raza-mughal

میرے گاؤں اور مداری۔۔۔

گاؤں کی زندگی بھی بڑی پر لطف اور خوبصورت ہوتی ہے،ہر طرف سرسبزوشاداب کھیت کھلیان،ہرے بھرے کھیتوں میں صبح کے وقت میرے اللہ کی حمد بیان کرتی چہچہاتی چڑیاں،سحری کے وقت ہر گھر سے ’’چاٹی ‘‘میں’’ مدھانی‘‘ کے چلنے کی مدھر آوازآتی ،کسان مونڈھے پر ’’کسی ‘‘ رکھے زمین سے سونا نکالنے کیلئے نکل پڑ تے ،گاؤں پیار محبت کی خوبصورت داستانوں کا انسائیکلو پیڈیا کا منظر پیش کرتے جہاں دلوں کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ’’بنیرے‘‘ بھی ’’جڑے‘‘ہوتے تھے، ’’گڈیاں‘‘ اڑاتے اٹکھیلیاں کرتے لڑکے ایسے محو ہوتے تھے کہ جیسے کسی گراؤنڈ میں انہے واہ موج مستی میں مصروف ہوں،سردیوں کے دنوں میں کوٹھے پر بیٹھ کر دھوپ کامزہ لینا اور ساتھ ساتھ ’’گنے‘‘بھی’’ چوپنا ‘‘سونے پر سہاگہ تھا،مکھن مکئی کی روٹیاں،ساتھ لسی کا ’’گڑوا‘‘اللہ اللہ کیا خوبصورت کمبی نیشن تھا،اچار اور دہی بھی ساتھ ہو تا تو’’ مرغ مسلم ’’کو دیکھنے کو دل نہ کرتا تھا،دیسی تنور کی روٹی مکھن سے چوپڑی ہوئی اور’’ساگ ‘‘کا مزہ’’ میکڈونلڈ‘‘ کو ’’پرے‘‘کرتا،گٹھ گٹھ لمبے گلاس ہوتے دوتین تو ایویں ای چڑھا لئے جاتے تھے،میلے ٹھیلے، عید، شب برأت کا منظر پیش کرتے ،کبڈی دل مو ہ لینے والا کھیل ہوتا تھا،کرکٹ بخار نہ تھا،لکن میٹی،سٹاپو، پٹھوگرم،باندر کلا،ہاکی اور فٹ بال وغیرہ مقبول ترین کھیل تھے،سرکس ،تھیٹر،جھولے،موت کے کنویں خاص دیہاتی کلچرپیش کرتے جہاں دھوتی کرتہ، شلوارقمیص پہنے، سر پر’’پگیں‘‘ باندھے افراد مونچھوں کو’’ تاؤ‘‘ دیتے ٹولیوں کی شکل میں چلے آتے شہرکے ماحول میں رچے بسے لوگ جنہیں دیکھ عش عش کر اٹھتے،شادی بیاہ کے موقع پر پورے پنڈ سے مہانوں کیلئے منجھیاں بسترے اور دیگر اشیاء بغیر کہے پہنچ جاتی تھیں شادی والے گھر میں،حتی کہ ’’مرگ‘‘پر بھی پورا پنڈ رشتہ داروں کے آنے سے پہلے ہی پرالی، صفوں ، دریوں دریاں وغیرہ پر بیٹھے نظر آتے تھے،اب تو ہر چیز آرٹیفیشل ہو گئی ہے،مخلص پن بھی آرٹیفیشل میں تبدیل ہو گیا ہے،گاؤں میں سائیکل پر ایک ہفتہ بیٹھ کر کرتب دکھانے والے بھی آتے،جنہیں بچے بوڑھے اور جوان بے حد داد دیتے،آخری دن ٹریکٹر اوپر سے گزارنے کا جب وقت آتا توگاؤں اور علاقہ بھر کے لوگ اس خوفناک منظر کو دیکھنے کیلئے امڈ آتے،ریچھ ،باندر اور بکری کا تماشا دکھانے والے بھی آتے جنہیں مداری کہا جاتا تھا،شعبدہ باز بھی روزی روٹی کمانے کیلئے شہر شہر گاؤں گاؤں پھرتے،سکول میں بچوں کو بیوقوف بناتے اپنے فن سے مثلاً کسی بچے کو کہتے کہ اس نے میری گیند چرا لی ہے بچہ انکار کرتا پھر وہ فنکاری دکھاتے ہوئے اسی بچے کے بیگ سے گیند نکالتاجس پر سب حیران رہ جاتے،آج جب موجودہ دور کے سیاستدانوں کو دیکھتا