mr malik new diary

ملتان میٹرو بس پراجیکٹ میں گھپلے

جنوبی پنجاب سے شائع ہونے والے اخبار روزنامہ ’’داور‘‘ نے اپنی اشاعت میں میٹرو منصوبہ ملتان میں ہونے والے گھپلے کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب ملتان میٹرو بس کا منصوبہ شروع ہوا تو یہ منصوبہ خالصتاً عوامی مفاد کا منصوبہ تھا مگر یہ منصوبہ بھی کمیشن مافیا کا مفاداتی کارنامہ ثابت ہوا۔ اخبار لکھتا ہے کہ موجودہ حکومت نے ملتان میٹرو منصوبہ میں کرپشن کرتے ہوئے کک بیکس کی مد میں پونے دو کروڑ ڈالر چین منتقل کئے جس کا بھانڈا چین سکیورٹیز ریگولیٹری کمیشن نے تحقیقات کے دوران پھوڑ دیایابیٹ نامی کمپنی نے یہ رقم منافع کی مد میں چین منتقل کی۔ چین نے جب ای ای سی پی سے تفصیلات مانگیں تو ظفر حجازی نے فائل تک دبا دی۔ چینی کمپنی کو یہ ٹھیکہ کیپیٹل انجینئرنگ نے دیا۔ منافع کی رقم دبئی ،ماریشس اور دیگر ممالک سے بھجوائی گئی۔ اخبار لکھتا ہے کہ جتنے بڑے منصوبے اتنے بڑے گھپلے ہو رہے ہیں ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں عوام کے مسائل میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ ایک طرف مہنگائی ،بے روز گاری ،غربت میں اضافے کا دور دورہ ہے تو دوسری طرف رشوت ،کرپشن،لاقانونیت ،بد ترین انرجی بحران اور اداروں کی تباہ حالی کی اجارہ داری ہے۔ ان تمام بحرانوں کی ذمہ داری جہاں موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے وہاں ن لیگ بھی اس میں برابرکی شریک ہے کیونکہ اس نے عوامی مسائل کو یکسر نظر انداز کیا اورپیپلز پارٹی کی طرح فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے زرداری حکومت کو مضبوط کیے رکھا جس کے نتائج وہ آنے والے عام انتخابات میں بھی بھگتے گی۔ لاہور میں ڈیرے ڈال کر آصف علی زرداری کی پارٹی نے آئندہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے اپنی حکمت عملی طے کر لی ہے ۔
روز نامہ ’’التماس‘‘ اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ جمہوری حکومتیں عمومی طور پر عوامی مفادات کی محافظ سمجھی جاتی ہیں لیکن موجودہ جمہوری سیٹ اپ نے جمہوریت کے معنی ہی بدل ڈالے ہیں۔ جس قدر عوام موجودہ جمہوری حکومت کے دوران پریشان ہیں اور مہنگائی سے
بے حال ہیں ایسا کٹھن دور انہوں نے شاید آمرانہ اقتدار میں بھی نہیں دیکھا۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کو ذرا بھی احساس نہیں کہ جن کے ووٹوں کے بل بوتے پر وہ آج مسند اقتدار پر فائز ہیں اس کے باعث کس قدر عوام مشکلات سے دو چار ہیں۔ یہ کیسا جمہوری طرز حکومت ہے کہ 15سے20گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کے باوجود بجلی کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ہر بجلی کے بل میں بجلی کی قیمت کے پیسے کم ہوتے ہیں لیکن چھ قسم کے ٹیکس صارفین بجلی کو اس قدر پریشان کیے ہوئے ہیں کہ اب بجلی کے بل کی قیمت جمع کرانے کی ان میں سکت نہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ غربت ،بیروز گاری ،احساس محرومی کی وجہ سے اس وقت پورے ملک میں بے یقینی ،لاقانونیت ،جرائم میں اضافہ نے شریف شہریوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت مختلف ایشوز پر عوام کو الجھا کر اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ اپوزیشن کو ملک اور قوم کا مفاد اس وقت یاد آتا ہے جب اس کے اپنے مفادات کو زک پہنچتی ہے آئندہ عام انتخابات میں صالح قیادت کے چناؤ کی ضرورت ہے ۔
