Awais-Ghauri

لودھراں میں جمہوریت کی جیت

’’کمرے میں لوبان کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی ، دھواں دھواں سا تھا اور سارا کمرہ گلابی رنگ کی نورانی روشنی میں نہایا ہوا تھا ۔ وسط میں ایک پیرنی گلابی رنگ کا چولا زیب تن کئے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنے میں مصروف تھی۔ مرید بے چینی سے پیرنی کی آنکھیں کھلنے کا منتظر تھا۔ اس کے چہرے پر رنج و غم ، تجسس و جھنجھلاہٹ کے ملے جلے تاثرات نمایاں تھے۔ پیرنی کی آنکھیں کھلیں اور وقت جیسے تھم سا گیا۔ سکوت ٹوٹا ’’ معرکے دو ہیں اور صرف ایک جیت مقدر میں لکھی ہے ، اب یہ تیرا فیصلہ ہے کہ تو نے کس معرکے کو فتح کرنا ہے۔ چھوٹی جنگ یا بڑی جنگ۔ آج کامیابی چاہیے یا بڑے انتخابات ، مطلب امتحانات میں سروخرو ہونا ہے ؟‘‘۔ مرید کے چہرے کے تاثرات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے ، اسے سمجھ آ گئی کہ آج بھی لگ چکی ہے ’’ مگر پیرنی جی ! یہی بات تو آپ نے پہلے بھی کہی تھی‘‘۔ پیرنی کے چہرے پر جلال آگیا ’’ تو روحانی باتوں میں ٹانگ اڑاتا ہے ، تجھے کیا پتہ اوپر کیا معاملے چل رہے ہیں ، جتنا پوچھا ہے اتنا بتا۔ آج کی چھوٹی فتح چاہیے کہ کل کی بڑی فتح ‘‘۔ مرید نے شاید اس بار بھی غلط پیر پکڑ لیا تھا ، اسے کچھ سمجھ نہ آئی کہ کیا جواب دے پھر بیچارگی سے بولا ’’ بڑی فتح‘‘۔ پیرنی کی آنکھوں میں ایک چمک آگئی ، مرید کا چہرہ مرجھا گیا اور کمرہ پنکی نور میں ڈوبتا چلا گیا‘‘۔
پیرنی کی چیتاونی کے بعد کس کی مجال کہ رو گردانی کرے ، سو جواز ڈھونڈے گئے کہ ناکامی کی وجہ آخر کیا ’’پھیلائی‘‘ جائے تو حل یہ نکلا کہ اسے موروثی سیاست کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ لیکن یہ موروثی سیاست کی ناکامی نہیں بلکہ اس منافقت سے بھرپور سیاست کی ناکامی ہے جو پی ٹی آئی کا وتیرہ بنتی جا رہی ہے۔پیروں کی ہدایت پر آپ موروثی سیاست پر سوال اٹھا رہے ہیں مگر آپ کو مار جھوٹ بولنے اور اپنی بات پر قائم نہ رہنے پر پڑی ہے۔ این اے 154 لودھراں پی ٹی آئی کا مضبوط قلعہ تھا ،جہانگیر ترین کا سوشل ورک ،خدمات ، این جی او ، نوکریاں اور سب سے بڑ ھ کر عمران خان کی شخصیت کا کرزما۔ خان صاحب نے عوام سے پہلا جھوٹ یہ بولا کہ موروثی سیاست ایک لعنت ہے ، دوسرا جھوٹ یہ بولا کہ وہ کبھی اس پر عمل نہیں کریں گے اور مگر جب ان کو موقع ملا تو انہوں نے سب سے پہلے موروثی سیاست کو ہی چنا اور عوام کو پی ٹی آئی کا یہ جھوٹ ایک آنکھ نہیں بھایا۔
’’موروثی سیاست‘‘ بھی ویسا ہی ایک پروپیگنڈا ٹول ہے جو پاکستانی ان پڑھ عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جیسے صدیوں سے پسے ہوئے طبقے کو غربت ختم کرنے کا لالی پاپ دیا جاتا ہے اور موجودہ تاریخ میں آج تک کوئی ایک دن ایسا نہیں آسکا جب غربت کا خاتمہ کیا جا سکا ہو ۔ ویسے ہی عوام کوبتایا جاتا ہے کہ موروثی سیاست ایک لعنت ہے۔فیصلہ آپ خود کریں کہ اگر کسی کو وراثت میں سیاست ، صحافت ، کاروبار ، جائیداد ، عزت ، شہرت ، دولت ملے تو یہ خوش نصیبی ہوتی ہے یا گناہ ؟۔ان گنت مثالیں ہیں۔دنیا کی سپر پاور امریکہ میں بش سنیئر کے بعد ان کے بیٹے بش جونیئر کو امریکی عوام نے دو بارہ صدر منتخب کیا مگر انہی امریکی عوام نے سابق صدر بل کلنٹن کی بیگم ہیلری کلنٹن کو مسترد کیا اور یہ بتایا کہ وہ انہیں صدارت کے عہدے پردیکھنا پسند نہیں کرتے۔ کینیڈا کے پندرہویں وزیر اعظم کا نام تھا پیرے ایلیٹ ٹروڈو جبکہ ان کے صاحبزادے جسٹن ٹروڈو آج کینیڈا کے وزیر اعظم ہیں۔ پاکستان میں بڑے سیاسی خاندان کے سپوت مونس الٰہی سیاست میں کوئی جگہ نہیں بنا پائے۔ سیاست کے علاوہ دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی ایسی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار امیتابھ بچن کے بیٹے ابھیشیک بچن ایک ناکام بھارتی اداکار ہیں جو اپنے والد کی ساری طاقت ، نام اور شہرت کے باوجود اداکاری میں کوئی مقام حاصل نہیں کر پائے ، سنیل سیٹھی ، جیکی شرف سے فلموں کا کون سا شائق واقف نہیں مگر ان کی اولادیں فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہیں۔ پاکستانی سٹار باؤلر عبدالقادر نے پوری دنیا میں اپنی مہارت کے جھنڈے گاڑے مگر ان کے بیٹے عمران قادر آج بھی جدوجہد میں مصروف ہیں۔
موروثیت آپ کو ایک اچھا آغاز دے سکتی ہے مگر حتمی کامیابی آپ نے اپنی ذہانت ، قابلیت اور محنت سے حاصل کرنی ہوتی ہے۔ اگر بڑے انسان کے گھر کوئی پیدا ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس نے وہ کام نہیں کرنا جو اس کے باپ نے کیا؟۔ کیا صحافی کا بیٹا صحافی نہیں بن سکتا؟ کیا حامد میر ، وارث میر کے بیٹے ہونے کی وجہ سے اتنے بڑے مقام پر پہنچے؟ کیا علی سیٹھی اور میرا سیٹھی اپنے والدکی کامیابی ، طاقت اور شہرت کی وجہ سے آج اداکاری اور گلوکاری میں نام بنا رہے ہیں؟ جی ہاں بڑے باپ کی اولاد ہونے کا آپ کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔ آپ کو اچھا آغاز مل جاتا ہے۔ کچھ تعلقات مل جاتے ہیں مگر اس کا یہ کہیں بھی مطلب نہیں ہوتا کہ آپ صرف اپنے باپ کے نام کی وجہ سے ہی آگے پہنچ جائیں گے۔
میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف سیاست میں محنت کر رہی ہیں ، انہیں ایک اچھا آغاز ، دانا مشورے ، سیاسی گر ان کے والد کی طرف سے سکھائے جا رہے ہیں اگر ان میں کوئی قابلیت ہو گی تو وہ آنیوالے وقت میں ایک کامیاب سیاستدان بن جائیگی۔ حمزہ شہباز شریف بھی سیاست میں ایک عمر گزار چکے ہیں۔ ان کو آج ہم ذاتی حیثیت میں ایک کامیاب سیاستدان نہیں کہہ سکتے مگر ہو سکتا ہے آنیوالے وقت میں خود کو کامیاب سیاستدان منوا لیں ۔ بلاول بھٹو زرداری سیاست میں بہت محنت کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ بھٹو فیملی کا نام ہے لیکن ان کی کامیابی اب ان کی اپنی محنت ، ذہانت کی مرہون منت ہے۔ علی ترین کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا ، وہ اپنے والد کے نااہل ہونے کے بعد ایک صبح سو کر اٹھے تو انہیں بتایا گیا کہ آپ سیاستدان بن چکے ہیں۔ جہانگیر ترین نے یہ زیادتی اپنے ساتھ اور خاص طور پر اپنے بیٹے کے مستقبل کے ساتھ کی ہے۔ انہوں نے شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کی بھاری قیمت چکائی ہے اور وہ آنیوالے دنوں میں اور بھی بہت کچھ ادا کریں گے۔انہوں نے اپنے بیٹے کو سیاست کا کوئی تجربہ نہیں دیا ، اسے تیار نہیں کیا اوراتار دیا اتنے بڑے مقابلے میں جہاں آپ کا مقابلہ تجربہ کار ترین سیاستدانوں سے تھا۔
کہانی سے سبق یہ ملتا ہے کہ پیرنیوں کے چنگل سے آزادی حاصل کریں ورنہ امیر ترین ہونے کے باوجود علی ترین کو جو بدترین شکست ہوئی وہ اگلے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو شدید ترین شرمندہ کرا سکتی ہے ۔اور عمران خان کی نظر ایک کہانی ’’1492ء میں غرناطہ کے مسلمان بادشاہ کو شکست فاش ہوئی ۔ اراگون کے بادشاہ فرڈی نینڈ اور اس کی بیوی کاسٹیل کی ملکہ ازابیلہ نے غرناطہ پر قبضہ کر لیا ۔ شکست خوردہ سلطان ابو عبداللہ محمدنے شہر چھوڑتے ہوئے جب اپنی مفتوحہ سلطنت پر آخری نگاہ ڈالی تو اس کی نگاہ سیاہ آسمان کی چادر کے آگے سرخ قلعتہ الحمرا پر پڑی۔ بے ساختہ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے جس پر اس کی والدہ ملکہ عائشہ نے ایک تاریخی جملہ کہا ’’ عورتوں کی طرح اس چیز کیلئے مت رو ، جس کی تم مردوں کی طرح حفاظت نہ کر سکے‘‘۔