dr akhtar

ممتاز راشد کے اعزازات

ایک آوارہ مزاج شخص کی گھریلو زندگی بہت تلخ تھی۔ایک دوست نے اسے مشور ہ دیا تم بیوی سے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگ لو اور آئندہ کے لےے توبہ کر لو۔تمہاری بیوی تمہیں معاف کر دے گی۔اس شخص نے دوست کی بات پر عمل کیا ۔بیوی نے اس کی معذرت قبول کرتے ہوئے کہا :
چلو تم نے اقرار تو کیامگر یہ بتاﺅ وہ بد ذات تھی کون؟ شوہر خاموش رہا۔
کہیں وہ استانی تو نہیں،جو سامنے کے فلیٹ میں رہتی ہے؟
شوہر خاموش رہا۔
پھر وہ نرس ہوگی جو بن سنور کر گھر سے نکلتی ہے۔شوہر پھر چپ رہا۔
اچھا اب میںسمجھی، وہ نیلی آنکھوں والی جو ساتھ والے فلیٹ میں رہتی ہے؟
شوہر خاموشی سے اٹھا اور دوست کے پاس جا کر اس کا بہت شکریہ ادا کیا۔
کیوں ؟؟ کیا تمہاری بیوی نے تمہیں معاف کر دیا۔دوست نے پوچھا۔
”ارے معافی پہ مٹی ڈالو،پھر مانگ لیں گے۔فی الحال تو اس نے تین نئے ٹارگٹ دئےے ہیں۔“
خواتین و حضرات ممتاز راشد بھی ٹارگٹ پر یقین رکھتے ہیں مگر ان کے ٹارگٹ شعری مجموعوں اور اپنے ساتھ برپا ہونے والی تقریبات کے ہوتے ہیں۔
دوستو! آج ایک تاریخی دن ہے ۔تاریخ لکھی جارہی ہے۔ادب کی تاریخ میں شاید یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ دو الگ الگ مصنفین کی ایک ہی صدارت کی چھتری تلے اکٹھی تقریب منعقدہو رہی ہے۔ابھی کچھ روز قبل میا نوالی سے ہمارے ایک دوست مظہر نیازی نے ایک کتاب ارسال کی۔ہم نے اسے پڑھنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ یک ہی مجموعہ میں دو شاعروں کا کلام شامل ہے اور دیباچے میں باقاعدہ اعتراف کیا گیا ہے کہ یہ نئی طرح اس لےے ڈالی جارہی ہے کہ ایک شاعر ادیب اکیلے اپنی کتاب شائع نہیں کر سکتا تو دو مصنف مل کر ایک مجموعہ چھپوا سکتے ہیں ۔یوں وہ ایک مجموعے سے ہی صاحب ِکتاب بن سکتے ہیں۔ دوشعرا کی اکٹھی کتاب تو چھپ چکی ،اب تقریبات بھی مل کر کی جا سکتی ہیں۔دو دوست مل کر اپنی اپنی کتا ب کے مقررین منتخب کریں۔صدارت تلاش کریں اور دونوں مل جل کر اپنی کتابوں کی اکٹھے ایک ہی وقت میںرونمائی کر لیں۔لیکن آج کے مصنفین نے یہ کام دانستہ نہیں کیا بلکہ ان کے دیرینہ دوست اسلم اعوان صاحب نے خود ان دونوں کی تقریبات کرانے کا ذمہ لیا تھا۔اسلام عظمی اور ممتاز راشد دونوں نہایت ”بی بے “انسان اور جنوئن تخلیق کار ہیں۔دونوں ایک مدت دیار ِغیر میں مقیم رہے ہیں۔وہ لاہور کے ادبی حلقوں سے اپنی ملازمت کے سبب دُور رہے ہیں۔اب ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد لاہور میں ریٹائرمنٹ کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ممتازراشد کوفر صت ملی ہے تو وہ لاہور سے دور رہنے کی کسر نکال رہے ہیں لہٰذاوہ دن رات ادبی تقریبات نہ صرف منعقد کرتے ہیںبلکہ کسی بھی تقریب سے نہیں چوکتے ،بھلے وہ چار شرکاءپر مشتمل کیوںنہ ہو۔اس وقت لاہور میں سب سے زیادہ تقریبات منعقد کرانے بلکہ ان میں شرکت کرنے کا اعزاز بھی ممتاز راشد کے پاس ہے۔ابھی پچھلے دو ہفتوں میں ممتاز راشد کے ساتھ تقریباََ چار عدد تقریبات منعقد ہوچکی ہیں۔ہمارے ایک دوست کا خیال ہے کہ ممتا ز راشد کو آخری عمر میںنام کے ساتھ لاہوری لکھنے کی بجائے ” تقریباتی“ لگا لینا چاہےے۔یعنی ممتاز راشد تقریباتی۔
