riaz ch

قیام پاکستان،بیسویں صدی کا ایک معجزہ

پاکستان کا قیام بابائے قوم حضرت قائداعظم کی فراست، تدبر، خلوص اور دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انگریزوں اور ہندوؤں کی سازشوں اور پر زور مخالفت کے باوجود 14اگست 1947ء کو پاکستان ظہور میں آیا۔ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے حضرت قائد اعظمؒ کی قیادت میں قیام پاکستان کیلئے بے شمار اور عظیم قربانیاں دیں۔ لاکھوں مسلمانوں نے اس مقصد کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
تحریک پاکستان میں جہاں برصغیر کے مسلمانوں کے ہرطبقے کے لوگوں نے بھرپور حصہ لیا وہاں ہمارے مسلم اخبارات اور خصوصاً اْردو اخبارات نے تحریک پاکستان کے مقاصد اور اس مشن کے حصول میں جو بھرپور حصہ لیا وہ صحافت کی تاریخ میں ہمیشہ ایک درخشاں باب کی صورت میں محفوظ رہے گا۔ ہندو اخبارات نے مسلمانوں کے خلاف اس وقت پروپیگنڈا شروع کردیا تھا جبکہ دوسری طرف مسلم اخبارات میں علیحدہ مملکت کے قیام کے بارے میں مضامین اور مقالہ جات چھپنے شروع ہوگئے تھے۔
تحریک آزادی میں مسلمانوں کا مشہور اخبار’’ زمیندار‘‘ تھا۔ 9نومبر 1909ء کو معروف صحافی بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان نے زمیندار کی ادارت سنبھالی۔ علامہ اقبال نے فرمایا کہ ’’ ظفر علی خان کا قلم دین کے بڑے بڑے مجاہدین کی تلوار سے کم نہیں‘‘۔اسی دور میں جب 23 مارچ 1940ء کو قرارداد لاہور پیش ہوئی تو ’’نوائے وقت لاہور‘‘ ایک بیدار مغز مسلمان نوجوان حمید نظامی کی زیر ادارت 15 روزہ اخبار کی شکل میں میدان صحافت میں اترا۔ اردو اخبارات میں یہ واحد اخبار تھا جس نے مسلمانوں اور ان کی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے نقطہ نظر کی کامیابی کے ساتھ موثر ترجمانی کی۔ اس ضرورت کے پیش نظر قائداعظمؒ کے ارشاد‘ دعا اور پیغام کے ساتھ ’’نوائے وقت‘‘ 29 مارچ 1944 ء سے روزنامہ کی شکل میں شائع ہونے لگا اور حمید نظامی کی محنت نے جلد ہی نوائے وقت کو مسلمانوں کا ایک مقبول اخبار بنا دیا اور اس وقت بھی اردو صحافت میں روزنامہ نوائے وقت ہی ہے جو پہلے مجید نظامی اور اب رمیزہ مجید نظامی کی زیر ادارت نظریہ پاکستان کی حفاظت اور قیام کے مقاصد کی تکمیل کیلئے کوشاں ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ نظریۂ پاکستان کے تحفظ اورآزادی تحریک پاکستان میں علماء کا کردارآب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ برصغیر پاک و ہند بلکہ عالم اسلام کی دینی و مذہبی شخصیت اور دارالعلوم دیوبند کے سرپرست مجدد مولانا اشرف علی تھانوی ؒ ، علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ،مفتی اعظم محمد شفیعؒ ،مولانا خیر محمد جالندھریؒ ،مولانا ادریس کاندھلویؒ سمیت ہزاروں علماء کرام نے جہاں اس وطن کی آزادی کے لئے عملی جدوجہد کی وہیں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ بانئ پاکستان محمد علی جناح نے پاکستان کی پرچم کشائی مغربی پاکستان میں شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کے ہاتھوں اور مشرقی پاکستان میں مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کے ہاتھوں سے کرائی تھی ۔
