tofeeq butt

مجرم معاشرہ !

میں حیران ہوں قصور کی سات سالہ معصوم کلی زینب کے ساتھ درندگی برتنے والے صرف ایک شخص کو ہی کیوں قصور وار ٹھہرایا جارہا ہے؟ میری نظر میں میرے سمیت پورا معاشرہ اُس کا قاتل ہے۔ اِس سانحے کے بعد میں اپنی نظروں میں نہیں گرا تو لعنت ہے مجھ پر ۔ اُس کے سب سے بڑے قاتل حکمران ہیں، جنہوں نے آج تک سنجیدگی سے معاشرے کی اصلاح کے لیے کوئی قدم اُٹھانا تو درکنار اِس پر سوچنا بھی گوارا نہیں کیا۔ وہ اقتدار میں صرف لُوٹ مار کرنے آتے ہیں اور کرکے پھر آنے کے لیے کچھ عرصے کے لیے چلے جاتے ہیں۔ لُوٹ مار کئی اقسام کی ہوتی ہے، کوئی پیسے کی لُوٹ مار کرکے ملک کی عزت آبرو کو گندگی کے ڈھیر پر پھینک کر چلے جاتا ہے،کوئی معصوم بچیوں کی زندگی اور عزتوں کی لُوٹ مار کرکے اُنہیں گندگی کے ڈھیر پر پھینک کر چلے جاتا ہے۔ یہ سب ایک دوسرے کے ”پیٹی بند بھائی “ ہیں۔ کوئی عالمی کمیشن یہ سراغ لگانے کے لیے قائم ہوپاکستان کو کس کس نے کس کس طرح لُوٹا ؟ شاید ہی کوئی شخص میرے سمیت ہوگا جسے قصوروار نہ ٹھہرایا جائے ، بس یہ ہے ہمیں صرف دوسروں کی لُوٹ مار ہی دِکھائی دیتی ہے۔ ہم سب صرف دوسروں کو ہی ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ خود نہیں ہونا چاہتے۔ کیونکہ دوسروں کو ٹھیک کرنے میں ہمارا کچھ نہیں جاتا، جبکہ خود کو ٹھیک کرنے سے بہت سے غلیظ مفادات سے ہم محروم ہو سکتے ہیں۔ قیامت کی بڑی نشانیوں میں یہ بھی ہے لوگ اِس احساس سے بھی محروم ہو جائیں گے جو کچھ وہ کررہے ہیں ٹھیک ہے یا غلط ؟ اور وہ اِس احساس سے بھی محروم ہو جائیں گے جو کچھ وہ کمارہے ہیں ٹھیک ہے یا غلط؟ اِس ملک کو ٹھیک کرنے کا واحد راستہ اسلامی سزائیں ہیں۔ یہ راستہ جب تک کسی کو دِکھائی نہیں دیتا ہماری بچیاں ایسے ہی درندگی کا نشانہ بنتی رہیں گی۔ اور ہم سوائے بیان بازیوں اور نعرہ بازیوں کے کچھ نہیں کرسکیں گے۔ ہرکوئی یہ اقرار کررہا ہے زینب اُس کی اپنی بچی کی طرح تھی۔ اور سب کا احتجاج فیس بک تک محدود ہے۔ قصور کی حدتک چار دن خوب احتجاج کیا ۔ پھر لوگوں کو اِس یقین میں مبتلا کروا کے چُپ کروادیا گیا کہ زینب کے قاتل چوبیس گھنٹے میں گرفتار کرلیے جائیں گے۔ اب کئی چوبیس گھنٹے گزر گئے۔ کسی نے کسی سے نہیں پوچھا قاتل کو چوبیس گھنٹے میں گرفتار کرنے کے دعوے کدھر گئے؟ میڈیا نے بھی چار دن خوب شورمچایا، پھر اُسے بھی اپنی پسند کے اور موضوعات شور مچانے کے لیے مِل گئے۔ ہمارے قلم کار ایک ایک کالم لکھنے کے بعد دوبارہ ”منافع بخش موضوعات“ کی طرف لوٹ آئے۔ …. کل برمنگھم سے میرے عزیز چھوٹے بھائی شیخ محمود کا فون آیا۔ فیصل آباد میں اُس کا ایک دوست قتل ہوگیا تھا۔ قاتل گرفتار نہیں ہورہے۔ میں نے اِس ضمن میں ذاتی طورپر بھی سی پی او فیصل آباد سے اطہر اسماعیل سے بات کی، اب شیخ محمود مجھ سے کہہ رہا تھا آپ آرپی او فیصل آباد بلال کمیانہ خصوصاً اُس آئی جی پنجاب جناب عارف نواز سے بھی بات کریں جو پولیس فورس کی بھلائی کے لیے تو بڑے اقدامات کررہے ہیں، عوام کی بھلائی کے لیے بھی کچھ کر جائیں، تاکہ لوگ اُن کے جانے کے بعد اُنہیں اُس نظر سے نہ دیکھیں جس نظر سے کچھ سابقہ آئی جی صاحبان کو دیکھتے ہیں۔…. شیخ محمود سے میں نے کہا میں دونوں سے بات کروں گا مگر یہ دیکھو پوری پنجاب حکومت بمع حساس اداروں کے پوری دنیا میں پاکستان کی بے عزتی کا باعث بننے والے سانحہ قصور کے مجرم کو پوری کوشش کے باوجود گرفتار نہیں کر پارہے تو اِن حالات میں آپ کا یہ توقع کرنا انتہائی بے وقوفی ہے کہ آپ کے دوست کے قاتل گرفتار نہیں ہورہے ۔ ویسے بھی آپ کے دوست کے قاتل اِس لیے گرفتار نہیں ہورہے کہ ”خادم پنجاب“ نے اِس کا ”فوری نوٹس“ نہیں لیا۔ ہماری پیاری پنجاب پولیس کو یہ ”اعزاز“ حاصل ہے وہ صرف اُن ہی قاتلوں کو گرفتار کرنے کی ہلکی پھلکی کوشش کرتی ہے جس کا خادم پنجاب فوری نوٹس لیتے ہیں۔ہماری پولیس بھی ہمارے حکمرانوں جیسی ہی ہوگئی ہے۔ پولیس افسروں کو لُوٹ مار سے فرصت ملے وہ کچھ اور کریں ناں؟ ۔ صرف یہ نہیں کہ ”جیسی قوم ہوگی ویسے حکمران اُس پر مسلط کردیئے جائیں گے ”بلکہ “ جیسی قوم ہوگی ویسی پولیس بھی اُس پر مسلط کردی جائے گی“ ….البتہ تصویر کا ایک رُخ یہ بھی ہے جو کچھ ہمارا کردار ہے، یا جس جس قسم کی بداعمالیوں اور بداخلاقیوں کے مظاہرے روزانہ ہم کرتے نہیں تھکتے تو ایسی ہی بدبخت اور بددیانت پولیس کے ہم لائق ہیں،…. جہاں تک ”مجرم معاشرے“ کا تعلق ہے زینب کو کوئی اُس کے گھر
کے اندر داخل ہوکر بذریعہ ہیلی کاپٹر تو اُڑاکر نہیں لے گیا تھا ۔ اُسے سربازار لے جایا جارہا تھا، کسی نے تو دیکھا ہوگا کہ سارے اندھے ہوگئے تھے؟”جگنو سو گئے ہیں کہ ہم اندھے ہوگئے ہیں“ ۔….پھر کسی نے آگے بڑھ کر اُسے روکا کیوں نہیں ؟ ۔ اُس سے پوچھا کیوں نہیں اِس بچی کو تم کہاں لے کر جارہے ہو؟۔ ہائے اب کوئی اپنی اپنی غرض سے آگے کیوں نہیں دیکھتا ؟۔ آنکھیں سب کی ہیں دِکھائی کسی کو کیوں نہیں دیتا ؟۔ کان سب کے ہیں سنائی کسی کو کیوں نہیں دیتا ؟۔ سب کردار ”بدکردار“ کیوں ہوتے جارہے ہیں؟ ….پورامعاشرہ بے حِس ہے تو صرف ایک درندے کے پیچھے ہم کیوں پڑ گئے ہیں؟۔ …. چند ماہ قبل پرلے درجے کے ذوالفقار نامی ایک رینکر پولیس افسر کو جب ڈی پی او قصور تعینات کیا جارہا تھا کسی نے خادم پنجاب کو کیوں نہیں بتایا کہ یہ پولیس افسر جہاں گیا نااہلی اور بددیانتیوں کی منفرد اور شاندار مثالیں جنم دے کر آیا۔ سانحہ قصور اِس کا کوئی پہلا ”جنم دن“ نہیں تھا۔ چند برس قبل فیصل آباد میں جس روز پی ٹی آئی کا دھرنا تھا یہ پولیس افسر سارا دن اپنی ڈیوٹی سے اُس روز غیرحاضر رہا، جس کے نتیجے میں ایک بے گناہ شخص کی جان چلی گئی اور حکمرانوں کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ جو پولیس افسر پولیس بینڈ کا ایک باجا بجانے کے اہل نہیں اُسے پورے ضلع کا بہت کچھ بجانے کے لیے صرف اِس لیے تعینات کردیا گیا کہ وہ آرمی چیف اور ایک آدھے اور جرنیل کا ”گرائیں“ ہے ۔ ہمارے سیاسی حکمران، جرنیلوں کی خوشنودی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اور اُن کے اپنے ہاتھوں سے جب عزت سمیت سب کچھ چلے جاتا ہے پھر نوٹس پہ نوٹس لینا شروع کردیتے ہیں۔ …. اِس سے پہلے اسماعیل کھاڑک عرف ”اسماعیل کھڑک“ نامی ایک پولیس افسر کو چند روز کے لیے ڈی پی او لگایا گیا۔ وہ بے چارہ دیوار سے لگنے کے قابل نہیں تھا اُسے ضلع میں لگادیا گیا، جسمانی لحاظ سے وہ تیز ہوا میں کھڑے نہیں ہوسکتا اُسے ضلع قصور میں جرائم کے بدترین طوفان کے سامنے کھڑے کردیا گیا، چاردن بھی وہاں اُس نے نہیں نکالے۔ بس ایک دو بے گناہ لوگوں کو پولیس مقابلے میں پارکرکے چنیوٹ چلے گیا۔ اُسے قصور میں لگایا کیوں گیا تھا ؟ پھر چند روز بعد ہٹایا کیوں گیا ؟ کسی کو معلوم نہیں۔ آئی جی پنجاب کو بھی شاید معلوم نہیں ہوگا ، مگر یہ سب کو معلوم ہے ایسی ہی بدانتظامیوں کے بعد ایسے سانحات اور واقعات جنم لیتے ہیں جو حکمرانوں کی بے عزتی اور جگ ہنسائی کا باعث بنتے ہیں۔ پر کیا کریں صرف افسران اور حکمران نہیں پورے کا پورا معاشرہ ہی ”بے عزتی پروف“ ہوگیا ہے۔ نوٹ سب کو آتے ہیں شرم کسی کو مگر نہیں آتی !