dr akhtar

میں بھی کبھی کسی کا سرِ پُر غرور تھا

سوشل میڈیا پر بعض اچھی باتیں بھی شیئرہوتی رہتی ہیں اور اچھی بات بھی صدقہ جاریہ ہوا کرتی ہے۔اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا چاہےے۔اگلے روز ایک بہت ہی خوبصور ت قول ہم تک پہنچا۔لکھا گیا کہ یہ حضرت علی ہجویری داتا گنج بخشؒ سے منسوب ہے۔ یہ قول کم از کم ہمیں تو بہت اچھا لگااسی لئے آپ کی نذر کرنے کوجی چاہا ،آپ ملاحظہ فرمائیں :
” حضرت داتا گنج بخش ؒ کی محفل جاری تھی ،کسی نے پوچھا : سرکار اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں افضل ترین عبادت کیا ہے؟ حضرت داتا گنج بخشؒ نے مسکرا کر دیکھا اور فرمایا : خیرات۔ اس شخص نے دوبارہ عرض کی : ” اور سب سے اچھی خیرات کیا ہے؟ “
آپؒ نے فرمایا : ” معاف کر دینا “۔ چند لمحے بعد دوبارہ گویا ہوئے : ” دل سے معاف کر دینا،دنیا کی سب سے بڑی خیرات ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ خیرات سب سے زیادہ پسندہے۔آپ دوسروں کو معاف کرتے چلے جائیں گے اللہ آپ کے درجے بلند کرتا چلے جائے گا۔ “ حضرت داتا گنج بخش ؒ فرماتے ہیں “۔ تصوف کی درس گاہ میں بندہ، صوفی اس وقت بنتاہے جب اپنا دل، نفرت، غصے ،کدورت اور انتقام کازہر ، معافی کے صابن سے اچھی طرح دھو لیتا ہے “۔
اہلِ تصوف کے بارے میں کہتے ہیں کہ : قاتل کو صوفی کا خون تک معاف ہوتا ہے اور یہ معافی کی وہ خیرات ہے جو صوفیا ئے کرام دے دے کر بلند سے بلند تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ہمارے باباجیؒ فرماتے ہیں :”تم معاف کرنا سیکھ لو ،تمہیں کسی استاد کی ضرورت نہیں رہے گی ۔سارے نقاب اور سارے حجاب اترتے چلے جائیں گے“۔رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے ہمیں اس با برکت مہینے میںاپنے دل حرص و ہوس ،کینے ،کدورت ، غصے ا ور انتقام سے مکمل پاک کرنے کی سخت کوشش کرنی چاہئے ۔اس ماہ میں انسان روزے رکھتا ہے تو اس میں صبر عجز ،برداشت اور قناعت کی صفات بھی بڑ ھنے لگتی ہےں۔ضرورت اِس بات کی ہے کہ دنیا سے زیادہ ” دلگی “ کی بجائے ہمیں اپنی عاقبت پر بھی توجہ دینی چاہےے۔ہم تو سیاست دانوں کے اثاثو ںکی تفا صیل پڑھ کر ”انگشت بدنداں “ہیں۔ظاہر ہے انہوں نے یہ تفصیل بڑی ” فراخ دلی “کے ساتھ الیکشن کمیشن میں جمع کرائی ہوگی۔ لیکن کون مانے گا کہ یہ اثاثے اصل اورمکمل ہیں۔ ان اثاثوں کے مطابق توہمارے کئی سیاستدانوں کے پاس اپنا مکان تک بھی نہیں ہے۔کئی کے پاس ذاتی گاڑی تک موجود نہیں لیکن ان کے رہن سہن اور ٹھاٹھ ”بیکاروں اور بے گھروں“ کی طرح ہرگز نہیں ۔یہ جو پانامہ کیس عدالت میںہے اور اس کی جے آئی ٹی پر جس طرح کی گفتگو ہو رہی ہے ،یہ سب حکمرانی ،ذاتی تعیش اور طاقت واختیار ات کی حرص ہے،جس میں اپوزیشن اور حکومت دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔قوم جانتی ہے کہ ملک اور قوم کا حقیقی درد کسی کو نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو خود پر ،اپنے وطن کو ترجیح دیتی ہیں۔