hafiz muzafar mohsin copy

لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں۔۔۔؟

جب سے میں نے پاگل خانے کا پورے ہوش و حواس کے ساتھ دورہ کیا ہے میری خواہش ہے کہ ہر پاکستانی زندگی میں ایک بار پاگل خانے کا دورہ ضرور کرے۔ آپ شاید میرے اس نکتہ کو میری دوسری باتوں کی طرح مذاق سمجھ کے ہوا میں اُڑا دیں لیکن یہ دنیا کی سب سے بڑی سچائی ہے کہ ۔۔۔
جو بہار آتی ہے تو پابند خزاں ہوتی ہے
زندگی موت کے سائے میں جواں ہوتی ہے
اگر ہم مذہبی طور پر غور کریں تو ہمیں بتایا گیا ہے کہ انسان کی پیدائش کے وقت اُس کی موت اور کھانے پینے کا فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے لیکن ہم کھانے پینے کی یا یوں کہہ لیں کہ ضروریات زندگی کے حصول کے لیے تگ و دو کرتے رہتے ہیں حالانکہ ایک چیز مقدر میں لکھ دی گئی ہے اس کے علاوہ ہم ہر گھڑی اس کوشش میں بھی محو دکھائی دیتے ہیں کہ موت کا جو وقت مقرر ہے شاید اُسے ہم ٹال سکیں لیکن یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہ ہمارے بس میں نہیں اور موت نے اُس وقت آ کر گلے لگا لینا ہے جب اُس کا وقت آئے گا ۔۔۔ اور یہ ہماری عادت کا حصہ ہے کہ ہم ہر وہ کام کر کے چھوڑیں گے جو بظاہر ہمارے بس میں نہ ہو ۔۔۔؟
میں ایک عرصہ تک قبرستان میں خوشی سے نہیں جاتا تھا اور یہی حال میرا ذہنی امراض کے شکار لوگوں کے حوالے سے ہوتا تھا لیکن جب مجھے ڈاکٹر گلزار نے پاگل خانے آنے کی دعوت دی اور مجھے پاگل خانے کے مختلف وارڈوں کا اپنی نگرانی میں دورہ کروایا تو میں اس بات کا قائل ہو گیا کہ ہر ذی شعور شخص کو ایک بار اس وارڈ میں ضرور آنا چاہئے اور کچھ وقت ان پاگلوں کے ساتھ ضرور گزارنا چاہئے کیونکہ ممکن ہے کہ کبھی آپ کو بھی اس وارڈ میں قیام کا شرف حاصل ہو جائے ہمارے ارد گرد پھیلے واقعات اور حالات سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی وقت آپ کے ساتھ کوئی ایسی حرکت یا واقعہ سر زد ہو سکتا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی لوگ آپ کو پاگل خانے کے کسی وارڈ میں چھوڑ جائیں اور آپ کو اُس وقت شدید پریشانی لاحق ہو ۔۔۔
ابھی میں کسی چینل پر ایک ذی شعور مفکر کی گفتگو سن رہا تھا کہ اُس نے بتایا امریکہ میں آپ کسی اہم ترین موضوع پر جس کمرے میں گفتگو کر رہے ہوں وہ میٹنگ ختم ہو جانے کے ایک گھنٹہ بعد تک اُس کمرے کو بند کر دیا جاتا ہے اور یہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی کیونکہ جدید ترن سائنسی ریسرچ کے مطابق آپ جس کمرے میں گفتگو کرتے ہیں وہ ساری گفتگو اُسی ماحول میں موجود ہوتی ہے اور ایک گھنٹے کے اندر اندر اُسے دوبارہ سنا بھی جا سکتا ہے اور ریکارڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔۔۔
تصور کریں ایک بہو اپنی ساس کے خلاف جو گفتگو نہایت بد دلی سے بآوازِ بلند کر رہی ہو اُس کے جانے کے چند منٹ کے اندر اندر وہ گفتگو اس سائنسی طریقے سے ریکارڈ کر کے ساس کو سنوا دی جائے تو وہ بہو پاگل خانے پہنچ جائے گی یا پہنچا دی جائے گی ۔۔۔
میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ یہ جدید ترین دور ہے اور ہم سب اس کی گرفت میں ہیں لہٰذا میں اپنے اُس بنیادی نکتہ پر قائم ہوں کہ ہمیں زندگی میں ایک بار قبرستان اور ایک بار کسی پاگل خانے کا تفصیلی دورہ ضرور کرنا چاہئے کیونکہ موجودہ حالات میری اس تھیوری کو سچا ثابت کر رہے ہیں۔ آپ نے مختلف چینلز پر دیکھا ہو گا کہ تقریباً اقتدار پر قابض ہونے کے ایک سال امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا طبی معائنہ ہونے جا رہا ہے اور تشویش کی بات یہ ہے کہ ٹرمپ کا ذہنی معائنہ اس میڈیکل چیک اپ میں شامل نہیں حالانکہ پوری دنیا کے ذی شعور عوام کی شدید ترین خواہش ہے کہ ٹرمپ کا پہلے ذہنی توازن چیک کیا جائے ورنہ دنیا کے بہت سے انسانوں کا ذہنی توازن بگڑ سکتا ہے۔۔۔
