sohail ahmed azmi

مولانا طارق جمیل ،نواز شریف ملاقات پر بلاجواز تنقید

چند دنوں سے سوشل میڈیا اور چند الیکٹرانک چینلز پر مبلغ دین دعوت و تبلیغ کے کام سے منسلک مولانا طارق جمیل کی سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات اور ان کے لئے دعا کے بارے میں کافی منفی پرواپیگنڈہ کیا جارہا ہے ۔تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ ایک ایسے وزیر اعظم سے جن پر بدعنوانی ،کرپشن ،منی لانڈرنگ کے کیسز چل رہے ہیں ۔مولانا نے ملاقات کیوں کی اور پھر ان کے حق میں کہ اللہ تعالی انہیں مشکلات سے نکالے اور ان کی پریشانیوں میں کمی کرے ۔دعا کیوں کی ایسا صرف وہ ناواقف لوگ کررہے ہیں جونہ تو اسلام سے واقفیت رکھتے ہیں اور نہ ہی دعوت وتبلیغ کے کام سے وہ اس عالمگیر محنت جس کے باعث کئی جعلی پیروں سے امت رسولؐ کو نجات مل گئی ۔شرک وبدعات سے بچ گئے اور صراط مستقیم کا راستہ اپنا لیا ہے ۔بغض اور کینہ رکھنے کے باعث اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں کیونکہ مولانا طارق جمیل دنیا کے ہر کونے کے علاوہ ہر طبقہ نوجوانوں ،خواتین ،صحافی ،وکلاء ،بزرگ ،سیاستدانوں ،زمینداروں ،افسر شاہی میں یکساں مقبول ہیں اس لئے ان کے خلاف تنقید اور تبرا کرنے کا کوئی موقع وہ مخالفین جن کی روٹی روزی کا مسئلہ ہے، ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔رہی بات الیکٹرانک چینلز کی تو انہیں تو کوئی سنسنی پھیلانے والی خبر چاہئے وہ یہ نہیں سو چتے کہ ایسی غلط خبروں سے دین کا کتنانقصان ہوتا ہے ۔اسلام کے بارے میں غلط تصویر لوگوں تک پہنچتی ہے ۔ہمارا دین تمام دینوں کا سردار اور ہمارا نبیؐ تمام انبیاء کے ان کی امت تمام امتوں میں افضل ترین امت ہے ہم تو قیامت تک آنے والی امت رسولؐ کی خیر خواہی بھلائی اور کامیابی کے ذمہ دار
ہیں کسی کے حق میں دعا کرنا کہ ان کی پریشانیاں اللہ دور کرے، انہیں ہدایت دے، کہاں کا گناہ ہے ۔میرے نبی ؐنے تو قیامت تک آنے والی انسانیت کی بھلائی کا سوچا بڑے بڑے جابروں ،ظالموں ،مشرکین کے پاس وفود روانہ کیے ہم ایک مسلمان سے ملنے پر اعتراض کررہے ہیں۔
مولانا طارق جمیل تو ہیجڑوں ،طوائفوں ،گلوکاروں ،فلمی اداکاروں کے پاس بھی جا کر انہیں دین کی بات بتاتے ہیں۔ قیامت کے دن کا خوف دلاتے ہیں تاکہ وہ اپنی گناہ والی زندگی سے توبہ کرکے اللہ کی طرف رجوع کرلیں ۔کتنے ایسے کھلاڑی ہیں جو اپنے کھیل کے ساتھ ساتھ اب پانچ وقت نماز اور تلاوت کی بھی پابندی کررہے ہیں کھیل کے میدانوں میں باجماعت نماز ہو رہی ہے۔ انضمام الحق ،محمد یوسف ،سعید انور ،قاسم عمر ،ذوالقرنین ،ثقلین مشتاق ،مشتاق احمد ،عابد بٹ، جنید جمشید کی مثالیں دی جاسکتی ہیں جس کے باعث قومی ہیروز ،فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والوں کی زندگی کا رخ اللہ نے تبدیل کردیا ۔کتنے سیاستدان جرنیل ،جاگیر دار ،وڈیرے مولانا طارق جمیل ودیگر کی محنت سے اللہ کے دین کی بڑائی اور اپنی چھوٹائی بیان کررہے ہیں۔ ان خواص میں مولانا طارق جمیل کی بڑی محنت ہے جبکہ ہر خاص وعام میں مولانانے محنت کی ہے۔آج امت مسلمہ کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ جوڑ اور اعلی اخلاق ہیں ۔آج ہم فرقوں،نسلوں ،قوموں ،غریب ،امیر ،حاکم وغلام میں بٹ گئے ۔ہمارے اندر قومیت ،علاقائیت ،عصبیت ، فرقہ واریت رچ بس گئی۔ہم ایک دوسرے کی صورت تک دیکھنا گوارہ نہیں کرتے ۔ہر صوبے والے اپنے علاقہ اورقوم کی بات کررہے ہیں ۔ہر کوئی اپنے حقوق الگ صوبہ کی ڈیمانڈ کررہا ہے انسانیت ہمارے اندر سے ختم ہوتی جارہی ہے ۔ایسے میں دعوت وتبلیغ اور مولانا طارق جمیل جیسے فہم وفراست رکھنے والے علماء کرام جو بغیر کسی تعصب ،رنگ ونسل فرقے کے بات کریں کی ہمیں ضرورت ہے۔ مولانا طارق جمیل کو ایک الیکٹرانک چینل کے اینکر اور صحافی نے ننگی گالیاں دیں مولانا نے اس کے پر وگرا م میں فون کرکے دعائیں اسے دیں جس کے بعد ان کا بولنا بند ہوا اور شرمندہ ہوئے ایسے ہی اعلی اخلاق کی پوری امت رسولؐ کو ضرورت ہے آج ہم سارادن اخبارات اور الیکٹرانک چینلز پر ایک دوسرے کی برائیاں اور اپنی اچھائیاں بیان کرتے ہیں ۔حالانکہ میرے نبی ؐکا فرمان ہے کہ لوگوں کی اچھائیاں دیکھو اور اپنی برائیوں پر نظر رکھو لیکن ہم بہتان تراشی، غیبت، عیب گوئی، چغل
خوری ،بغض ،کینہ ،حسد جیسے کبیرہ گناہوں میں مبتلا ہیں۔ ہر حکمران بلکہ ہر شخص میں اچھائیاں ،برائیاں دونوں ہوتی ہیں ویسے پاکستان میں کونسی ایسی جماعت ہے اور کونسا ایسا قومی لیڈر ہے جو مسیحائی کا دعویٰ کرے جس قسم کی بازاری زبان ہمارے سیاستدان استعمال کرتے ہیں کم از کم نواز شریف سے اجتناب برتتے ہیں۔ رہی بات کرپشن کے الزامات اور فیصلوں کی تو وہ عدالت کا کام ہے۔ تبلیغی جماعت کے لوگوں کو تو یورپ کی ان جیلوں میں خاص طور پر مدعو کیا جاتا ہے جہاں انتہائی جرائم میں ملوث قیدی موجود ہوتے ہیں، ان سر پھرے قیدیوں کو راہ راست پر لانے کا واحد راستہ کافروں کو بھی صرف تبلیغ اور مذہب اسلام میں نظر آیا جس کے باعث جیلوں میں مجرم لوگ اسلام قبول رہے ہیں۔ ایک یہ ہیں جو ایک مسلمان سے ملنے پہ اعتراض کررہے ہیں ۔مولانا طارق جمیل کو اللہ تعالیٰ نے بہت مقام دیا ہے ۔عرب شہزادے، حکمران، وزراء، ہوائی اڈوں، ریلوے سٹیشن پر ان کے استقبال کے لئے موجود ہوتے ہیں ۔ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ مولانا ہمارے مہمان بنیں ۔انہیں کسی حکمران موجودہ یا سابق سے کیا اپنی تشہیر کروانے کا کوئی شوق نہیں ہے اور نہ ہی انہیں دنیا کے مال وزر اور جاہ وجلال کی کوئی ضرورت ہے۔ ہمارے محلہ کی ایک جماعت مولانا طارق جمیل کے گاؤں تلمبے میں چلہ لگا کر آئی ہے وہ بتارہے تھے کہ مولانا کو اللہ نے ہزاروں کنال اراضی جن کی مالیت اربوں روپے میں ہے، سے نوازا ہے۔ مولانا کیا دعوت وتبلیغ سے وابستہ ہر فرد صرف اللہ کی رضا کے لئے یہ کام سرانجام دے رہا ہے ۔دنیا کی وقعت وحیثیت ان کے ہاں کچھ بھی نہیں ہے۔