tofeeq butt

لالچ، عہدے اور عزت!

اس ملک میں بے توقیر اور بے ضمیر لوگوں کی کوئی تاریخ رقم ہوئی تو ایک سابق آئی جی پنجاب کا نام ”سیاہ حروف“ یعنی اُن کے اپنے رنگ کے حروف سے لکھا جائے گا ، سیاہی بھی اُس روز ماتم کرے گی آج کِس شخص کا نام اُس سے لکھا جارہا ہے۔ ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کسی شخص کا چہرہ اُس کے دل کا عکاس ہوتا ہے۔ میں ذاتی طورپر اِس ”قول “ کو تسلیم نہیں کرتا تھا، مگر ان صاحب نے بطور آئی جی اور اُس کے بعد اب تک اپنی بے عزتی کی جو سیاہ مثالیں قائم کیں، اور کرتے چلے جارہے ہیں، اُنہیں پیش نظر رکھتے ہوئے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں بزرگوں کے اقوال اتنے غلط بھی نہیں ہوتے، اپنی جائز ناجائز خدمات کے عوض سیاسی حکمران اُنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد اب تک کئی عہدوں کی پیشکش کرچکے ہیں جنہیں وہ قبول نہیں کررہے تھے۔ بڑی مشکل سے ”وفاقی محتسب اعلیٰ ٹیکس“ کا عہدہ اُنہیں پسند آیا ہے۔ ٹیکس کے ساتھ اُن کا تعلق صرف یہ ہے آج تک اُنہوں نے پورا ٹیکس نہیں دیا ہوگا۔ دیا بھی ہوگا تو اُن کی جانب سے کسی نے دے دیا ہوگا۔ ایسے افسران نے بے شمار ایسے لوگوں کو پالا پوسا ہوتا ہے جو اُن کی جائز ناجائز ضرورتیں اور فرمائشیں صرف اِس لیے پوری کرتے رہتے ہیں کہ آگے سے وہ بھی اُن کی ضرورتیں اور فرمائشیں پوری کرتے رہتے ہیں،…. سیاستدانوں میں یہ ”اعزاز“میاں محمد نواز شریف نے حاصل کیا خود کو نااہلی کے اعلیٰ ترین مقام پر لے آئے۔ اور افسروں میں یہ ”اعزاز“ سابق آئی جی کو حاصل ہوا۔ منحوس افراد کی پاکستان میں خیر سے کوئی کمی نہیں مگر اُن جیسا منحوس شاید ہی کوئی ہوگا۔ ”جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے “ ….آئی جی پنجاب کا عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی دن سانحہ ماڈل ٹاﺅن ہوگیا، جس کا حساب قدرت اِک نہ اِک دن اُن سے ضرور لے گی، اور اب ٹیکس کے وفاقی محتسب کا چارج سنبھالتے ہی دفتر کو آگ لگ گئی ، سنا ہے بہت سا ایسا ریکارڈ بھی جل گیا جو پھنسے ہوئے حکمرانوں کو مزید پھنسا سکتا تھا۔ اُنہیں شاید اسی مقصد کے لیے ہی لایا گیا تھا، لاہور پولیس ابھی تک اُن کی جان اور عہدے کو رورہی ہے۔ اپنی طرف سے پنجاب پولیس میں شاید واحد کارنامہ اُنہوں نے یہی کیا تھا جس کے بارے میں انہیں یقین تھا محکمے میں وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے، مگر وردی تبدیل کرنے کے اس کارنامے پر جتنی تنقید اور بددعائیں پولیس خصوصاً لاہور پولیس اُنہیں دے رہی ہے، اُتنی خود پولیس کو آج تک عوام کی طرف سے نہیں ملی ہوں گی ، یہ ”یونیفارم “ صرف ان جیسی ذہنیت اور رکھنے والے افسر پر ہی جچ سکتی تھی، یوں محسوس ہوتا ہے نئی یونیفارم بنانے والوں نے جب ان سے پوچھا ہوگا کیسی وردی بنانی ہے ؟