Ali Imran Junior

میں ایسی قوم سے ہوں۔۔۔

دوستو،کچھ عرصہ پہلے پورے ملک میں ایک ہی گونج تھی، میں ایسی قوم سے ہوں جس کے بچوں سے وہ ڈرتا ہے۔۔۔ہم یہاں ڈرنے ڈرانے والی بات نہیں کرینگے، کالم چونکہ غیرسیاسی ہوتا ہے اس لئے یہاں صرف ہنسنے ہنسانے والی کچھ باتیں کریں گے اور آپ کو بتائیں گے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں بڑے ملک،رقبے کے اعتبار سے دنیا کے تئیسویں ملک اور چھٹی ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ہم اب کیسی قوم ہیں۔۔۔
ہم ایسی قوم سے تعلق رکھتے ہیں جہاں دیواروں پر لکھا ہوتا ہے دیوار پر لکھنا منع ہے۔۔۔جہاں کتابیں لکھنے والوں سے زیادہ تعویذ لکھنے والے کمارہے ہیں۔۔۔ہماری قوم صفائی کی اہمیت دوسری تمام قوموں سے زیادہ رکھتی ہے اور ہماری قوم میں بھی اس کا سب سے زیادہ احساس ہمارے سیاست دانوں کو ہوتا ہے،شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے حکمران ملک کے خزانے کی صفائی پرزیادہ توجہ دیتے ہیں اور اسے ’’نصف‘‘ ایمان سمجھتے ہیں۔۔۔میں ایسی قوم سے ہوں کہ جس کے حکمرانوں کے کتے بھی مخملی بستر اور خالص دودھ پیتے ہیں، مگر اس قوم کے آدھے سے زائد بچے باسی روٹی سے بھی محروم ہیں۔۔۔میں ایسی قوم سے ہوں جس کے شہنشاہوں کے سر درد کے لیے بھی انگلینڈکے ہسپتالوں کے سرکاری انتظامات اور قوم کیلئے بنائے گئے شفاخانوں میں ڈسپرین کی گولی تک نایاب،میں ایسی قوم سے ہوں جس کے ہسپتالوں میں سفارش کے بغیر بیڈتک نہیں ملتا، میری قوم کی مائیں ہسپتال کی سیڑھیوں ،رکشہ،ٹیکسی، ایمبولینسوں اور فرش پر بچے جننے پر مجبورہیں،میں ایسی قوم سے ہوں جس کا معیار تعلیم جیسا منہ ویسا تھپڑ کی طرح ،غریب اور امیر کا سکول بھی الگ جبکہ دونوں کا نصاب بھی جدا جدا،اور پڑھنے پڑھانے والے بھی الگ الگ،میں ایسی قوم سے ہوں جس کے 80فیصدسرکاری سکولوں میں ٹیچرز ہیں نہ فرنیچر،اور اکثر سکولوں میں پینے کا پانی ہے نہ بیٹھنے کے لیے کلاس روم،میں ایسی قوم سے ہوں جہاں ڈکٹیٹرچین سے حکومت کر سکتے ہیں نہ منتخب حکمران،جو اقتدارکے روزِاوّل سے خاتمہ حکومت تک خودکوغیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ اپوزیشن’’جمہوریت ’’سے تنگ آکرآمریت کویادکرنے لگ جاتی ہے،جب فوجی آمریت جلوہ گرہوتی ہے توالیکشن ہی سارے مسائل کاحل قرارپاتے ہیں۔پھرفرشتے اورلٹیرے مل کرجمہوریت کی صدائیں لگاتے ہیں۔۔۔
میں ایسی قوم سے ہوں جہاں شہروں میں مال وجان اتناہی غیرمحفوظ جتنی دیہات میں جاگیرداری مضبوط۔۔۔جہاں دیہاتوں کی معمولی پنچایت کمسن بچی کی عصمت دری کی شرمناک اجازت دے دیتی ہے، معصوم بچیوں کو ونی کرنے، سردار کے حکم پرزندہ تسلیم سولنگی کوکتوں کے آگے بھنبھوڑنے کیلئے چھوڑدیئے جانے کے احکام جاری کردیئے جاتے ہیں لیکن ہماری حکومتیں ان کابال تک بانکا نہیں کرسکیں۔۔۔میں ایسی قوم سے ہوں جہاں لوگ گھروں سے نکلتے ہیں تو ہر دوسرے شخص کے ساتھ سخت لہجہ اور بدزبانی سے پیش آتے ہیں اور دوسری طرف سب کو صلہ رحمی کا لیکچر دے رہے ہوتے ہیں۔۔۔ایک طرف تو مغربی کلچر اپنانا چاہتے ہیں اور دل میں یہی تمنا لے کر نکلتے ہیں کہ آگے ہر چوک چوراہے پر فیشن زدہ اور ماڈرن لباس میں ملبوس دوشیزائیں نظر آئیں جبکہ اپنے گھر موجود خواتین کو سات پردوں میں بند رکھنے کو مشرقی کلچر کہہ کر جائز قرار دیتے ہیں۔۔۔میں ایسی قوم سے ہوں جس کے پاس روزگار ہے نہ نوکری، روٹی ہے نہ زندگی کا کوئی سہارا، باقی جو رہ گیا تو کبھی گیس ،پانی غائب توکبھی بجلی نہ ہونے سے مکمل اندھیرا۔۔۔