ہوں توپنڈکے رہن سہن کے ساتھ ساتھ مداریوں کے کارنامے بھی جسے شعبدہ بازی بھی کہہ سکتے ہیں دل ودماغ میں گھوم جاتے ہیں،پنڈ کے محنت کشوں کو کیڑا مکوڑا سمجھنے والے وڈیرے اور جاگیر داروقت پڑنے پر اسے پنجابی میں ’’ابا‘‘ بھی کہتے اور جب مطلب نکل جاتا تو آنکھیں دکھاتے، جن وڈیروں کے بگڑے بچے ڈگریاں لے کر یا ان پڑھ ہوں سیاست میں آ جاتے وہ الیکشن پر سہانے خواب دکھاتے اور زمین آسمان کے قلابے ملا کر الیکشن جیت کر پھر چار سال غائب ہو جاتے،آخری سال کووں کی طرح ٹیں ٹیں کرتے پھر کسی نہ کسی بنیرے پر نظر آتے جیسے اب ہو رہا ہے، 2018ء الیکشن کا سال ہے تمام سیاسی جماعتیں جلسے جلوسوں میں مگن ہیں، وعدے وعید کیے جا رہے ہیں، شہر شہر قریہ قریہ جلسوں پر کروڑوں خرچ کیے جا رہے ہیں، لوڈشیڈنگ کے نام پر پھر میراث ’’پنا‘‘ پھیلایا جا رہا ہے، پچھلے دنوں جمشید دستی ایک موچی کے پاس بیٹھ گئے اور جوتے پالش کرکے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ ’’ ماڑے ‘‘ لوگوں کا میرے سے زیادہ ہمدرد کوئی نہیں، شیخ رشید کی شعبدہ بازیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، جے سالک بھی پنجرے میں بند ہو کر روز نت نیا ڈرامہ کرتا، شہباز شریف ٹریفک جام کا بہانہ بنا کر رکشے میں سفر کرکے تاثر دیتا کہ میرے لئے کوئی روٹ نہیں لگتا، پچھلے دنوں پی ٹی آئی کے پی کے کے ایک وزیر کو چار سال بعد حلقہ میں آنے پر ووٹروں سے جوتیوں سے سواگت کروانا پڑا، الیکشن کی تیاریوں کے سلسلہ میں سیاستدان پھر مداریوں کا روپ دھارے روز کہیں نہ کہیں کرتب دکھا رہے ہیں، حکومت ہو یا اپوزیشن خود کو دودھ کے دُھلے ثابت کرنے کیلئے مرے جا رہے ہیں، جتنے ترقیاتی کام رواں اور اگلے سال ہونگے اگر یہی چار سال پہلے کیے جاتے تو شہروں،گاؤں کا نقشہ ہی اور ہوتا،سیاستدانوں کو لوگ سر آنکھوں پہ بٹھاتے، ووٹر بھی اب کافی چالاک ہو گیا ہے، اسے بھی پتا ہے کہ الیکشن جیتنے کے بعد ارکان اسمبلی غائب ہو جاتے ہیں پھر چراغ لے کر بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملتے،آج کے سیاستدانوں کو دیکھ کر پنڈ میں آنے والے مداری یاد آ جاتے ہیں جو تماشا دکھا کر پیسے کماتے اورچلتے بنتے تھے، اسی طرح آج کے سیاستدان جگہ جگہ پنڈال سجا کر دلفریب نعرے لگاتے ہیں اوراقتدار میں آکر ووٹروں کو بھول جاتے ہیں، پھر پانچ سال بعدجب آتے ہیں تو ووٹرتو ان کی شکل بھی بھول چکے ہوتے ہیں،اب ہمیں پانی بجلی گیس کے اداروں کا نہیں منتخب نمائندوں کا احتساب کرنا ہو گا کیونکہ عوام ان ہی لوگوں کو منتخب کر کے لاتے ہیں تاکہ وہ ہمیں سہولیات فراہم کریں لیکن یہ لوگ الیکشن کے بعد ایسے تتربتر ہو جاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ؟