Farooqi-sb-logo

لِسے دا کی زور محمد….نس جانا یا رونا….!!!

ابھی لکھنا شروع نہیں کیا تھا کہ خبر ملی اشفاق ساجد انتقال کر گئے، اِنا للہِ وانا الیہ راجعون، اللہ تعالیٰ اس کی منزلیں آسان کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دیں۔ ایک عامل صحافی کی زندگی اور موت میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا لیکن وہ اس طرح سے 4 دن میں ہم سے جدا ہو جائے گا یہ خیال نہیں آیا تھا۔ بہت لمبے چوڑے منصوبے تھے جو اس نے میرے ساتھ بنا رکھے تھے، جاتے ہوئے وہ بتا کر بھی نہیں گیا کہ ان منصوبوں کا کیا کروں۔
کوئی بوجھ سا بوجھ ہے! جو دل پر بڑھتا جارہا ہے، بطور صحافی موت کی خبروں سے اتنا واسطہ پڑتا ہے کہ ہم عادی ہو جاتے ہیں، روڈ ایکسیڈنٹ، ڈکیتی، قتل اور دیگر حادثات میں مرنے والے افراد کی خبریں غمگین نہیں کرتیں کہ ہمارے لیے یہ روز کی بات بن جاتی ہے۔ خبر وہی رہتی ہے صرف نام تبدیل ہو جاتے ہیں، المیہ وہی ہوتا مقام بدل جاتے ہیں۔ موت اپنی تمام تر دہشت کے ساتھ اس وقت حملہ آور ہوتی ہے جب وہ ہمارے اردگرد یا گھر میں سے کسی کو لے جاتی ہے، کوئی ایسا جس سے آپ روزانہ یا دوسرے تیسرے دن بیٹھ کر بات کرتے ہوں یا جس سے دل کا واسطہ ہو کیونکہ اب دل بھی تو ہر کسی سے واسطہ نہیں رکھتا۔
عباس اطہر شاہ جی کی موت پر دل نے تسلی دی کہ وہ عمر میں بڑے تھے تو جانے میں جلدی کر گئے ہاں مگر جس رات تنویر عباس نقوی کی وفات کی خبر ملی باقی رات نیند نہیں آئی اس وجہ سے نہیں کہ وہ جس باپ کا غرور تھا اور جن بہنوں کا مان تھا وہ غرور اور مان کے ٹکڑوں پر کیسے جئیں گے۔ خیال یہ آیا کہ پسماندگان کی کفالت کیسے ہو گی؟ اور دوسرا خیال جس نے رونگٹے کھڑے کر دیئے کہ ہم جولیوں کی باری آ گئی اور اب میرے ہم عمروں سے بھی فرشتہ اجل نے آنکھ مچولی شروع کر دی ہے وہ لوگ کہ جس میں سب دل کے ٹکڑے ہیں۔ ماں، باپ کی موت بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی طرح عمل درآمد ہو گئی لیکن تسلیم نہیں ہوتی
لِسے دا کی زورمحمد
نس جانا یا رونا
تھیوری اور بات چیت کی حد تک غم بانٹا جاتا ہے لیکن کسی غم کی حقیقت یا شدت تو وہی جانتا ہے جسے جھیلنا ہوتا ہے۔ عمر یا ہم جولی کا فارمولا دوچار دن کی فکر مندی کے باعث ضرور بنتا ہے لیکن پھر دنیا کی تیز رفتاری سب کچھ بھولنے پر مجبور کر دیتی ہے ہاں نبیہہ ہمایو ں سلیم کی موت نے یہ ضرور سمجھا دیا کہ موت کا عمر یا زندگی کی رنگینوں سے لطف اندوز ہونے سے کوئی تعلق نہیں!
ایک بار جب اشفاق ساجد کی گاڑی میں سفر کرنا پڑا تو طنزاً کہا کہ یہ گاڑی ”لیڈر صحافی“ کے شایان شان نہیں تو وہ محض پھیکی ہنسی کے سوا کوئی جواب نہیں دے پایا، اسی لیے پسماندگان کے لیے فکر مندی ہے کہ وہ کیا کریں گے؟
آج جب کالم لکھنے بیٹھا تو قارئین کے پیغامات ذہن میں تھے کہ عاصمہ جہانگیر، لودھراں الیکشن یا ویلنٹائن ڈے پر لکھا جائے ساتھ ساتھ برادر بزرگ کی ڈانٹ بھی یاد تھی کہ مایوسی نہ پھیلاﺅ، لوگوں کو امید کی روشنی دو!
ملک صاحب! میں اشفاق ساجد کے گھر والوں کو کیا اُمید دلاﺅں اور کونسی روشنی دکھاﺅں؟
یہاں تو پسوڑی یہ ہے کہ لودھراں الیکشن میں علی ترین نہیں سپریم کورٹ آف پاکستان ہار گئی ہے، عمران خان ، میاں نواز شریف کی نا اہلیت کے بعد سے بے مقصد رہ گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان کی الیکٹ ایبلز کو ساتھ شامل کرنے اور روپے، پیسے کی سیاست کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ضمنی انتخابات کے نتائج کو سامنے رکھ کر جنرل الیکشن کے نتائج پر اندازے قائم نہیں کئے جاتے لیکن فردوس عاشق اعوان، نذر محمد گوندل اور علیم خان سمیت ایسے دیگر افراد کے بغیر تحریک انصاف کیسے کمزور ہوجاتی کہ جن کے داغدار ماضی کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف اور اس کی قیادت بھی اب لوگوں کی تنقید کی زد میں آ رہی ہے جو پارٹی ان لوگوں کے بغیر جیت نہیں سکتی اسے یوں بھی ہار ہی جانا چاہیے کہ وہ جیت تحریک انصاف یا عمران خان کی خالص جیت نہیں رہ جائے گی تو کریڈٹ کس بات کا؟
اقتدار کی سیاست عمران خان کرے، نواز شریف یا آصف علی زرداری فرق کیا رہ جائے گا؟
اگر ذوالفقار علی بھٹو، ضیاءالحق اور بے نظیر بھٹو کو بھی بالآخر اشفاق ساجد ہی کی طرح دنیا سے جانا پڑا تو ناگزیر تو کوئی نہیں، ناگزیر لوگوں سے قبرستان بھرے پڑے ہیں، بے نظیر بھٹو کی سہیلی عاصمہ جہانگیر بھی چلی گئی، خواہ اس نے آمریت کے خلاف مقدمات کیے اور جیتے، انسانی حقوق پر کام کیا، نام کمایا اور لوگوں کی مخالفت بھی۔
اپنے عقیدے اور نامہ اعمال کے ساتھ وہ چلی گئی ہے تو پھر اس کے نام پر جو سب کا حال جانتا ہے وہ لوگ اس کو معاف کیوں نہیں کر دیتے جو سلامتی کے مذہب پر ہیں اور عفو اور درگزر کی مثال عظیم کے نام لیوا ہیں؟
جب سب نے آخر کار یہاں سے چلے جانا ہے اورکچھ مال ، متاع، نام لے کر نہیں جا سکتے تو پھر عوامی خدمت ہی وہ راستہ رہ جاتا ہے جس سے آپ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہ سکتے ہیں، فلاح پا سکتے ہیں اگر یقین رکھتے ہیں اور اگر یقین نہیں بھی رکھتے تو آپ کا نقصان کیاہے!
رہے نام اللہ کا