hafiz-zohaib-tayyab

لاہور پولیس کا سٹیٹ آف دی آرٹ ویلفیئر منصوبہ

مجھے لوگوں کے رویوں، باڈی لینگوئج اور دوسرے معاملات کو سمجھنے میں اس وجہ سے زیادہ مشکل کا سامنا نہیں کر نا پڑتا کہ دور طالبعلمی میں علم بشریات اور ہیومن سائیکالوجی پر لکھی گئی کئی کتابیں اس قدر تواتر کے ساتھ پڑھیں کہ وہ زبانی یاد ہو گئی تھیں ۔ علم بشریات اور ہیومن سائیکالوجی ایک ایسی سائنس ہے جس کی بدولت آپ کو اچھے اور بُرے کے درمیان فرق کر نے کا سائنسی طریقہ معلوم ہو جا تا ہے ۔ یہ انہی کتابوں کا فیض ہے کہ بظاہر بُرا دکھائی دینے والا شخص بُرا نہیں لگتا کیونکہ جب اس کے پیچھے چھپے محرکات ، واقعات اور حقائق پر روشنی ڈالی جائے تو فوری طور پر وہ شخص آپ کو دنیا کا سب سے زیادہ مسکین اور معصوم شخص محسوس ہونے لگے گا۔
قارئین!پولیس کا محکمہ بھی چند ایسے محکموں میں شمار ہوتا ہے کہ جس سے منسلک لوگ بالخصوص چھوٹے رینک سے تعلق رکھنے والے بظاہر سخت غصیلے، بد تمیز اور ہر طرح کے جذبات سے عاری نظر آتے ہیں ۔ یہی وہ وجوہات ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں پولیس کے خلاف نفرت کا عنصر زیادہ دکھائی دیتا ہے ۔اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں دیکھتے سمجھتے ہوئے بھی کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی ۔ ماضی میں پولیس افسر بھی چھوٹے رینک والے ملازمین کی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں اور الجھنوں کو دور کر نے کی بجائے اپنا پیٹ بھرنے کی خاطر عارضی طور پر میک اپ کر کے سب اچھا ہے کی رپورٹ دیتے رہے ۔
یوں معاملات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوتے چلے گئے اورفورس کے مورال میں کمی پیدا ہوتی گئی ۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ماضی میں کسی پولیس افسر کوبھی توفیق نہ ہو سکی کہ ملازمین کے سخت رویوں کے پیچھے چھپی ان کی مشکلات، پریشانیوں اور الجھنوں کا مداوا کیا جا سکتاکہ جنہیں ان محرکات کا بخوبی علم تھا کہ کیسے یہ لوگ سخت گرمی اور سردی میں کھلے آسمان تلے مچھروں اور سخت موسم کے ساتھ گزارہ کرتے ہیں، تھانوں میں قائم صدیوں پرانے واش رومز کو استعمال کرتے ہیں ، دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہونے والے ان چھوٹے ملازمین کی ویلفیئر ، دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہداء کے لواحقین کی داد رسی میں عدم دلچسپی جس کی وجہ سے شہداء کے لواحقین فاقوں پر مجبور ہو جاتے تھے ۔
