riffat mazhar

مسائل میں گھِرا شعبہ طِب

لندن میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے فرمایا کہ پنجاب حکومت صحت کے شعبے میں بہتری لائی ہے۔ زمینی حقائق مگر اِس کی تصدیق نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا شعب�ۂصحت میں تبدیلی ڈاکٹرزکے بغیر لائی جا سکتی ہے؟۔ اگر نہیں تو پھر ڈاکٹرز تو گزشتہ 9 سالوں سے سڑکوں پر ہیں اور شاید یہ دُنیا کا سب سے طویل تصادم ہے جو ’’ینگ ڈاکٹرز‘‘ اور شعبۂ صحت کے بیوروکریٹس کے مابین جاری ہے ۔اِس تصادم میں کئی مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔مسائل کا حل وسائل سے تلاش کیا جاتا ہے اور بِلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ہے۔ اگر اربوں کھربوں روپے صَرف کرکے اوورہیڈز اوراَنڈر پاسز بنائے جا سکتے ہیں، سڑکوں کا جال بچھایا جا سکتا ہے، میٹروبَس اور اَورنج لائین منصوبے پایۂ تکمیل تک پہنچائے جا سکتے ہیں تو کیا پاکستان میں بین الاقوامی معیار کاصرف ایک ہسپتال بھی نہیں بنایا جا سکتا۔
خادمِ اعلیٰ صاحب اپنی کینسر میں مبتلاء بھابی ،محترمہ کلثوم نواز کی بیمار پُرسی اور اپنے میڈیکل چیک اَپ کے لیے لندن گئے تھے۔ اِس سے پہلے میاں نوازشریف کا علاج بھی لندن ہی میں ہوااور بیوروکریٹس کا تو یہ عالم ہے کہ اُنہیں یا اُن کے بچوں کو اگر چھینک بھی آجائے تو وہ علاج کی خاطر بیرونی ممالک میں بھاگ جاتے ہیں۔ اگر میاں شہباز شریف کے مطابق پنجاب کے شعبۂ صحت میں بہتری آئی ہوتی تو یہ لوگ بیرونی ممالک کی بجائے پاکستانی ہسپتالوں میں ہی اپنا علاج کرواتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہسپتالوں کی حالتِ زار دیکھ کر سَرپیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ جس کی جیب میں چار پیسے ہیں ،وہ سرکاری ہسپتالوں کا نام سُنتے ہی کانوں کو ہاتھ لگانے لگتا ہے، جہاں عالم یہ ہے کہ جابجا گندگی کے ڈھیر، ادویات کی عدم دستیابی ،مشینری ناقص وناکارہ اور طِبی عملے کی شدید کمی۔ خادمِ اعلیٰ کے دعوے تو بہت بڑے بڑے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں تو مریضوں کے لیے ’’بیڈز‘‘ تک دستیاب نہیں۔ ایک ایک بیڈ پر دو، دو اور بعض اوقات تین ،تین بے یارومددگار مریض اپنے مقدر پر نوحہ خواں دکھائی دیتے ہیں اور جب کوئی مریض دارِفانی سے کوچ کر جاتا ہے تو غفلت کی’’ بَرق‘‘ بیچارے ڈاکٹروں پر گرتی ہے جن کا قصور صرف اتنا کہ اُنہوں نے ایم بی بی ایس کرنے میں اپنی زندگی کا سنہری حصّہ صَرف کر دیا اور وہ بھی پاکستان جیسے ملک میں۔
ایم بی بی ایس کی تکمیل تک پچاس سے ساٹھ لاکھ صَرف کر نے کے بعد ہم ایک ڈاکٹر کو بے یارومددگار چھوڑ دیتے ہیں اور عالم یہ کہ اُسے ’’ہاؤس جاب‘‘ کے لیے بھی جگہ جگہ دھکے کھانے پڑتے ہیں اور یہ ہاؤس جاب بِلا معاوضہ بھی نہیں ملتی ۔ اِس درد سے صِرف وہی ڈاکٹر آشنا ہو سکتا ہے جو دِل میں سہانے سَپنے سجائے جب عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو اُس کے سارے خواب چکناچور ہو جاتے ہیں۔ اپنی ناقدری کے ہاتھوں پریشان یہی ڈاکٹرز بیرونی ممالک میں ہجرت کر جاتے ہیں اور وہاں جا کر اپنی قابلیت کا لوہا بھی منواتے ہیں ۔ سبھی جانتے ہیں کہ اقوامِ عالم میں پاکستانی ڈاکٹرز کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ شنید ہے کہ خادمِ اعلیٰ سہانے سپنے دکھا کر اب اِنہی ڈاکٹرز کو واپس لانے کے لیے کوشاں ہیں ۔ ہماری دُعا ہے کہ وہ اپنے اِس مقصد میں کامیاب ہو جائیں لیکن اب شاید یہ نا ممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یہی ناقدری کا دُکھ ہمارے ڈاکٹرز کی بے چینی کا سبب ہے۔ اُس کا حل تو حکومت کے پاس موجود ہے لیکن حکومت نے یہ سب کچھ اُن بیوروکریٹس کو سونپ رکھا ہے جنہیں میڈیکل سائنس کی الف بے سے بھی واقفیت نہیں۔ عجیب بات ہے کہ یہی بیوروکریٹس اُن ڈاکٹرز کی ACR بھی لکھتے ہیں جنہوں نے اُس وقت ایم بی بی ایس کر لیا تھا جب یہ سیکرٹر ی حضرات شاید ابھی سکولوں کے طالب علم ہوں گے۔ آخر ہمارے خادمِ اعلیٰ کو صرف اتنی سی بات بھی سمجھ میں کیوں نہیں آرہی کہ ’’جِس کا کام ،اُسی کو ساجے‘‘۔ جس طرح ایک موچی آپریشن نہیں کر سکتا ،اُسی طرح ایک ڈاکٹر جوتے کا تَلا بھی نہیں لگا سکتا،چاہے وہ تُرکی ہی کا ڈاکٹر کیوں نہ ہو جس کے نقشِ قدم پر خادمِ اعلیٰ ’’ہیلتھ ریفارمز‘‘ لانے کی کوشش کرتے کرتے یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ ’’کوّا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا‘‘۔کیونکہ تُرکی میں تو شعبہ طِب وصحت مکمل طور پر ڈاکٹرز کی زیرِ نگرانی کام کر رہا ہے اور ہیلتھ سیکرٹری تک کا انتخاب بھی طِبّی ماہرین میں سے ہی کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں یہ شعبہ اُن بیوروکریٹس کے حوالے کر دیا گیا ہے جِن کی بنیادی کوالیفکیشن بی اے ہوتی ہے۔ انگریز تو برِّ صغیر سے چلا گیا لیکن ہمیں بیوروکریسی کا تحفہ دے گیا جنہیں دیکھ کر ہمیں ہر وقت اپنی غلامی کا احساس ہوتا رہتا ہے۔ شعبہ طِب وصحت ہو یا کوئی اور ،ہر جگہ ایک ’’وائسرائے‘‘ بٹھا دیا گیا ہے جس کے ذریعے اِس غلام اِبنِ غلام قوم پر حکومت کی جا رہی ہے۔ اُس وائسرائے کو پاکستان میں بیوروکریٹس کہا جاتا ہے۔
یہ بجا کہ خادمِ اعلیٰ کے نزدیک اوّلیت شعبۂ ہیلتھ کو ہے اور اِس کے لیے اربوں روپے کا بجٹ بھی مختص کیا گیا ہے لیکن طُرفہ تماشہ یہ کہ بغیر کسی پلاننگ کے یہ بجٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے بیوروکریٹس کے سپرد کر دیا گیا ہے جو اربوں روپے کے پراجیکٹس پر معمولی کوالیفکیشن والے ’’احباب‘‘ کو دھڑادھڑ بھرتی کرکے ہیلتھ کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ کسی بھی آسامی کے لیے اہلیت کا تعین یہ بیوروکریٹس اُس بندے کے حساب سے کرتے ہیں جسے پہلے ہی ’’آف دی ریکارڈ‘‘ بھرتی کر لیا گیا ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی سیٹ کے لیے ہر دفعہ ’’مطلوبہ اہلیت‘‘ اپنی مرضی سے تبدیل کر دی جاتی ہے۔ پنجاب میں ’’ہیلتھ مینیجرز‘‘ کی لاتعداد آسامیوں کے لیے مطلوبہ کوالیفکیشن کسی بھی مضمون میں ایم اے یا ایم بی اے کی ڈگری ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کے ہیلتھ پروگرام کی پلاننگ ،مینجمنٹ اور مانیٹرنگ کے لیے ’’ہیلتھ منیجر‘‘ کی آسامی کے اشتہار میں مطلوبہ اہلیت پبلک ہیلتھ ،فیملی ہیلتھ ،انٹرنیشنل ہیلتھ ،ہیلتھ ریسرچ یا اُس کے مساوی قابلیت مانگی گئی تھی۔ اب قارئین دونوں اشتہارات کا موازنہ کرکے فیصلہ خود ہی کر لیں کہ ہماری بیوروکریسی کیا ’’ہَتھ‘‘ دکھا رہی ہے ۔آخر ہمارے خادمِ اعلیٰ کو پبلک ایڈمنسٹریشن اور ہیلتھ ایڈمنسٹریشن کا فرق کون سمجھائے۔
جب ڈاکٹرز ہڑتال پر ہوتے ہیں اور ایمرجنسی تک بند ہوتی ہے تو اُس سے کئی سانحات جنم لیتے ہیں جن کی ذمہ داری سے یقیناََ ڈاکٹرز بھی مبرّا نہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ اِن مسیحاؤں کو اِس مقام تک پہنچانے والے ہاتھ کون سے ہیں ؟۔ یقیناََ ہمارے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے بیوروکریٹس اور اُن کی ناقص پالیسیاں جو ڈاکٹرز کی بے چینی کا اصل سبب ہیں۔