Raja Shahid Rasheed copy

میاں صاحب ! صرف لہور ہی پنجاب نہیں ہے۔۔۔!

2013 ء کے انتخابات میں این اے 56 راولپنڈی سے عمران خان سے شکست خوردہ حنیف عباسی قسمت کے سکندر اور مقدر کے دھنی نکلے جنھیں عوام نے تو اپنے ووٹوں سے ہرا دیا لیکن مسلم لیگ ن کی قیادت کی آنکھوں میں وہ ایسے اٹکے کہ آج بھی بیک وقت چئیرمین سٹےئر نگ کمیٹی سپورٹس پنجاب ہیں اور چےئرمین میٹرو بھی۔ اس کے علاوہ بھی وہ بہت کچھ ہیں بلکہ راولپنڈی کا سب کچھ ہیں۔ بسلسلہ ایفی ڈرین کیس کورٹ کچہریاں کیا کم تھیں کہ اُوپر سے عمران خان کو نا اہل قرار دلوانے اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا بیڑہ بھی اُٹھا لیا اور عدالتوں کے ہی ہو کے رہ گئے ۔ میڈیا محاذوں پہ عمران خان کو للکارنے ‘درسِ عمرانیات دینے اور ’’پیار پھول ‘پھل پھکڑ‘‘ پیش کرنے میں بھی وہ سب سے آگے ہیں کسی دانیال و طلال کی کیا مجال حنیف بھائی ہر حوالے سے نمبر ون ہیں۔ الغرض اس قدرمتحرک و مصروف عباسی موصوف فرماتے ہیں کہ ’’راولپنڈی کھیل کے میدانوں اور سہولیات کے حوالے سے ایک مثالی شہر بن چکا ہے جبکہ پنجاب بھر میں 15 ارب مالیت کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں‘‘۔ میں قربان جاؤں ’’سہولیات ‘‘ پہ ’’مثالی شہر‘‘ پہ اور منصوبوں پہ بھی ۔ واہ واہ ‘ سبحان اللہ ‘ کیا کہنے۔
من کی من میں بات رہے تو من کو لاگے روگ
من کھولیں تومشکل کر دیں جیون اپنے لوگ
کبھی سنتے تھے کہ گوجرانوالہ ایشیا کاگندہ ترین شہر ہے آج پورے پنڈی کی حالت بھی کچھ ایسی ہی بن رہی ہے ۔میدان اگر کوئی خالی بچا ہے تو اس پہ لینڈ مافیا پھن مار کر چھجلی والا سانپ بنا بیٹھا ہے۔ کھیل کے لیے گراؤنڈ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ سڑک سٹریٹ میں بچے کرکٹ کھیل رہے ہوتے رہ گئے ہیں۔قبرستانوں چوک چوراہوں گلیوں بازاروں میں پاؤ ڈریوں اورآوارہ کتوں کی بادشاہی ہے ۔ ٹریفک جام‘ سٹریٹ کرائم اور منشیات ایسے جرائم معمول ہیں حتیٰ کہ کوئی مر جائے تو قبرستانوں میں مردہ دفنانے کے لیے دو گز قبر کی جگہ بھی نہیں ملتی۔ پنجاب کے سکولوں میں تعلیم ہے نہ ہسپتالوں میں علاج ہے۔ تھانہ تحصیل کچہری مال پٹوار سب اداروں میں آوے کا آوا ہی بگڑاہوا ہے۔ کیا سابق اور کیا موجودہ حکمران بس بیانات چھوڑتے اور تقریریں کرتے ہی رہ گئے ‘ آج تک یہ حکمران اپنے پنڈی کے باسیوں کو ایک پینے کا خالص پانی تک نہ دے سکے ۔ سردیوں میں گیس گُم اور گرمیوں میں بجلی غائب ۔ درحقیقت پیارا پنڈی سائلستان بن چکا ہے اور مسائل کے حوالے سے مثالی شہر ضرور ہے۔