آگے سے اُنہوں نے کہا ہوگا میرے جیسی بنادیں۔ اب صورت حال یہ ہے سوائے لاہور کے کسی اور ضلع کی پولیس پر یہ وردی نہیں ٹھونسی گئی، سو لاہور پولیس کی یہ گزارش بالکل جائز ہے اُن کی پرانی وردی اُنہیں واپس کی جائے۔ ویسے حکمرانوں کا بس چلے پرانا آئی جی بھی پولیس کو واپس کردیں، جتنی تابعداری اُس نے کی ماضی میں کسی نے کی ہوگی نہ آگے چل کر کوئی کرسکتا ہے۔ حکمرانوں کے آگے لیٹنے کا اعزاز بہت سے آئی جیز نے حاصل کیا مگر حکمرانوں کے آگے بے لباس لیٹنے کا اعزاز صرف انہیں ہی حاصل ہوا۔ احتساب کا عمل اس ملک میں جب صحیح اور وسیع پیمانے پر بلاتفریق شروع ہوا سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ساتھ ساتھ پولیس کی وردی تبدیل کرنے سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا جو نقصان اُنہوں نے پہنچایا ، سارے حساب ان سے لیے جائیں گے۔ فی الحال وہ اس اطمینان میں ہیں کوئی اُنہیں پوچھنے والا نہیں ہے، اس کے باوجود کہ سپریم کورٹ نے ایک وزیراعظم کو فارغ کردیا ہے، کرپٹ سسٹم پوری آب وتاب کے ساتھ چمک دمک رہا ہے۔ کوئی ایک شخص فی الحال اس احساس میں مبتلا نہیں ہوسکا کہ وزیراعظم سے حساب لیا جاسکتا ہے تو وہ کس کھیت کی مولی ہے۔ مگر اِس یقین میں سب مبتلا ہیں نااہل وزیراعظم آگے چل کر کلیئر کردیا جائے گا، کیونکہ پاکستان کے کرپٹ کریمینل سسٹم کے تحت کسی کو اِس کے جرائم کے مطابق سزا نہیں مل سکی۔ ”رشوت لیتے پکڑا گیا ہے رشوت دے کے چھوٹ جا“کا ”عظیم الشان “ نظام جب تک اس ملک میں رائج ہے چوروں، ڈاکوﺅں اور لٹیروں کو چاہے اُن کا تعلق کسی بھی شعبے سے کیوں نہ ہو”ستے ای خیراں“ ہیں، کوئی مشکل پریشانی یا تکلیف اُنہیں آتی بھی ہے وہ بہت عارضی ہوتی ہے۔ سندھ کے ڈاکٹر عاصم کی مثال ہمارے سامنے ہے اُس کے سرپرست زرداری کو بھی چند روز پہلے ہی ”نیب کورٹ“ نے بری کیا ہے۔ ماڈل ایان علی کے کیس کو لے لیں، کسٹم کے جس افسر نے انتہائی ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے منی لانڈرنگ میں اسے پکڑاتھا وہ قتل ہوگیا اور جو اللہ جانے کہاں کہاں سے پکڑی گئی اس کا کوئی بال بیکا نہیں کرسکا۔ بدقسمتی سے پاکستان ایسے ملک کے طورپر دنیا میں مشہور ہوگیا ہے جہاں قتل کرنا نہیں قتل ہونا اِک جرم ہے۔ ابھی آج ایک اور کیس میرے نوٹس میں آیا ہے، ایف آئی اے کے
