Roohi Tahir

محبت اور شادی

پچھلے دنوں ایک خبر پڑھی کہ ایک لڑکے اورلڑکی کو اس بات پر ان کے رشتہ داروں نے قتل کر دیا کہ انہوں نے پسند کی شادی کی تھی۔ ہمارے ملک میں یہ عام سی بات ہے کہ پسند کی شادی کو پسند نہیں کیا جاتا کیونکہ رسم رواج، مذہب اور سوسائٹی بہت سے عوامل ہیں جو پسند کی شادی کو پسند نہیں کرتے اور ہر طرح سے اس کی بجائے بچوں کو اس سے شادی پر مجبورکرتے ہیں جو انہیں پسند ہوتے ہیں اور بعد میں نہ میاں بیوی کی بنتی ہے اور نہ ہی خود پسندکرکے لائی ہوئی لڑکی پسند آتی ہے کیونکہ جب میاں بیوی میں آپس کی انڈرسٹینڈنگ نہ ہو تو سسرال والے بھی بمشکل قبول کرتے ہیں۔ اب ہم آتے ہیں ان عوامل کی طرف جو ایک جوڑے میں اپسی محبت نہ پیدا ہونے کی وجہ بنتے ہیں۔
یہ قانون فطرت ہے کہ جب انسان یا حیوان جوان ہوتا ہے۔ اپنی نسل آگے بڑھانے کے قابل ہوتا ہے تو وہ اپناجوڑا بنانے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اوراپنی زندگی کا پارٹنر ڈھونڈنا شروع کر دیتا ہے۔ انسان میں یہ شعور ہے کہ وہ لائف پارٹنر ڈھونڈتا ہے اور حیوان سیزنل مگر سارس جیسے جانور لائف پارٹنر ہی ڈھونڈتے ہیں۔ آج ہم انسانی جوڑوں کی بات کرتے ہیں۔ اکثر بچے پندرہ سولہ سال کی عمر میں جنس مخالف کی سمت ڈائریکٹ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے صرف اس کشش کو محبت کا نام دے دیتے ہیں۔ یہ کشش اکثر ساتھ رہنے والے یا ایک شہر اور ملک کے لوگوں میں ہوتی ہے۔ بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی انسان کسی دوسرے انسان سے محبت کر بیٹھے جو اس کی دسترس میں نہ ہو۔ محبت ایک عجیب طرح کی کیمسٹری کا نام ہے جو دو انسانوں کے بیچ ہوتی ہے۔ اس میں شکل، عقل اور رتبہ سب ثانوی ہو جاتا ہے۔ یہ قدرت کی طرف سے دیا گیا ایک ایساعطیہ ہے جس پر کوئی بحث کوئی اصول لاگو نہیں آتا۔ کہتے ہیں کہ ایک راستے سے محبت دل میں داخل ہوجاتی ہے دوسرے راستے سے عقل دل سے باہر نکل جاتی ہے۔ اس لئے پسند کی شادی پر ایک اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ لڑکے لڑکی کا معاشرتی سٹیٹس نہیں ملتا۔ یہ بھی صرف ایشیا کی مشکل ہے کہ یہاں شادی میں خاندان شامل ہوتے ہیں کیونکہ یورپ وغیرہ میں بغیرمحبت کے شادی کا تصور ہی نا ممکن ہے۔ ہمارے ہاں کیونکہ ابھی تک مشترکہ خاندانی نظام ہے اس لیے ایسی لڑکی سے شادی کو ضروری خیال کیا جا تا ہے جو شوہر سے زیادہ خاندان سے مطابقت رکھتی ہو اور بعد میں جب خاندان والے بکھر جاتے ہیں تو میاں بیوی کا زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم آج اپنے معاشرے میں ان عوامل کا جائزہ لیتے ہیں جن کی بنا پر ہم رشتہ طے کرتے ہیں اور لڑکے لڑکی کی پسند کی شادی کی مخالفت کرتے ہیں۔
سب سے پہلے تو معاشرتی برابری ہے، اکثر شادی کرتے ہوئے اپنے جیسے یا خود سے اوپر خاندان کو دیکھا جاتا ہے۔ اگر لڑکے کی اپنے گھر میں چلتی ہو تو وہاں تو پھر بھی کمتر خاندان کی لڑکی قبول کر لی جاتی ہے مگرجہاں تک لڑکی کا سوال ہے، اس کا یہ جرم ناقابل معافی ہوتا ہے کہ وہ کسی کمتر خاندان کے کسی لڑکے کو پسند کرلے۔ اول تو اس لڑکے سے لڑکی کو شادی ہی نہیں کرنے دی جاتی۔ اگر لڑکی گھر سے بھاگ کے یا زبردستی شادی کرلے تو اس پر زندگی تنگ کر دی جاتی ہے اور جس جگہ وہ چھپ کر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ اکثر وہاں جا کر ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔ پڑھے لکھے طبقے میں یہ کم ہے مگر ہمارے گاؤں اور دیہات میں کافی زیادہ ہے اور اس کی رسم ورواج سے زیادہ وجہ گاؤں میں چھپے ہوئے مفادات ہوتے ہیں۔ جیسے کسی لڑکی پر اس کے تایا یا چچانے جائیداد کے لئے نظر رکھی ہوتی ہے اور زمین کی وجہ سے اس کی شادی باہر نہیں کرنے دیتے اور بچن سے ہی اس لڑکی کو اپنا حق تسلیم کرتے ہیں اورلڑکی کی ماں سے اگر سسرال میں اچھا سلوک نہ ہوا ہو تو وہ عورت اپنی بیٹی کو اپنے سسرال کے خلاف کرتی رہتی ہے اور اگر لڑکی زیادہ پڑھ لکھ جائے تو لڑکی باغی ہو جاتی ہے اور اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتی ہے ۔
کیونکہ وہ جاہل لڑکا جو اس پر اور اس کی جائیداد پر حق جما کر بیٹھا ہوتا ہے اس کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ دوسری طرف وہ خاندان اور غیرت کا مسئلہ دراصل جائیداد اور ملکیت کا مسئلہ ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی لڑکی کی پڑھائی کے وقت اس لڑکے یا اس بات کی مدد کی جاتی ہے کہ وہ اس کااحسان چکانے کے لئے بھی رشتہ کو حق سمجھا جاتا ہے۔ بدلے کی شادی بھی ہمارے معاشرے کی برائی ہے۔ اپنی بیٹی کو بسانے کے لئے بھی بہت سے خاندان دوسرے کی بیٹی کو اپنے دباؤ میں رکھنے کے لئے شادی کر لیتے ہیں۔ غیرت اور عزت کے پیچھے مال ودولت کی کئی کہانیاں وابستہ ہیں۔ انسانی فطرت اور انسانی زندگی زیادہ اہم ہے۔ خاندان، جائیداد اور عزت انسانی زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں۔ اگر کوئی لڑکا لڑکی اپنی پسند کی شادی کرتے ہیں تو وہ زبردستی کی شادی سے زیادہ اپنے گھر کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور تھوڑی بہت کمی کو بھی درگزر کرجاتے ہیں۔ ہاں ماں باپ کا فرض ہے کہ یہ ضرور دیکھ لیں کہ لڑکا لڑکی دین دار ہیں۔ ذمہ داریاں پوری کرنے کے قابل ہیں اور ایک دوسرے کااحترام کرتے ہیں اور بزرگوں کی عزت کرنے کے قابل ہیں۔ پسند کی شادی جرم نہیں۔ جرم اچھے بھلے گھر کو اجاڑناہے اور انسانی جانوں کو صرف اس لئے قتل کرنا ہے کہ انہوں نے ذات برادری کے باہر شادی کی یا اپنے رتبہ یا سٹیٹس کے مطابق شادی نہیں کی۔ کیونکہ آج کل وہ لڑکے جو زندگی میں کچھ نہیں کر سکتے، امیر گھروں کی لڑکیوں کو اپنے چنگل میں پھنسا لیتے ہیں اور آسان زندگی کے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ اسی طرح اونچے گھر کی بہوکے شوق میں اکثر لڑکیاں ساری زندگی رورو کر گزار دیتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ اپنے جیسے لوگوں میں شادی کی جائے، زندگی آسان اورسہولت سے گزرتی ہے۔
اللہ آپ کا حامی وناصر ہو اپنا خیال رکھیں۔