Dr-Murtaza-Mughal-new

معاشی ناہمواری:جرائم اور بغاوت کو جنم دیتی ہے

یہ المیہ ہے کہ جدت، تہذیب، جمہوریت، بنیادی انسانی حقوق اور عام شہری کی بہبود کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود 21ویں صدی میں بھی تیسری دنیا کے اکثر ممالک کے غریب اور محروم طبقا ت سے تعلق رکھنے والے شہری زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ جہاں تک وطنِ عزیز کا تعلق ہے تو بدقسمتی سے مجموعی طور پر صورتحال کو یہاں بھی لائق رشک قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم یہ امر غنیمت ہے کہ وطنِ عزیز کی اکثریتی آبادی مسلمان ہے۔ اسلام کے پیروکاروں کی حیثیت سے آبادی کی اکثریت میں غریب، محروم اور نادار طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی امداد و بحالی کا جذبہ قوی اور توانا ہے۔ اس قوی اور توانا جذبہ کو بروئے کار لا کر وہ اکثر و بیشتر معاشرہ میں حوصلہ افزا اقدار و روایات کو متعارف کرواتے رہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ قدرت کسی ایک فرد کو اپنے وسائل اور اسباب اس لیے عطا کرتی ہے تاکہ وہ انہیں ان لوگوں تک پہنچا سکیں، براہِ راست جن کی رسائی ان تک نہیں۔ اس ضمن میں اسلام کا بنیادی درس یہی ہے کہ اس کے پیرو کار معاشرے میں غربت اور ناہمواری کے خاتمے کے لئے ایثار و قربانی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ یہ بات اسلام کو دیگر ادیان و مذاہب سے اس لئے بھی متمیز کرتی ہے کہ اس کے پیرو کار غریب اور مستحق افراد کی مدد کر کے کبھی کسی قسم کے زعمِ بے جا اور احساسِ برتری میں مبتلا نہیں ہوتے بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حقداروں تک ان کا حق پہنچا دیا ہے۔ قرآن واشگاف الفاظ میں اس امر کی نشاندہی کرتا ہے ’’اور ان کے مالوں کے اندر سائل اور محروم لوگوں کا حق ہے‘‘ قرآن ان لوگوں کو سخت وعید کا مورد ٹھہراتا ہے جو اللہ کے راستے میں انفاق نہیں کرتے اور اپنے سرمائے اور دولت کو اپنی ذات تک مرکوز رکھتے ہیں۔ سرمائے اور وسائل کا ارتکاز کرنے والے انسانوں کے لئے درد ناک عذاب کی بشارت ہے۔ ارتکازِ زر اور تکاثرِ زر کو قرآن کسی بھی ایک فرد یا گروہ کی ہلاکت کا موجب ٹھہراتا ہے۔ اس طرح اسلامی معاشرہ اور مملکت میں اس قسم کی بے نفسانہ اور بے لوثانہ اقدار و روایات فروغ پاتی ہیں، جن کے تحت اصحابِ خیر اور اصحابِ تمول اپنی دولت و ثروت کو اپنی کسی قابلیت، مہارت یا اہلیت کا شاہکار قرار نہیں دیتے بلکہ اسے خدا کی ایک خصوصی عطا سمجھتے ہیں اور اس پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ اس بخشش و عطا میں معاشرے کے ہر نادار اور غریب شہری کا بھی حصہ ہے۔ سو وہ معاشرے اور مملکت کے غریب اور مستحق شہریوں کی مدد کرنا اپنا فرضِ منصبی جانتے ہیں۔ زکوٰۃ و عشر سے حاصل ہونے والی رقم کا بنیادی مقصد بھی معاشرے سے ناداری اور ناہمواری کا خاتمہ ہے۔
یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہوگا13 برس قبل قومی اسمبلی میں پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں اس دور کے وفاقی وزیر تجارت نے ایوان کو بتایا تھاکہ ’’پاکستان نے امریکا سے گزشتہ برس 1.286 ارب ڈالر کی مختلف مصنوعات درآمد کیں، جن میں میک اپ کے سامان پر 70کروڑ ڈالر خرچ کئے گئے جبکہ اسلحہ، مشینری اور کمپیوٹر سمیت دیگر اہم مصنوعات پر صرف 586ملین ڈالر کے اخراجات آئے۔‘‘ قومی حلقوں کے نزدیک وفاقی کابینہ کی ایک ذمہ دار ترین شخصیت کا یہ تحریری جواب ایک لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تحریری جواب ہماری ترجیحات کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ درآمد کیا گیا میک اپ صرف ارباب حکومت اور ان کے لواحقین ہی کے تصرف و استعمال میں نہیں آیا بلکہ مقامی سطح پر بھی اس کی طلب موجود تھی۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ درآمدی قیمتی میک اپ کو معاشرے کے کونسے طبقات اپنا سٹیٹس سمبل گردانتے ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ وہ معاشرہ اورمملکت جہاں 9 کروڑ سے زائد افراد کی روزانہ آمدن ایک اور دو ڈالر کے درمیان ہے، وہاں یہ کون لکھ لٹ ہیں جو درآمدی میک اپ پر تقریباًسوکروڑ ڈالر کا خطیر سرمایہ اڑا رہے ہیں۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتاہے کہ کیا پاکستان ایسے مفلوک الحال اور کنگال ملک کو زیب دیتا ہے کہ وہ ان تعیشات پر قیمتی زرمبادلہ کا ضیاع کرے۔ نیز یہ کہ ہر لحاظ سے پسماندہ ملک کے بالائی اور متمول طبقات کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہئے۔ انہیں یہ حقیقت ہر لحظہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ان کا بالاپن اور تمول صرف اور صرف اس ملک کا مرہون منت ہے۔ بالائی متمول طبقات جب اس قسم کے تعیشات پر خطیر سرمائے کا صرف بیجا کرتے ہیں تو محروم طبقات میں احساس محرومی مزید گہرا ہوجاتا ہے۔ یہ تو ایک ماہر اقتصادیات ہی بتا سکتا ہے کہ 13برس قبل ستر کروڑ ڈالر کے خطیر سرمائے سے ملک میں کتنے ہسپتال، بنیادی مراکز صحت اور پرائمری سکولوں کا قیام عمل میں لایا جا سکتا تھا۔ سرخی پاؤڈر، کریم، پرفیوزم، آفٹر شیو لوشنز، شیمپو اوردیگر اسی قسم کی مصنوعات وطن عزیز میں بھی تیار ہو رہی ہیں۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ یہ مصنوعات معیار میں بھی درآمدی مصنوعات سے کسی بھی طرح کم نہیں۔ بس ایک احساس مرعوبیت ہے، جس کے تحت ہمارے عرشی طبقات پینے کا پانی تک بھی درآمد کرنے سے باز نہیں آتے۔ اندریں حالات استحصال گزیدہ محروم طبقات کے ہاں شدید قسم کا پایا جانے والا احساس محرومی اگر بغاوت کے جذبات کیلئے قوت محرکہ بن جائے تو اس پر کسی بھی ماہر عمرانیات کو تعجب نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ جب معاشرے میں معاشی ناہمواری ایک خاص سرحد پھلانگ جاتی ہے تو اس کے بعد معاشرے پر یا تو باغیوں کی گرفت ہوا کرتی ہے یا جرائم پیشہ عناصر کی۔ بدترین قسم کا احساس محرومی اور غربت ہی جرائم کو جنم دیتے ہیں۔ ستم یہ کہ 1985سے تا دمِ تحریر پرائم منسٹر ہاؤس کی اندرونی تزئین و آرائش کی صرف اس ایک مد میں150رب روپے سے زائد کا عوامی و قومی سرمایہ انتہائی سفاکی اور بیدردی سے اُڑایا جا چکا ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر یہی150رب روپیہ غریب، نادار اور بیروزگار نوجوانوں کو ایک لاکھ روپیہ فی کس کے حساب سے 2فیصد مارک اپ پر دیا جاتا تو اب تک 15لاکھ نوجوان معاشی خود کفالت اور اقتصادی خود انحصاری کی منزلِ مراد حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہوتے اور سرکاری خزانے میں سالانہ2 فیصد کے حساب سے اربوں کا منافع بھی جمع ہوتارہتا نیز یہ کہ اصل رقم بھی محفوظ رہتی۔