تحریک پاکستان میں نوجوانوں بالخصوص طلبہ نے قائد اعظم کی قیادت میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔قائداعظم کو نوجوانوں سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ 1945-46ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی نے قیام پاکستان کی راہ مزید ہموار کر دی اور ان انتخابات میں مسلم لیگی امیدواروں کی کامیابی کیلئے طالبعلموں بالخصوص اسلامیہ کالج لاہور کے طلبہ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ راقم الحروف نے بھی تحریک پاکستان اور قیام پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ قائداعظم کے شانہ بشانہ مسلم کاز کے لئے روز و شب کام کیا۔ نوجوانی کے دور میں 1946ء کے الیکشن میں مسلم لیگی امیدواروں کی مہم چلائی۔ گھر گھر جا کر ووٹر ز کو پولنگ سٹیشن تک پہنچایا۔ اس طرح لیگی امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنایا۔ اسی طرح قیام پاکستان کے بعد دنیا کی سب سے بڑی ہجرت اور بعد میں مہاجرین کی بحالی میں بھی کردار ادا کیا۔ مملکتِ خدا داد پاکستان، مسلمانان برصغیر کی عظیم جدوجہد اور لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آئی۔ علامہ اقبال ؒ کا خواب اور قائد اعظمؒ کا تصورِ پاکستان ایک ایسی آزاد مملکت کا قیام تھا جو خود مختار ہو، جہاں حقیقی جمہوری نظام قائم ہو، معاشی مساوات، عدل و انصاف، حقوقِ انسانی کا تحفظ، قانون کا احترام اور اَمانت و دیانت جس کے معاشرتی امتیازات ہوں۔ جہاں حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہوں، جہاں فوج آزادی و خود مختاری کی محافظ ہو، جہاں عدلیہ آزاد اور خود مختار ہو اور جلد اور سستے انصاف کی ضامن ہو۔ جہاں کی بیورو کریسی عوام کی خادم ہو،جہاں کی پولیس اور انتظامیہ عوام کی محافظ ہو۔ الغرض یہ ملک ایک آزاد، خود مختار، مستحکم، اِسلامی، فلاحی ریاست کے قیام کے لئے بنایا گیا تھا، لیکن آج ہمارا حال کیا ہے؟ ہم کہاں کھڑے ہیں؟
قیامِ پاکستان کے وقت برصغیر پاک و ہند میں مسلمان ایک قوم کی حیثیت رکھتے تھے اور اْس قوم کو ایک ملک کی تلاش تھی جب کہ آج 70 برس بعد ملک موجود ہے مگر اِس ملک کو قوم کی تلاش ہے۔ 1947ء میں ہم ایک قوم تھے، اللہ رب العزت کی مدد و نصرت ہمارے شاملِ حال ہوئی اور اْس قوم کی متحدہ جد و جہد کے نتیجے میں ہمیں یہ ملک ملا۔ ابھی 25 برس بھی نہیں گزرے تھے کہ ہم نے باہمی اِختلافات کے باعث آدھا ملک کھو دیا۔ آج آدھا ملک موجود ہے مگر کس قدر دکھ کی بات ہے کہ قوم مفقود ہے۔ اب جب کہ ہماری قوم منتشر ہو چکی ہے۔یہ کروڑوں اَفراد کا بے ہنگم ہجوم بن چکا ہے۔ ہماری قومیت گم ہوگئی ہے۔ محبت کا جو جذبہ ہم اپنے بچپن اور جوانی کے دور میں دیکھا کرتے تھے وہ بھی ناپید ہوگیا ہے۔ ہم دوبارہ اس قوم کو وحدت میں پرونا چاہتے ہیں۔ ہم اس ملک کو مسلمانوں کی اْمیدوں کے مطابق بنانا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے ہمیں کچھ جرأت مندانہ کام کرنے پڑیں گے اور کچھ احتیاطیں برتنی پڑیں گی۔ ہمیں سنجیدہ ہو کر اس ملک میں جاری نظام کو تبدیل کرنا ہوگا۔ کیوں؟ اس لیے کہ پاکستانی قوم کو بے شعور بنا دیا گیا ہے۔
پاکستان ہرگز ایک معمولی حیثیت رکھنے والا ملک نہیں ہے۔ پاکستان کا خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا، اسے معرض وجود میں لانے کیلئے مسلمانان برصغیر نے لاکھوں شہداء کا خون دیا۔ اس کی فکری اور نظریاتی اساس کلمے پر رکھی گئی۔ ہمیں پھر سے وہی قائد اور علامہ والا پاکستان چاہیے اس کیلئے اس ملک کے ہر ذی روح کو صرف اور صرف وطن عزیز کی خاطر سوچنا ہوگا۔