جنوبی پنجاب سے شائع ہونے والے بڑے اخبار روزنامہ ’’سنگ میل‘‘ نے اپنے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ ٹھیکیداروں اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی آفیسرز کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے کہ ناقص مٹیریل سے دس سال بعد بھی اربوں روپے کے فنڈز سے قومی شاہراہیں مکمل نہیں ہو سکیں۔ بہاول پور تا صادق آباد قومی شاہراہ مسافروں کیلئے اموات کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ایک سال میں بدترین حادثات سے سینکڑوں افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں، وفاقی حکومت نے قومی شاہراہوں کی تعمیر و ترقی کیلئے اربوں روپے کے فنڈز جاری کیے جن میں بہاول پور تا رحیم یار خان ،صادق آباد کی قومی شاہراہیں بھی تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا مگر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی مجرمانہ غفلت اور ٹھیکیداروں کی بد نیتی سے ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا اور دس سال گزرنے کے باوجود بھی مذکورہ منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔ کروڑوں روپے مالیت سے لگے حفاظتی جنگلے چوری ہو گئے۔ نامکمل قومی شاہراہ پر جگہ جگہ خطرناک گڑھے پڑ چکے ہیں۔ بااثر سی این جی مالکان نے جگہ جگہ فٹ پاتھ کے بلاک توڑ کر غیر قانونی خطر ناک ٹرن بنا لیے اب قومی شاہراہیں مسافروں کیلئے غیر محفوظ اور اموات کا باعث بن چکی ہیں۔ گزشتہ دن ہونے والا حادثہ نامکمل اور غیر قانونی بائی پاس کی وجہ سے پیش آیا جس میں چھبیس قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا منصوبہ میں شامل سیفٹی پاتھ نامکمل ہیں جبکہ ان کے بلاک چوری ہو رہے ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اینڈ موٹر وے قوانین کی خلاف ورزی معمول ہے جس کے مطابق 20میٹر کے اندر ہی دکانات اور مکانات تعمیر کر دیئے گئے ہیں اس غیر قانونی تعمیر کا سلسلہ تا حال جاری ہے جبکہ تعمیراتی منصوبہ میں شامل ٹریفک سگنلز ناکافی اور روشن نہ ہونے کے برابر ہیں جس سے ڈرائیوروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اخبار مزید لکھتا ہے کہ روڈ سیفٹی ایکٹ پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے اور لائسسنگ اتھارٹی کے غلط ہاتھوں میں لائسنس دینے پر بھی حادثات میں اضافہ ہورہا ہے اس لیے روڈ سیفٹی ایکٹ پر بھی عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
مقامی اخبار ’’وسیب ‘‘ نے لکھا ہے کہ پاکستان میں قائم استحصالی نظام اور قابض بالا دست طبقات نے لوٹ کھسوٹ کے نئے ریکارڈ قائم کیے اور پاکستان کو اقوام عالم میں ذلت و پسماندگی میں پہلے نمبر پر لے آئے۔ جہاں دیگر معاملات میں حکمران طبقہ نے ناانصافی و کرپشن کا مظاہرہ کیا وہاں قانون میں موجود لچک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبائی دارالحکومتوں سے دور پسماندہ علاقوں کے ان پڑھ عوام کے جائز حقوق غصب کیے اور ان کے حصے کے وسائل اور دولت کو صوبائی دارالحکومتوں پر لٹا دیا۔ اس عمل سے دارالحکومتوں میں رہنے والے عام آدمی کو اس سے کوئی فائدہ نہ پہنچا۔ طبقہ امراء اور ان کے حاشیہ نشین ہی فیضیاب ہوئے۔ بڑے شہروں کے پراجیکٹس اور نئی بنی ہوئی سڑکوں کی ادھڑی حالت اور گڑھے بر سر اقتدار طبقہ کی کرپشن کی کہانیاں سناتے ہیں اس کیلئے کسی ایک صوبہ کی قیادت کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا بلکہ اس حمام میں مرکزی و صوبائی قیادت سبھی ننگے ہیں۔