Hayat Abdulla

لو بھی چلتی ہے تو وہ باد صبا کہتے ہیں

مہر و وفا کے دھنی، عقیدتوں اور سچی محبتوں کے اسیر لوگ کبھی مصلحت کوش نہیں ہوا کرتے۔ دعویٰ اطاعت و تسلیم و رضا کے خوگروں کی زیست کے بہی کھاتے میں ذاتی مفادات اور مجبوریوں جیسے الفاظ سب سے زیادہ قابل نفرت ہوا کرتے ہیں۔ جب جب ایسے لفظ محبتوں کی کتاب میں آنے لگیں، گلاب محبتوں کا رجحان رو بہ زوال ہونے لگتا ہے۔ مجہول محبتیں کسی کو کب گوارا ہوتی ہیں؟ معذور عقیدتوں کو کون پسند کرتا ہے، لولی لنگڑی چاہتیں کب کسی کے دل میں گھر کر پاتی ہیں؟ محبتوں کی فراست کی سب سے بڑی نفاست یہ ہوتی ہے کہ یہ اغیار کی حراست کی نجاست سے آلودہ ہونے کے بجائے اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کی نظافت پر مبنی اور مشتمل ہوتی ہے۔ لوگ اسے شوریدہ سری کہیں یادیوانہ پن، اہل مغرب اسے شدت پسندی سے تعبیر کریں یا بنیاد پرستی سے، ہمارے ایمان کا خاصہ نبی آخر الزماں حضرت محمدؐ کی اطاعت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
اے خدا اب حیات کا مقصد
اور کچھ بھی نہیں، محمدؐ ہیں
ساری دنیا کان کھول کر سن لے، سیاسی مفادات کے حصار میں بسنے والے بھی نوٹ کر لیں کہ ہم چھوئی موئی سے بھی زیادہ حساس اور نازک مزاج ہیں، اس مسئلے میں کوئی تھوڑی سی بھی اباسی لے تو طبیعت میں اداسی در آتی ہے۔ لاریب وہ آخری نبی ؐ ہیں، ان کے بعد کوئی بھی نبی کسی بھی طریقے اور انداز میں نہیں آئے گا۔
ہماری چاہتوں کے اکناف، اطراف اور مضافات میں جتنی بھی محبتوں کے پھول مہکتے ہیں ان کا مرکز منبع اور ماویٰ، حضرت محمدؐ کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔
کتاب دل میں بھی رکھا تو تازگی نہ گئی
تیرے خیال کا پیکر گلاب جیسا ہے
جس جس نے بھی مصلحتوں کے انگوٹھوں سے اپنے ایمان کا ٹیٹوا دبا دیا، وہ عنداللہ مجرم ہیں، جو کوئی بھی محمدؐ کی محبت کے مقابل، چوں کہ، چنانچہ، جیسے لفظوں کو تخلیق کر کے پیش کرے گا وہ فقط اتنا سوچ لے کہ کل قیامت کے دن حضرت محمدؐ کا سامنا کس منہ سے کرے گا۔ کتنے ہی لوگ پہلے اس بات پر اڑے رہے کہ کوئی تبدیلی سرے سے ہوئی ہی نہیں اور پھر وہی لوگ وضاحتیں کرتے نظر آئے کہ معمولی سی تبدیلی کی گئی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ بہت بڑا حملہ کیا گیا، سب جانتے ہیں کہ اس انتہائی حساس مسئلے میں کھلم کھلا گڑ بڑ کرنا ان کے لئے ناممکنات میں سے ہے۔ لفظوں میں لچک کے ذریعے اس مسئلے میں جھول پیدا کرنے والے دراصل اہل اسلام کی دینی حمیت کا تول کرنا چاہتے ہیں کہ لوگ اگر اس تبدیلی کو مصلحت و حکمت کی سیاہ چادر میں لپیٹ کر چپ سادھ لیتے ہیں، پھر مزید تبدیلی کی راہ ہموار کر دی جائے گی۔ لفظوں کی ہیرا پھیری کی خبریں سوشل میڈیا پر نشر ہوئیں اس تبدیلی کی نشاندہی کرنے والوں کے خلاف نواز شریف کے اداکاروں اور فنکاروں نے ایک محاذ اور ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ کسی نے تحقیق کا طبل بجایا تو کسی نے تفتیش کرنے کا نقارہ، کسی نے جھوٹی خبر پھیلانے والوں کو عذاب الٰہی سے ڈرانا شروع کر دیا تو کسی نے بہتان کے نقصان بیان کرنا شروع کر دیئے۔ اس تبدیلی کی نشاندہی کرنے والوں کے اس طرح لتے لئے گئے کہ لوگ ورطہ حیرت میں ڈوب کر رہ گئے کہ محض سیاسی مفادات کیلئے ایک عدالتی طور پر نااہل شخص کے تقدس کا خیال ہر شے سے بڑھ کر رکھا گیا۔ مگر جب بھانڈا پھوٹ پڑا تو تحقیق و تفتیش کے سارے داعی مہربہ لب ہو گئے، ان کے علم اور قلم پرسکوت طاری ہو گیا، باقاعدہ علم و حکمت کے مناروں اور جبہ و دستار کے غباروں سے ساری ہوا نکل گئی، اس لئے تبدیلی کرنے والوں نے خود اعتراف کر لیا کہ غلطی ہوئی ہے۔
لو بھی چلتی ہے تو وہ باد صبا کہتے ہیں
پاؤں پھیلا کے اندھیروں کو ضیا کہتے ہیں
لوگوں نے دیکھا کہ اتنے ا ہم مسئلے پر جبہ و دستار کے پیچ و خم ڈھیلے نہ پڑے، لمبی لمبی پگڑیوں نے پیچ و تاب نہ کھائے، بڑی بڑی ٹوپیوں میں حرکت پیدا نہ ہوئی، سب دم سادھے لبوں پر قفل ڈال کر بیٹھے رہے۔ البتہ عوام الناس نے سوشل میڈیا پر بڑھ چڑھ کر اس مسئلے کو اجاگر کیا اور اس تبدیلی کو واپس لینے پر مجبور کیا گیا مگر بڑی بڑی قیادتوں پر پراسرار سکوت چھایا رہا۔
جی ہاں! ہم پروانے اور دیوانے ہیں اس شمع نبوتؐ کے جو خاتم النبیینؐ ہیں، اس نبیؐ پر ہمارا سب کچھ قربان جن کا چہرہ چاند اور چاندنی سے زیادہ روشن تھا، اس محمد عربیؐ پر تمام اجالے اور روشنیاں نچھاور جن کا جمال، خورشید سے زیادہ تابناک تھا۔ اس نبی مکرمؐ پر دنیا کا سارا حسن و جمال نثار جن کی پلکیں دراز، پیشانی کشادہ اور ناک ستواں تھی۔ اس آخری نبیؐ پر تمام مربوط رابطے، تمام مضبوط ضابطے نچھاور، جن کے چہرہ مبارک سے نور کی کرنیں نمودار ہوتی تھیں۔ آپؐ جب مسکراتے تو دندان مبارک سے اجالے ظاہر ہونے لگتے تھے۔ اس نبیؐ پر ہماری اولاد، ہمارے ماں باپ نثار کہ ان جیسا کوئی پیدا ہوا ہے نہ کبھی ہو سکے گا۔ اس نبی مکرمؐ پر ساری مصلحتیں قربان، ان پر ساری مجبوریاں نثار، اس اعلیٰ و ارفع، پیغمبر پر لاکھوں درود، کروڑوں سلام۔