Shahzad-ahmedd

میرٹ کی بنیاد پر طلبہ میں3 لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم

حکومت نے غریب گھرانوں کے ہونہار بچے و بچیوں پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھول دےئے ہیں ۔ماضی میں وسائل کی لوٹ مار تھی اوراعلی تعلیم پر اشرافیہ کے بچوں کی اجارہ داری تھی۔حکومت نے اپنے تعلیمی پروگراموں کے ذریعے قوم کے غریب گھرانوں کے بچے و بچیاں کو بھی اعلی تعلیم کا حق دیا ہے ۔پہلے قوم کے نگینے اورہیرے اپنے گلی محلوں کی دھول میں گم تھے اور بچوں کو کوئی پوچھنے والانہ تھا۔ حکومت نے ایسے بچوں کو ان کا حق دیا ہے ۔ اشرافیہ کی کوشش رہی ہے کہ صرف ان کے بچے کیمرج، ہاورڈ، لمزاوردیگراعلی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرکے جج،جرنیل بنیں اور بیورکریسی میں آئیں لیکن ن لیگی حکومت نے غریب خاندانوں کے بچوں کو بھی آگے بڑھنے کا حق دیا ہے ۔
وزیر اعظم کے دیگر تعلیمی پروگراموں کی طرح لیپ ٹاپ کی تقسیم کا پروگرام بھی انتہائی شاندار ہے اوران کے یہ پروگرام نوجوانوں سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔لیپ ٹاپ تقسیم کی سکیم نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرنے میں اہم کردارادا کررہی ہے ۔ لیپ ٹاپ اوردیگر تعلیمی پروگرام اسی وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب ہم عہدکرلیں کہ ملک کی ترقی کے سفر میں اپنا بھر پور کردارجاری رکھیں گے اورہم ملک وقوم کو ترقی اورخوشحالی کی صبح روشن ہم کریں گے۔
طلبہ اس بات کو مد نظر رکھیں کہ ان کے والدین کتنی مشکل سے ان کے تعلیمی اخراجات برداشت کررہے ہیں۔ اگر آج طلبہ نے تعلیم کے حصول میں کوتاہی یا غفلت کا مظاہرہ کیا تو ساری زندگی سوائے پچھتاوے کے آپ کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کے حصول کو ہی اپنی اولین ترجیح بنائیں اور وزیر اعظم کی جانب سے لیپ ٹاپ جس مقصد کے لیئے فراہم کئے جا رہے ہیں اس کو عملی جامہ پہنائیں اور معاشرے کا قابل فخر شہر ی بنیں۔ اس منصوبہ کے آغاز پر وزیر اعظم پاکستان اور انکی پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے کیو نکہ اس منصوبہ سے درجنوں غریب بچے تحقیقی میدان میں مستفید ہوئے اور آج وہ امتیازی پوزیشن سے امتحانات سے کامیاب ہونے کے بعد ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔
تعلیمی میدان میں ترقی کے لیئے جستجو کا مادہ ایک طالب علم کے لیئے انتہائی ضروری ہے۔ بدلتی دنیا میں جدید تحقیق سے خود کو روشناس کرانا ایک طالب علم کو مستقبل میں معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیئے بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔وزیر اعظم پاکستان لیپ ٹاپ سکیم طلبہ میں تحقیقی رجحان پیدا کرنے کی جانب ایک اچھا قدم ہے۔ طلبہ اس منصوبہ کو اپنی تعلیمی استعداد میں اضافے کے لیئے استعمال کریں۔
