rana amir javed  Jaiza

ماواں باج گزارے نئیں ہندے

لاہورکے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے لڑکے کی شادی ایک دولت مند گھرانے میں ہوگئی ،لڑکے کی ماں جہیززیادہ ملنے پرخوش تھی،باراتی رنگ برنگے کھانے ملنے پرخوش تھے جب کہ لڑکا خوب صورت اوردولت مند دلہن کے ملنے پرخوش تھا،شادی کے چھٹے ماہ چھوٹی سی بات پر دلہن اورساس میں تکرار ہوگئی،ناک چڑھی دلہن نے اپنے شوہرسے کہا کچھ بھی ہوجائے میں اس گھرمیں نہیں رہوں گی ،عزیزرشتے داروں کی ہمدردیاں امیر زادی دلہن کے ساتھ تھیں ،جودلہن کی طرف داری کرتے ہوئے پیچھے کھڑے ہلکاہلکابیک گراؤنڈ میوزک دے رہے تھے،آہو ،نی آہو۔ آخرفیصلہ یہ طے ہوا کہ دلہن کوالگ سے گھر دے دیا جائے ،اس فیصلے کو د و لہن ا ور شوہرنے پلک جھپکتے ہی قبول کرلیا لیکن لڑکے کی ماں اس فیصلے سے ناراض تھی،لڑکے کی ماں کو نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹے کی خوشی کی خاطراس صدمے کوبرداشت کرنا پڑا،دوسال بعدبیٹے کے گردے میں درد اُٹھا ،ڈاکٹرنے گردوں کی ٹیسٹ رپورٹ کودیکھ کرافسوس ناک خبر سنا دی کہ دایاں گردہ بالکل ناکارہ ہوچکا ہے لہٰذا اس گردے کو نکالے بغیر گزارہ ممکن نہیں ،گردہ نکال کر نیا گردہ لگانا اشد ضروری ہے ۔رشتے داروں،بھائیوں اوربہنوں تک نے گردہ دینے سے انکار کردیا،گردے کیلئے بہونے پانچ لاکھ روپے تک کی آفر کی لیکن کسی نے بھی اس آفر کوقبول نہیں کیا،لڑکے کی حالت دن بدن خراب ہونے لگی جس سے زندگی اورموت کا مسئلہ پیدا ہوگیاآخرکارپچپن سالہ بوڑھی ماں نے اپنا گردہ بیٹے کو دینے کا اعلان کردیا،کچھ دنوں
کے بعد ماں کا گردہ نکال کر بیٹے کولگا دیا گیا،بیٹا صحت یاب ہوکرماں کے گھرآنے کے بجائے اپنی بیوی کے ہمراہ دوسرے گھرمیں شفٹ ہوگیا،اب ماں کی طبیعت خراب رہنے لگی کوئی چھ ماہ کے بعدماں کو ہارٹ اٹیک ہوا جوجان لیوا ثابت ہوا،ماں کو دفنا دیا گیا کوئی دوسال کے عرصے کے بعدبیٹے کو پھر گردے میں درداُٹھا، ڈاکٹرنے گردے کی ٹیسٹ رپورٹ دیکھ کر کہا دائیں گردے میں انفیکشن ہوگئی ہے لہٰذا اس انفیکشن زدہ گردے کو نکال کرنیا گردہ لگوانا ہوگا ،نئے گردے کے لئے کافی کوشش کی گئی لیکن کسی نے بھی گردہ نہ دیا ،لڑکا پھر زندگی اورموت کی سٹیج پر آگیا آخر ایک رات دردکی شدت اس قدربڑھی کہ جو اس کے لئے برداشت سے باہر تھی ،زبان پرماں ماں ماں کے الفاظ تھے آخر کارآخری لفظوں میں یہ کہہ کر’’میرا جنازہ ماں کی چار پائی پر ماں کے گھر سے اٹھایا جائے‘‘اللہ کو پیار اہوگیا۔۔۔۔؂
مامیاں پھوپھیاں چاچیاں تائیاں
پکے کدی سہارے نئیں ہندے
ہر رشتہ گھڑی حال پچھ لیندا پر
ماواں باج گزارے نئیں ہندے
