hafiz muzafar mohsin copy

ملیحہ لودھی کا گرجدار خطاب اور بھارتی

شاید صدیوں سے یہ ہوتا آیا ہے کہ چھوٹے بچے بڑوں کے جوتے پہن کر خوش ہوتے ہیں۔ یہ ایسی حرکت ہے جس سے بندہ منہ کے بل گرتا ہے، چوٹ لگتی ہے، درد ہوتا ہے۔ لیکن عام طورپر دیکھنے میں آیا ہے کہ بچے ایسی چوٹ کا اثر نہیں لیتے۔ ایسی درد سے پریشان نہیں ہوتے نہ ہی پھر ایسی حرکت کرنے سے باز آتے ہیں آپ کہیں گے بچے ڈھیٹ ہوتے ہیں ؟ بچوں کو عقل نہیں ہوتی یا یہ آگے بڑھنے کا عمل ہے جسے بہرحال جاری رہنا ہوتا ہے ؟ میرا بچہ تو بوٹ سے تسمے بھی ہربار نکال دیا کرتا تھا۔
میں کیا کروں ؟ میں ایسی مشکل صورت حال میں آپ کی مدد نہیں کرسکتا، کیونکہ میں تو بکراعید پر بکرا خریدنے جاؤں تو بہت زیادہ احتیاط کے باوجود ’’دوندا‘‘ بکرا لیتے لیتے ’’کھیرا’‘بکرا لے کر گھر آجاتا ہوں اور مت پوچھیں چھوٹے بڑے میرے اس فیصلے پر میری کیا درگت بناتے ہیں ؟ یا پھر ایسی خریداری میں میری جیب کٹ جاتی ہے اور میں پھر بھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا ؟ ادھر آج کی خبر ہے سرگودھا سے ’’بے چاری‘‘ گرفتار ہوگئی ہے۔ سرگودھا کی یہ لڑکی ترقی کی منازل جلد طے کرنے کے چکر میں پکڑی گئی۔ اس نے طریق کار اپنا یا بھی تو یہ کہ آٹھ مردوں سے نکاح کیے ہرجگہ باقاعدہ ۔۔۔’’روف’’ باقاعدہ نکاح کیا مال پانی زیور اور پھر گھر کا ساراسامان سمیٹا اور غائب۔۔۔؟؟ بے چارے لڑکے دوستوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟
ٹیلی ویژن پر اس ’’معصوم‘‘ لڑکی کے آٹھ نکاح نامے دکھائے گئے۔ مجھے ایسے ’’جرائم پیشہ‘‘ لوگ بہت برے لگتے ہیں جو آٹھویں واردات کرتے ہوئے ’’رنگے ہاتھوں‘‘ پکڑے جاتے ہیں؟ اس جرائم پیشہ عورت کے خلاف جلوس نکالنا چاہیے۔ احمد محسن سائنسدان بنے یا نہ بنے صحافی تو بن ہی جائے گا۔ کیونکہ مجھے ہر روز اس کے تیز وتند سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کل نئی خبر سنادی۔ بھارت کی کوئی فلم بتارہا تھا۔ آسکرایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی لیکن اس وقت آسکرایوارڈ دینے والی انتظامی کمیٹی پریشانی، بدحواسی اور مخمعے کا شکار ہوگئی جب پتا چلا کہ وہ ’’فلم‘‘ تو کسی ایرانی فلم کی ’’کاپی ‘‘ ہے۔ عالمی سطح پر بھارتی ادارے ہرروز بے عزت ہوتے ہی رہتے ہیں مگر وہ ایسے دونمبر کام کرنے سے باز نہیں آتے۔ شکر ہے بھارتی فلمی اداروں کی یہ چوری بروقت پکڑی گئی لیکن اگر یہ چوری ایوارڈ مل جانے کے بعد پکڑی جاتی تو معاملہ متنازع ہوجاتا اور بھارت کو ’’شک‘‘ کا فائدہ مل جاتا۔ ویسے بھارت کو محترمہ ملیحہ لودھی نے بھی کل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خوب بے عزت کیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے بھارت کو ایک فسطائی ریاست قرار دیا، منافقت والی ذہنیت کی ریاست قرار دیا اور بتایا کہ ہر بار پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی کوشش کو سبوتاژ کردیا گیا، گجرات میں سینکڑوں مسلمانوں کو شہید کردیا گیا اور مقبوضہ کشمیر میں ہرروز ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ یہ ہے دنیا کی بڑی جمہوریت کا دعویٰ گرنے والی فسطائی خیالات سے بھرپور ریاست اور خوف میں مبتلا عوام ۔دنیا کو یہ پیغام بڑا ہی بروقت اور ضروری ہو جاتا کہ بھارت کا مکروہ اور فسطائیت سے بھرا چہرہ دنیا بھر کو دکھایا جاسکے۔ بھارت میں نیچ ذات کے لوگبھی تک ظلم سہہ رہے ہیں۔ مسلمانوں کا حال نہ پوچھیں بات شروع ہوئی تھی چھوٹے بچوں کی بڑی بڑی حرکتوں سے، جو بچے پانچ سال یا سات سال کی عمر میں ابا جان یا دادا جان کے شوز پہن کر ادھر ادھر بھاگتے ہیں۔ کیا بچہ بڑوں کے شوز پہن کر بڑا بن سکتا ہے۔ دوسرا میں آپ کو بیٹے کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات بلکہ حیرت انگیز سوالات کے بارے میں بتانا چاہتا تھا۔ ’’پاپا۔۔۔یہ پنکھا تین پروں سے کیوں چلتا ہے۔ یہی کام دوپروں سے بھی لیا جاسکتا ہے۔ جس سے دنیا بھر میں اربوں پنکھے جب دوپروں سے چلیں گے تو لاکھوں ٹن لوہا بچ جائے گا، جس سے کوئی دوسرا کام لیا جاسکے گا ؟ میرا سر اس انوکھی منطق پر چکرانے لگا؟ میں چھوٹے شوز بڑے بچے۔ بڑے شوز اور کم عمر بچوں کے چکر میں تھا اوپر سے کروڑوں ٹن ’’لوہے‘‘ کی بحث کا سوال مشکل سوال داغ دیا گیا ؟ یہ کمپیوٹر سے متاثرہ ہماری نئی نسل ہے۔ہم یعنی پاکستانی قوم عرصہ پندرہ بیس سال سے ایک عجیب مخمصے کا شکار ہیں، ہمیں ایک سے ہی رہنما قومی سطح پر دکھائی دیتے ہیں، پیپلزپارٹی زرداری کے گردگھومتی ہے پاکستان کی سطح پر کوئی پیپلزپارٹی کا رہنما زرداری صاحب کی جگہ لینے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔ رہی بات بلاول بھٹو زرداری کی۔ تو ان کی تقریریں جو وہ اردو میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں، میرادل چاہتا ہے ان کی کی گئی وہ تقریریں انگریزی ترجمہ کے ساتھ سنائی جائیں تو وہ ضرورپریشان ہوں گے کہ میں بات غصے والی کرتا ہوں اور چہرے پر جذبات ہنسی والے ہوتے ہیں۔ اس کی وضاحت آپ شیخ رشید کے بیانات سن کر محسوس کرسکتے ہیں۔ مسلم لیگ قاف۔ وہی بزرگ لیڈر۔ کوئی جھوٹا لیڈر سامنے لانے کی کوشش کی گئی تو ایسے ہی لگے گا جیسے پانچ سال کا بچہ ابا جان کے بوٹ پہن کر واک کرنے باہر نکل پڑا ہو۔ جماعت اسلامی کے پاس ہرعمر پر تجربہ ہرانداز کا لیڈر موجود ہے ، ایک سے بڑھ ایک ، آپ اس بات کا اندازہ حلقہ 120کے الیکشن میں بپا ہونے والے جلسوں کی ویڈیو دیکھ کر کریں۔ سٹیج پر آپ کو ڈیڑھ دوسو لیڈر ’’چڑھے‘‘ ہوئے دکھائی دیں گے ؟ مگر ہائے ری قسمت رہے ’’حاضرین‘‘ کہاں سے آئیں گے۔ جلسہ تو حاضرین سے ہوتا ہے اور جماعت اسلامی کے پاس تو لیڈروں کی بہتات ہے۔ تحریک انصاف کے پاس (گروپ بندی کی وجہ سے ) صوبائی سطح کے رہنما تو موجود ہیں لیکن قومی سطح پر صرف خان خود ہی بڑا خان دکھائی دیتا ہے۔ جی۔ آپ نے کیا فرمایا۔ جہانگیر ترین ؟؟؟۔ میرا چھوٹا بیٹا کہتا ہے۔۔۔’’پپاپا انکل جہانگیر ترین عمران خان صاحب کے ساتھ ایسے کھڑے ہوتے ہیں جیسے ہربات پر تائید کرنے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ خان غصے والی بات کرے، تو جہانگیر ترین غصے والا منہ بنالیتے ہیں۔ خان مزاحیہ بات کرے تو جہانگیر ترین ہنسنے لگتے ہیں ، خان دھمکی دے تو جہانگیر ترین اپنا سینہ پھلا کر دھمکی دینے کا سٹائل بنا ڈالتے ہیں۔ کاش لوگ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے عمران خان کی تقریروں کی ریکارڈنگ دیکھیں، انہیں جہانگیر ترین کا یہ سٹائل ہنسنے پر مجبور نہ کردے تو مجھے پکڑ لینا۔ مزہ نہ آئے تو پیسے واپس؟‘‘ کون سے پیسے ؟ حضور والا ۔ رہی بات مسلم لیگ (ن) کی تو وہاں شہباز شریف ہیں اور حمزہ شہباز ہے۔ سلیمان شہباز بھی سنجیدہ قیادت کے لیے سوبر سوبر سا لگتا ہے۔ محترمہ مریم نے بھی اپنا لوہا تو منوا لیا ہے لیکن قوم افسردہ ہے دکھی ہے کہ ہمارے پاس چار پانچ خاندانوں کے علاوہ لیڈرشپ نہیں ہے ؟ کیا یہ پاکستان کے حق میں ہے؟ اس بات پر پانچوں بڑے سیاسی گھرانوں کو غور کرنا چاہیے ؟ سی ایس ایس یا آئی ایس ایس پی کے مقابلہ امتحانات ہرسال ہوتے ہیں بڑے لیڈر ریٹائر ہورہے ہوتے ہیں چھوٹے لیڈر جگہ لے رہے ہوتے ہیں مگر ہماری سیاست میں تھوڑی بڑوں کے بننے کی کوشش کرتے ہیں اور منہ کے بل گرتے ہیں ؟ ہیں نا۔