hafiz shafique ur rehman

قیام عدل: مثالی عدلیہ کا نشانِ اختصاص

ہر باشعور شہری جانتا ہے کہ کسی بھی آزاد جمہوری مثالی فلاحی مملکت کا طر�ۂ امتیاز ہمیشہ دباؤ سے پاک آزاد عدلیہ ہوا کرتی ہے۔ایسی مملکت کی داخلی اور جغرافیائی سرحدیں ہمیشہ اندرونی اور بیرونی دشمنوں کیلئے نا قابل تسخیر ہوتی ہیں، جہاں عدلیہ آزاد ہو، جج صاحبان صرف اور صرف قیام عدل ہی کو مثالی عدلیہ کا نشانِ اختصاص تصور کرتے ہوں اور مملکت اور معاشرے کا ہر شہری میرٹ اور قانون کی روشنی میں بلا روک ٹوک انصاف مہیا کرنے کی آزادی اور سہولیات سے متمتع ہو رہا ہو ، وہاں ہمہ جہتی ،ترقی اور خوشحالی کی ایسی فصل لہلہاتی ہے، جس کے ثمرات سے بہرہ یاب ہونیوالے شہریوں کو کبھی کسی مسئلے ، المیے ، سانحے،دکھ اور کرب سے دو چار نہیں ہونا پڑتا۔ حصولِ انصاف کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنیوالی قوتیں جب اس مقصد کیلئے عدلیہ کو بھی ریاستی دباؤ اور جبر کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتی ہیں تو اس کا بدیہی اور منطقی نتیجہ ہمیشہ مملکت کا تنزل، ادبار اور انحطاط ہوا کرتا ہے۔عدلیہ ، مقننہ اور انتظامیہ تینوں کسی بھی ریاست کے بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ عدلیہ کا بنیادی کر دار قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا اور آئین کی تشریح و تعبیر کرنا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عدلیہ کو ہمیشہ عزت اور تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستانی معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے۔ یہاں ننانوے فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے ۔ اسلامی تہذیب و تمدن کے بنیادی خدو خال کے نکھار کا باعث ہمیشہ فروغ عدل و انصاف بنا ہے ۔ خلافت راشدہ کے بعد کے وہ ادوار جنہیں ملوکیت کے ادوار قرار دیا جاتا ہے ، اُن میں بھی ہمیں عدلیہ اور اُس کے جج صاحبان مطلق العنان سلاطین و ملوک کے دباؤ اور جبر سے کلی طور پر آزاد دکھائی دیتے ہیں۔خوش قسمتی سے ہم پاکستانی مخصوص ملوکانہ مزاج کے حامل فرمانرواؤں اور موروثی حکمرانوں کی افتادِ طبع کے آئینہ دار حاکموں کے زیرِ سایہ زندگی کرنے کے بجائے ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں ، جسے عالمی سطح پر بنیادی انسانی حقوق کی بحالی ، جمہوریت کی سر افرازی ، قانون کی حکمرانی ، عدلیہ کی آزادی اور پارلیمان کی بالا دستی کا عہد قرار دیا جاتا ہے ۔ ایسے عہد میں کوئی بھی ایسا اقدام جو بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ، جمہوریت کی سر نگونی ، قانون کی ریزہ کاری ، عدلیہ کے دباؤاور پارلیمان کی زیر دستی کا عکاس ہو ، اُسے وطنِ عزیز کے عوام کبھی پسندیدگی اور ستائش کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے۔
یہ ایک امر مسلمہ ہے کہ عدلیہ کسی بھی مہذب معاشرے کی تشکیل میں بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور پاسداری بنیادی کر دار ادا کرتی ہے، جب بھی کسی معاشرے اور مملکت میں آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی سے صرف نظر کیا جاتا ہے تو اس معاشرے اور مملکت کا وجود معرض خطر میں پڑجاتا ہے۔ ارباب حکومت کوعدالت ہائے عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے متعلق لب کشائی کرتے وقت عدالت کے احترام کو ہمہ وقت ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ حقیقی جمہوری روایات کی علمبردار حکومتوں کے ذمہ داران اس باب میں لب کشائی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔عدلیہ کے حوالہ سے جارحانہ بیانات کا سلسلہ جاری رہنے سے اس امر کا قوی خدشہ ہے کہ ریاست کے ستون کہیں باہمی طور پر ٹکڑا کر عالمی سطح پر حکومت ہی کا تشخص مجروح نہ کردیں ۔ ایگزیکٹو بمقابلہ عدلیہ کا خطر ناک تأثر بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ ہر بیدار اور زندہ جمہوری معاشرے اور مملکت میں عدلیہ حکمرانوں اور ذمہ داران مملکت کی بے اعتدالیوں ، بے ضابطگیوں، بے قاعدگیوں اور بد عنوانیوں کا محاسبہ کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہیں۔ بیدار اور زندہ جمہوری معاشرے اور مملکت میں حکمران عدلیہ کے اس باوقارکر دار پر خوش ہوتے ہیں ، جو حالیہ چند برسوں میں پاکستانی عدلیہ نے اپنایا ہے۔ اگر ماضی میں اہم ترین حادثات ، سانحات اور واقعات کی انکوائریوں کی رپورٹس سامنے نہیں آ سکیں تو یہ ماضی کی حکومتوں کی نا اہلی اور نکمے پن کا ثبوت ہے نہ کہ یہ کوئی اچھی اور مستحسن روایت ہے کہ اسے نظیر بنا کر اسے اپنانے ہی میں عافیت جانی جائے۔ ماضی میں انکوائریوں کی رپورٹس اور نتائج کا سامنے نہ آنا ماضی کی حکومتوں کے بے جا دباؤ اور نادیدہ قوتوں کی سازشوں کا نتیجہ اور شاخسانہ بھی ہو سکتا ہے۔
یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ 3 نومبر 2007 ء کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا تشخص داخلی اور خارجی سطح پر بری طرح مجروح اور مسخ ہوا۔ اس تشخص کو آئندہ مجروح اور مسخ ہونے سے بچانے کیلئے ایسے افسوسناک اقدامات سے اجتناب برتا جانا ناگزیر ہے، جس سے عالمی برادری کو یہ تاثر اخذ کرنے کا موقع نہ ملے کہ پاکستانی عوام ابھی حقیقی عدل اور اصلی جمہوریت کے فیوض و برکات کے حصول سے محروم ہیں۔ 3 نومبر 2007 ء کے بعد پاکستان کے حوالے سے اندرون و بیرونِ ملک آزاد عدلیہ کی بحالی کا مطالبہ شدت پکڑرہا تھا۔وطن عزیز کے بیشتر قانونی ماہرین، سیاستدان، صحافی ، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے نمائندوں کی رائے تھی کہ ایمر جنسی کا نفاذ دباؤ سے آزاد ججوں سے جان چھڑانے اور آزاد میڈیا کو قابو کرنے کیلئے کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ 3 نومبر سے ملک بھر میں وکلاء اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے شہری ایمر جنسی کے نفاذ کیخلاف بلاناغہ احتجاجی مظاہرے کرتے رہے۔ اس دوران وطن عزیز کی اکثر چھوٹی بڑی تمام عدالتوں کے بار رومز پر احتجاجاً سیاہ پرچم لہرائے جاتے رہے۔ مزید برآں آزادی اظہار ، حریت فکر اور میڈیا کی ہمہ جہتی بحالی کے پرچم بردار صحافی ، دانشور اور قلمکار بھی 3نومبر کے اقدام کے بعد سے بلا توقف ہڑتالی کیمپس اور مختلف احتجاجی تقریبات کا انعقاد کرتے رہے۔یہ وہ دور تھا جب اُس وقت کے اٹارنی جنرل آف پاکستان پرویز مشرف کے آمرانہ اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہہ رہے تھے:’’ صدر کو اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کوہٹانے کے حوالے سے کوئی آئینی اختیار نہیں دیا جا رہا ہے جو ججز فارغ ہو چکے ہیں وہ اپنے عہدوں پر واپس نہیں آئیں گے ‘‘انہی دنوں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ملیر بار کراچی میں وکلاء کے عظیم الشان اجتماع سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے یہ کہا تھا : ’’قانون اپنا راستہ خود بنائے گا ،وکلاء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ، وکلاء کی تحریک آئین وقانون کی بالادستی کیلئے ہے ،وکلاء تحریک میں جو خون بہا ہے وہ ضرور رنگ لائے گا اور بہت جلد ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہوگیِ وکلاء اپنی جدوجہد کو مزید منظم کریں‘‘ پرویز مشرف کے حمایتی عناصر نے وکلاء کی صفوں میں تقسیم اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن وکلاء اتحاد کی وجہ سے اُنہیں ناکامی کا سامناکرنا پڑا۔وکلاء تحریک عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے چلن کو عام کرنے کی ایک منفرد تحریک تھی۔ یہ تحریک عوامی تائید و حمایت ہی کی وجہ سے کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے بیسیوں خطابات کے دوران ہزاروں وکلاء اور لاکھوں شہریوں نے عدیم ا نظیر نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا اور ان کے فرمودات انتہائی ارادت و عقیدت سے سر شار ہو کر سراپا گوش بن کر سنتے رہے۔اس دوران انہوں نے واشگاف الفاظ میں قوم کو انتباہ کیا:’’فرد واحد کی حکمرانی کے نظام میں بنیادی انسانی حقوق کی نفی ہوتی ہے،انصاف کی فراہمی کیلئے عدلیہ کا مکمل آزاد ہونا ضروری ہے، عدلیہ کی آزادی اور آزاد عدالتوں کیلئے جدو جہد سچا نصب العین ہے یہی وجہ ہے کہ فرد واحد کی حکمرانی کو بہتر نہیں سمجھا جاتا ، فعال اور آزاد عدلیہ غربت کے خاتمے کیلئے بھی اہم ہے،عدلیہ آئین کی محافظ ہے،یہ اس کی ذمہ داری ہے آئین کا نفاذ کرے، آئین عدلیہ کی آزادی کی گارنٹی دیتا ہے، عدالتی نظام قانون کی حکمرانی قائم کرتا ہے، شخصی حکمرانی میں اختیار ات کا غلط استعمال کیا جاتا ہے، اختیارات کا غلط استعمال خطرناک ہے‘‘آج بھی یہ حقیقت ایوان کے اقتدار میں فروکش ہر شخصیت کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ جمہوریت شخصی حکمرانی کی نفی کا دوسرا نام ہے۔ حقیقی جمہوریت کا منشاء قانون کی حکمرانی ہوتا ہے۔ شخصی حکمرانی پر یقین رکھنے والے اربابِ حل و عقد فعال اور آزاد عدلیہ کے راستہ میں ہمیشہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے حکمرانوں کے منفی طرزِ حکمرانی ہی کی وجہ سے کوئی مملکت اور معاشرہ زوال و انحطاط کے عوارض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
عوام آئین کی بالا دستی ، عدلیہ کی سر افرازی اور قانون کی عملداری پر یقین رکھتے ہیں۔