nasif awan new

منظر دل کشا میں بھی دیکھوں گا اور تم بھی!

تقدس اور احترام کیا ہوتا ہے انہیں اب آکر معلوم ہو ا ہے۔ لہٰذا کہتے ہیں اب اس کا پوری طاقت سے دفاع کیاجائے گا!
کوئی یقین نہیں کرے گا ان کی اس بات پر۔۔۔ ماضی میں کیا کچھ نہ کہا گیا اس پر عمل ہوا۔۔۔ آگے کیسے ہو گا۔۔۔ اب تو کاروان حیات آگے بڑھ چکا۔موسم بدل گئے اور پھر مخلوق خدا کے تیور بدل گئے!
پھر کوئی بڑا دوسرے کے لیے۔۔۔ اپنی نیند حرام نہیں کرتا۔۔۔ یہ اب تک کی سیاست کاری سے ثابت ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو آج تڑپنا ، مچلنا اور پھڑکنا نہ پڑتا۔۔۔ گیا وقت ہاتھ آتا نہیں۔ سیانے کہتے آئے ہیں!
آواز دو گے بھی تو۔۔۔ وہ نہیں آئے گا۔ وہ کسی صورت متوجہ نہیں ہو گا۔ لہٰذا جو ہونا ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ اگر روک سکتا تو یہ ہر گھر میں جیون لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا۔۔۔آگ تو اسلام آباد میں عوامی مرکز کو بھی لگی۔۔۔ پکار مگر یہ ہے کہ لگائی گئی۔۔۔ تاکہ دولت کے ڈھیر پر سونے والوں کی سیاہ کاریاں راکھ ہو جائیں۔۔۔ بھلا اس طرح ثبوت مٹتے ہیں وہ تاثر کیسے زائل ہو گا جو پیدا ہو کر کروڑوں افراد کے دل و دماغ میں گھر کر گیا۔۔۔ کہ شعلے بھڑکے نہیں بھڑکائے گئے۔۔۔ قانون مگر ٹھوس شواہد مانگتا ہے۔۔۔ ہوگا پھر یہ کہ سب بری سب پوتر۔ عوام کے دلوں کو ایسے تسخیر کیسے کیا جا سکتا ہے۔۔۔ وہ تو سوال کریں گے۔۔۔ سوچیں گے آگے سے جواب آئے گا کہ ان کی حکمرانی کو بحال کرایا جائے گا۔ وہ ہنسیں گے ہنس رہے ہیں کہ پہلے حساب کتاب تو کر لو بتا دو اربوں کھربوں کہاں سے آئے۔۔۔ اور یہ بھی بتا دو کہ تم ہی کیوں۔۔۔؟
ہم میں سے ایوان میں کیوں کوئی نہ جائے۔۔۔؟
ایک منظم دھوکا دیا جا رہا ہے اہل زر کی طرف سے۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ عوام یہ کہاں، الو باٹے ہیں الو باٹے۔۔۔ جنہیں جب چاہو شیشے میں اتار لو وہ آسانی سے اتر جاتے ہیں۔۔۔ لگتا توکچھ ایسے ہی ہے وگرنہ ستر برس سے زخم جنہیں لگائے جا رہے ہوں۔۔۔ جن کی ہڈیاں چورا کی جا
رہی ہوں ذہنوں میں خوف داخل کیا جا رہا ہو۔۔۔ اور ان کو روٹی کے حصول تک محدود کیاجا رہا ہو وہ ایسے دو چہرہ لوگوں کی قدموں کے نشانات پر چلتے رہیں۔۔۔؟
چلتے رہو بھیا چلتے رہو آہیں بھی تم نے ہی بھرنے ہیں۔ خواری بھی تمہارے حصے میں آنی ہے اور شکایتیں بھی ایک دوسرے سے تم ہی نے کرنی ہیں۔۔۔!
کوئی خود داری، کوئی انا اور کوئی کمٹمنت ہوتی ہے مگر نجانے کیوں سب ہوا، ہو گئے یہ اشرا فیہ تو لو گوں کوڈنگر سمجھتی ہے ۔ ان پر حکمرانی ڈرمسلط کر کے، مکاری سے اور تشدد سے کرتی ہے۔ دیکھا نہیں تھانے عام آدمی کا کس طرح حشر کرتے ہیں ۔۔۔ کمزوروں کو اکڑوں بٹھا کر ان سے سخت لہجے میں بات کرتے ہیں۔ ڈاکوؤں سے رخ پھیر لیتے ہیں اور شریفوں کو پس زنداں دھکیل دیتے ہیں!
لوگوں کو زندگی کی سہولتوں سے محروم رکھنے والی اس اشرافیہ کا محلوں میں بسیرا ہے۔۔۔ کروڑوں نہیں اربوں کی خواب گاہیں ہیں اس کی ۔۔۔ پھر بھی اس کا دل نہیں لگے ہے اور یورپ و مغرب کی فضاؤں میں سانس لینا لازمی سمجھے۔ وہاں کے عشرت کدوں میں قیام کرنے سے اس سکوں ملے۔۔۔ یہ اجالا نہیں اندھیرا ہے! اس اندھیرے سے جان چھڑانے کا ایک ہی راستہ ہے خود کو پہچانو!
