Khalid Bhatti

مہنگائی کا طوفان

ہمارے حکمرانوں کو غریب عوام کے حقوق اور مفادات سے کس قدر دلچسپی ہے اس بات کا اندازہ حکومت کے اس فیصلے سے لگایا جاسکتا ہے جس کے تحت بجلی اور گیس دونوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔ سب سے پہلے تو اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) نے گیس کی قیمتوں میں 6.3فی صد اضافہ کیا اور پھر نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ محنت کش عوام اور نچلے درمیانے طبقے پر ڈالا گیا ہے۔ 100سے 300کے درمیان یونٹ استعمال کرنے والے صارفین سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
بجلی اور گیس مہنگی ہونے سے ایک طرف تو پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا جس سے اشیائے ضروریہ مہنگی ہوں گی اور مہنگائی کا طوفان آئے گا۔ گیس کے مہنگا ہونے سے ان تمام پیداواری اشیاء کی لاگت بڑھے گی جس میں گیس استعمال ہوتی ہے۔ اور اسی کے ساتھ لاکھوں گھریلو صارفین بھی متاثر ہوں گے۔ اسی طرح بجلی کے بل بڑھنے سے نہ صرف گھریلو صارفین متاثر ہوں گے اور ان کی جیبوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ بجلی کے صارفین کی اکثریت محنت کشوں ، کسانوں، نچلے درمیانے طبقے اور غریب عوام پر مشتمل ہے، جو پہلے سے ہی معاشی مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔ مہنگائی نے پہلے سے ہی ان کی کمر توڑ رکھی ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے ٹماٹر اور پیاز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے ان کا جینا پہلے ہی حرام کررکھا ہے۔ آسائشوں سے بھرپور پرتعیش زندگی گزارنے والا ارب پتی حکمران طبقہ کیا جانے کہ دس ہزار سے پندرہ ہزار روپے ماہانہ کمانے والے محنت کش کی جیب پر جب 500سے 1000روپے کا اضافی بوجھ پڑتا ہے تو اسے کتنی مشکل ، اذیت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن خاندانوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ترین کام بنا ہوا ہے ان پر بجلی اور گیس کی مد میں اضافی بوجھ کی منطق سمجھ سے باہر ہے۔
بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ بھی بہت دلچسپ اور عجیب وغریب ہے۔ اس اضافے کی وجہ یہ بیان کی جارہی ہے کہ دونوں اداروں کے لائن لاسز (Line Lossis) بڑھ گئے ہیں۔ ان دونوں اداروں کی انتظامیہ بلوں کی مد میں اربوں روپے بڑے نادہندگان سے وصول کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ لہٰذا ان اداروں کی انتظامی نااہلی اور نظام میں ہونے والی چوری کی سزا پاکستان کے ان محنت کش عوام اور درمیانے طبقے کو ملے گی جو ایمانداری سے بل ادا کرتے ہیں۔ ان میں اتنی سکت اور طاقت نہیں ہے کہ وہ بجلی یا گیس چوری کرسکیں۔
اصولی طورپر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت بجلی اور گیس تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو پابند کرتی کہ وہ اپنے تقسیم کے نظام کے نقصانات کم کریں یعنی گیس اور بجلی کی چوری کو کم کریں۔ ان اداروں میں ہونے والی بدعنوانی رشوت ستانی اور بدانتظامی کا خاتمہ کریں۔ بجلی اور گیس کی تقسیم کے نظام میں موجود خامیوں اور نقائص کو دور کریں مگر یہاں ہرمعاملے میں الٹی گنگا بہتی ہے اپنے نقصانات اور بدانتظامی کو کم کرنے کی بجائے اس نقصان کا سارا بوجھ صارفین پر منتقل کردیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق بجلی کے صارفین سالانہ ایک سو پچاسی(185)ارب روپے ادا کریں گے تاکہ بجلی چوری اور دیگر نقصانات کا ازالہ کرسکیں۔ اس طرح بجلی کے صارفین 24ارب روپے سالانہ نادہندگان سے وصولی نہ ہونے کی مد میں ادا کریں گے۔
پاکستان کے غریب اور محنت کش عوام پہلے سے ہی بالواسطہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ پٹرول ،بجلی ،گیس ، موبائل فون سے لے کر چائے، دودھ اور دیگر اشیائے ضروریہ پر GST(جنرل سیلز ٹیکس) عائد ہے۔ اس حوالے سے سب سے انوکھی بات یہ ہے کہ ایک طرف تو ہماری حکومت ساری دنیا میں ڈھنڈوراپیٹتی ہے کہ پاکستان کے لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ ٹیکس دینے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ دوسری طرف ہرپاکستانی صبح سے شام تک بالواسطہ ٹیکس اداکرتا ہے۔ ٹیکس نہ دینے کا طعنہ دینے والی حکومت تو بجلی ، ٹیلی فون کے بلوں پر (ود ہولڈنگ ٹیکس WHT/کے نام پر
