dr akhtar

ماسی داراں کا ”تندور“

مائی داراں کو سارا محلہ ماسی داراں ہی کہتا ہے۔اس کا اصل نام کسی کو معلوم نہیں ہے۔وہ صبح دس بجے ہی گلی کی نکڑ پر اپنا تنور“ گرم کرنا شروع کر دیتی ہے۔پہلے دو چھوٹے چھوٹے پتیلے رکھ کر سبزی اور دال پکاتی ہے پھر صبح سے شام تک محلے کے لوگ اپنا اپنا آٹا اٹھائے آجاتے ہیں ۔بعض صرف روٹیاں خریدنے والے بھی ہوتے ہیں۔تندور کے آس پاس بوری اور ایک دو چٹائیاں بچھی ہوتی ہیں، قریب ہی ایک بنچ پڑا ہوتا ہے۔
بعض مزدور اس کے پکے گاہک ہیں۔رشید مُچھل اس محلے کا ایک ادھیڑ عمر شخص ہے۔اس کی مُونچھیں اتنی بڑی تو نہیں مگر سبھی اسے ” مچُھل “ کہتے ہیں۔سنا ہے ایک زمانے میں پہلوانی کرتا تھااور اس کی بڑی بڑی مُونچھیں ہوا کرتی تھیںمگر اِن دنوں وہ پہلوان سے زیادہ مریض لگتا ہے۔اس نے شادی نہیں کی پاس ہی کے مکان کی ایک بیٹھک میں رہتا ہے۔مگر روٹی صبح شام ماسی داراں کے تندور سے کھا تا ہے۔بنچ پر اکثر بیٹھا نظر آتا ہے بلکہ تندور کا نظم و نسق بھی اس کے سپرد ہے، مجال ہے کہ محلے کا کوئی لونڈا تندور پر زیادہ دیر کھڑا ہو سکے۔کیونکہ گاہکوں میں محلے کی عورتیں اور بچیاں بھی آتی ہیں، لہٰذا یہاں ایک گھریلو سا ماحول لگتاہے۔داراں کے تندور پر اکثر چنے کی دال اور سبزی کی ترکاری دستیاب ہوتی ہے۔اس کے تندور لگے بندھے گاہک ہیں۔کاکا مستری دوپہر کا کھانا ماسی داراں کے پاس چٹائی پر بیٹھ کر کھاتاہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کا اِس بھری دنیامیں کوئی نہیں، والدین بچپن میں وفات پا گئے ،ایک بہن تھی اس کی شادی کردی ہے ،وہ ساہیوال رہتی ہے۔کاکا چوک میں موٹر سائیکلوں کا مکینک ہے۔وہ ماسی داراں کو ماں ہی سمجھتا ہے۔فیکا کوچوان شام تک تانگا چلاتا ہے اور مغرب سے کچھ دیر قبل شام کے کھانے کے لےے آتا ہے۔اکثر شام کو مائی داراں کے تندور پر محفل جمتی ہے۔اس وقت اس کے مستقل گاہکوں میں رشید مچھل ،کاکا مستری ،فیقا کوچوان ، جورا قصائی اور ماسٹر صادق موجود رہتے ہیں۔بہت دنوں بعد میرا پرانے محلے کا چکر لگا تو گلی سے گزرتے ہوئے اسی تندور پر بیٹھے ماسٹر صادق نے آواز دے کر بٹھا لیا۔ سلام دعا کے ساتھ ہی اس نے سامنے والے ” پپو ٹی سٹال “ سے چائے کا آرڈر بھی دے دیا ۔ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں ۔ابھی ہم چائے سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ کوئی گاہک زور زور سے بولنے لگا:
” ماسی کچھ خیال کر ایک پلیٹ ترکاری اور وہ بھی آلو گوبھی کی ،پچاس روپے کیسے بن گئے؟ماسی دارا ں نے مسکرا کر کہا : پیاز اور ٹماٹر میں گھر میں تو نہیں اُگاتی۔ان کا بھا ،پوچھو ذرااِس فیقے سے پوچھو اس کی دکان کے ساتھ بشیر سبزی والا کتنی مہنگی سبزی بیچ رہا ہے۔اسے تو کوئی نہیں پوچھتا۔اور بات سن تمہارے پاس جتنے پیسے ہیں دے جاﺅ۔۔خیر ہے ،یہ میرے مرشد کا لنگر بھی تو ہے۔میں اپنے مستقل گاہکوں سے صرف ترکاری کے پیسے لیتی ہوں ۔دو روٹیاں انہیں فری دیتی ہوں ۔اللہ کا شکر ہے میرا آٹے والا ڈرم کبھی خالی نہیں ہوتا۔