میں ایسی قوم سے ہوں جہاں پیزا پولیس سے پہلے پہنچ جاتا ہے، کار خریدنے کے لیے قرض سو فیصد لیکن تعلیم کے لیے بیس فی صد، چاول 90 روپے کلو لیکن فون کی سم مفت۔ جوتے اے سی والی دکان میں اور کھانے کی سبزیاں فٹ پاتھ پر۔ لیمن جوس پینے کے لیے مصنوعی خوشبو کے ساتھ لیکن برتن دھونے کے لیے اصلی لیموں۔ MBA اور M,A پاس بے روز گار مگر ایک جاہل ایم پی اے یا ایم این اے۔۔۔میں ایسی قوم سے ہوں جہاں پانی کی ٹنکی سے لے کر قبروں تک میں اسلحہ مل جاتا ہے، لیکن یہ چْھری والا آدمی نہیں مل رہا جو کھلے عام خواتین پرحملہ کرتا ہے۔۔۔میں ایسی قوم سے ہوں جہاں وزیراعظم بیروزگار ہوجائے تو خوشیاں منائی جاتی ہیں۔۔۔ایسی قوم سے ہوں جو ڈاکٹر کی دوا سے دو دن تک آرام نہ آئے تو ڈاکٹر بدل دیتے ہیں لیکن برسوں سے اسی کرپٹ اور عوام دشمن مافیا سے امید لگائے بیٹھے ہیں جوقومی خزانے کو کرپشن کے ’’وڈے ٹیکے‘‘ لگانے میں دن رات مصروف رہتے ہیں۔۔۔ ایسی قوم سے ہوں جہاں عوام چوری کی بجلی سے کمپیوٹر آن کرکے پوچھتے ہیں کرپٹ حکمرانوں سے کب نجات ملے گی۔۔۔میں ایسی قوم سے ہوں جوبغیر کام کئے تنخواہ چاہتے ہیں۔۔۔بغیر ورزش کے صحت مند رہنا چاہتے ہیں۔۔۔بغیر محنت کئے ترقی کرنا چاہتے ہیں۔۔۔اپنے ملک کا حشر نشر ہو چکا ہے پورا ملک لوٹ کر عوام کا خزانہ بیرون ملک منتقل کردیا گیا ہے لیکن عوام کو اس بات میں زیادہ دل چسپی ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ نے امریکی صدر کو کیا تحفہ دیااور روس کے دورے پر سعودی بادشاہ کیا کچھ ساتھ لے گیا۔۔۔ایسی قوم سے ہوں جہاں رشوت کو چائے پانی کہتے ہیں۔۔۔مردار گدھوں اور کتوں کا گوشت کئی ہوٹلوں اور قصابوں سے پکڑاجاتاہے ۔۔۔سیوریج کے پانی سے سبزیاں اگائی جارہی ہیں ۔۔۔ ماؤں نے نارمل طریقے سے بچے جننے چھوڑ دیئے ۔ شہد کے نام پر چینی، شکر اور گْڑ کا شیرہ ملتا ہے ۔۔۔جو پیٹرول بھی چوری کرتے ہیں ساتھ ساتھ سگریٹ بھی پیتے ہیں پھر درجنوں کی تعداد میں مرتے بھی ہیں۔۔۔
ایسی قوم سے ہوں جہاں ٹی وی خراب ہوتو کہتے ہیں بچوں نے کیا ہے، بچے خراب ہوں تو کہتے ہیں ٹی وی نے کئے ہیں۔۔۔جہاں ایک زمانے میں کھیلوں کے سب سے بڑے اسپانسرسگریٹ بنانے والی کمپنیاں ہوتی تھیں حالانکہ سگریٹ پی کر کھیلنا تو دور کی بات زندگی بھی نارمل نہیں رہتی، اور آج کل موسیقی کا سب سے بڑی پروموٹرایسی کمپنی بنی ہوئی ہے جسے پی کر آپ کا گلا گانے توکیا بولنے کے قابل نہیں رہتا۔۔۔مورخ جب اس قوم کی تاریخ لکھے گا تو اپنا سر پیٹ کر رہ جائے گا۔۔۔جس قوم کی تفریح اب فیس بک اور واٹس پر اپنے مخالفین کو لعن طعن کرنے کی حد تک رہ گئی ہے۔۔۔ایسی قوم سے ہوں جو لاکھوں میل دور چاند پر لکھا ہوا بہت کچھ پڑھ لیتے ہیں لیکن انہیں اپنے حکمرانوں کی کرپشن نظر نہیں آتی۔۔۔تاریخ دان لکھے گا،کہ ایک ایسی قوم بھی تھی جوروزانہ اپنے بہن بھائیوں کے جسم بم دھماکوں میں اڑتے دیکھ کرانجان بن کرخاموش رہتی تھی اورایک انجان ملک میں قتل عام پران کے جذبات بھڑک اٹھتے تھے۔۔۔جہاں لوگوں کی دائیں آنکھ پھڑکی تو اچھائی آرہی ہے ،بائیں آنکھ پھڑکی تو برائی آرہی ہے ،جراثیم سے چھینکیں آئی تو کوئی یاد کر رہا ہے۔۔۔جہاں لائٹ جانے کا ٹائم ہو اور لائٹ نہ جائے تب بھی ٹینشن ہو جاتی ہے ۔۔۔ایسی قوم سے ہوں جو پاکستان میں ہوں تو اٹالین، چائینز، تھائی فوڈ ڈھونڈتے پھریں گے اور اگر بیرون ملک جانا ہوجائے تو پھر یہی لوگ کہتے ہیں،’’ ایتھے دیسی ریسٹورنٹ کتھے ‘‘۔۔۔
اورچلتے چلتے آخری بات۔۔۔
تمام پیڑ توخود ہی جلا دیئے لوگوں نے
عجیب قوم ہے پھرسایہ تلاش کرتی ہے