قارئین کرام !بھلا ہو لاہور کے سٹی چیف پولیس افسر کیپٹن امین وینس کا جو دردِ دل رکھنے والے انسان ہیں اورجن کا شمار نیک پولیس افسروں میں کیا جا تا ہے جنہوں نے اپنی ٹیم میں بھی نیک افسروں کو شامل کیا جس میں ڈاکٹر حیدر اشرف، رانا ایاز سلیم، منتظر مہدی اور عاطف نذیر جیسے ہیرے لوگ موجود ہیں ۔ ان سب لوگوں نے محکمے کے ان کمزور خانوں کو پُر کر نا شروع کیا جس کی وجہ سے فورس کے مورال میں کمی واقع ہور ہی تھی ۔ اس میں سب سے زیادہ اہم کردار ایس ایس پی ایڈمن رانا ایاز سلیم کا تھا جو انہوں نے بڑے احسن طور پر سر انجام دیا۔ کئی تھانوں کی سالوں پرانی عمارتیں جن میں ملازمین کے لئے کسی قسم کی کوئی آسائش موجود نہیں تھی ، انہیں ازسر نو تعمیر کیا گیا اور ماڈل پولیس سٹیشن کے ساتھ یہاں تعینات ملازمین کی بہترین رہائش گاہوں اور انہیں ضرویات زندگی کی ہر بہتر چیز مہیا کی گئی ۔ ملازمین کی ویلفیئر کو بہتر کر نے کے لئے کام شروع کیا گیا اور لاہور پولیس کے290سے زائد شہدا ء کی فیملیوں میں گھر، ان کے لواحقین کو نوکری اور بچوں کے تعلیمی اخراجات ادا کر نے شروع کئے گئے ۔ اس کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اور شہد اء کے لواحقین کو کسی بھی پریشانی سے بچانے کے لئے ویلفیئر آئی ایپ ا ور اس کے ساتھ ایس ایم ایس سروس کا بھی آغاز کیا گیا ۔ جس کے ذریعے فوری طور پر ان کے مسائل جو سالوں حل نہیں ہوتے تھے چند دنوں میں حل ہو نا شروع ہو گئے ۔
اس کے علاوہ کئی کئی سالوں سے پولیس اہلکار جو اپنی ترقیوں کی خواہش اپنے سینے میں سجائے ہی ریٹائرڈ ہو جاتے تھے ، ایسے تما م لوگوں کو ریکاڑ ترقیاں دی گئیں۔ نیچے سے اوپر تک کے تما م ملازمین کو میرٹ کی بنیادوں پر ترقیاں دی گئیں جس کی وجہ سے ملازمین میں پہلے سے کئی بڑھ کر کام کر نے کا جذبہ پیدا ہوا اور اس کے ساتھ معاشرے سے جرائم ختم کر نے کے لئے عوامی نمائندوں اور پولیس کے مابین ہمہ وقت رابطہ رکھنے کے لئے لوکل آئی ایپ اور تما م فورس کوانٹیلی جنس نظام کے ذریعے آپس میں منسلک کرتے ہوئے 35 ہزار اہلکاروں کو اپنے گلی محلوں سے متعلق کسی بھی قسم کے جرم، مشکوک شخص یا سرگرمی کو صرف ایک نمبر کے ذریعے سینئر افسران تک پہنچانے کے لئے انٹیلی جنس ایپ کے آغاز کا سہرا بھی رانا ایازسلیم کے سر سجتا ہے جس کی بہت ہی مثبت نتائج مل رہے ہیں ۔ ویلفیئر کے اس سٹیٹ آف دی آرٹ منصوبے کو دیکھتے ہوئے خیبر پختونخوا اور سندھ پولیس کے افسران نے بھی لاہور پولیس سے معاونت حاصل کی ہے جبکہ حال ہی میں ایشین امریکن کانگریس کے چیئرمین نے بھی اس منصوبے کو بے حد سراہا ہے ۔
قارئین ! لاہور پولیس کی جانب سے اپنے ملازمین کی ویلفیئر پر توجہ دینے کی وجہ سے ملازمین میں بھی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اب تھانوں، چوراہوں اور محلوں میں ، عوام کی حفاظت کے لئے کھڑے چھوٹے پولیس ملازمین کے رویوں میں بھی کافی بہتری آئی ہے جو بلاشبہ افسران کی جانب سے ویلفیئر کے منصوبوں پر توجہ دینے سے ممکن ہو پارہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اگر لاہور پولیس اسی طرح اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود کا خیال کرتی رہی تو کچھ بعید نہیں کہ عوام اور پولیس کے درمیان نفرت کا رشتہ محبت میں تبدیل ہو جائے۔