ایڈوانس انکم ٹیکس بھی کاٹ لیتی ہے۔ اور ایسے لوگ بھی یہ انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں جوکہ انکم ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں۔ بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار ملک میں مہنگائی کی بڑی وجہ ہے یہ دراصل حکومتی آمدن بڑھانے کا آسان طریقہ ہے۔ انکم ٹیکس کی وصولی کو بڑھانے اور امیر لوگوں کو ٹیکس کے نظام میں لانے کی بجائے حکومت آسان راستہ چنتی ہے۔ بجلی، گیس، موبائل فون کے بل اور تمام اشیائے ضرورت پر ٹیکس لگاکر اور ان کی شرح میں اضافہ کرکے حکومتی محصولات میں اضافہ کیا جاتا ہے جبکہ حقیقی آمدن پر ٹیکس لگاکر اس کی وصولی میں اضافہ کرنا اصل چیلنج ہے جس سے ہرحکومت پہلوتہی کرتی ہے۔ یہی صورت حال سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے حوالے سے ہے۔ حکومت کے پاس خراب کارکردگی کے حامل اداروں سے چھٹکارا پانے کا ایک ہی نسخہ ہے کہ ان کی نج کاری کردی جائے۔ ان کو نجی شعبے کے حوالے کردیا جائے یہ سب سے آسان کام ہے۔ پہلے افسر شاہی کے ذریعے سرکاری اداروں کو تباہ کرواور اس کے بعد انہیں نج کاری کے ذریعے سرمایہ داروں کے حوالے کردو۔ اس سے حکومت کی اداروں سے بھی جان چھوٹ جاتی ہے اور اسے اپنی آئینی ذمہ داری سے بھی فرار کا راستہ مل جاتا ہے۔ پاکستانی آئین کے مطابق صحت ، تعلیم، رہائش ، ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی ضروریات اور سہولیات فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ پاکستانی شہریوں کو ہر قسم کے استحصال اور جبر سے بچانا بھی اہم آئینی ذمہ داری ہے۔ حکومت کے پاس سب سے بڑا بہانہ یہ ہے کہ منڈی کی معیشت میں قیمتوں کا تعین منڈی کرتی ہے۔ طلب اور رسد کے اصول کے تحت چیزیں سستی یا مہنگی ہوتی ہیں اس لیے حکومت کا اس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ نیو لبرل معاشی پالیسیوں اور منڈی کی معیشت کے اصولوں کے تحت پاکستانی ریاست نے قیمتوں کے تعین کا جو طریق کار متعین کیا ہوا ہے اس کے تحت تمام تر معاشی بوجھ عوام پر منتقل کردیا جاتا ہے۔ موجودہ صورت حال میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور گیس کمپنیوں کو واضح طورپر یہ کہا جاتا کہ وہ ایسے طریق کار اپنائیں جن کی بدولت ان کی کارکردگی بہتر ہو۔ بجلی اور گیس کی چوری روکی جائے۔ تقسیم کے فرسودہ اور ناکارہ نظام کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو کم کیا جائے۔ ان اداروں کے اندر بدعنوانی اور بدانتظامی کو ختم کیا جائے۔ ان اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جائے۔ مگر یہ مشکل کام ہے۔ اس کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان اداروں میں نئی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس لیے آسان راستہ یہ ہے کہ ان معاشی نقصانات کا بوجھ چپکے سے صارفین پر منتقل کردیا جائے۔ مہنگائی میں پسے ہوئے محنت کش عوام اور درمیانے طبقے کو مزید نچوڑا جائے۔ ان کی ذلتوں، پر یشانیوں مشکلات اور تکلالیف میں اضافہ کیا جائے۔ ان کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ اس ناانصافی اور ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔ اپنے حقوق کے لیے متحد ہوکر میدان میں نہیں نکلتے۔ اپنے حقوق اور مفادات کے لیے اجتماعی جدوجہد نہیں کرتے۔
بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے صرف گھریلو صارفین ہی متاثر نہیں ہوں گے اور اس سے صرف افراط زر اور مہنگائی کی شرح میں ہی اضافہ نہیں ہوگا بلکہ اس سے پہلے سے مشکلات کا شکار صنعتی شعبہ مزید دباؤ میں آئے گا اس کی پیداواری لاگت بڑھے گی۔ مہنگائی کے اثرات تجارت پر بھی پڑتے ہیں اور بحیثیت مجموعی اس سے معاشی ترقی متاثر ہوتی ہے۔ مصنوعی اقدامات کے ذریعے گیس اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اپنی کارکردگی کو تو شاید بہتر بناکر پیش کرسکیں۔ اپنے سسٹم کی چوری اور نقصانات کو بھی کم کرکے پیش کرسکیں۔ اپنے منافعوں میں بھی اضافہ کرلیں۔ مگر ان سب کی بھاری قیمت ملکی معیشت اور غریب عوام کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ ہمیں اعدادوشمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے یا محض اعدادوشمار کو ترقی کا واحد پیمانہ بنانے اور سمجھنے کی سوچ سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اعدادوشمار اہم ہوتے ہیں مگر یہ انسانوں سے اہم نہیں ہوتے۔ مجموعی داخلی پیداوار (GDP) میں اضافہ بہت ضروری ہے مگر لوگوں کی حقیقی آمدن اور معیار زندگی میں اضافہ بھی بہت ضروری ہے۔ جو معاشی ترقی غریب عوام کی حالت میں بہتری نہ لاسکے، ان کا پیٹ نہ بھر سکے، ان کو روزگار فراہم نہ کرسکے تو ایسی ترقی عوام کو سراب اور دھوکہ لگتی ہے۔