ڈیل کارنیگی سے لے کر برائن ٹریسی تک سبھی نے اس اصول پر زور دیا ہے کہ خود کو قابل احترام و قابل توجہ بنانا چاہتے ہو تو اپنے آپ کو اہم جانو۔۔۔ پھر دیکھنا چاہنے والے کس قدر تمہارے ساتھ ہوں گے! یقیناًایسا ہوسکتا ہے مگر کوئی یہ اصول وکلیہ اپنائے تو سہی۔ اپنائے بھی کیسے جب ان کی کوئی کتاب پڑھنی ہی نہیں۔۔۔ مطالعے کا رجحان تو ختم ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ اخبارات بھی یکسوئی سے نہیں پڑھے جاتے۔۔۔ چند موٹی موٹی خبریں دیکھیں اور بس مطالعہ ہو گیا۔۔۔ بس یہی کمزوری ہے ان محکوموں کی جسے شاطر سیاستدان و حکمران اپنے لیے روح افزاء گردانتے ہیں وگرنہ وہ کبھی بھی ان حکمرانوں کے قریب تک نہ جائیں جو ان کے پیسے کو ہتھیا رہے ہیں اور اپنے گال سرخ کر رہے ہیں پھر کس ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ وہ عوام کی حکمرانی کے لیے شاہراہ دستور جدوجہد پر آئے ہیں۔۔۔ یہ سب مداری ہیں ریا کار ہیں اور شعبدہ باز ہیں۔۔۔؟
پرانے زمانے کے نمبردار بھی ہیں جو ایک طرف چوروں کو کہتے تھے۔۔۔ ’’جھگا لٹو‘‘ دوسری طرف کھوجی کے ساتھ بھی چل پڑتے۔۔۔ لوگوں کو کہتے ہیں کہ ہم ان کی عزت وآبرو کے رکھوالے ہیں مگر پولیس سے ان کی بہو بیٹیوں بیویوں پر لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں ان کے بال نوچے جاتے ہیں۔ ڈسکہ کچہری میں نکے تھانیدار نے رقیہ بی بی جو اپنی زبرحراست بہو سے ملنے کے لیے آئی تھی پیٹ ڈالا۔۔۔ تقدس کہاں گیا۔۔۔ احترام کدھر چلا گیا۔۔۔؟
یہی کیا ، ہر روز کوئی نہ کوئی واقعہ رونماہوتا ہے یہاں۔۔۔ مگر قانون کی آنکھ ہی نہیں کھلتی وہ جاگتا ہی نہیں۔۔۔ ایسے وحشیوں کو پکڑتا ہی نہیں۔۔۔ اگر پکڑتا ہے تو ۔۔۔ فیقے کباڑیے کو کہ اس کے پاس ممنوعہ لوہے کا ٹکڑا کہاں سے آیا۔۔۔؟
ظلم ہے یہ ۔۔۔ سراسر!
امن کیسے قائم ہو گا۔۔۔ سکون و راحت کیسے ملیں
گے۔۔۔ انصاف فقط انصاف ۔۔۔جو اس بد دل بے قرارسماج کو خوشی کے لمحات مہیاکر سکتا ہے۔ ان کو حقیقی ہاسے دے سکتا ہے۔۔۔ وگرنہ تو افسردگی ہے ، اداسی ہے جدھر دیکھو ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔۔۔ ذہنی خلفشار ہے کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔۔۔ مایوسی میں بھی دوسو کلو میٹر کی رفتار سے اضافہ ہونے لگاہے!
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے۔۔۔ ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے!
اندر سے تو طوفانی لہر اٹھی ہی ہے۔۔۔ باہر سے بھی شجر حیات کو جڑسے اکھیڑنے والا ایک طوفان امڈتا ہوا نظر آتا ہے۔۔۔ گویا خطرات ہی خطرات ہیں ہمارے چاروں طرف ایسے میں ایک اتحاد کی ضرورت ہے! کون کرائے مگر یہ اتحاد۔۔۔ سب اپنی اناؤں کے اسیر۔۔۔ سب ایک دوسرے پر برتری لے جانے کی خواہش لیے مارے مارے پھریں۔۔۔ کوئی کسی کو روند کر اور کوئی کسی کو دھمکاکر۔۔۔ لیڈر بننا چاہیے۔۔۔ یہ ہے ہماری اجتماعی تصویر۔۔۔ جسے دیکھ دیکھ کر اب ذہن وسوسوں کا مسکن بن گیا ہے۔ دل کبھی دھڑکتا ہے تو کبھی بند ہوتا ہے کوئی تازہ ، نکھری، شفاف صبح کی نمود کی نوید دے۔۔۔ کہ اب صبر دم توڑ رہا ہے۔۔۔ اندیشوں نے ڈراؤنے روپ دھار لیے۔۔۔!یہ وقت کہنے اور بولنے کا نہیں۔۔۔ کرنے کا ہے۔۔۔ کہاں ستر برس گزر گئے مگر زندگی اب بھی غلامانہ سوچ کے سائے تلے رینگ رہی ہے بڑے لوگوں نے نیچے تک اپنی ’’بادشاہتیں‘‘ قائم کرلیں۔۔۔ چھوٹے چھوٹے بادشاہ‘‘ کسی کو سر اٹھانے ہی نہیں دیتے کیا یہ ہے ہماری منزل۔۔۔ ؟ نہیں۔۔۔!
آثار کچھ ایسے نظر آتے ہیں کہ تیرے میرے۔۔۔ قانون کی تفریق ختم ہونے والی ہے کیونکہ اسے جگانے والے ہاتھ حرکت میں آ گئے ہیں جس کسی نے اس سے بلی کی طرح کھیلا ہے وہ دبوچا جائے گا۔۔۔ وگرنہ عوام مدعی بھی ہوں گے اور منصف بھی۔۔۔ پھر چاندنی ہر سو چٹکی ہو گی پھر وہ محفلیں بھی جمیں گی جو کبھی بستی کی جان تھیں۔۔۔!
منظر دل کشا میں بھی دیکھوں گا اور تم بھی۔۔۔!!