Sajid Hussain Malik

مومن: مردحق۔۔۔!

فیصل مسجد کے پہلو میں شہید صدر جنرل محمد ضیاء الحقؒ کے مزار پر 17اگست کو ان کی برسی کے اجتماع کی تصاویر دیکھ کر مجھے ابتدائی سالوں کے برسی کے وہ اجتماعات یاد آئے جب زیروپوائنٹ سے فیصل مسجد تک وسیع و عریض شاہراہ فیصل اور اسکی متوازی شاہرایں ضیاء الحق شہید ؒ کے مزار پر حاضری دینے والوں سے اٹی پڑی ہوتی تھیں۔ لیکن تبدیلی قانون فطرت ہے۔ ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں کے مصداق 17 اگست 1988ء کو جب بہاولپور کے قریب دریائے ستلج کے کنارے بستی لال کمال کی فضاوٗں میں پاک فضائیہ کا C-130 طیارہ حادثے کا شکار ہوا اور طیارے میں سوار صدرِ مملکت جنرل محمد ضیاء الحق کے علاوہ 30افراد جن میں چیئر مین جوائنٹ سٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمٰن سمیت پاک فوج کے دیگر نو اعلٰی افسراں اور امریکی سفیر رافیل اور ملٹری اتاشی بریگیڈر جنرل واسم شامل تھے ، جان کی بازی ہارگے۔ اس وقت سے اب تک 29برسوں میں پلوں کے نیچے سے بہت ساپانی ہی نہیں بہہ چکا ہے، حالات و واتعات کے پیش منظر میں بھی بہت ساری تبدیلاں رو نما ہو چکی ہیں، تاہم جنرل محمد ضیاء الحق کے حوالے سے کچھ حقائق ایسے جنھیں تاریخ کے اوراق سے نکالنا شائید ممکن نہیں ہو گا۔جنرل محمد ضیاء الحق 5 جولائی 1977ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعد برسراقتدار آئے اور کم وبیش 11 سال تک ملک کے سیاہ وسفید کے مالک رہے۔ وہ عرفِ عام میں ایک فوجی آمر تھے، انہوں نے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کیا اس بنا پر بہت سے لوگ ان پر کڑی تنقید کرتے ہیں اور انکے دور کو ظالمانہ اور جابرانہ قرار دیتے ہیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ آج ضیاء الحق کی شہادت کو جب تین عشرے ہوچکے ہیں اور ایک نئی نسل پروان چڑھ چُکی ہے اور ماضی با لخصوص ضیاء الحق کے دور کے بہت سارے حالات اور واقعات اپنے حقیقی سیاق و سباق اور اپنے صحیح تناظر میں بیان نہ کرنے کا رواج عام ہو چکا ہے۔ پھر بھی ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو آج بھی ضیاء الحق کا نام سامنے آئے تو” مرد مومن، مرد حق۔۔۔۔ ضیاء الحق، ضیاء الحق” کا نعرہ لگانے پر تیار ہو جاتے ہیں۔
جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کیا تھے، اور کیا نہیں تھے؟ ان میں کونسی شخصی خوبیاں اور کمزوریاں پائی جاتی تھیں؟ ان کا نظامِ حکومت کیسا تھا اور اس میں کتنا جبر تھا؟ ان کی حکومتی پالیساں کیا تھیں، اور ان سے پاکستان کو کتنا استحکام ملا اور پاکستان کتناعدمِ استحکام سیدو چار ہوا؟ انکے دور میں عالمی برداری میں پاکستان کیا مقام تھا اور عالمِ اسلام میں پاکستان کو کتنی اہمیت حاصل تھی؟ انکی افغان پالیسی اور سو ویت یونین کے خلاف جہاد افغانستان میں شرکت کا فیصلہ کس حد تک درست تھا یہ نہیں تھا؟ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے میں کیا کر دار ادا کیا؟ انکے دور میں بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت کیا تھی اور وہ بھارت کو عالمی سطح پر کس حدتک نیچا دیکھانے میں کامیاب رہے تھے؟ انہوں نے ملک میں اسلامی نظام کو رائج کرنے اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لئے کتنی سنجیدہ کوششیں کیں یا محض دکھلاوے کے لئے اسلام کا نام لیتے رہے؟ انکے دور میں عوام کس حد تک آسودگی سے شب وروز گزار رہے تھے اور اشیاے ضروریہ کس حد تک دستیاب تھیں؟انکے دور میں امن وامان کی صورت حال کیا تھی؟ یہ سارے معاملات، موضوعات اور پہلو ایسے ہیں جن کے بارے میں قوم کے مختلف طبقات کی مختلف آراء ہو سکتی ہیں۔لیکن ایک پہلو بہر کیف ایسا ہے جس کے بارے میں ضیاء الحق کے متفقین اور مخالفین سبھی کا اتفاقِ راے سامنے آے گا کہ ضیاء الحق میں بہت ساری شخصی خوبیاں پائی جاتی تھیں۔ وہ بڑی حد تک عاجزی، انکساری، مروت اور دوسروں کا احترام کرنے اور انکی عزت نفس کا پاس کرنے کی صفات سے بہرہ مند تھے۔ صوم وصلٰوۃ کی پابندی، اسلامی تعلیمات سے لگاؤ اور مشرقی اقدار و روایات کی پا سداری انکی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ بلاشبہ انہوں نے ملک میں نظام صلٰوۃ ، عشر و زکٰوۃ اور حدود قوانین کے نفاذ کے لئے سنجیدہ کوشش کیں۔