آجکل پاکستان کے عوام بھی ذہنی تناؤ کا شکار ہیں کل رات رؤف کلاسرا ایک پروگرام کہہ رہا تھا کہ کیا ہم سب ایک پاگل کے کئے ہوئے کاموں پر صفائیاں پیش کرنے کے لیے ہی رہ گئے ہیں ؟۔۔۔
کیونکہ ایک دور میں جب PTI کی بنیاد رکھی گئی تو ایک تھینک ٹینک پیچھے کھڑا تھا جس میں جنرل حمید گل اور دوسرے ایسے صاحبانِ فکر و نظر موجود تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اُن ذی شعور لوگوں کو جھاڑ پلا کر فارغ کر دیا گیا اور خود کو ’’عقل کل‘‘ سمجھنے والے راہنماء،پنڈی کے ’’انسان‘‘ شیخ رشید نے من مرضی کی زندگی گزارنے کا عہد کیا اور پھر چل سو چل ۔۔۔
تیسری شادی کے حوالے سے موصوف نے جو پر جوش ’’سرکاری‘‘ بیان جاری کیا ہے اُس کی رو سے میں نے ’’کوئی ڈاکا نہیں ڈالا ۔۔۔ چوری نہیں کی ۔۔۔ ‘‘
اُمید ہے آپ کو غلام علی کی گائی ہوئی وہ غزل یاد آ گئی ہو گی ۔۔۔؂
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکا تو نہیں ڈالا، چوری تو نہیں کی ہے
ہنگامہ ہے کیوں برپا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت دنیا بہت سے ذہنی تناؤ کا شکار لوگوں کے نرغے میں ہے اور فکر مند ہے کہ کسی بڑے سیلاب، کسی خوفناک زلزلہ یا کسی اور قدرتی آفت کے آ جانے سے تو شاید دنیا تباہ نہ ہو لیکن ’’کوریا‘‘ کے کسی ’’خبطی‘‘ صدر کے کسی غلط فیصلے ۔۔۔ امریکہ کے صدر کے کسی الٹے پلٹے حکم یا عمران خان کے کسی عجیب و غریب فیصلے سے کروڑوں انسانوں کو ذہنی طور پر کوئی پریشان کن مصیبت نہ آن گھیرے کیونکہ حالات تو ایسے بہت سے خطروں سے ہمیں آگاہ کر رہے ہیں اور ہم سب بے بسی کے ساتھ یہ سب دیکھ تو سکتے ہیں سن بھی سکتے ہیں لیکن کچھ کر گزرنے کی پوزیشن میں ہر گز نہیں ہیں کیونکہ ہم پاگل خانے کے اُس وارڈ کے مریضوں کی طرح ہیں جس کا دورہ میں نے ڈاکٹر گلزار کے کہنے پر عید کے موقع پر کیا تھا اور جس دورے کے اثرات میرے سر پر ابھی تک سوار ہیں ۔۔۔ (نوٹ ۔۔۔ ان تینوں اہم ترین شخصیات کا خوف تو دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں کے سروں پر منڈلا رہا ہے لیکن ان سب کا سردار نریندر مودی کی شکل میں ہمارے ہمسائے میں بیٹھا تیل کے کسی بہت بڑے ذخیرے کو کسی بھی وقت ماچس کی تیلی دکھانے کی تیاری میں محو دکھائی دیتا ہے ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس پاگل کے شر سے بھی انسانیت کو محفوظ رکھے ۔۔۔ آمین۔۔۔ آمین ۔۔۔ ثم آمین ۔۔۔؟؟)
(ایک بات کا مجھے دکھ ہے کہ میرے اس مضمون میں بہت سے پاگلوں کا ذکر ہونے سے رہ گیا ہے، میں اُن سب ’’معزز پاگلوں‘‘ سے معذرت چاہتا ہوں جو میرے حلقۂ احباب میں ہیں اور اُنہیں اپنے ’’پاگل‘‘ ہونے پر فخر ہے ۔۔۔)
اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و ایمان میں رکھے کیونکہ ہم سب بہر حال کسی انجانے خوف کا شکار تو ہیں کیونکہ بہت سال پہلے کسی دوست سے یہ شعر سنا تھا جس کا مطلب مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا ۔۔۔ اگر آپ کو اس کا مفہوم پتا چلے تو میرے علم میں اضافے کے لیے مجھے بتا دیجئے گا کیونکہ میں کسی تذبذب کا شکار ہوں اور ڈاکٹر گلزار کو فون کرنے لگا ہوں کیونکہ میں فوری طور پر کسی پاگل خانے کے وارڈ کا دورہ کرنا چاہتا ہوں مجھے اس وقت اس کی ’’حاجت‘‘ ہو رہی ہے ۔۔۔ ؟
آپ دستار اتاریں تو کوئی فیصلہ ہو
لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں