wakeel-anjum

مجیب الرحمان کے چھ نکات اور چھ ارکان کی جے آئی ٹی

غلام مصطفی کھر جو اپنی طویل سیاسی زندگی میں سیاسی پارٹیاں اور شادیاں بدلنے کی شرت رکھتے ہیں آجکل وہ تحریک انصاف میں شامل ہیں انہوں نے تازہ بیان سوچ سمجھ کر دیا ہے۔ عمران خان کی صورت میں قوم کو ایک بھٹو مل گیا ہے ۔ وہاں انہوں نے میاں نواز شریف سے درخواست بھی کی پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر سازش کرنے والوں کے نام بتائیں۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف ایک بار تو یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ میرا دل چاہتا ہے کہ سارے راز فاش کر دوں اس کے باوجود حکومت سازشی عناصر کے ذکر کے ساتھ ساتھ کٹھ پتلیوں کا ذکر تو کرتے ہے ہیں مگر اس میں فوج کا نام لے کر کہیں زکر نہیں کیا گیا۔ البتہ آئی ایس پی آر کے سربراہ نے پانامہ کیس کے حوالے سے فوج پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے’’ سازش کے سوال کا جواب ہی نہیں بنتا، اہم بات یہ ہے کہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جینس کے نمائندے بھی شامل تھے جن کے بارے میں تنازع اس وقت شروع ہوا جب حسین نواز کی تحقیقات کے دوران ایک تصویر لیک ہوئی۔ جسے آئی ٹی کے سربراہ نے تصویر جاری کرنے والے کی شناخت تو کر لی مگر اس کا نام اور اس کے بارے میں کارروائی کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کے بعد کیا ہوا جس سے کئی سوالات اٹھنا شروع ہو گئے کیوں کہ آئی ایس آئی جو دنیا میں پاکستان کی محافظ مانی جاتی ہے اس کے اس کردار کو سب مانتے ہیں البتہ اس کا سیاسی کردار ہر زمانے میں متنازع رہا ہے سب سے پہلے ذولفقار علی بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی کو ملک دشمن قرار دلانے کے لیے استعمال کیا ۔ سب سے پہلے اسے بھٹو کے سیاسی مخالف اور نیشنل عوامی پارٹی کے خلاف استعمال کیا گیا اور پاکستان میں تخریب کاری کا جو بھی واقعہ ہوا اسے ولی خان کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ ذولفقار علی بھٹو خوش ہوئے اس اقدام سے بلوچستان میں سردار عطا اللہ مینگل کی حکومت ختم کی گئی ۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ولی خان کو غداری کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔
ضیاء الحق کی موت کے بعد بے نظیر بھٹو جو مقبول لیڈر تھیں وہ نشانہ بنی جب 1988کے انتخابات میں آئی جے آئی کی تشکیل اس لیے کی گئی تاکہ بے نظیر بھٹو کو اقتدار میں آنے سے روکا جائے ۔ آئی ایس آئی کے چیف مرحوم جنرل ریٹائرڈ حمید گل اس پر قوم سے معافی مانگ چکے ہیں ۔ 1990 میں بے نظیر بھٹو کو شکست دینے کے لیے جنرل درانی اور جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ نے مخالف سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی اس پر بھی عدالت عظمی اپنا فیصلہ دے چکی ہے۔ جنرل مشرف نے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو سیاست سے آؤٹ کرنے کے لیے مسلم لیگ ق کی بنیاد رکھی اس کا اعتراف مشرف نے اپنی کتاب ’’ سب سے پہلے پاکستان‘‘ میں بھی کیا ہے۔
نواز شریف حکومت کے خدشات کو تقویت اس وقت ملی جب ایک قومی روزنامہ میں یہ خبر شائع ہوئی کہ جے آئی ٹی کی رپورٹس کسی اور جگہ بن رہی ہیں ارکان صرف اس پر دستخط کر رہے ہیں۔ اور اس کو تقویت اس طرح بھی ملتی رہی کہ کچھ اندر کی باتیں باہر آنے لگیں۔ سیاست جس کے بارے میں کہا جاتا تھا یہ رواداری کا کھیل ہے اس کو رد کیا گیا جس کی ابتدا ذولفقار علی بھٹو نے کی تھی جو 1970کے الیکشن کے بعد اقتدار نہ ملنے کے خوف سے پاکتان میں دو حکومتوں کا نظریہ لے آئے ۔ یحی خان نے انتخابات کے بعد 3مارچ 1971 کی تاریخ قومی اسمبلی کے اجلاس کے لیے مقرر کی ۔ یہ ذولفقار علی بھٹو ہی تھے جن کو معلوم تھا قومی اسمبلی کا اجلاس اگر ڈھاکہ میں ہو گیا تو ان کے لیے صرف قومی اسمبلی میں ’’ اپوزیشن لیڈر‘‘ کا کردار ہی رہ جائے گا۔ مگر بھٹو تو ہر صورت میں اقتدار اور اقتدار چاہتے تھے۔ انتخابی مہم کے دوران بھٹو چھ نکات کے بارے میں کچھ بھی نہیں بولے البتہ مجیب الرحمان کے چھ نکات کے خلاف سب سے مضبوط آواز نواب زادہ نصراللہ خان کی تھی ان کے ساتھ کونسل مسلم لیگ کے میاں ممتاز دولتانہ اور جماعت اسلامی بھی چھ نکات کے خلاق احتجاجی بیان دے رہی تھی۔ قومی اسمبلی کے ڈھاکہ اجلاس کی تاریخ قریب آتی گئی بھٹو کی بے چینی میں اضافہ ہوتا گیا ۔ بھٹو اور شیخ مجیب الرحمان کے درمیان 27جنوری 1971کو ایک ملقات بھی ہوئی۔ مگر وہ ناکام ہو گئی تھی۔ بھٹو نے قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ۔ 300کے ایوان میں 204 ارکان نے شریک ہونے کی حامی بھرلی جن میں 42 ارکان کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔ بھٹو نے 27فروری1971کو لاہور کے مینار پاکستان سے ملحقہ میدان اقبال پارک میں تاریخ جلسہ کیا یہی وہ جسلہ تھا جس میں بھٹو نے کہا تھا ’’ ڈھاکہ جانے والے ارکان کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی اور یہ بھی کہا ’’ مغربی پاکستان کے جو لیڈر ڈھاکہ کی جانب بھاگ رہے ہیں ان کو ایک طرف کا ٹکٹ لینا چاہیے۔ ’’ یحی خان نے بھٹو کی اس دھمکی سے متاثر ہو کر قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا یہ فیصلہ مشرقی پاکستان کے عوام کو قابل قبول نہیں تھا ۔ ایک احتجاجی تحریک چل پڑی جس میں بھارت اور دیگر عالمی قوتیں بھی شامل ہو گئی ۔ فوجی اپریشن کے بارے میں بھٹو نے کہا تھا ’’ خدا کا شکر ہے پاکستان بچ گیا‘‘
سب سے اہم بات یہ تھی کہ بھٹو نے 14مارچ 1971کو کراچی کے نشتر پارک میں تاریخی جلسہ کرتے ہوئے مشرقی اور مغربی پاکستان میں دو حکومتوں کا نظریہ پیش کر دیا جس پر اخبارات میں ادھر تم ادھر ہم کی سرخیاں جمائیں اس کے بعد جو کچھ ہوا یہ المناک کہانی ہے مگر اب سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی چھ رکنی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی اب اس پر پہلا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ معاملہ تو پناما تحقیقات کا تھا مگر اس کا رخ آئین کی دفعہ 62اور 63کی موڑ دیا گیا ہے۔ اب یہ سوال بڑا اہم ہو گیا ہے کہ کون صادق اور کون امین ہے اور کون نہیں کیوں کہ سپریم کورٹ کے ایک جج نے نواز شریف کو جہاں گارڈ فادر قرار دیا وہاں یہ بھی کہا کہ نواز شریف نہ تو صادق ہیں اور نہ امین۔ اب اس معاملے کا رخ اعلی عدلیہ کے ججوں کی طرف مڑنا شروع ہو گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک حاضر سروس جج کا نام بھی ’’ پناما فہرست میں شامل ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس کو بھی اپنے اثاثے اس لیے ظاہر کرنا پڑے ہیں کہ ان پر ایک درخواست گزار نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے بھی قرضے معاف کرائے ہیں۔ مگر اس کا اہم انکشاف صحافی عمر چیمہ نے بھی کسی جج کا نام لیے بغیر کیا کہ 2014 ء میں عدلیہ میں شامل ہونے والے ججوں کی اکثریت نے اپنی سالانہ آمدن کے جو گوشوارے جمع کرائے ہیں اس میں چند ہزار یا چند سو کا ٹیکس دیا گیا ہے ۔مولانا فضل الرحمان نے بھی ایک لائن لے لی ہے سپریم کورٹ کے حکم کو ماننے کا اعلان تو کیا مگر وہاں چھ ارکان بھی ان کی تنقید کے نشانے پر رہے۔ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں یہ بھی کہہ دیا ہے ’’ سپریم کورٹ سے انصاف کی توقع ہے تحریک انصاف سے نہیں‘سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی سماعت سے ایک روز قبل عمران خان کے ورکر کنونشن کا انعقاد کرنے کا مقصد کیا تھا اور سٹیج سکرٹری کی جانب سے چند ماہ میں عمران خان کے وزیر اعظم بننے کی نوید کیسے سنائی اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی جب ’’ وزیر اعظم عمران خان‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے اس وقت عمران خان خوشی سے کس طرح شرما رہے تھے۔ یہ بات بڑی سوالیہ ہے ۔ تحریک انصاف کے سوا ملک کی تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت 5سال کی مدت پوری کرے گی۔ انتخابات جون2018 سے پہلے ہونے کا امکان نہیں ان کی پارٹی پر ضمنی انتخاب میں پسپا ہو رہی ہے۔ این اے240 کے انتخاب میں مولانا فضل الرحمان کی پارٹی کا امیدوار 46
ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوا ہے۔ تحریک انصاف کے امیدوار کو ان کے مقابلے میں چند سو ووٹ ملے ہیں۔ ورکرز کنونشن سے عمران خان نے بھی تقریر کی چند دن پہلے کہہ رہے تھے کہ وہ ایک ہفتے بعد نیا پاکستان دیکھ رہے ہیں مگر ورکرز کنونشن میں آئی ایس پی آر کے ترجمان کی وضاحت کے بعد دوسرا پہلو بھی رکھ لیا ہے ۔ عمران خان خود اس وقت دو بڑی مشکلات کی زد میں ہیں جس کی نشاندہی سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے بھی کی ہے ایک دھرنوں کے دوران پارلیمنٹ پر پی ٹی وی پر حملہ اور آف شور کمپنی بنانے کا مقدمہ ، عمران خان نے اپنے خطاب میں نواز شریف کو غدار تک کہہ دیا ۔ انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ حکومت اب ان کو کسی قسم کی رعائت نہیں دینے والی ہے۔ وہاں الیکٹرانک میڈیا کے خلاف بھی کارروائی کا امکان ہے جنہوں نے ہیجانی رپورٹنگ اور پروگرام کر کے اپنی عدالتیں لگائی ہیں او رخود ساختہ فتوے جاری کیے ہیں۔ ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہونے والے 95 فی صد صحافی 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتے ان کی آمدن گوشواروں سے مطابق نہیں رکھتی ۔
طلعت حسین کے پروگرام میں عاصمہ جہانگیر کی جانب سے یہ آواز اٹھی ہے جس نے پاکستان پر جتنی حکمرانی کی ہے ان کا سب سے پہلے احتساب کیا جائے۔ ان کی تجویز کی روشنی میں اگر احتساب کا عمل شروع ہو گیا تو یہ معاملہ ایوب خان کے گندھارا انڈسٹری سے شروع ہو کر مشرف کی لوٹ مار پر ختم ہو گا۔ انہوں نے تو امریکہ کے ہاتھوں دہشت گرد فروخت کر کے رقم کمائی تھی پھر یہ کہانی جسٹس منیر سے شروع ہو کر آج کی عدلیہ تک آئے گی ۔ یہ موقف سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سامنے بھی اٹھایا جائے گا کہ پناما لیکس میں تو 40 لوگوں کے نام تھے باقی کا احتساب کیسے او رکب ہو گا۔