فرزندِ راولپنڈی شیخ رشید روزرات ٹی وی پہ روتے پیٹتے ماتم کرتے ہیں کہ میرے سارے خواب منصوبے ادھورے رہ گئے ۔ شیخ رشید ایکسپریس المعروف لئی ایکسپریس وے ‘ بشمول ٹی بی ہاسپٹل بہت سے ہسپتالوں سڑکوں کے اور دیگر بہت سے منصوبے پینڈنگ پڑے ہیں جو موجودہ حکومت نے روک رکھے ہیں لیکن چھوڑ دیں شیخ رشید کو وہ توہوئے جو سیاسی مخالف ’’ایویں ہی ‘‘ خوامخواہ تنقید کرتے رہتے ہیں۔ بے مثال ایڈیٹر و کالم نگار ‘برادرِ اکبر خوشنود علی خان اپنے ناقابلِ اشاعت کالم سرخیوں میں لکھتے ہیں کہ ’’بریلوی ووٹ نواز شریف سے دور جا رہا ہے ‘پوٹھوہار یعنی راولپنڈی ڈویژن ان سے دور جا رہا ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ پنجاب المعروف ’’خادم پنجاب‘‘ میاں شہباز شریف صرف لاہور کو ہی پورا پنجاب سمجھ بیٹھے ہیں‘ اس طرزکی آوازیں اکثر جنوبی پنجاب ‘ بہاولپور‘ ملتان اور دیگر سرائیکی پٹی سے اُٹھتی رہتی ہیں ۔اور تو اور میرے محترم و محسن مخدوم جاوید ہاشمی جب ن لیگ سے ناراض تھے تب بتلایا کرتے تھے بلکہ ٹی وی ٹاک شوز میں بھی فرمایا کرتے تھے کہ اس ’’شوباز شریف‘‘ نے میرے ملتان کو دیا ہی کیا ہے۔؟‘‘ ایک مدت سے میاں شہباز شریف پورے پنجاب کی گردن پہ سوار ہیں ۔ وہ کبھی بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ انھیں پنجاب کو سنوارنے سدھارنے کیلئے تھوڑا وقت ملا ہے۔ آج تمام بڑے شہروں میں سے شاید راولپنڈی ہی وہ واحد شہر ہے جہاں بائی پاس نام ایسی کوئی شے نظرنہیں آ رہی۔یہ کیسا ڈویژن اور مرکزی شہر ہے جس کاکوئی بائی پاس ہی نہیں ہے۔ روات تا ترنول روڈ‘جی ٹی روڈ کو نیوائیر پورٹ اور موٹر وے سے ملانے والی سڑک کا منصوبہ جو رنگ روڈ کے نام سے مشہور ہے ۔ ایک زمانے سے رنگ روڈکے بڑے چرچے چل رہے ہیں لیکن صرف کاغذات‘ بیانات اور تقریروں تک ۔ اگرآج رنگ روڈکاکوئی وجود ہوتا تو فیض آباد کے مقام پر دھرنا دے کرکوئی ہماری شہ رگ ہی نہ بندکرپاتا۔ اس کے علاوہ بھی رنگ روڈ کی بہت ہی زیادہ اہمیت و افادیت ہے اگر کوئی توجہ دلچسپی اور نیک نیتی سے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک بھی پہنچائے تب۔
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ ثابت بھی فرمائیں کہ آپ خادمِ پنجاب ہیں اور خالی لاہور کو ہی پنجاب نہیں جانتے بلکہ پورے پنج آب کو پنجاب سمجھتے ہیں ۔ آج بھی وقت ہے راولپنڈی بلکہ پورے پوٹھوہار کی خبر لیں ۔ خدارا پنڈی کے پیاروں کو حقیقی معنوں میں سہولیات دیں جوآپ پہ اعتمادکرتے ہیں اور آپ کے شیروں کو ووٹ دیتے ہیں ان کی زندگیاں آسان بنائیں تمام چھوٹے بڑے مسائل حل کر کے پنڈی کو واقعی مثالی شہر بنا دیں اور اس کیلئے پہلا اقدام رنگ روڈ ضروری ہے‘ نہیں تو آئندہ الیکشن میں آپ کو ’’ککھ ‘‘ نہیں ملے گا۔ لہٰذا آپ پوٹھوہار کو سنبھالیں اورخود بھی سنبھلیں یہ نہ ہو کہ چڑیاں کھیت چُگ جائیں اور آپ روتے ہاتھ ملتے رہ جائیں ۔بقول شاعر
جو تھے شناور بحر کی تہہ سے سارے موتی چُن کے لے گئے
ہم کنارے سوچتے رہ گئے کہ پانی کتنا گہرا ہے