khalid irshad sufi

مصنوعی ذہانت

پروفیسر سٹیفن ہاکنگ کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔ وہی جو اپاہج ہیں۔ بات بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن اس دور کے ایک لجند ہیں۔ وہ اظہار خیال کے لئے ایک مشین استعمال کرتے ہیں ۔ ان کی گفتگو کے لیے جس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے وہ مشینی و مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے ‘جبکہ سوچنے کی صلاحیت رکھنے والی مشینوں کی تیاری کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ بقائے انسانی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مکمل مصنوعی ذہانت کی ترقی انسانی نسل کا خاتمہ کر دے گی۔ان کے الفاظ یہ ہیں ’ ’ایک دفعہ انسانوں نے اسے بنا لیا تو اس کی ارتقا کا عمل خود ہی آگے بڑھتا رہے گا اور انسان اپنے سست حیاتیاتی ارتقاکی وجہ سے اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے‘‘۔
یہ مصنوعی ذہانت ہے کیا؟ کوئی مشین یا کوئی سافٹ ویئر جس ذہانت کا مظاہرہ کرتا ہے‘ اسے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کہا جاتا ہے۔ اسے مصنوعی اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ نہیں ہوتی بلکہ انسانی سوچ کی پیدوار ہوتی ہے۔ یہ ایک الگ نوعیت کا مظہر ہے اور کسی سافٹ ویئر کو مصنوعی انٹیلی جنس کا حامل قرار دینے کے لئے اس میں کچھ مخصوص خصوصیات کا ہونا ضروری ہے‘ جسے کسی مشین کا کسی مسئلے کی وجہ خود تلاش کر نا اور اسے حل کر لینایا کسی معاملے کی کمی بیشی کو سمجھ لینا۔ اگرچہ اس وقت تک مصنوعی ذہانت کی حامل جتنی بھی مشینیں تیار کی گئی ہیں‘ وہ ان مسائل کو سافٹ ویئر میں دےئے گئے پیرامیٹرز (محدودات)کے تحت ہی حل کر سکتی ہیں‘ یعنی اپنی طرف سے کچھ نہیں کر سکتیں ‘ البتہ جس تیزی سے یہ شعبہ ترقی کر رہا ہے‘ کچھ بعید نہیں کہ مستقبل میں ایسی کوئی مشین تیار کر لی جائے‘ جو خود سوچے‘ سمجھے اور مسائل حل کرے اور اسے مزید ترقی کے لئے انسانی مدد کی ضرروت نہ رہے۔ آج کل جو نئی نئی ایجادات ہو رہی ہیں‘ ان میں بہت سے روبوٹ شامل ہیں اور دوسری مشینیں جو خود کار طریقے سے کام کرتی ہیں۔سب اے آئی (Artificial intelligence) والی مشینیں ہیں۔ آج کل آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو کمزور مصنوعی ذہانت کہا جاتا ہے‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ محدود اہداف پورے کرنے کے لئے وضع کی گئی۔ اس حوالے سے جو ریسرچر دماغ لڑا رہے ہیں‘ ان کا ہدف مضبوط مصنوعی ذہانت پیدا کرنا ہے اوردراصل یہی مضبوط یا سٹرونگ مصنوعی ذہانت ہے‘ جس کے انسانی نسل کے لئے تباہ کن ثابت ہونے سے بہت سے سائنس دان اور دانش ور خبر دار کر رہے ہیں‘ پروفیسر سٹیفن ہاکنگ‘ جن میں سے ایک ہیں۔ مصنوعی ذہانت کس تیزی سے ترقی کر رہی ہے اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ حال ہی میں چین کی ایک سمارٹ فون بنانے والی کمپنی نے ایک ایسا فون تیار کیا ہے جس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس فیچرز موجود ہیں‘ یعنی یہ فون بہت سے کام خود کار طریقے سے کرے گا۔ مطلب یہ معاملہ محض روبوٹوں اور مشینوں تک محدود نہیں بلکہ موبائل فونوں سے لے کر ٹرینوں‘ ہوائی جہازوں‘ ٹیلی وژن اور ریفری جریٹروں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس شعبے میں جس تیزی سے اور جس شدت کے ساتھ کام ہو رہا ہے‘ وہ دن دور نہیں لگتا جب ایسے سافٹ ویئر‘ کمپیوٹر اور مشینیں تیار کر لی جائیں‘ جو پوری کی پوری فیکٹری چلا سکیں‘ یعنی مکمل طور پر خود کار۔ ہو سکتا ہے پھر ایسا وقت آئے کہ فیکٹری کا مالک رات کو فیکٹری ان مصنوعی ذہانت والی مشینوں کے حوالے کر کے جائے اور صبح جب آئے تو ڈھیروں متعلقہ پروڈکٹس تیار جا چکی ہوں۔
مصنوعی انٹیلی جنس کی اصطلاح نئی محسوس ہوتی ہے‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ٹرم کا استعمال سب سے پہلے آج سے 64برس قبل 1955-56 میں اسی موضوع پر ہونے والی کانفرنس میں کیا گیاتھا اور یہ اصطلاح گھڑنے وال کوئی ایک شخص نہیں تھا بلکہ یہ اصطلاح چند افراد نے مل کر پیش کی‘ جن کے نام تھے: جان میکارتھی‘ مارون منسکی‘ ایلن نیوویل ‘ ہربرٹ اے سمن۔ بہرحال ان میں سے جان میکارتھی کو ‘ جو ایک کمپیوٹر سائنس دان تھا‘ کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔بہرحال اس وقت یہ ایک خیال ایک سوچ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس 26جون 2001کو بنائی گئی۔ آج یہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں استعمال کی جا رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے ایشو سے ہالی ووڈ کی فلمیں بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں۔ اس موضوع پر اب تک کئی فلمیں بن چکی۔ ہیںیہ فلمیں دیکھنے سے آپ کو آئی اے یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو سمجھنے میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔ کلیوربوٹ نامی ایک سافٹ ویئر کی بناوٹ ایسی ہے جیسے عام انسان آپس میں بات کرتے ہیں۔یہ سافٹ ویئر ماضی کی گفتگو سے سیکھتا ہے اور ٹیورنگ ٹیسٹ کے دوران اس نے بہت زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں۔ اس سافٹ ویئر کی خاصیت یہ ہے کہ یہ لوگوں کو دھوکا دے سکتا ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دوسرے انسانوں سے بات کر رہے ہیں‘ حالانکہ وہ روبوٹ سے بات کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک ایسا سوفٹ ویئر تیار کیا گیا ہے جو بینائی سے محروم افراد کو یہ بتائے گا کہ ان کے سامنے موجود تصویر دراصل کس چیز کی ہے۔اس انقلاب کے پیچھے ایک فیس بک انجینئرمیٹ کنگ کا ہاتھ ہے، جو اپنی بصارت کھو بیٹھا تھا۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ روبوٹس مختلف کاموں میں آسانی فراہم کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں مگر مستقبل میں نوکریوں کی بڑے پیمانے پر کمی کا سبب بن سکتے ہیں ساتھ ہی جرائم پیشہ تنظیموں کے استعمال میں بھی آسکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے دہشت گردی بڑھ نہ جائے گی۔