Atta ur Rehman copy

لودھراں کے نتائج اور سویلین بالادستی کا خواب

لودھراں کے انتخابی نتائج بیشتر مبصرین، سیاسی زعماء اور ہماری ہمہ مقتدر اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتا لوگوں کے لیے حیران کن سہی لیکن پاکستان کی سیاست کے مطلع پر چھاتی ہوئی زمینی حقیقت کے غماض ہیں کہ اس ملک کے اندر آئین کی بالادستی، شفاف جمہوریت کے تسلسل اور عوام کے ووٹوں کی حرمت کی خاطر جدوجہد کرنے والوں کو بالآخر کامیابی حاصل ہو گی۔ مقتدر قوتیں اپنے تفوق میں لپٹی ہوئی جس ملاوٹ شدہ جمہوریت کی ہمیشہ سے خواہشمند چلی آ رہی ہیں اور قائداعظمؒ کے سویلین بالادستی کے تصور کو پس پشت رکھ دینا چاہتی ہیں ان کی آرزو بالآخر پوری نہیں ہو گی۔۔۔ لمحہ موجود کے اندر اگر اس حقیقت سے سب سے زیادہ بہرہ مند ہونے والا نواز شریف ہے تو اس کی ذمہ دار بھی ہماری وہ قوتیں ہیں سیاست جن کا کام نہیں۔۔۔ ان کے آئینی اور پیشہ ورانہ فرائض دیگر ہیں۔۔۔ مگر سیاست کو ہمیشہ اپنی لونڈی بنا کر رکھنا چاہتی ہیں۔۔۔ ریاستی طاقت کے بل بوتے پر کسی منتخب وزیراعظم کو اس کی آئینی مدت پورا نہیں کرنے دیتیں۔۔۔ پاکستان کے عوام کا جذبہ مزاحمت ملاحظہ کیجیے وہ ترکی کے لوگوں کی مانند ٹینکوں کے آگے آ کر لیٹ تو نہیں گئے۔۔۔ لیکن جب پاکستان کے طیب اردوان اور تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کو اقاما جیسے کھوکھلے الزام کی بنیاد پر برطرف کیا گیا تو اظہار یکجہتی کے لیے اس کے جلسوں میں انہوں نے کہیں زیادہ تعداد اور بھرپور طریقے سے شرکت کی ہے۔۔۔ ان کا جوش و جذبہ بڑھا ہے۔۔۔ نواز کا ووٹ بینک پہلے سے مضبوط ہوا ہے۔۔۔ عوام نے اس کے حق میں اتنی بڑی اور جاندار خاموش مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے کہ بڑے بڑے سیاسی حریف کیا اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ دماغ انگشت بدنداں ہیں کہ اس بلائے بے درماں سے کیسے نجات حاصل کی جائے جسے جسٹس محمد منیر کی سوچ کے وارث ججوں کے فیصلے کے ذریعے وزارت عظمیٰ کے منصب سے تو فارغ کیا جاسکتا ہے ملک کے اصل مالک عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جا سکتا۔۔۔ وہ ان کے مینڈیٹ کا حامل اور ترجیح اوّل ہے۔۔۔ چار ماہ بعد ہونے والے عام انتخابات میں اس کی جماعت اور اس کے نامزد امیدواروں کی بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی کے امکانات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔۔۔ محترم چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا بنچ اس کی اقاما کے فیصلے کے تحت نا اہلی کو تاحیات قرار دے دے یا نت نئے الزامات اور اضافی ریفرنسوں کے تحت نیب کی عدالت اسے اور بیٹی مریم نواز کو جیل میں ڈال دے اس کی عوامی طاقت ایک طوفان بلا خیز کی مانند بڑھتی جائے گی اس لیے کہ پاکستان کے عوام جن کے آباؤ اجداد نے اسلامی جمہوری جذبے اور ایقان کے تحت1945-46ء کے انتخابات میں قائداعظم کی زیر قیادت آل انڈیا مسلم لیگ کو غیر معمولی فتح سے ہمکنار کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کو ممکن بنایا تھا۔۔۔ اب اسی جمہوری شعور اور طاقت کو بروئے کار لا کر وہ مارشل لائی قوتوں اور ان کے تمام ذیلی اداروں کی مجموعی قوتوں کے سامنے آن کھڑے ہوئے ہیں۔ لاہور کے حلقہ 120 اس کے بعد چکوال اور اب لودھراں کے ضمنی انتخابات کے نتائج اسی جذبہ مزاحمت کی واضح علامتیں بن کر سامنے آئے ہیں۔۔۔ نواز شریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنے یا نہ بنے اس کی جدوجہد کے نتیجے میں سویلین بالادستی کا قائداعظم کا خواب پورا ہو کر رہے گا۔۔۔ تمام اداروں کو خواہ کتنے طاقتور ہوں حقیقی معنوں میں
منتخب حکومت اور پارلیمنٹ کے ماتحت رہ کر چلنا ہو گا۔
پاکستان اسلام کے نام پر اور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ اور آزاد ریاست کے حصول کے جمہوری حق کی خاطر وجود میں آیا تھا۔۔۔ غیر منتخب اداروں کی براہ راست یا بالواسطہ حکمرانی کو قائم کرنا یا کسی نہ کسی حالت میں برقرار رکھنا اس کا مقصد وجود ہرگز نہیں تھا۔۔۔ آپ نے چار مارشل لاء لگا کر دیکھ لیے۔۔۔ عوام نے انہیں ہرگز قبول نہ کیا۔۔۔ اُلٹا ان کا نتیجہ ملک کے دولخت ہو جانے کی صورت میں ملا۔۔۔ نیز امریکہ کی فرنٹ لائن ریاست بن کر اس کی جنگیں لڑنا پڑیں۔۔۔ جن کے لگائے ہوئے زخم ابھی تک چاٹنے پر مجبور ہیں۔۔۔ 1971ء کی بھارت جیسے کمینے دشمن کے ہاتھوں شکست کے بعد وطن عزیز کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے اور قائداعظم کے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا اہم ترین سٹریٹجک فیصلہ ان دو ادوار میں ہوا جب اس سرزمین پر آئین کی حکمرانی تھی۔۔۔ سویلین بالادستی کسی حد تک قائم تھی۔۔۔ ملک کی زمام کار منتخب وزرائے اعظم کے ہاتھوں میں تھی۔۔۔ ذوالفقار علی بھٹو نے امریکہ کی تمام تر مخالفت کا خطرہ مول لے کر اس کی شروعات کیں۔۔۔ نواز شریف نے امریکہ کی ترغیب اور دھمکی دونوں کونظر انداز کر کے ایٹمی دھماکے کر ڈالے۔۔۔ امریکہ کے تیور دیکھتے ہوئے ملک کی اندرونی طاقت اور اپنے آپ کو اصل حکمران سمجھنے والوں کا مشورہ اس وقت بھی اس کے حق میں نہیں تھا۔۔۔ آزاد کشمیر پاکستان کے زیر انتظام لیاقت علی خان کے سویلین اور جمہوری عہد میں آیا۔۔۔ کشمیری عوام کے حق خود ارادی کے حق میں اقوام متحدہ کی قرار دادیں بھی ان کے دور میں منظور ہوئیں۔۔۔ 1958ء میں گوادر جیسی بندرگاہ جس پر آج ہم فخر کے ساتھ پھولے نہیں سماتے ملک فیروز خان نون جیسے کمزور لیکن سویلین وزیراعظم نے مسقط سے حاصل کی جبکہ مارشل لائی عہد میں سیاہ چین گنوایا۔۔۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے بڑا کارنامہ بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کرنے کے بعد منگلا اور تربیلا کے ڈیموں کی تعمیر کا کیا جو تیزی کے ساتھ ازکار رفتہ ہوئے جا رہے ہیں۔۔۔ 