اس دنیا میں ماں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتا آج موجوہ دورمیں 90فیصد سے زیادہ بیٹے ماں کے خادم اعلیٰ ہونے کے بجائے بیویوں کے خادم اعلیٰ بنے ہوئے ہیں ،جب تک بیٹا کنوارہ ہوتا ہے توبیٹے کی 99 فیصد ہمدردیاں ماں کے ساتھ ہوتی ہیں اورشادی کے بعدیہی99 فیصد ہمدردیاں بیوی کے ساتھ منسلک ہوجاتی ہیں۔میرا ایک دوست ہے وہ اپنی بیوی کا علاج تولاہور کے ایک مہنگے ہسپتال میں کرواتا ہے لیکن اپنی ماں کا علاج ایک نیم حکیم سے کرواتا ہے میں نے ایک باراس سے اس بات کا شکوہ کیا تھا اورمجھے یہ شکوہ مہنگا پڑ گیا۔ آج دوسال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے مجھ سے خفا ہے بس کسی شادی اورغمی میں علیک سلیک ہوجاتی ہے ۔ ماں کے بارے میں کل کے پیارے فرمانبرار بیٹے اپنی ماؤں سے زیادہ اپنی ساسوں کی زیادہ خدمت کرتے نظرآتے ہیں، میرا ایک دوست دوہفتے قبل اپنی ساس کو چھانگا مانگا سیرکے لئے لے گیا اوردوسرے دن مجھے فون کیا راناعامرکل میں آنٹی کو چھانگا مانگا لے کرگیا تھا اورآج ہیڈبلوکی کے مقام پر جانا ہے اوروہاں کوئی اچھی سے لذیذ سی مچھلی پکانے والے کو جانتے ہو؟میں نے کہا کبھی اپنی ماں کو بھی چھانگا مانگا اورہیڈبلوکی مچھلی کھلانے کے لئے لے گئے ہو اور ۔۔۔بس ابھی مذاق میں اتنا ہی کہا تھا موصوف نے غصے میں فون بند کردیا ۔دوسرے دن دوست سے معذرت کرتے ہوئے کہا جناب ساس بھی ماں کا درجہ رکھتی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ تھا آپ خالہ کو بھی ساتھ لے جاتے تو سونے پر سہاگا ہوجاتا۔ کچھ دیرکے بعد دوست سے اجازت لے کرواپس آگیا راستے میں ایک دوسرے دوست سے ملاقات ہوگئی جس کے ہاتھ میں صوفیانہ سفید اورہلکے سلیٹی رنگ کے کپڑوں کے سوٹ تھے پوچھا کس کے لئے ہیں جناب ؟جواب دیا عامربھائی بیگم اور امی جان کے لئے خریدے ہیں کیسے ہیں؟میں نے دیکھ کر کہا ماشا ء اللہ اچھے ہیں۔چلتے چلتے خیال آیا دوست کا’ مدرڈے ‘کے موقع پر ماں اور بیوی کو سوٹ دینے کا آئیڈیا اورتحفہ اچھا ہے ، ماں بھی خوش اوربیگم بھی خوش۔ کاش آج میری ماں بھی زندہ ہوتی تو میں بھی ماں کو سوٹ کا تحفہ دیتا پھرذہن میں خیال ابھرا کہ ہوسکتا ہے آج میری ماں زندہ ہوتی تومیرا روّیہ بھی ماں سے آج کے معاشرے کے افرادکی طرح ہی ہوتا،لیکن جب مائیں مر جاتی ہیں تو پھر بہت سے خیالات ذہن میں قابض ہوتے ہیں،خیال تو حقیقت پسندانہ تھا، پھر ذہن میں دوسرا خیال ابھرامجھے کیا کرنا چاہئے،خیال اچھا ثابت ہوا کہ کیوں نہ قبرستان جا کرماں کی قبر پردُعاؤں کا ہی تحفہ دے آؤں بس راستے سے بائیں طرف مڑکر’ماں ‘کی قبرپرفاتحہ پڑھ کر گھرواپس آگیا۔