raza-mughal

ملکی مفادات پر بھی سیاست اپنی اپنی۔۔۔؟

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا مینا بازار لگا ہے ہر کوئی وطن پر مر مٹنے کی گردان کیے ہے،بیانات سے ایسے لگتا ہے کہ ہر کوئی ملک پر تن من دھن نچھاو رکرنے کو تیار ہے،آج تک جتنے بھی حکمران آئے انہوں نے اتحادیوں کو خوش رکھنے کیلئے ملکی مفادات کو ملیا میٹ کردیا تاکہ حکومت چلتی رہے، مفادات کی آگ میں ملکی مفادات کو جھونک دیا،آج اس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے سلسلہ ’’رکا‘‘ نہیں اس کا اندازہ پی اے سی کے اجلاس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پی اے سی کی طرف سے کالاباغ ڈیم پر پی پی کے مرکزی رہنما اورچیئرمین پی اے سی سید خورشید شاہ نے انکار کردیا،
چیئرمین کے مطابق پہلے ہی سے حکومت کو گالیاں پڑ رہی ہیں، مزید پنڈورا بکس نہ کھولیں، اجلاس میں کالا باغ ڈیم پر بریفنگ کے معاملے پرنیا پاکستان بنانے کے دعویدار تحریک انصاف کے ارکان خاموش بیٹھے رہے، حکومتی ارکان نے حمایت نہ ملنے پر اپنے مطالبے پر زور نہیں دیا، اجلاس کے دوران نیپرا، وزارت پانی و بجلی اور واپڈا نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 2016-17ء میں بجلی مہنگی ہوئی، 5مختلف ٹیکسوں کی وجہ سے بجلی کے صارفین کے بلز میں سستی بجلی کی پیداوار کے باوجود کمی نہیں آ سکی، موجودہ حکومت کے دورمیں فی یونٹ 1روپیہ 23پیسے کا اضافی سرچارج میں بجلی کے بل پر عائد کیا گیا ہے،جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اعتراف کیا ہے کہ بجلی کے شعبے کے قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی صارفین سے وصول کیا جا رہا ہے، سب سے زیادہ لائن لاسز سید خورشید شاہ کے علاقے سکھر میں ہیں،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے موجودہ حکومت کے آنے سے قبل کے آٹھ سالوں کے دوران پیدا ہونے والی بجلی، اس کی تقسیم اور موجودہ حکومت کے دور میں اس کی پیداوار وفروخت کا مکمل ڈیٹا مانگ لیا،افسوسناک امر یہ ہے کہ توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے ہر سال 35سے 40 ارب روپے سود کی مد میں ادا کئے جاتے ہیں،ملک میں بڑے ڈیم نہ بننے کی وجہ سے بجلی بحران دن بدن بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اندھیر چھٹنے والے نہیں کیونکہ اس کیلئے آج تک سنجیدہ کوشش کی ہی نہیں گئی، نیلم جہلم پراجیکٹ منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 80 ارب روپے تھا جو کہ بڑھ کر 500 ارب سے تجاوز کر گیا ہے، منصوبے کے پی سی ون کی تیاری کے وقت علاقے کاجیالوجیکل سروے نہیں کرایا گیا تھا، سیکرٹری پانی و بجلی کے مطابق اگر بھارت نے ہمارے اس منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کی تو ہمارے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں انہوں نے آپشن نہیں بتائے ؟، بدقسمتی سے بڑے ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے صرف 14 ملین مکعب فٹ پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں، 30ملین مکعب فٹ پانی ضائع ہو کر سمندر میں جا گرتا ہے،خطرے کی بات یہ بھی ہے کہ کالا باغ ڈیم سمیت پانچ ڈیموں کے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ تربیلا ڈیم کی صلاحیت بھی 36 فیصد کم ہو چکی ہے، ہمیں ہر صورت پانچ سے چھ سالوں میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کو یقینی بنانا ہو گا، بھارت جو ہمارا ازلی دشمن ہے نے کالا باغ ڈیم کی مخالت کیلئے سرحدی گاندھیوں سمیت ملک بھر میں را کے ایجنٹ چھوڑ رکھے ہیں جو انڈیا کے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں اس کیلئے بھارت نے خزانے کے منہ کھول رکھے ہیں،کالا باغ دیم کے بارے میں سابق چےئرمین واپڈا شمس الحق کی کوششیں روز روشن کی طرح عیاں ہیں مگر کسی حکومت نے ان کی بات بھی نہ سنی؟ ٹیکسوں کی بھرمارہے لیکن غریبوں کے خون پسینے سے جمع ہونے والے ٹیکسوں کو نا جانے کہاں استعمال کیا جاتا ہے آج تک یہ معمہ حل نہیں ہو سکا؟،پی پی رہنما ء ودیگر ملکی مفادات کی بات کرتے نہیں تھکتے اگر وہ کالا باغ ڈیم کیلئے کچھ نہیں کر سکتے تو ڈیم پر بریفنگ تو لے سکتے ہیں،جب تک ہم اپنے مفادات ملکی مفادات پر قربان نہیں کرتے کالا باغ ڈیم بنے گا نہ بجلی بحران حل ہو گا،اس کیلئے ضروری ہے کہ ملکی مفادات کے خلاف کام کرنے والی جماعتیوں کا ووٹر بھی محاسبہ کریں ورنہ ’’بھینس‘‘ کے آگے ’’ بین‘‘ بجاتے رہی رہیں گے؟