55 کروڑ پاؤنڈ کے عوض تین دریا بھارت کے تسلط میں دے دیئے۔۔۔ نتیجے کے طور پر اگلی دو دہائیوں میں سوکھا پڑنے کا امکان ہے نواز شریف نے جو جو ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبے شروع کیے ان کے اندر غالب عنصر پائیداری کا ہے۔۔۔ خواہ ملک بھر کے اندر موٹرویز کا جال بچھا دینا ہو یا عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ مل کر سی پیک جیسے خطے کی تجارتی اور اقتصادی سٹریٹجی تبدیل کر دینے والا عظیم منصوبہ ہو۔۔۔ قوم کو لوڈشیڈنگ کے ناسور سے جو اس نے نجات دلائی ہے۔۔۔ اس پر مستزاد ہے۔۔۔ اقاما کا فیصلہ اسی کارکردگی پر لیے جانے والا انتقام تھا کیونکہ ریاستی طاقت والوں کو منظور نہیں کہ کوئی منتخب سویلین عوامی لیڈر ان کے مقابلے میں سربلند نظر آئے۔۔۔ اب نیب کے مقدمات میں کچھ ہاتھ نہیں آ رہا۔۔۔ ضمنی ریفرنس داخل کرائے جا رہے ہیں تا کہ کسی طور اسے جیل بھجوایا جا سکے۔۔۔ ان تمام تر انتقامی کارروائیوں کا جواب پاکستان کے عوام پے در پے انتخابی فیصلوں کے ذریعے دے رہے ہیں۔۔۔ لودھراں کے انتخابی نتائج ان کے اسی مزاحمتی جذبے کے آئینہ دار ہیں۔
2018ء کے انتخابات اگر بغیر کسی مداخلت کے بعد پر امن طریقے سے ہوئے عوام کو بیلٹ بکس پر اپنا فیصلہ صادر کرنے کی کھلی آزادی دی گئی۔۔۔ کسی قسم کی قبل از انتخابات پولیٹیکل انجینئرنگ سے کام نہ لیا گیا۔۔۔ تو چناؤ کا یہ عمل پاکستان کی گاڑی کو آئینی اور جمہوری شاہراہ پر زیادہ پختگی کے ساتھ گامزن کرنے میں سنگ میل ثابت ہو گا۔۔۔ ان انتخابات میں بھی نواز شریف کا حقیقی مقابلہ عمران خان اور زرداری سے کم مقتدر قوتوں کے دیکھے اور اَن دیکھے ہتھکنڈوں سے زیادہ ہو گا۔۔۔ اقاما فیصلے کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران انہوں نے تحریک لبیک جیسی تنظیموں کو میدان میں لا کر ووٹ بینک توڑنے کی کوشش کر ڈالی۔۔۔ لاہور کے حلقہ 120 چکوال اور اب لودھراں میں اس تنظیم کے امیدواروں کو کھڑا کر کے انہوں نے دیکھ لیا سات سے دس ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کیے جا سکے۔۔۔ جو حتمی نتیجے پر زیادہ اثر انداز نہیں ہو پاتے۔۔۔ لودھراں میں تو مسلم لیگ (ن) کا امیدوار اپنے علاقے کا جانا پہچانا پیر ہے۔۔۔ اس نے پوری استقامت کے ساتھ جمہوری قوت کے ہراول دستے میں شامل ہو کر ثابت کر دیا کہ خانقاہوں کا کارڈ بھی اتنا مؤثر ثابت نہیں جتنی یار لوگوں کو امید تھی۔۔۔ جیسا کہ سطور بالا میں عرض کیا گیا۔۔۔ 2018ء کے انتخابات کے بغیر مسلط کردہ قانونی اور عدالتی رکاوٹوں کی وجہ سے نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم بنے یا نہ بنے اس کی قیادت میں سویلین بالادستی کا آئینی اور جمہوری پرچم زیادہ شان کے ساتھ پھڑپھڑائے گا اور لہرائے گا۔۔۔ اہل پاکستان کو یہ دن دیکھنے کے لیے زیادہ چوکنا ہو کر اور پوری استقامت کے ساتھ بیلٹ بکس کے ذریعے اپنا فیصلہ صادر کرنا چاہیے۔