چین کی مثال دی جاسکتی ہے جس کی ترقی کا ڈنکا سارے عالم میں بج رہا ہے۔اسی حوالے سے اگلے روز ایک دلچسپ خبر نظر سے گزر ی کہ چین کے سائنسدان چاند پر جانے کی تیاریوںمیں مصروف ہیں ۔یہی نہیں ،وہ چاند پر آلوﺅں کی کاشت کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔چاند پر کوئی چیز اگتی ہے یا نہیں یہ تو الگ بحث ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ چین اب خطہ زمین سے دوسرے سیاروں پر جا کر بھی اپنی محنت وترقی کا علم بلند کرنا چاہتا ہے۔اگر چاند پر چین کے آلو اگنے شروع ہو گئے تو دنیا بھر میںچاند کے چینی آلوﺅں کی دھوم مچ جائے گی۔اور چائنہ کا مال پہلے ہی ساری دنیا میں نہ صرف مشہور ہے بلکہ بک بھی رہا ہے۔چین ہمارا دوست ہے۔چین نے ہر مشکل میں ہماری مدد کی،چین نے پاکستان کے ساتھ سی پیک معاہدہ کر کے اس پر ترقی کے راستے کھول دیئے ہیں۔سی پیک کی بڑی شاہراہ سے ملک بھر کی سڑکیں ملائی جارہی ہےں۔چند روز قبل ہم ہری پور میں دوستوں کی ایک محفل میں بیٹھے ہوئے تھے او ر وہیں مانسہرہ کے دوست حاجی ارشد نے بتایا کہ مانسہرہ سے بھی دو رویہ ایسی سڑک تیار ہو رہی ہے جو موٹر وے سے اور پھر ” شاہراہ ترقی“ سے جا ملے گی ۔اس سلسلے میں کام جاری ہے، سڑک کے راستے میں قبرستان بھی آرہے ہیں۔جن کو الگ آباد کرنے کے لےے فی کس قبر رقم بھی تقسیم کی جارہی ہے۔مانسہرہ کے قرب وجوار میں جو قبریں سڑک کے راستے میں آئیں ان کا معاوضہ تیس سے ساٹھ اور ستر ہزار روپے، بلحاظ قیمت ِزمین ادا کےے جانے کی اطلاعات ہےں۔ایسے موقعوں پر بعض لالچی حضرات بھی اپنے عزیزو اقارب کی قبروں کے کلیم کرتے نظر آتے ہیں۔دین میں میت یا قبرکا احترام واجب ہے ۔ایک زمانے میں اگر کسی سڑک کے راستے میں کوئی قبر آجاتی تھی تو قبر کو نقصان پہنچائے بغیر، سمت تبدیل کر لی جاتی مگر اب مُردوں کو دوسری جگہوں پر دفن کرنے کا رجحان عام ہے لوگ اپنے مرنے والوں کی قبریں،کسی دوسری جگہ منتقل کر دیتے ہیں ۔ البتہ اس منتقلی کے اخراجات کے لےے ورثا کو فی قبر معاوضہ دیا جاتا ہے۔ یہ دراصل حکومت کی طرف سے امداد ہوتی ہے مگراسی قطار میں جعلی قبریں کلیم کرنے والے بھی کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہ کوئی مناسب عمل نہیں ،ہم سمجھتے ہیں یہ بھی ایک طرح کی مُردہ خوری ہے، اس طرح اپنے مُردو ں کے نام پر رقم اینٹھنے والوں کو شاید اپنی موت یاد نہیں ۔بلا تبصرہ شعر قبول فرمائیں :
کل پاﺅ ں ایک کا سہ¿ سر پر جو آگیا
یکسر وہ استخوان شکستوں سے چُور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کر چل راہ بے خبر
میں بھی کبھو کسو کا سرِ پُر غرور تھا