بحث کرنے والا شرمندہ سا ہو کر پچاس روپے دے کر نکل گیا۔تو رشید مچھل، ماسٹر صادق سے مخاطب ہوا :
کیوں ماسٹر جی! یہ ٹماٹر اور پیاز کو اتنی آگ کیوں لگ گئی ہے ؟اس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔کیا یہ اسحاق ڈار کا کاروبار تو نہیں تھاکہ پیازمہنگے ہو گئے ہیں۔ماسٹر صادق بولے : ” نہیں پہلوان جی ! اسحاق ڈار کو تو رب کی طرف سے کوئی مار پڑ رہی ہے اور اس کے بچے پیاز کا نہیں کئی دوسرے کاروبار کرتے ہیں وہ بھی دبئی میںماسٹر صادق کی بات جاری تھی کہ فیقا کوچوان بول پڑا : ” ویسے جی حد ہوتی ہے ،وہ جو خواجہ آصف کہتا ہے ناں،” کوئی شرم ہوتی ہے ،کوئی حیا ہوتی ہے“
اسحاق ڈار کو خواجہ شرم کیوں نہیں دلاتا کہ کم ازکم وزیر خزانہ کی کرسی ہی چھڈ دے۔
” تم ٹھیک کہتے ہو“۔
کاکا مستری نے گرہ لگائی، ” وزیر بھی ہو اور عدالت کی پیشیاں بھی بھگت رہا ہو۔ عجیب بات ہے۔ بھلاملزم کیسے وزیر رہ سکتا ہے۔وزیر اعظم اس عہدے کا ہی کچھ خیال کر لیں اور ڈار اپنی حکومتی ڈار سے علیحدگی کرلیں“۔
ماسٹر صادق نے کہا : دوستو ! یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔کون عہدہ چھوڑسکتا ہے۔ڈار کو بھی عدالت کافیصلہ ہی کرسی سے اتارے گا ۔میاں نواز شریف بھی عہدے سے الگ خود کب ہوئے تھے۔ان لوگوں کا بس چلے تو سارا پاکستان بیچ کر کھا جائیں، اوپر سے کہتے ہیں معیشت ،ٹھیک جارہی ہے،کوئی خطرہ نہیں ۔ان سب سیاستدانوں کے لےے وہ پنچابی اکھان ہے ناں : ” اک سپ دوجا اڈنا “ یعنی سانپ اور وہ بھی اڑنے والااصل بات یہ ہے کہ کل ایک سیانے بندے نے مجھے بتایا مسلم لیگی اب ساری حدیں عبور کر گئے ہیں۔وہ دانستہ فوج اور عدلیہ کی کھلم کھلا تضحیک پر اتر آئے ہیںتاکہ انہیں سیاسی شہید بنا دیا جائے اور وہ ہمیشہ کی طرح پھر مظلوم بن جائیں ۔لیکن اب ایسانہیں ہوگا۔اب کہ مارشل لا نہیں آئے گا بلکہ کرپشن کرنے والے سبھی کرپٹ لوگوں کا احتساب ہوگا اور قانون ہی کوئی فیصلہ کرے گا جس پر سختی سے عمل کیا جائے گا“۔
بات ابھی جاری تھی کہ غفور ملنگ اپنا اکتارہ لےے آگیا۔اور محفل کی سنجیدگی کا فور ہوگئی۔ اب سبھی اسکے گیت میں محو ہوگئے اور وہ اکتارہ بجاتے ہوئے گا رہا تھا:
سدا نہ باغیں، بلبل بولے، سدا نہ باغ بہاراں
سدا نہ ماپے، حسن جوانی، سدا نہ صحبت یاراں
خس خس جناںقدرنہ میرا، صاحب نوں وڈیائیاں
میں گلیاں دا روڑاکوڑا، تے محل چڑھایا سائیاں
میں انھاں تے تلکن رستہ، دیوے کون سنبھالا
دھکے دیون والے بوہتے توں ہتھ پکڑن والا
محفل کا رنگ ایک دم بدل گیا۔ قریبی مسجد کے امام مولوی عالم پاس سے گزرتے ہوئے ،کھڑے ہو گئے تھے۔چند بچے بھی اکٹھے ہو گئے تھے۔ ملنگ آنکھیں بند کیے گائے جارہا تھا۔پھرسب نے غفور ملنگ کے ڈبے میں کچھ نہ کچھ ڈال دیا۔مائی داراں نے اس کے لےے پلیٹ میں ترکاری ڈالی، گرم روٹیاں اس کے آگے رکھ دی تھیں ۔ اب وہ چٹائی پر بیٹھ گیا تھا۔کچھ دیر ہم باتیں کرتے رہے پھر میں نے اجازت لے لی
یہ پچھلے جمعہ کا واقعہ ہے مگر میرے کانوں میں اب تک غفور ملنگ کی آواز گونج رہی ہے۔
سدا نہ باغیں بلبل بولے سدا نہ باغ بہاراں
سدا نہ ماپے ،حسن جوانی سدا نہ صحبت یاراں