وزیر اعظم یوتھ لیپ ٹاپ سکیم کے تحت 2014 سے 2017 تک تقریباً تین لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے ہیں۔ اس سکیم کا بنیادی مقصد لیپ ٹاپ کے استعمال کا فروغ اور اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ ہے۔ 2018ء تک حکومت نے ہر سال ایک لاکھ لیپ ٹاپ کی تقسیم کی منصوبہ بندی کی جو ایم ایس ، ایم فل ، پی ایچ ڈی ، ماسٹرز اور گریجویشن کے طلباء کو دیئے جائیں گے۔ وزیراعظم نیشنل لیپ ٹاپ سکیم 2014ء کے تحت گزشتہ سال میں مختلف کالجز میں طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے۔ وزیر اعظم تبدیل ہونے پر بھی ن لیگی حکومت کے اس منصوبے پر اب بھی عملی کام جاری ہے۔ اور مزید کالجز میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ ان اداروں میں ایچ ای سی کی جانب سے یونیورسٹیاں تسلیم کی گئیں شامل ہیں۔ وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم ریسرچ کلچر کے فروغ میں انتہائی مفید اور کارآمد ہے۔ اسکیم میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی شامل کرکے ان کو 2500لیپ ٹاپ فراہم کئے گئے ہیں۔
اب معذور طلباو طالبات میں بھی میرٹ کے مطا بق لیب ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے۔ لیپ ٹاپ سرکاری اسپیشل تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء وطالبات کو دئیے جائیں گے۔ لیپ ٹاپ میں معذور طلباء وطالبات کے لئے خصوصی سافٹ وائیر انسٹال کیے جائیں گے تاکہ طلباء وطالبات کو جدید کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
لیپ ٹاپ تقسیم کے چوتھے مرحلے کے آغاز پر طلبا ء و طالبات کو پرانے ماڈل کے لیپ ٹاپ دینے کا کہا گیااوریہ تجویز دی گئی کہ جدید ترین لیپ ٹاپ مہنگے ہیں لیکن حکومت نے اس تجویز کو مسترد کیا اورکہا کہ قوم کے نوجوانوں کو جدید ترین لیپ ٹاپ دیں گے جو پاکستان کے جدید ترین ملک بنائیں گے۔ اس لئے ڈیل کمپنی (Dell) کے جدید ترین آئی سیون لیپ ٹاپ دےئے جا رہے ہیں ۔اس سے اندازہ کرلیں کہ آپ کی حکومت قوم کے لاکھوں بچے اوربچیوں کیلئے بہتر سے بہتر چیز کا انتخاب کرتی ہے ۔ لیپ ٹاپ تقسیم کے پروگرام میں پنجاب ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تمام اکائیوں کے ذہین بچے اوربچیوں کو شامل کیاگیا ہے۔ہم اپنی قوم کے بچے اور بچیوں کے ہاتھوں میں جدید ترین لیپ ٹاپ دے رہے ہیں تاکہ وہ پاکستان کانقشہ بدل دیں اورملک کو صحیح معنوں میں قائد ؒ اور اقبالؒ کا پاکستان بنائیں ۔
قائدؒ اوراقبالؒ کاپاکستان اس وقت بنے گا جب عام آدمی کا بچہ جج،جرنیل،سیاستدان اورافسربنے گا۔یہ پاکستان قائدؒ اور اقبال ؒ کا پاکستان نہیں۔اگر ہم نے عام پاکستانی کے بچوں اوربچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ نہ کیا ۔ اگر ہم نے ان پر وسائل نچھاور نہ کیے اورانہیں بااختیار نہ بنایا تو قیامت تک یہ ملک قائدؒ اوراقبالؒ کا پاکستان نہیں بنے گا۔
لیپ ٹاپ جس میں ایک وائی فائی جیسے آلہ جات نصب ہے جس کی چھ ماہ تک مفت سروس دستیاب ہے۔ جبکہ آن لائن تحقیقی سہولیات تک رسائی اور مائیکرو سافٹ ٹریننگ پروگراموں کی رکنیت دستیاب ہے۔ وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم مستحق طلباء کی ان کی جدید تعلیم میں مدد کرتا ہے اور انٹرنیٹ تک رسائی آن لائن ریسرچ کے علاوہ اضافی فائدے بھی فراہم کرتا ہے جو ہمہ وقت دستیاب ہیں ۔ حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی ان سہولیات نے طلباء کو تعلیم کے جدید تقاضوں سے مستفید ہونے میں مدد کی ہے۔ تعلیمی معیار کو بہتر سے بہتر بنانا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔ اسی حکمت عملی سے مثبت نتائج نکل رہے ہیں تاکہ ہمارا شمار ترقی یافتہ ملک میں ہو جائے گا۔ کیونکہ معاشرے میں ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے تعلیمی معیار بہترین ہونا چاہئے۔