” رُکے ہوئے آنسو “ ممتاز راشد کا اندازاََ اٹھارہواں شعری مجموعہ ہے۔ویسے موصوف دو درجن سے زائد کتب کے مصنف ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ایک بار ایک خاتون کو اپنے کلیات پیش کرنے لگے کلیات کا نام تھا ”آپ تنہائی میں ملئے “خاتون شوہر کے ساتھ تھی اس نے شکریہ کہہ کر مجموعہ واپس کر دیا۔ممتاز اب تک حیران ہیں کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟
لاہور ایک نو وارد شاعر نے پوچھا آپ کتابیں لکھنے اور ان کی تقریبات کے علاوہ اور کیا کرتے ہیں تو کہا : ”مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا“۔
اس پرمجھے وہ شخص یاد آگیا جسے باقی احمد پوری نے پوچھ لیا تھا :
آپ دن میں کتنی مرتبہ شیو کرتے ہیں؟ و ہ شخص بولا : یہی کوئی چالیس مرتبہ۔۔۔ باقی احمد پوری نے گھور کر اسے دیکھا اور بولے: ” توں پاگل تے نئیں؟
وہ شخص بولا نہیں جی! میں تے نائی آں۔
جہاں تک ممتاز راشد کی شاعری کا تعلق ہے ۔اسکی شاعری میں ہمارا ”آج “سانس لے رہا ہے۔۔وہ ارد گرد جو کچھ دیکھتا ہے اسے شعر میں ڈھال دیتا ہے۔وہ ایک حساس انسان ہے۔وہ رونا تو چاہتا ہے مگر اس کے اندر کا انسان اسے برداشت کا مشورہ دیتا ہے۔وہ معاشرتی ناہمواریوں ،نا انصافیوں پر کڑھتا ہے تو اسکی آنکھیں اشکو ں سے بھر جاتی ہیں۔
فشارِغم سے مرا ضبط آزماتے ہیں
مجھے رکے ہوئے آنسو بہت ستاتے ہیں
ٹینشن بڑھانے والے عوامل بہت سے ہیں
سب اک طرف ہیں شہر کا اخبار اک طرف
تجزیہ کار مبصر اینکر سب کا ایک ہی کام
ٹاک شوز کی بحثیں کیا ہیں جگتیں اور دُشنام
کس کس کو ہم جھوٹا سمجھیں کس کا کریں یقین
کون کون ہے خود ہم میں سے صادق اور امین
ممتاز راشد کا مشاہدہ بہت گہرا ہے۔
مہنگے سوٹ پہنتی ہے ۔۔۔اونچے گھر کی ماسی ہے
اس کے علاوہ اس کے ہاں شگفتہ مضامین کی بھی کمی نہیں۔وہ آنکھوں میں آنسو روک کر ہونٹوں پر مسکراہٹ کے پھول کھلانے کا ہنر جانتا ہے۔
اس کے شکر سے ہونٹ کو چھونے کے واسطے
ہونٹوں سے مکھیوں کو اڑانا پڑا مجھے
محفل میں ساتھ بیٹھ کے اس نے کیا جو تنگ
چپل سے اس کا پاﺅں دبانا پڑا مجھے
اسے علم ہے کہ بیشتر خواتین و حضرات اب غزلیں خرید کر بھی شاعر بن جاتے ہیں۔
لایا وہ چوری کی غزلیں
میں نے منہ پر ماری غزلیں
خیر آج اِس پر زیادہ بات نہیں کرتے کہ کس کے منہ پر غزلیں ماری گئیں۔ کیوں کہ ممتاز راشد نے اس محفل میں بھی ایسے ہی چند دوستوں کو مدعو کر رکھا ہے۔چلتے چلتے ایک واقعہ بھی سن لیں:
ایک روز ممتازراشد اپنے گھر کے آگے بیٹھ کر اخبار پڑھ رہے تھے کہ ایک گدا گر آنکلا اور سوال کر ڈالا۔انہوں نے ادھر اُدھر دیکھ کر کہا : یار پھر کسی روز آنا ،اس وقت گھر میں کوئی بندہ نہیں ہے۔
گداگر عاجزی پر اتر آیا اور بولا : ” سر تھوڑی دیر کے لےے آپ ہی بندہ بن جائیں ۔۔بھلا ہو گا۔“ آگے راوی خاموش ہے۔
خیر یہ تو یونہی ذکر آگیا ممتاز راشد ایک سچے ، کھرے اورکل وقتی فنکار ہیں۔اور آج ایسے ہی تخلیق کاروں کی ضرورت ہے۔جو رونے کی بجائے ہنس کر زندگی سے نبرد آزما ہو سکیںکہ
زندگی زندہ دلی کا ہے نام
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
( گزشتہ روز ایک تقریب میں پڑھا گیا)