوں کی خواہش ہوتی ہے اُ کے گھر بیٹے پیدا ہوں، میں دعا کرتا تھا میرے گھر بیٹی ہو، کیو کہ میں ے حضرت موسیٰ والا واقعہ س رکھا تھا جس کے مطابق اللہ جب ا سا سے بہت زیادہ راضی ہوتا ہے اُسے بیٹیاں عطا کرتا ہے، میں تمہاری پیدائش پر بڑا خوش تھا، میں سوچتا تھا میراا للہ مجھ سے راضی ہے جو اُس ے مجھے بیٹی عطا فرمائی۔مجھے پتہ ہوتا تمہارے ساتھ یہ سلوک ہو ا ہے میں کبھی یہ دعا ہ کرتااللہ مجھے بیٹی عطا فرما ا۔ تم اللہ کے پاس ہو۔ اللہ کے واسطے اللہ سے کہ ا یا لوگوں کو بیٹیاں عطاکر ا ب د کردے ، یا پھر اُ کی پیدائش کے بعد اُ کے مقدر اُ کے والدی کے سپرد کردیا کرے۔ یا لوگوں کو بیٹیاں عطا کر ا ب د کردے یاا سا کے روپ میں اُ سب در دوں کو اُٹھا لے ج ہیں رشتوں کی کوئی قدر یا احساس ہی ہیں ہے ،….اظہار تعزیت کے لیے روزا ہ بیسیوں لوگ میرے پاس آرہے ہیں۔ ا میں زیادہ تر تماشہ دیکھ ے آتے ہیں۔ اُ کا سارا زور تصویریں وغیرہ ب ا ے پر ہوتا ہے۔ وہ مجھ سے ایسے ایسے سوالات کرتے ہیں میری روح کا پ اُٹھتی ہے۔ اگلے روز ایک سیاستدا تشریف لائے۔ وہ بار بار کہہ رہے تھے صبر کریں۔ میں ے عرض کیا اللہ ہ کرے ایسا صبر کبھی آپ کو کر ا پڑ جائے، صبر اپ ے وقت پر ہی آتا ہے۔ مجھے بھی شاید آجائے، مگر میری زی ب کہاں سے آئے گی ؟۔ جو زخم تمہاری موت کی صورت میں لگا، وہ کیسے بھرے گا ؟۔ تم اب اللہ کے پاس ہو، اللہ سے کہو اپ ی ”اشرف المخلوق “ کو سمجھالے۔ وہ میرے زخموں پر مک چھڑک ا ب د کردے۔ کل اظہار تعزیت کے لیے آ ے والا ایک شخص جاتے جاتے مجھ سے کہ ے لگا ” میں آپ کے ساتھ ایک سیلفی ب ا سکتا ہوں؟“۔ مت پوچھو مجھ پر اُس وقت کیا گزری۔ ایک صحافی ے مجھ سے پوچھا ” آپ کو پتہ ہے آپ کی بیٹی کا قاتل کو ہے؟۔ میں ے عرض کیا کوئی ایک قاتل ہو تو بتاﺅں۔ پورا معاشرہ میری بیٹی کا قاتل ہے۔ یہ جو روزا ہ بہت سے لوگ اظہار تعزیت کا کاروبار کر ے آتے ہیں، کبھی کبھی مجھے احساس ہوتا ہے سب تمہارے قاتل ہیں، ….کہتے ہیں یک لوگوں پر آزمائشیں آتی ہیں۔ اللہ اپ ے یک لوگوں کو مختلف آزمائشوں میں مبتلا کرکے اُ ہیں آزماتا ہے۔ جیسی آزمائش مجھ پر آئی، اللہ سے کہہ دی ا ایسی آزمائشوں میں اپ ے یک لوگوں کو مبتلا کر ا ب د کردے ور ہ لوگ یک ہو ا ب د کردیں گے۔…. آج کت ے ہی د ہوگئے میں سو ہیں سکا۔ تمہاری ماں ے تمہاری یاد میں رو رو کر بُرا حال کرلیا ہے۔ اب اُس کے آ سو ہیں کلتے، اُس کی آ کھیں کلتی ہیں۔ وہ پاگلوں کی طرح اِدھر اُدھر گھورتی رہتی ہے۔ وہ مجھ سے کہتی ہے میری زی ب کو واپس لے کر آﺅ۔ میں اِس عالم میں تمہاری قبر پر چلے جاتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے تم ابھی قبر سے کل کر میرے گلے میں اپ ی با ہیں ڈال دو گی اور کہو گی بابا میں تو ایسے ہی آپ کو ت گ کررہی تھی۔ دیکھیں میں واپس آگئی ہوں۔ اور میں تمہیں تمہاری ماں کے سپرد کردوں گا۔ میں اُس سے کہوں گا، لو س بھال لو اب اپ ی اس لاڈلی کو۔ اِسے اب گھر سے باہر مت جا ے دی ا۔ اُس کے بعد ہم کبھی عمرے پر بھی ہیں جائیں گے، ہمیں اِس کی بڑی سزا ملی ہے۔ ہم یہ سزادوبارہ برداشت ہیں کرسکتے۔…. یہ دُکھ ہم سے سہا ہیں جاتا۔ واپس آجاﺅ زی ب واپس آجاﺅ ۔ اچھی بچیاں اپ ے بابا کا کہا ہیں ٹالتیں، یا پھر اللہ سے کہو ہمیں بھی اپ ے پاس بلالے۔ ….