wakeel-anjum

معیشت کی اصلاح کا مثبت پیغام

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے معیشت اور سلامتی کے سیمینار میں فکر انگیز باتیں کی ہیں انہوں نے اپنے خطاب میں جو سوال اُٹھائے ہیں وہ خاص حد تک درست ہیں۔ اُن کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ ’’معیشت میں ترقی ہوئی ہے مگر قرضے بھی آسمان کو چھو رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے جہاں کشکول توڑنے کی بات کی ہے وہاں یہ بات بھی کی ہے ’’مضبوط معیشت سے ہی جارحیت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے‘‘۔ آرمی چیف نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کو شروع سے ہی بحرانوں کا سامنا رہا ہے۔ ہم دنیا کے سامنے سب سے غیر مستحکم خطے میں رہتے ہیں جبکہ دشمن پاکستان کو ناکام بنانا چاہتا ہے۔ پاکستان کو افغانستان اور بھارت سے خطرہ ہے۔ اس طرح آرمی چیف نے بیانیہ میں بہت سے باتیں درست کی ہیں۔ اگر آرمی چیف صاحب پاکستان کے سیاسی استحکام اور سول حکومتوں کو مضبوط بنانے کی بات کرتے تو ان کا پاکستان کی سکیورٹی کے حوالے سے تجزیہ کافی درست ہوتا ۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے سپہ سالار کی تقریر کا کچھ اور مطلب نکالا ہے وہ سمجھتے ہیں یہ ایک طرح کی وہی تقریر ہے جو نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے کی تھی جس کے ذریعے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لیے حق حکمرانی مانگا گیا تھا جس پر ملٹری سول تعلقات خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوا تو جہانگیر کرامت نے استعفیٰ دے دیا۔ مگر معیشت کے حوالے سے انہوں نے جو سوال اُٹھائے ہیں اُس میں کوئی ایسا اشارہ بھی نہیں ہے کہ فوج سول حکمرانی کے بارے میں کچھ اور سوچ رہی ہے۔ پھر اُن افواہوں کو سوشل میڈیا پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ جیسے ٹیکنو کریٹ کو ملک کی معیشت کے لیے لایا جا رہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ٹیکنوکریٹ کے کردار کو دیکھا جائے تو انہیں کافی مواقعے ملے ہیں۔ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد ٹیکنو کریٹس نے ملک کے اقتدار اعلیٰ پر قبضہ کر لیا۔ غلام محمد جو خزانے کا جادوگر کہلاتا تھا وہ کسی مینڈیٹ کے بغیر گورنر جنرل کے عہدے پر فائز ہو گیا۔ گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین جو قائداعظم کے انتقال کے بعد جمہوری انداز سے گورنر جنرل بنے تھے، ان کو پہلے وزیراعظم بنایا گیا پھر اینٹی امریکہ کی تہمت لگا کر انہیں وزیراعظم کے عہدے سے فارغ کر دیا اور بیورو کریسی کا انقلاب مکمل ہوا۔ ٹیکنو کریسی کے امام غلام محمد نے پاکستان کی معیشت، وقار اور جمہوریت کو جس طریقے سے ٹھکانے لگا دیا وہ ہماری تاریخ کا شرمناک باب ہے۔ ان کے دور میں پاکستان کا معاشی بحران اتنا شدت اختیار کر گیا کہ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ ’’سیٹو‘‘ معاہدہ کرنا پڑا جس کے عوض پاکستان کو امریکہ نے بھاری مقدار میں گندم دی تھی۔ ایوب خان اس زمانے میں سپہ سالار تھے ۔ اسکندر مرزا جو پولیٹیکل سروس کے آئی سی ایس افسر اور سیکرٹری دفاع تھے، غلام محمد نے ٹیکنو کریٹس کی حکومت کو مضبوط بنانے کے لیے انہیں وزارتوں میں شامل کر لیا بلکہ 1954ء میں غلام محمد نے ایوب کو آفر کی کہ ملک کا نظام درست کرنے کے لیے حکومت میں آجائیں اور اپنی مرضی سے انتخابی عمل مکمل کریں۔ اس ساری حکمت عملی کے باوجود پاکستان کی معیشت کی اصلاح نہ ہوئی۔ ہوتی بھی کیسے جو جس کا کام نہیں ہوتا جب وہ کرتا ہے تو اپنا کام بھی خراب کر بیٹھتا ہے اور ایسا ہی 1958ء تک ہوا۔ ایوب خان نے مارشل کے ذریعے اقتدار لیا تو کابینہ میں آدھے فوجی اور آدھے سویلین کا تجربہ کیا گیا جو کامیاب نہ ہو سکا۔ سب سے اہم بات جو لوگ 1958ء کے مارشل لاء کا سبب بنے اُن کو تو کچھ نہیں کہا گیا مگر بچارے سیاست دانوں کی شامت آئی۔ پاکستان میں صرف ایک سیاست دان تھا اس کا نام تھا حسین شہید سہروردی۔ انہوں نے پہلی مرتبہ پارلیمانی نظام کے حق میں آواز اٹھائی تو ایوبی آمریت کے کارندوں نے اُن کے جلسے اور جلوسوں پر حملے کیے، معیشت کی اصلاح کے لیے کمیشن پر کمیشن بنے، زرعی اصلاحات نافذ کیں لیکن ان کے دور میں بھی عوام کی زندگی بہتر نہ ہو سکی پھر معیشت کی اصلاح کے لیے ایک پاکستانی نژاد امریکی محمد شعیب کو لایا گیا۔ وہ بھی ناکام ہو کر واپس چلا گیا۔ بھٹو دور میں پاکستان کی معاشی تباہی کا ذمہ دار 22 خاندانوں کو قرار دیاگیا۔۔۔ ان کے کارخانے ضبط، گرفتاریوں اور پاسپورٹ ضبط کرنے کے باوجود بھٹو عوامی لیڈر تو بن گئے مگر عوام کو ایٹم بم بنانے میں الجھا دیا ۔ اور روٹی ، کپڑا اور مکان عوام کو نہ مل سکا۔ ضیاء الحق کا مارشل لاء آیا تو ملک کی سکیورٹی، دفاع، سیاسی اور معاشی استحکام کے نام پر اپنی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ٹیم کے باوجود ملک کو استحکام نہ دے سکے۔ اُن کے دور میں نہ صرف سیاچن ہاتھ سے گیا بلکہ سندھ میں علیحدگی پسند تنظیموں کو ابھرنے کا موقع ملا۔ ضیاء الحق دنیا سے رخصت ہوئے تو سیاست دانوں کی ٹانگ کھینچ سیاست نے ہماری قسمت میں معین قریشی لکھ دیا جس کے آباء و اجداد تو پاکستان تھے مگر وہ دنیا میں ورلڈ بینک کے نمائندے کی حیثیت سے پہچانے گئے۔ اُن کا اصل کام تو یہ تھا کہ وہ اپنے نگران دور حکومت میں ملک کی معیشت درست سمت کی طرف چلا دیں مگر انہوں نے پہلے تو اپنا رنگ دکھایا۔۔۔ قوم کا خزانہ لوٹنے والوں کو بے نقاب کیا فہرستیں شائع ہوئیں مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔ جنرل (ر) شاہد عزیز نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ پرویز مشرف کا نواز شریف کے خلاف انقلاب درست نہیں تھا۔ نواز شریف کو ہٹانے کا منصوبہ تو مشرف نے پہلے ہی بنا لیا تھا مگر ہوا کیا ہماری عدلیہ نے اس کے نام نہاد انقلاب کو تسلیم کر لیا۔ مگر اس سے پہلے ہی ٹیکنوکریٹ حکومت آ چکی تھی۔ شوکت عزیز جو ورلڈ بینک کا تجربہ رکھتے تھے وہ مشرف دور آتے ہی وزیر خزانہ بن گئے۔ ایک طرف مشرف نے بے رحم انقلاب کی بات ہی نہیں کی بلکہ کھربوں روپے نکلوانے کے لیے لوگوں کو محض نشانہ بنایا تو سیاست دانوں سے کچھ نہ نکلا۔ ’’نیب‘‘ کا ادارہ بنایا، اس ادارے کے پہلے سربراہ پر ہی کرپشن کے الزامات لگ گئے۔ شوکت عزیز نے احتساب کے برابر کر دیا، کالا دھن وائٹ کرنے کی دوسکیمیں پھر متعارف کرائیں پھر نیب کا رخ صرف اینٹی حکومت سیاست دانوں کی طرف مڑ گیا۔ شوکت عزیز وزیراعظم کے عہدے تک جا پہنچے ۔ انہوں نے اعداد و شمار میں تو معیشت کو درست کر دیا مگر حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہوا۔ مشرف دور میں شوکت عزیز کی لوٹ مار کی کہانی کا اختتامی سین اس طرح انجام کو پہنچا کہ پاکستان کی سٹیل مل کو پرائیویٹ کرنے کے نام پر جتنی قیمت پر مل فروخت کی گئی تھی اتنا تو اس میں خام مال تھا۔ سپریم کورٹ نے نوٹس لیا اور سودا منسوخ ہوا۔ مشرف اور شوکت عزیز چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ہو گئے پھر جو کہانی لکھی گئی اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ الیکشن 2008ء سر پر آ گیا۔ شوکت عزیز نے اپنا بیگ اُٹھایا اور چلتے بنے۔ اس لیے جو لوگ ٹیکنو کریٹس کی حکومت کے ذریعے سیاست دانوں کو نکالنا چاہتے ہیں اور اس کی جگہ پسند کی حکومت لانا چاہتے ہیں اُن کو اندازہ نہیں ہے کہ اب ایک تو ماضی وہ نہیں ہے جس کی
وہ آرزو رکھتے ہیں۔ پھر بے رحم احتساب کرنے والے کس طرح کا احتساب کریں یہ کہانی تو ’’نظریۂ ضرورت ‘‘ سے شروع ہوتی ہے۔ جب کسی مقدمے میں مصلحت یا نظریہ ضرورت آ جائے بھلے وہ کتنا ہی درست ہو اُس کے نتائج درست نہیں۔ پھر اس نظریہ میں ایوب خان کا حق حکمرانی مانا گیا مگر عوام نے ان کی آمرانہ حکومت کو مینڈیٹ نہیں دیا۔ جب اُن کے خلاف سڑکوں پر نعرے لگے تو انہیں بھاگنا پڑا،
یحییٰ خان نے 1962ء کا آئین توڑنے والے تھے کہ اس کی جگہ لے لی۔ دلچسپ بات یہ ہے جس سول ڈکٹیٹر اسکندر مرزا نے 1956ء کے آئین کو غیر ضروری قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ اُس کو مرنے کے بعد پاکستان کی سرزمین پر دفن نہ ہونے دیا تھا۔ نظریۂ ضرورت کے تحت حکومت کا حق ملنے کے باوجود ضیاء الحق اور مشرف آج کہاں کھڑے ہیں۔ خود سپہ سالار اب اس نظریے سے دور بھاگتا ہے مگر کچھ خود غرض سیاستدان سپہ سالار کے خود ساختہ ترجمان بن کر حکومت کو ڈراتے رہتے ہیں مگر ان کے تازہ تجزیے سے ہمیں کسی جگہ محسوس نہیں ہوا کہ انہوں نے کوئی ایسا اشارہ دیا ہے ۔ انہوں نے تو جمہوری ادارے سے مل کر آگے بڑھنے کی بات کی ہے۔ پاکستان کی معیشت کے اشاریوں اور قرضوں کی جو بات سپہ سالار نے کی ہے پاکستان کے لیے حالات نارمل نہیں ہیں خاص طور پر مشرف نے پاکستان کو جس بے فائدہ جنگ میں دھکیلا تھا آج ہم اس میں جل رہے ہیں اور آج ہم حالت جنگ میں ہیں ۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف تو کہتے ہیں ، ہمیں اپنے گھر کو درست کرنا چاہیے۔