ایک ”میمنے“ نے اپنے ماتحت ایک افسر کو محض اس لیے کھڈے لائن لگا دیا کہ ُاس نے نادرا کے ایک سابق اور نیب کے ایک اعلیٰ افسر جس پر کرپشن کے کئی کیسز ہیں کی ضمانت کنفرم کروانے سے انکار کردیا تھا، یہ نہیں کہ پاکستان میں سب ”سکھیرے “ اور ”میمنے“ ہیں کچھ انتہائی دیانتدار افسران بھی ہیں جن کا ایمان ہے اُن کا رازق اُن کا رب ہے اور عزت ذلت، زندگی موت سب اُس کے اختیار میں ہے۔ وہ کبھی غلط کام نہیں کرتے۔ مگر افسوس یہ ہے ”من حیث الہجوم“ ایسے لوگوں کی ہم قدر نہیں کرتے۔جس روز یہ معاشرہ کسی ایک دیانتدار افسر کے ساتھ ہونے والے ظلم زیادتی پر پوری طاقت سے اُٹھ کھڑا ہوا خدا کی قسم بددیانت وبدکردار افسروں کو منہ چھپانے کے لیے جگہ نہیں ملے گی ….مشتاق سکھیرا کو پہلے پولیس کا مشیر بنایا گیا، یہ عہدہ اُنہیں پسند نہ آیا، پھر اس طرح کا ایک آدھ اور عہدہ بھی انہوں نے قبول نہ کیا، ہمارا خیال تھا اتنی بے وقعتی وصول کرنے کے بعد اب کسی عہدے کی لالچ میں وہ نہیں پڑیں گے۔ سو مالی لحاظ سے کسی نہ کسی پُر کشش عہدے پر تعیناتی خواہش سے زیادہ اُن کی ضرورت تھی جو حکمرانوں نے بالآخر یہ سوچ کر پوری کردی ہوگی کہیں نئے آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز اس یقین میں ہی مبتلا نہ ہو جائیں کہ موجودہ حکمرانوں نے پولیس افسروں کو ریٹائرمنٹ کے بعد نوازنے اور شہبازنے کی پالیسی ترک کردی ہے، ویسے موصوف کی خواہش تو ریٹائرمنٹ کے بعد کسی گورے ملک کا سفیر بننے کی تھی۔ اُس کے چانسز اب بھی ہیں، بطور”وفاقی محتسب اعلیٰ ٹیکس“ حکمرانوں کی مزید جائز ناجائز ضروریات اور خدمات انجام دینے کے لیے وہ ایڑی چوٹی و دیگر اعضاءکا رہا سہا زور بھی لگا دیں تو اُمید ہے آگے چل کر ان کی سفیر بننے کی خواہش بھی کسی نہ کسی طرح پوری کر ہی دی جائے گی، چاہے اُنہیں برما میں ہی سفیر بناکر کیوں نہ بھیج دیا جائے ،….پولیس اور فوج کے اکثر افسران ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ”ریٹائرڈ“ نہیں ہوتے۔ کوئی نہ کوئی پُرکشش عہدہ ریٹائرمنٹ کے بعد اُن کے لیے تیار ہوتا ہے۔ آج مجھے بے اختیار ایک انتہائی نفیس اور ایماندار پولیس افسر مرحوم جاوید نور یاد آرہے ہیں۔ بطور ڈی جی آئی بی ریٹائرمنٹ کے بعد اُس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اُنہیں ایکسٹینشن دینے کی پیشکش کی انہوں نے شکریے کے ساتھ معذرت کرلی۔ یہ بات مجھے جاوید نور نے نہیں یوسف رضا گیلانی نے بتائی تھی، وہ ہمیشہ اپنے نام کی طرح ”پُرنور“ رہے۔ اب اُن ہی کی طرح کے اُن کے داماد فیصل شاہکارایڈیشنل آئی جی ہیں ۔وہ اب بھی شاہکار ہیں، مجھے یقین ہے یہ گریس اپنے سسر محترم کی طرح ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ برقرار رکھیں گے۔ عہدے بے شمار افسروں کو مل جاتے ہیں، عزت کسی کسی کو ملتی ہے۔ البتہ یہ ایک اہم سوال ہے عزت یہاں ترجیح کس کی ہے؟؟؟