ہم جب عمرے پر جا ے کی یت کررہے تھے تمہاری ماں ے کہا زی ب کو ساتھ لے جاتے ہیں، قصور میں پے درپے بچیوں کے اغوا ءکے بعد قتل کے واقعات ہورہے تھے۔ تمہاری ماں فکر م د تھی۔ میں ے اُسے سمجھایا کچھ ہیں ہوتا۔ ہم اپ ی زی ب کو اللہ کے سپرد کر جاتے ہیں۔ بے شک اللہ سب سے بڑا حفاظت کر ے والا ہے۔ اب اللہ روز قیامت مجھ سے میرے گ اہوں کا حساب لے گا، میں بھی اُس سے پوچھوں گا ہماری زی ب کی حفاظت کیوں ہیں کی تھی ؟ ہم اُسے آپ کے سپرد کرگئے تھے، پھر ایک در دہ کیسے ات ی آسا ی سے اُسے لے گیا ؟۔ کاش د یا میں اللہ مجھ سے مِل سکتا ہوتا، میں کسی موڑ پر، سڑک کے کسی ک ارے، گلی کے کسی کو ے پر روک کر اُس سے پوچھتا سوائے اِس کے ایک بیٹی کی پیدائش کی میں ے آرزو کی تھی، اور کو سا ایسا گ اہ کیا تھا جس کی ات ی بڑی سزا مجھے ملی ؟۔…. کہتے ہیں اللہ ا سا کی شہ رگ سے زیادہ
قریب ہے۔ میں تو اللہ سے دور ہوں، تم اللہ کے پاس ہو، تو پوچھو اپ ے اللہ سے ایک در دہ، در دگی کا مظاہرہ کر ے کے بعد تمہارا گلا دبا رہا تھا اللہ اُس وقت کہاں چلے گیا تھا ؟….کل میں ے تمہاری ماں سے کہا اللہ صبر کا بڑا پھل دیتا ہے۔ وہ کہ ے لگی ”مجھے پھل ہیں میری زی ب چاہیے “….وہ ماں ہے اں اُسے کو سمجھائے ؟۔….زی ب بیٹی تمہیں پتہ ہے عمرے کے بعد میں جب کھجوریں اور تسبیحات وغیرہ خرید رہا تھا تمہاری ماں اُس وقت برت ، کمبل اور اس ٹائپ کی کچھ اور چیزیں خرید رہی تھی۔ میں ے اُس سے پوچھا ” یہ سب تو ہمارے پاس ہے پھر کیوں خرید رہی ہو؟“۔ وہ بولی ” میں اپ ی زی ب کا جہیز اکٹھا کررہی ہوں“۔وہ ابھی سے تمہاری فکر میں مبتلا ہو گئی تھی۔ ساری مائیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ میں ے اُس سے پوچھا ” خا ہ کعبہ میں رو رو کر تم کیا دعائیں ما گ رہی تھی؟ اُس ے بتایا ” میں اللہ سے اپ ی زی ب کی خوشیاں ما گ رہی تھی، میں دعا کررہی تھی شادی کے بعد وہ اپ ے گھر میں بہت خوش رہے “ ۔اُسے پتہ ہوتا اِس کی وبت ہی ہیں آ ی وہ اللہ سے تمہاری ز دگی ما گ لیتی۔ تمہاری عزت کی حفاظت ما گ لیتی۔ ….پتہ ہیں کیوں اللہ سب کچھ ما گ ے پر ہی کیوں دیتا ہے؟ اُس کے خزا وں میں کو سی کمی ہے؟۔ کیا بیٹیوں کے لیے والدی کو وہ سب کچھ ب ما گے ہیں دے سکتا ؟۔ کچھ دعائیں بھول بھی تو جاتی ہیں، جیسے تمہاری ماں تمہاری ز دگی ما گ ا بھول گئی تھی۔ تمہاری عزت کی حفاظت ما گ ا بھول گئی تھی، …. ہاں ایک بات تو میں تمہیں بتا ا بھول ہی گیا۔ اظہار تعزیت کے لیے خادم پ جاب بھی تشریف لائے تھے۔ میرا اُ سے مل ے کو جی ہیں چاہ رہا تھا۔ میں دل پر پتھر رکھ کر اُ سے ملا۔ وہ بھی دل پر پتھر رکھ کر ہی مجھ سے ملے ہوں گے۔ جت ا وقت اظہار تعزیت میں ا ہوں ے ضائع کیا ات ے وقت میں وہ کسی اےسے اجلاس کی صدارت بھی کرسکتے تھے جس میں کوئی پل یا سڑک وغیرہ ب ا ے کا م صوبہ زیرغور آتا۔ بس ایک لوگوں کے دلوں میں وہ گھر ہی ہیں ب ا سکے۔ حسبِ معمول اُ ہوں ے تمہارے قاتلوں کو فوری طورپر گرفتارکر ے کا حکم بھی جاری کیا۔ اُ کے علاوہ اور بھی بڑے بڑے عہدوں والوں ے قاتلوں کی فوری گرفتاری کے حکم جاری کئے ہوئے ہیں۔ پر پورے معاشرے کو کیسے گرفتار کیا جاسکتا ہے؟۔ اور جس ایک شخص کو گرفتار کرکے ”عبرت کا شا “ ب ایا جائے گا اُس کے بارے میں بھی کو یقی سے کہہ سکے گا وہ اصلی مجرم ہے؟۔ کاش تھوڑی سی ز دگی میری بچی تجھے مل جاتی اور اُس در دے کو توپہچا سکتی …. کاش اے کاش !