ضیاء الحق کا دور بلاشبہ معروف معواں میں آمرانہ دور تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسان، مزدور، تاجر، صنعت کار، سرکاری ملازمین، بزرگ شہری، سابقہ فوجی اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین سمیت عوام کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ بعد کے ادوار کے مقابلے میں نسبتاَ آسودہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ اور قومی نمو میں بہتری کے آثار بڑے نمایاں تھے۔ عالمی برادری با لخصوص عالم اسلام میں پاکستان کی ایک عزت اور مقام تھا۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان بہتر ڈپلومیسی پر عمل پیرا تھا۔ بھارتی وزیرِاعظم اندراگاندھی اور بعد میں اس کے بیٹے راجیو گاندھی کی طرف سے ضیاء الحق سے بے اعتنائی کا رویہ اپنانے کے باوجود مختلف عالمی فورمز پر انہیں ہرگام ضیاء الحق کے مقابلے میں خفت کا سامنا کر نا پڑ تا تھا۔ پاکستان نے غیر جانبدار ممالک کی تنظیم کی رکنت ہی حاصل نہ کی بلکہ بھارت کی روایتی چودہراہٹ کو بھی ختم کیا۔ جہاد افغانستان میں پاکستان کی بھرپور شرکت اور روسی قیادت کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیوں کے باوجود ضیاء الحق کا ثابت قدم رہنا کوئی معمولی بات نہ تھی لیکن اس سب کے باوجود ضیاء الحق شائیدہمارے نام نہاد لبرلز اوربائیں بازو کے دانش ور طبقات کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے یہ طبقات جو ضیاء الحق کے دور میں ہر طرح کی مراعات اور نوزشات سے بہرہ مند ہونے کے باوجودآج بھی ان کو تنقید کا نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں۔
ضیاء الحق پر ایک بڑا اعتراض انکی افغان پالیسی کے حوالیسے کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ انہیں روسیوں کے خلاف افغانیوں کی تحریک مزاحمت میں حصہ نہیں لینا چاہئے تھا اور نہ ہی لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجریں کو اپنے ملک میں پناہ دینی چایئے تھی۔ یہ بھی کہا جا تا ہے کہ اسکی وجہ سے کلاشنکوف کلچر کو رواج ملاء اور دہشت گردی کا آغاز ہوا معترضین اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ دسمبر 1979ء میں روسی افواج افغانستان میں در آئیں تو یہ آج کا پیوٹن کا روس نہیں تھا یہ برزنیف ،چرنکواور آندرے پوف کا طاقت اور غرور کے گھمنڈ میں بدمست سوویت یونین تھا جس نے وسط ایشاء کی وسیع و عریض رقبوں پر پھیلی مسلم ریاستوں پر ہی قبضہ نہیں کر رکھا تھا بلکہ ہنگری اور پولینڈ سمیت مشرقی یورپ کے کئی ممالک کو بھی تاراج کر رکھا تھا۔وہ افغانستان کو روندنے کے بعد بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک پہنچنے کے اپنے صدیوں پُرانے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے پاکستان کی سرحدوں کو بھی پامال کر سکتا تھا۔ پھر افغانیوں کے ساتھ اسلامی اخوت کا رشتہ بھی تھا کہ انکا ساتھ دیا جاتا۔ پھر یہ حقیقت بھی تھی کہ پاکستان کی حکومت افغانیوں کو بطور مہاجر آنے سے روکتی تب بھی انہوں نے نہیں رکنا تھا، پاکستان کے قبائلی علاقے انسے پٹ جا تے لہٰذا حالات و واقعات کا تقاضا یہی تھا کہ پا کستان افغانیوں کی تحریک مزاحمت جو حقیقتاََ چند سال قبل بھٹو کے دور میں شروع ہوچکی تھی اس میں سر گرمی سیشریک ہوتا۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان جہاد کی آڑ میں پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کو پائیہ تکمیل تک پہنچایا۔
آخرمیں ضیاء الحق کے حوالے سے ایک مشہور واقعے کاذکر کرنا بے جا نہ ہوگا جس کا تذکرہ بھارت کے آنجہانی وزیرِاعظم راجیو گاندھی کے سیکرٹری نے بھی کچھ عرصہ قبل چھپنے والی اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔ بھارت نے 1987ء کے شروع میں”براس ٹیک” فوجی مشقوں کے نام پر پاکستان کی سرحد پر 2 لاکھ فوج لا کھڑی کی بھارت شاید پاکستان پر حملہ کرنا چاہتا تھا یہ کوئی اور بات تھی، کہ ضیاء الحق نے پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ایک روزہ سیریز کا جے پور میں کھیلا جا نے والا میچ دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ ضیاء الحق دہلی کے ہوائی اڈے پر پہنچے تو بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی نے سر مہری اور بے رخی سے انکا استقبال کیا۔ ضیاء الحق نے اسکی کوئی پروا نہ کی لیکن روانگی سے قبل انہوں نے راجیو کو ایک طرف لے جا کر اتنا کہا کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو ضرور کرے لیکن اتنا یاد رکھ لے کہ میں اسلام آباد پہنچتے ہی فائر کا حکم دونگا جس سے بھارت میں وہ تباہی مچے گی کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ضیاء الحق واپس اسلام آباد پہنچے تو بھارت نے پاکستان کی سر حد سے اپنی فوجوں کو ہٹانے میں ذراء بھی تاخیر نہ کی۔